عشاء مجلس       ۱۵            مئی      ۴ ۲۰۲ء     :انا جلیس من ذکرنی اور صحبت اہل اللہ            !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بمقام:مسجدِ اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر بلاک ۱۲۔

بیان :عارف باللہ حضرتِ اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

00:33) حسب معمول تعلیم۔۔

04:32) شیخ العرب والعجم حضرت والا رحمہ اللہ کا کل بھی مضمون بعد عشاء بیان ہوا اس سے آگے آج ہوا۔۔ ذکر و مناجات مقبول اور اگر اللہ تعالیٰ کا نام لینے کی طاقت اس کو ہے تو پھر خاموش کیو ں بیٹھے! اور جب اللہ تعالیٰ کا نام لیں تو پہلے اللہ پر جلَّ جلالہٗ کہنا واجب ہے، اسی طرح جب لاالٰہ الا اللہ کا ذکر کریں تو چند مرتبہ لاالٰہ الا اللہ کہنے کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ کر کلمہ پورا کریں۔

10:59) ایک صاحب کا واقعہ جو اپنی دکان پر کسی کو ڈاڑھی مندانے نہیں دیتے واقعہ۔۔

19:08) ہمارا کام ہے عمل کرکے اپنے شیخ کو اطلاع دینا کچھ معاملات کی اصلاح۔۔

21:32) ڈریس کوڈ کے بارے میں نصیحت۔۔

23:23) شیخ العرب والعجم حضرت والا رحمہ اللہ:۔ اگر مناجاتِ مقبول کی ایک منزل روزانہ پڑھ لیں تو سات دنوں میں قرآنِ پاک اور حدیثِ پاک کی ساری دعائیں اس کی زبان سے ادا ہو جائیں گی۔ مناجاتِ مقبول حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی ترتیب فرمائی ہوئی ہے، اس کی روزانہ ایک منزل پڑھ لیں تو قرآنِ پاک اور حدیثِ پاک میںجتنی بھی دعائیں آئی ہیں سات دنوںمیں سب اس کو حاصل ہوجائیں گی۔

27:00) درد بھرے دل سے اور محبت سے جتنا ہوسکے اللہ کا نام لیا کریں۔ یہ بظاہر تو دس منٹ کا ذکر ہے لیکن پتھر پر پانی کا قطرہ روزانہ گرے تو چند ماہ بعد پتھر پر نشان پڑجائے گا۔ ایسے ہی ایک بار اللہ کے بعد جب دوسری مرتبہ اللہ کہا جاتا ہے تو بزرگوں نے لکھا ہے کہ پہلی بار اللہ کہا ہوا قبول ہوتا ہے تب دوسرا کہنے کی توفیق ہوتی ہے، اگر پہلا والا اللہ قبول نہ ہوتا تو دوسری دفعہ اللہ کہنے کی توفیق ہی نہ ہوتی ، حق تعالیٰ کی طرف سے پہلے اللہ! کہنے میں بہت سے لبیک پوشیدہ ہیں ۔ آپ خود سوچئے جس کا آنا پسند نہ ہو تو آدمی اُس کے لئے دروازہ بند کردیتا ہےتو اگر اِس کا ذکر خدا کو پسند نہ ہوتا تو دوبارہ اللہ! کہنے کی اِسے توفیق ہی نہ دیتے۔

28:44) ایک اللہ! کے بعد جب دوسرا اللہ! نکلتا ہے تووہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا کرم ہوتا ہے۔ آپ لوگ جتنا ہوسکے میری باتوں کوغور سنئے۔( باہر کسی دکان کے لائوڈ اسپیکر سے تلاوتِ قرآن پاک کی آواز آرہی تھی اس پر فرمایا) اگر کلام اللہ کی تلاوت کی آواز آرہی ہے

32:15) تو بھئی یہی سمجھ لوکہ اس میں اللہ کے کلام کے انوار ہوتے ہیں اورجب فضاؤں میں کلام اللہ کے انوار پھیلتے ہیں تو گناہوں کے اندھیروں کی نحوستیں دور ہوجاتی ہیں۔ تو ایسی فضائوں میں انشاء اللہ تعالیٰ ہماری بات اور زیادہ مفید ہوگی، میں یہ نہیں کہتا کہ ایسے وقت پر اُن کو یہ لگانا چاہیے تھا ، مناسب تو یہی تھاکہ اس وقت ایک دین کا کام ہورہا ہے وہ اِ س کو نہ لگاتے لیکن اب جب کہ لگادیا تو شکر ادا کرو کہ گانے کی آواز نہیں آرہی بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انوارفضائوں میں پھیل رہے ہیں یہ اُس سے تو بہتر ہے جو آج کل ہورہا ہے ۔

32:19) اللہ کی نعمت کو کوئی نہیں روک سکتا آج کل شادی ہورہی ہے تو گانے بج رہے ہیں اور گانوں کی آواز کانوں میں آرہی ہے ، اگر اس سے ذکر میں خلل بھی ہو تو گھبراؤ مت۔ اللہ تعالیٰ جب آپ کو کوئی نعمت دینا چاہے گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ حدیث پاک کی دعا ہے: اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ (صحیح البخاری: باب الذکر بعد الصلاۃ) نہیں روک سکتی کوئی طاقت آپ کو عطا کرنے سے، لا مانع میں لا نفی جنس ہے: اور جسے آپ نہ دینا چاہیں اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ تو میںعرض کررہا تھاتھوڑی دیر خلو ت کی عادت ڈالئے۔

32:46) انَا جَلِيسُ مَنْ ذَكَرَنِی اور صحبت اہل اللہ تو دس منٹ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوت میں گذاریں ۱۴۴۰منٹ اللہ تعالیٰ دے رہےہیں ۲۴ گھنٹے دن و رات کے خدا دیتا ہے اور ایک گھنٹے میں ۶۰ منٹ ہوتے ہیں ۔ ۲۴ گھنٹے کو ۶۰ سے ضرب کیجئے تو ۱۴۴۰ منٹ بنتے ہیں تو دس منٹ کا وقت بھی اللہ کو دینے کےلئے نہیںہے! ارے اگر تھکے ہوئے تو دس منٹ خاموش ہی بیٹھ جائو اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرلو۔ حدیث قدسی میں ہےأَنَا جَلِيسُ مَنْ ذَكَرَنِی اللہ پاک فرماتےہیں جب بندہ مجھ کو یاد کرتا ہے تو میں اُس کے پاس رہتا ہوں جلیس ہوجاتا ہوں ہم نشین ہوجاتا ہوں اوروہ میر ی مجالست سے مشرف ہوجاتاہے، کتنی بڑی نعمت ہے کہ بندہ زمین پر ہو اور عرش اعظم والا مولیٰ ہمارے ساتھ ہو جائے ان کی ہمیں ہم نشینی نصیب ہو جائے ۔

33:38) آہ! کیا مزہ آرہا ہے اس بات کو بیان کرنے میں ، تو جب تک ہمیں یاد کرتے رہو گے ہمارے قرب سے تم مشرف رہوگے۔ جملہ اِسمیہ دوام اور ثبوت کے لئے آتا ہے أَنَا جَلِيسُ مَنْ ذَكَرَنِیجب تک تم ذَكَرَنِی رہوگے میں تمہارا ساتھی اور ہم نشین رہوں گا اورجو آدمی نیک بندوں کے ساتھ رہتا ہے اس میںپاکی آنے لگتی ہے، صالحین بندوں کے پاس بیٹھنے سے پاکی آتی ہے، اچھے خیال آتے ہیں، پاکیزہ خیالات آتے ہیں، گندے خیالات سے اس کو پاکی اور طہارت حاصل ہوتی ہے، تو جو خدائے پاک کے ساتھ رہے گا اس میں کتنی پاکی آئے گی، اس کا دل کتنا پا ک ہوگا، جو حق تعالیٰ کے ساتھ روزانہ مجالست کرے گا تو آہستہ آہستہ حق تعالیٰ کی عافیت، ان کی سبحانیت اس کے قلب میں نفوذ کرجائے گی پھر اندھیروں سے اس کو مناسبت نہیں ہوگی ، اللہ کے قرب کامزہ چکھنے کے بعد اُس کی روح حق تعالیٰ کے قرب سے مانوس ہوجائے گی اور پھر گناہوں سے اپنے کوحق تعالیٰ سے دور کرنے پر راضی نہیںہوگی۔

36:30) ماں باپ کے حقوق یہ بات بھی حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے کہ تنہائی میں تھوڑی دیر ماں باپ کے پاس بیٹھا کرو، چاہے کتنا ہی روزی میں مشغول ہو، بال بچوں کی تربیت میںمصروف ہو لیکن ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا بیٹا کم از کم پانچ منٹ ہمارے پاس بھی بیٹھ جائے۔ بظاہر یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آتی، بعض بیٹے نادانی سے کہتے ہیں کہ میں بہت مشغول ہوں۔ میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ایک شخص کا بیٹا بارش میں گھر کی چھت ٹھیک کروارہا تھا، اس زمانہ میں برسات میں گھر کی چھتوں کو ٹھیک کرانا ہوتا تھا ورنہ بارش کا پانی ٹپکتا تھا۔ تو اس کو بارہ بج گئے تب اس کے باپ نے کہا کہ بیٹا یہ تمہارے اوپر جو دھوپ کی تیز ی پڑ رہی ہے اس سے مجھ کو اذیت پہنچ رہی ہے، مجھ سے تمہاری تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔ اس نے کہا کہ ابا آپ کو اس سے کیا مطلب؟ آپ اللہ اللہ کیجئے،یہ کام بہت ضرور ی ہے، اگر بارش ہوگئی تو میرے بیوی بچے سب پریشان ہوجائیں گے۔ اس کا باپ اس کے بچہ کو دھوپ میں لے آیاتب وہ چلّا اٹھا کہ آپ نے میرے چھوٹے سے بچہ کو دھوپ میں کیوں رکھا؟ تو باپ نے کہا کہ تم بھی تو میرے بیٹے ہو، اپنے بچے کا تو تم کو خیال آتا ہے مگر تم بھی تو میرے بچہ ہو، اب تمہیں پتہ چلا کہ ماں باپ کو کیا غم ہوتا ہے ؎

39:21) اگر تو صاحبِ اولاد ہوگا تجھے اولاد کا غم یاد ہوگا تو تھوڑی دیر ذکر اﷲ کے لیے خلوت کی عادت ڈالئے اور تھوڑی دیر اپنے ماں باپ کے پاس بیٹھئے چاہے کتنے ہی مشغول ہوں کیونکہ بال بچوں کے ساتھ تو پوری رات گذارنی ہے، وہاں چاہے آپ بات بھی مت کریں جاکے سو جائیں لیکن بیوی کو احساس ہے کہ شوہر ہمارے ساتھ ہیں اور بچوں کو بھی احساس ہے کہ ابا کمرے میں ہیں لیکن غریب ماں باپ کو ترساؤ مت، پانچ منٹ ان کے پاس بیٹھ جاؤ۔

39:40) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آٹھ سو شاگردوں کو پانچ ہزار تین سو چونسٹھ احادیث پڑھاتے تھے، راستہ میں ان کی درسگاہ کے پاس ان کی امّاں کا گھر پڑتا تھا تو وہ امّاںکو سلام کرتے ہوئے جاتے تھے۔ وہ ماں جو بچپن میں ہگاتی مُتاتی ہے اور سردی کے موسم میں جہاں بچہ پیشاب کرتا ہے وہاں خود سوتی ہے، گیلی جگہ پر خود سوتی ہے اور خشک جگہ پر بچے کو سلاتی ہے۔جس ماں نے اتنی قربانیاں دی ہوں اس کے دل کی رعایت رکھنی چاہیے اور ابا کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔تو ماں باپ کے بلانے پر جانا کمال نہیں خود جائو اور کہہ دو کہ میں آپ کے پاس پانچ منٹ بیٹھنے آیا ہوں، میں اللہ کی رضا کے لئے خالص آپ کی محبت میں آیا ہوں۔ ارے! آپ یہ کام کرکے تو دیکھو، کتنی برکت ہوتی ہے، اللہ وقت میں برکت ڈال دیتا ہے، اللہ روزی میں بھی برکت ڈال دیتا ہے، علم میں برکت ڈالے گا، ہر عمل میں برکت ڈالے گا۔ صرف پانچ منٹ اپنے امّاں ابا کے پاس جہاں وہ بیٹھے ہوں بیٹھ جاؤ اور اگر کبھی ایسا ہو کہ باپ کسی اور کمرہ میں مشغول ہے اور اماں کسی اور کمرہ میں تو اگر پانچ منٹ مشکل لگتے ہیں تو کم از کم انہیں ایک ایک منٹ ہی دے دیں بس سلام کرکے خیریت پوچھ کر خاموش ہی بیٹھ جائو اور پھر سلام کر کے چلے جائو۔ 

دورانیہ 42:33

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries