عشاء  مجلس  ۶  جون  ۳ ۲۰۲ء     :غصہ ،تکبر اور خود رائی !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

03:24) حسبِ معمول تعلیم ہوئی۔۔

03:43) شیطان نے بہت عبادت کی کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی لیکن عبادت کرکے پھر اکڑتا تھا اُسی اکڑ نے شیطان کو مردود کردیا۔۔

05:07) شیطان کبھی اللہ والا اللہ کا پیارا نہیں بن سکتا اور نفس اللہ کا پیارا اللہ والا بن سکتا ہے۔۔

07:58) اللہ تعالی چار شرطوں سے معاف فرمادیتے چاہے ریت جتنے گناہ ہوں۔۔

10:19) تکبر کے دو جز ہیں۔۔

10:37) خود رائی اپنی رائے پر چلنا۔۔

11:44) غصہ بھی تکبر کی وجہ سے آتا ہے توضع اللہ کے لیے اختیار کرنا۔۔

14:52) شیخ کس کو ڈانٹنا ہے شیخ کی ڈانٹ سے نفس کا ڈینٹ نکلتا ہے بعض لوگ ڈانٹ کے ڈر سے قریب نہیں آتے حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے لکھا یہ بھی تکبر ہے۔۔

21:29) حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اگرمناسبت نہ ہوتو رہا سہا دین بھی چلا جاتا ہے۔. شیخ سے مناست ضروری ہے ورنہ رہا سہا دین بھی چلا جائے گا

25:17) پتنگ آڑانا صحیح نہیں۔۔

28:53) کل جو معافی کا مضمون بیان ہوا اُس سے آگے آج یہاں سے بیان ہوا۔۔ اَیْ تَفَضَّلْ عَلَیْنَا بِفُنُوْنِ الْاٰلَآئِ مَعَ اسْتِحْقَاقِنَا بِاَفَانِیْنِ الْعِقَاب اے اللہ! جو بندہ گناہوں کی وجہ سے طرح طرح کے عذاب کا مستحق تھا، فن کی جمع فنون اور فنون کی جمع افانین۔ جو افانین عذاب کا مستحق تھا یعنی اپنے طرح طرح کے گناہوں کی نحوست سے جو طرح طرح کے عذابوں کا مستحق تھا اب معافی اور مغفرت طلب کرنے کے بعد اس پر طرح طرح کی نعمتوں کی بارش فرمائیے۔ اگر حکیم الامت کی تفسیر بیان القرآن میں اختر ؔنہ دیکھتا تو اس مضمون تک ہمارے دماغ کی رسائی بھی نہ ہوتی کہ اللہ کی عنایات کو اپنے مجاہدات کی طرف منسوب کرنا نا شکری ہے۔ یہ مت کہو کہ ہمارے مجاہدات کی وجہ سے آپ نے یہ کرم کیا بلکہ یہ کہو کہ آپ کے کرم کا سبب محض آپ کا کرم ہے، میرا کوئی عمل اس کا سبب نہیں۔

30:46) توفیقِ عمل بھی آپ کا کرم ہے مگر آپ کے کرم کے عنوانات بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی آپ نے کسی عبادت کی توفیق دے دی اور پھر اس کے بعد اپنے کرم سے اسے قبول فرما کر کوئی نعمت عطا فرما دی۔ دیکھو! حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ لینے گئے تھے اور پیغمبر ی مل گئی۔ میرے شیخ شاہ عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے ؎ بہت ابھاگن مرگئیں جگت جگت بورائے پیو جے کا چاہیں تو سوتت لیت جگائے

33:32) اردو کو زیادہ پھلائیں نصیحت۔۔

35:00) میسجز بھی اردو میں لکھنا چاہیے۔۔

35:55) یہ ہندی سنو یعنی بہت سے پاگل دنیا میں بھیک کا پیالہلے کر مارے مارے پھرے اور کچھ نہ ملا اور جس کو اللہ چاہتا ہے سوتے ہوئے کو جگاتا ہے کہ اُٹھ تہجد پڑھ کہاں غافل پڑا ہے، لے تجھ کو نسبت مع اللہ کی عظیم دولت دیتا ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بر بنائے استحقاق مت مانگو کہ میرا حق بنتا ہے

36:27) ۔ بس یہ کہو کہ میرا حق نہیں بنتا، ہماری عبادت آپ کی عظمتِ غیر محدود کے سامنے کچھ نہیں لہٰذا آپ اپنی مہربانیاں محض اپنی مہربانی سے دے دیجئے۔ یہ دعا وَارْحَمْنَاکی اس تفسیر کو سامنے رکھ کر ہم آپ کی رحمت سے مانگ رہے ہیں، اے اللہ یہ رحم جو ہم آپ سے مانگ رہے ہیں یہ بر بنائے استحقاق نہیں ہے ہم تو مستحق ہیں عذاب کے، ہمارا استحقاق تو عذاب کا ہے او روہ بھی ایک دو طرح کے عذاب کا نہیں طرح طرح کے عذاب کے ہم مستحق ہیں لیکن معافی اور مغفرت کے بعد طرح طرح کے مستحقِ عذاب پر طرح طرح کی نعمتوں کی بارش فرما دیجئے۔ یہ مضمون اب ختم ہوگیا آج بہت خاص تقاضے کی بنا پر یہ عرض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کبھی اپنا استحقاق نہ پیش کرو کہ میرا حق بنتا ہے، ضابطے سے مت مانگو رابطے سے مانگو۔

39:50) اس لیے علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں کہ جہاں توّاب کے ساتھ رحیم نازل فرمایا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اے لوگو! ہم جو تمہاری توبہ قبول کرتے ہیں تو ضابطے سے نہیں کرتے شانِ رحمت سے کرتے ہیں کیونکہ ایک فرقۂ معتزلہ ہے جس کا باطل عقیدہ یہ ہے کہ معافی مانگنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو قانوناً معاف کرنا پڑے گا تو علامہ آلوسیؒ تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ توّاب کے بعد رحیم نازل فرمانا فرقۂ معتزلہ کا رد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کچھ واجب نہیں، وہ قادرِ مطلق ہیں، کسی کو معاف کرنے پر وہ مجبور نہیں ہیں، اپنی شانِ کرم سے، شانِ رحمت سے معاف فرماتے ہیں۔ لہٰذا بندوں کا کام ہے کہ عاجزی سے ان کے حضور میں گڑ گڑاتے رہیں۔ دین پر استقامت چاہتے ہو تو عاجزی اور شکستگی اختیار کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ سارے عالم سے مستغنی ہے۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries