فجر مجلس۲۴        جولائی       ۴ ۲۰۲ء     :تعلیمات اکابر سے ہٹنا گمراہی کا بڑا سبب ہے     !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بمقام:مسجدِ اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر بلاک ۱۲۔

بیان :حضرت اقدس فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

04:27) صراطِ مستقیم اور اتباع ِاکابر لہذا شیطان کی بربادی سے سبق حاصل کرتے ہوئے سب سے پہلا کام تو یہ کرنا ہے کہ نفس کی غلامی سے ہم بچیں،اتباع ِ ھویٰ سے اپنے آپ کو مکمل طور پر محفوظ کرنا ہم پر واجب ہے،نبی ٔکریم ﷺنے فرمایا: (( لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ )) (مشکٰوۃ المصابيح: (قدیمی)؛ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ؛ ص ۳۰) اپنی من مانی زندگی نہیں چاہئے،اپنے خیال و خواہشات کی زندگی نہیں چاہئے بلکہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ ہماری اتباع والی زندگی بناؤ،میری شریعت کا اتباع کرو۔

04:28) دین کو سیکھ کر آگے پھیلائیں۔۔۔

20:12) تعلیماتِ اکابر سے ہٹنا گمراہی کا بڑا سبب ہے لہٰذا علمائےدین،خدامِ شریعت،تمام مشائخ اور ان کے غلاموں پر یہ فرض ہے کہ صرف اسی بات پر رُک نہ جائیں کہ اتباع ِ شریعت اور گناہوں سے بچو،یہیں پر بات ختم نہ کردیں،اس کے ساتھ ہمیشہ اس کا اہتمام رکھیں کہ اکابرِ دین کا اتباع لازم ہے، ان کی عظمت،ادب،احترام ضروری ہے،اور جو ائمہ دین کے ساتھ گستاخی کرتا ہے تو ایسا آدمی حق پر نہیں ہے،صحیح راستے پر نہیں ہے۔

25:01) میں قسم بخدا کہتا ہوں کہ ساری دنیا میں جتنے فتنے پیدا ہوگئے ہیں،جتنی غلط جماعتیں پیدا ہوگئی ہیں،جتنے گمراہ لوگ پیدا ہوگئے ہیں،خواہ غیر علماء میں ہوں یا کہ علماء میں ہوں،صرف ایک ہی وجہ ہے، اکابرِ دین سے ہٹنا۔اسی سے یہ لوگ گمراہ ہوئے ہیں، ورنہ مسلمان ہیں،دین صحیح ہے، ایمان صحیح ہے،عقائد صحیح ہیں،سب درست ہے لیکن اکابرِ دین کی رائے سے ہٹنے کی وجہ سے گمراہی کا آغاز ہوا۔جو شخص اکابرِ دین سے بغض رکھتاہو،اکابرِ دین، ائمہ دین کے ساتھ گستاخی کرتا ہو تو یہ شخص بالکل گمراہی کی غلاظت میں ڈوبا ہوا ہے،یہ ضالّین اور مضلّین میں سے ہے،اس کے قریب بھی جانا صحیح نہیں ہے،اس سے بالکل دور رہنا ضروری ہے کیونکہ آپﷺنے فرمایا: ((اَلْبَرَکَۃُ مَعَ اَکَابِرِکُمْ۔صحیحٌ علٰی شرطِ البخاری)) (المستدرک علی الصحیحین للحاکم:(دارالکتب العلمیۃ) ؛جزء۱ص۱۳۱؛رقم۲۱۰) ((و فی روایۃٍ: اَلْخَیْرُ مَعَ اَکَابِرِکُمْ)) (المقاصد الحسنۃ للسخاوی:(دارالکتاب العربی،بیروت) ؛جزء۱ص۳۳۷؛رقم۴۷۰) یعنی تمام دینی بھلائیاں اور دینی برکتیں اکابرِ دین ہی کے راستے میں ہیں۔۔

30:16) یہ سب حقائق جن کے سامنے واضح نہیں ہیں وہ لوگ دلدل میں پھنس جاتے ہیں، غلط لوگوں کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں۔ مقتدا حضرات اگر علوم و اعمال میں بڑے درجہ کے ہیں تو سبحان اللہ، اور اگر کم از کم ان حضرات کے مکمل پیرو اور ان کی تشریح ِ دین کے پابند ہیں پھر بھی وہ قابل ِاقتدا ء ہیں،اور اگر نہ خود اس درجہ کے ہیں اور نہ اکابرِ دین کے اتباع اور پیروی کے پابند ہیں بلکہ اسلاف و اکابر کے مخالف ہیں تو ایسے شخص سے دور رہنا فرض ہے کیونکہ اس کے ساتھ رہنے سے اور اس کا اتباع کرنے سے آدمی گمراہی میں پھنس جائے گا۔۔

دورانیہ 32:00

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries