فجرمجلس۱۰      جولائی       ۴ ۲۰۲ء     :قیامت تک اولیاء اللہ کے باقی رہنے کی بشارت         !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بمقام:مسجدِ اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر بلاک ۱۲۔

بیان :عارف باللہ حضرتِ اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

 میری ذات سے کسی کوتکلیف نہ پہنچے اورکوئی بات تحقیق کے بغیر نہیں کرنی چاہیے۔۔۔

05:03) اصلاح فرض ہے۔۔۔

09:22) مرتے دم تک اصلاح کرانی ہے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔۔۔

11:11) صراطِ مستقیم اور اتباع ِاکابر رضائے الٰہی پر قطب العالم حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی استقامت دارالعلوم دیوبندکی مجلس ِشوریٰ میں سب علمائے دین تھے اور مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ صدر ِشوریٰ تھے۔دیوبند محلہ کے کچھ لوگوں نے تحریک چلائی کہ دارالعلوم کی مجلس ِشوریٰ میں ہمارے محلہ سے ایک غیر عالم کو ممبر شامل کر لیا جائے،ورنہ ہم دارالعلوم کو یہاں سے ختم کر دیں گے۔ ان لوگوں نےاتنی زبردست تحریک چلائی کہ علماء سب پریشان تھے،حتیٰ کہ حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہ بھی اتنے پریشان ہوئے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کو درخواست لکھی کہ حضرت!دارالعلوم دیوبند کی مجلس ِشوریٰ میں سب آپ کے عشاق ہیں،آپ کے غلام،آپ کے فرمانبردار ہیں،اگر ایک شخص غیر عالم ممبر کی حیثیت سے آبھی جاتا ہے تو وہ لب بھی نہیں ہلا سکے گا،خاموش بیٹھا رہے گا لیکن اس کو ممبر بنا لینے کی وجہ سےیہ فتنہ ختم ہو جائے گا اور دارالعلوم کی حفاظت ہو جائے گی،بے شمار علماء ربانین،محدثین،مفسرین،عارفین کاملین یہاں سے تاقیامت پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس لئے میرا تو خیال ہے کہ اگر ایک آدمی کا معاملہ گوارا کر لیا جائے تو بڑا نفع عظیم مرتب ہوگا ان شاء اللہ !اور اگر اس کو گوارا نہ کیا گیا تو دارالعلوم کو بڑا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

13:45) حرام عشق عذابِ الہی ہے۔۔۔

15:36) بات سمجھ میں آتی ہے میرے دوستو!اگر مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے ایمان پر، علم و عرفان پر،فہمِ دین پر،درد ِدل پر،اخلاص پر اعتماد ہے تو غور سے حضرت کا جواب سنو۔ حضرت گنگوہی نور اللہ مرقدہ نے جواب دیا کہ مولانا!مقصود دارالعلوم نہیں ہے،مقصود اللہ کی رضا ہے،اور رضائے الٰہی صرف اتباع ِشریعت میں ہے۔ ایک نااہل کو ممبر شوریٰ ہم کیسے بنا سکتے ہیں؟جب اس کے اندر اہلیت ہی نہیں ہے تو یہ ہمارے لئے کیسے جائز ہے؟ ہم ایسے مصالح پیس دیں گے،مصالح پر نظر نہیں،نظر اتباع ِشریعت پر رہنا ضروری ہے۔ ہم دینِ محمدی کو جانتے ہیں،شریعتِ محمدیہ کو جانتے ہیں،مصالح کو نہیں جانتے۔

17:29) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے کا انعام۔۔۔

18:34) قیامت تک اولیائے کاملین کے باقی رہنے کی بشارت باقی رہی دارالعلوم کی حفاظت،تو دارالعلوم کی حفاظت ہمارے آپ کے ذمہ نہیں ہے ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ؁﴾ ( سورۃ الحجر: آیۃ ۹) حق تعالیٰ نے خود ہی اعلان فرما دیاکہ اس قرآن کو ہم نے نازل کیا،اس دین کو ہم نے نازل کیا،قیامت تک اس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے،رشید احمد کے ذمہ نہیں ہے، اشرف علی کے ذمہ نہیں ہے،ہم میں سے کسی کے ذمہ نہیں ہے،اس دین کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے،اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ یہ دینِ کامل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی قیامت تک حفاظت خود ہی فرمائیں گے،حدیث شریف میں فرما دیا گیا:

26:39) قیامت تک اللہ جل شانہ کی طرف سے ایسے بندے دنیا میں ہوں گے جو کامل دین پر قائم رہیں گے،ان کو دین پر پوری استقامت ہوگی اور انہی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائیں گے اور اس اتباع ِشریعت کی برکت سے آسمان سے نصرت آتی رہے گی۔ آپ ﷺنےکیا اطمینان دلا دیا کہ تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،میں تو نہیں رہوں گا لیکن تمہارے لئے ہر زمانے میں ہمیشہ ایسے مقتدا حضرات ہوں گے، خواہ وہ چھوٹی سی جماعت ہو،جن کے ساتھ کامل دین ہوگا،وہ حق پر رہیں گے اور منجانب اللہ ان پر نصرت نازل ہوتی رہے گی ان کی دستگیری خود حق تعالیٰ فرماتے رہیں گے،جب انہیں حق تعالیٰ کی دستگیری حاصل ہوگی تو وہ ہرگز گمراہی کی راہ پر پڑ کر ہلاک نہیں ہوسکتے۔

دورانیہ 42:49

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries