عشاء مجلس۲۰        جولائی       ۴ ۲۰۲ء     :بندوں کو جلد معاف کرنے کا راز  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بمقام:مسجدِ اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر بلاک ۱۲۔

بیان :حضرت اقدس فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

02:08) ایسا بیان نہ کریں جس سے لوگ مایوس ہوجائیں ۔۔

03:20) ایسی وعیدیں مت سنائیں جس سے لوگ اور مایوس ہوجائیں ۔۔

05:50) شیخ کا ریا مرید کے اخلاص سے افضل ہے۔۔

07:31) یعنی اگر انسان توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں گنہگار کی توبہ، گریہ و زاری، آہ وہ زاری اور ندامت کے آنسوئوں کی کیا قیمت ہے۔ اس کو سن لیجئے۔ جب گنہگار بندہ اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ کے سامنے روتا ہے کہ اے خدا! مجھ سے غلطی ہوگئی، مجھے بخش دیجئے، مجھ کو معاف کردیجئے، مجھ کو ذلیل نہ کیجئے، مجھ کو سزا نہ دیجئے، میں کمزور ہوں، آپ کے دوزخ کے عذاب کی مجھ کو برداست نہیں ہے تو اس وقت اس کے آنسو شہیدوں کے خون کے برابر وزن کئے جاتے ہیں۔ جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ جن کو ساری دنیا کے علماء تسلیم کرتے ہیں، فرماتے ہیں ؎ کہ برابر می کند شاہِ مجید اشک را در و زن باخونِ شہید اللہ تعالیٰ ندامت کے آنسوئوں کو، اللہ کے خوف سے نکلے ہوئے آنسوئوں کو شہید کے خون کے برابر وزن کرتا ہے۔

18:12) ندامت کے آنسوئوں کے وہ قطرے جو سجدہ میں گنہگاروں کی آنکھوں سے گرتے ہیں۔ اتنے قیمتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شہیدوں کے خون کے برابر وزن کرتی ہے

21:44) اللہ کے نادم اشکبار گنہگار بندے جب آنسو بہاتے ہیں اور گڑگڑا کر معافی مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ساری کائنات کے سبحان اﷲ سبحان اﷲ کہنے والے ملائکہ کے سبحان اﷲ سے اور اولیاء اﷲ اور ابدال اور اقطاب اور غوث کے سبحان اللہ سے مجھے اپنے گنہگار بندوں کے یہ آنسو، ان کا یہ رونا اور گڑگڑانا اور آہ و نالہ کرنا زیادہ محبوب ہے۔ یہی دلیل ہے کہ اللہ اللہ ہے جو مخلوق کی تعریف و حمد و ثنا سے بے نیا زہے۔ اگر دنیا کے کسی بادشاہ کو استقبالیہ دیا جارہا ہو اور اس کی تعریفیں بیان ہورہی ہوں تو اس وقت وہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی غریب مصیبت زدہ وہاں رونا شروع کردے۔ کہے گا کہ اس کو یہاں سے نکالو یہ رونے کا موقع نہیں ہے اس وقت میری عظمتیں بیان ہورہی ہیں۔ اس سے کہہ دو کہ اس وقت میرے رنگ میں بھنگ نہ ڈالے لیکن اللہ تعالیٰ مخلوق کی تعریف سے بے نیاز ہے

کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمتیں مخلوق کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر سارا عالم ولی اللہ ہوجائے ایک کافر بھی نہ رہے اور ساری دنیا کے کافر بادشاہ ایمان لاکر ولی اللہ ہوجائیں اور راتوں کو ہمیشہ سجدہ میں گر کر ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘کہتے رہیں تو اللہ تعالیٰ کی عظمتوں میں ایک ذرّہ اضافہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ اضافہ ہونے سے لازم آتا ہے کہ قبل تعریف مخلوق نعوذ باللہ عظمت میں اتنی کمی تھی جو مخلوق کی حمد و ثنا سے پوری ہوئی پس اللہ تعالیٰ کی عظمت میں ایک ذرّہ کمی ہونا محال ہے لہٰذا اللہ کی ذات مخلوق کی تعریف سے بے نیاز ہے

24:40) بندوں کو جلد معاف فرمانے کا راز ارشاد فرمایا کہ استغفار و توبہ آہ و زاری اشکباری اتنی بڑی نعمت ہے کہ زمین و آسمان نے کسی ایسے بندے کو نہیں دیکھا جس نے اشکبار آنکھوں سے معافی مانگی ہو اور خدا نے اس کو معاف نہ کیا ہو۔ وہ خود ہمیں معاف کرنا چاہتے ہیں اس لیے حکم دے رہے ہیں: ’’اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ‘‘اپنے رب سے معافی مانگو ’’اِنَّہٗ غَفَّارًا‘‘ وہ بہت بخشنے والا ہے ۔

26:47) اصل بات یہ ہے کہ ہم جو دوسروں کو معاف کرنے میں دیر کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسروں کی خطائوں سے ہمیں نقصان پہنچتا ہے۔ کسی نے ہماری گھڑی توڑ دی۔ گلاس توڑ دیا۔ مال چرالیا، تو ہمارا نقصان ہوا لیکن ہمارے گناہوں سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اس لیے وہ ہمیںجلد معاف کردیتے ہیں۔ یہ ہے راز بندوں کو جلد معاف کردینے کا۔

27:37) ناہوں سے ہم ہی کو نقصان پہنچتا ہے، ہمارے ہی اخلاق خراب ہوتے ہیں، ہمارا ہی دل بے چین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ایک ذرّہ نقصان نہیں پہنچتا۔ اسی لیے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: ’’یَا مَنْ لاَّ تَضُرُّہٗ الذُّنُوْبُ‘‘ اے وہ ذات جس کو ہمارے گناہوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا’’وَلاَ تَنْقُصُہُ الْمَغْفِرَۃُ‘‘اور معاف کردینے سے جس کے خزانۂ مغفرت میںکوئی کمی نہیں آتی ’’فَاغْفِرْلِیْ مَا لاَ یَضُرُّکَ‘‘پس میرے ان گناہوں کو معاف فرمادیجیے جو آپ کے لیے کچھ مضر نہیں ’’وَھَبْ لِیْ مَا لاَ یَنْقُصُکَ‘‘اور مجھے وہ مغفرت عطا فرمادیجیے جس کی آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں۔

31:24) حضرت مجدد رحمہ اللہ کا ملفوظ کہ دعا اور توبہ حقیقت میں مصائب اور شرور کے لیے ڈھال ہے اور اسی سے غفلت ہے۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries