اتوار   مجلس ۴   جنوری   ۲۵ء:اپنی رائے پر  اعتماد کرنا تباہی کا راستہ ہے   !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مقام:مسجدِ اختر نزدسندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر بلاک12کراچی

بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

13:54) بیا ن کے آغاز میں اشعار کی مجلس ہوئی۔۔

19:48) بیان کا آغاز ہوا۔۔

20:22) حضرت والا نے ای میل کا تذکرہ فرمایا کہ غصہ، تکبر، بدگمانی، غیبت اور دیگر اخلاقی بیماریوں کا ای میل میں بہت آتا ہے کہ میرے اندر غصہ اور تکبر بہت ہے۔ ان کا ذکر حدیث پاک میں بھی آیا ہے، جس میں فرمایا گیا کہ جو شخص ان برائیوں کا شکار ہوگا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔

پھر فرمایا کسی انسان کو حقیر سمجھنا یا اس پر تکبر کرنا صحیح نہیں ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔ شریعت میں کفر سے نفرت کی اہمیت ہے، لیکن اس کے باوجود کافر سے بھی نفرت حرام ہے، کیونکہ وہ کسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان بن سکتا ہے۔

حضرت والا نے بعض لوگوں کا فرمایا ، جیسے کہ وہ خاندان جو اپنے رشتہ داروں کے حقوق نہیں دیتے، زکوۃ نہیں دیتے، اور اپنے ورثے میں ظلم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کہ جو شخص یتیم کا مال کھاتا ہے یا اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال نہیں کرتا، وہ بدبخت ہے۔

حضرت والا نے دین کی اہمیت پر زور دیا ہے، اور کہا کہ اکثر گھروں میں دین کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ لوگ صرف دنیاوی چیزوں میں مصروف ہیں جیسے کہ پیسہ، گاڑیاں، اور زمین، اور آخرت کی فکر کم کرتے ہیں۔ حضرت والا نے اسکولوں کے نصاب کا بھی ذکر کیا کہ وہاں غیر اخلاقی مواد جیسے فحاشی، ناچ گانا، کی تعلیم دی جاتی ہے، لیکن ہم ان سب چیزوں کو تبدیل نہیں کر سکتے، ہم اپنی اصلاح کر کے اپنے گھروں میں دین کی تعلیم دے سکتے ہیں۔

پھر ایک پروفیسر کا حوالہ دیا جو اپنی کلاسوں میں قرآن اور حدیث کی اہمیت کو اجاگر کرتے تھے اور اس بات پر زور دیتے تھے کہ دنیاوی تعلیم اہم نہیں، اصل علم قرآن اور حدیث ہے۔

28:06) 1۔غصہ اور تکبر: ان سے بچنے کے طریقے بتائے ہیں، اور نیک عمل اور دعا کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ 2۔گناہ اور گناہگار: گناہ کو گناہ سمجھنا چاہیے، لیکن گناہگار سے نفرت کرنا حرام ہے۔ 3۔والدین اور تربیت: فرمایا کہ والدین کی عزت اور محبت ضروری ہے اور ہمیں اپنی اولاد کی تربیت پر دھیان دینا چاہیے۔ 4۔حالات اور اصلاح:حضرت والا نے کچھ مشکلات کا ذکر فرمایا، جن میں والدین سے تعلقات اور گھریلو مسائل شامل ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ گھر سے بھاگنا اور گناہ کی طرف بڑھنا غلط ہے۔

31:50) حضرت والا رحمہ اللہ مدینہ شریف میں حاضرتھے ایک واقعہ بیان فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شیخ نے ڈانٹ دیا تو فرمایا کہ میرے دل میں ایک لمحے کو وسوسہ آیا، اور وسوسہ تو آدمی کے اختیار میں نہیں ہوتا، کہ میرے شیخ نے مجھے کیوں ڈانٹ دیا؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے فوراً مدد فرمائی۔ حضرت والا نے اپنے نفس کو دبا دیا اور دل میں یہ بات جم گئی "حکیم اختر! کچھ بھی ہو، یہ تیرا شیخ ہے۔ اگر مدینہ منورہ کی پاک گلیوں میں بھی وہ بلا وجہ مجھے جوتے ماریں، تب بھی میں اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔" یہ کیفیت اطاعت، فنا اور محبتِ شیخ کی اعلیٰ مثال ہے۔ پھر حضرت والا رحمہ اللہ نے ایک بات فرمائی "میں میر صاحب سے محبت کرتا ہوں۔ جو میر صاحب سے محبت نہیں کرتا، اس میں کوئی کمی ہے، اور میرا دل بھی پھر اس سے نہیں لگتا۔"

33:38) اس واقعے کا سبق:۔ 1۔وسوسہ آ جانا گناہ نہیں 2۔لیکن وسوسے کو مان لینا خطرناک ہے۔ حضرت والا نے فوراً نفس کو دبا دیا۔ 3۔شیخ سے محبت مشروط نہیں ہوتی 4۔ادب، ڈانٹ، خاموشی — سب قبول۔ 5۔اہلِ اللہ سے محبت دل کو نور سے بھر دیتی ہے 6۔اہلِ حق سے بغض دل کی کمی کی علامت ہے

46:12) عشقِ مجازی، ازدواجی زندگی اور بے وفائی، بڑھاپے میں بیوی کے حقوق، اور دین سے غفلت پر نصیحت فرمائی۔۔ عشقِ مجازی اللہ کا عذاب ہے شعر جو مصطفی بھائی نے پڑھا اُس کی تشریح فرمائی یہ نہ سوز رکھتا ہے، نہ ساز۔ جو شخص حلال بیوی کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہے، وہ دراصل اپنے ایمان، سکون اور عزت—سب کو برباد کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی محبتیں وقتی ہوتی ہیں، جیسے حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، ویسے ہی ان کے دل اور تعلقات بدل جاتے ہیں۔

50:29) شبِ معراج کے مناظر کے بارے میں خبردار فرمایا ان کے لیے سخت وعید ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شب معراج میں دیکھا وہ عورتیں جو شوہر کے ہوتے ہوئے غیروں کی طرف مائل ہوں—اُن کو عذاب میں دیکھا۔۔ *

51:31) پھر بیوی سے محبت کا ذکر فرمایا کہ * جوانی میں تو پیچھے پیچھے گھومتے ہیں، دعوے کرتے ہیں: ثمر قند فدا کردوں گا،بخارا فدا کر دوں گا مگر جب وہی بیوی بوڑھی ہو جاتی ہے، کھانستی ہے، کمزور ہو جاتی ہے تو پوچھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اگر بیوی بالکل کمزور بھی ہو جائے تو بھی پیار سے کہو: اے میری گڑیا، میری شکر کی پڑیا” یہی اخلاقِ نبوی ﷺ ہے۔ بیوی کا دل خوش کرنا صدقہ ہے اگر بیوی بیمار ہو، کھانستی ہو، کمزوری ہو—تو: صرف “کیا حال ہے؟” پوچھ لینا کافی نہیں اس کے پاس بیٹھ جانا۔ہمدردی کا ایک جملہ بول دینا۔۔ یہ سب اللہ کے ہاں وزن رکھتا ہے۔ آج بہت سی عورتیں یہ شکوہ کرتی ہیں: “جب جوان تھی تو سب پوچھتے تھے، اب بڑھیا ہو گئی ہوں تو کوئی نہیں پوچھتا”

52:26) ان تمام نصیحتوں کا خلاصہ:۔ آخری نصیحت 1۔عشقِ مجازی سے بچیں۔۔ 2۔حلال رشتے کی قدر کریں۔ 3۔بڑھاپے میں بیوی کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھو۔ 4۔نفس کا غلام بننے کے بجائے اللہ کے احکامات کا غلام بنیں۔ 5۔اللہ ہمیں سمجھ، عمل اور سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین 57:23) بینات رسالہ (جمادی الاخریٰ ، 1447ھ) میں شائع ہونے والا ایک مضمون کا ذکر فرمایا ۔ اس میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ خودرائی اور اپنی رائے پر حد سے زیادہ اعتماد اکثر اہلِ علم کےانحراف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ اپنی رائے پر اعتماد کرنے کے بجائے اکابرِ امت کے علم، تقویٰ اور فہم پر اعتماد کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم روزانہ نمازوں، وتر اور نوافل میں یہ دعا مانگتے ہیں: صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ یعنی: اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تُو نے انعام فرمایا۔ قرآنِ پاک کی تفسیر میں وضاحت ہے کہ یہ لوگ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَحَسُنَ أُولٰئِكَ رَفِیقًا “اور یہ کتنے اچھے رفیق ہیں۔” نبوت کا دروازہ تو نبی کریم ﷺ پر بند ہو چکا، مگر صدیقین کا راستہ قیامت تک کھلا رہے گا، اور اسی راستے پر چل کر اللہ کی رضا حاصل کی جا سکتی ہے۔

59:23) صدیقیت کا مقام قیامت تک باقی رہے گا۔ مگر افسوس کہ آج بعض لوگ اکابر کا نام لیتے ہیں، مگر عمل میں شدید تضاد نظر آتا ہے۔ شرعی پردے کی بات کی جاتی ہے، مگر خود تصویروں، موسیقی اور غیر شرعی محفلوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ بیٹیوں کو گھر کی زینت کہا جاتا ہے، مگر عملی طور پر ان پر عمل نہیں۔۔ یہ سب تضاد اس بات کی علامت ہے کہ اصل ضرورت اکابر کے نقشِ قدم کو واقعی اپنانے کی ہے، صرف دعوے کرنے کی نہیں۔

01:08:00) صدیق کی پہلی تفسیر:۔

01:17:52) کون سی ہنسی دل کو مردہ کرتی ہے اور ہنستے نہیں ہسنے کی بات پر بھی نہیں ہنس رہے اس پر کچھ نصیحت اور آپ ﷺ کے کچھ واقعات کا ذکر کہ مزاح فرماتے تھے

01:18:56) پھر ایک اور حدیث پاک جس میں ہنسی کا ذکر ہے۔۔جس کا مفہوم ذکر ہے۔۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ دوزخ میں کافر ہمیشہ رہیں گے، لیکن وہ مسلمان جنہوں نے توبہ نہیں کی ہوگی، سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال لیے جائیں گے۔ سب سے آخر میں جو دوزخی باہر آئے گا، اس کا جسم دوزخ کی آگ سے جھلس چکا ہوگا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایک درخت لگائیں گے۔ وہ شخص کہے گا: "اے اللہ! مجھے اس درخت کے قریب پہنچا دیجیے۔" اللہ فرمائیں گے: "میں پہنچا دیتا ہوں، مگر پھر کوئی اور خواہش نہیں کرو گے؟" وہ وعدہ کرے گا کہ اب کوئی خواہش نہیں کرے گا۔ جب وہ درخت کے قریب پہنچے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ خوبصورت درخت سامنے لگا دیں گے۔ پھر وہ دوبارہ عرض کرے گا: "اے اللہ! مجھے اس درخت کے قریب بھی پہنچا دیجیے۔" اللہ تعالیٰ اس کی کمزوری پر مسکرا کر فرمائیں گے اور اسے وہاں بھی پہنچا دیں گے۔ اسی طرح وہ شخص بار بار وعدہ توڑتا رہے گا اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے اسے عطا کرتے رہیں گے، کیونکہ اللہ کو بندے کا گڑگڑانا، مانگنا اور عاجزی بہت پسند ہے۔ آخرکار وہ عرض کرے گا: "اے اللہ! مجھے جنت میں بھی داخل فرما دیجیے۔" اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: "اگر میں اس سے کئی گنا زیادہ عطا کر دوں تو کیا تو راضی ہو جائے گا؟" وہ حیرت سے کہے گا: "اے اللہ! کیا آپ مجھ سے مذاق فرما رہے ہیں؟" یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرائے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندانِ مبارک نظر آنے لگے۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت، کرم اور بندوں پر شفقت کی عظیم مثال ہے۔

01:24:17) اس حدیث پاک کا مختصر خلاصہ حدیثِ پاک میں بتایا گیا ہے کہ سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والا مسلمان، بار بار اللہ سے مانگتا رہے گا اور وعدے توڑتا رہے گا، مگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اسے ہر بار عطا کرتے جائیں گے، یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل فرما دیں گے۔ یہ حدیث ہمیں اللہ کی لامحدود رحمت، بندے کی کمزوری اور اللہ کے کرم کا عظیم سبق دیتی ہے۔

01:26:47) شیخ العرب العجم رحمہ اللہ گلشن میں ایک ملفوظ جو حضرت 1991ء میں پڑھتے تھے۔تو بہت عرصے سے تلاش تھی لیکن ملاتا نہیں تھا حضرت شیخ نے فرمایا کہ میں نے اسے کتاب میں تلاش کر رہا تھا، تو الحمدللہ مل گیا۔ آج کل ظہر کے وقت وہی کتاب پڑھی جا رہی ہے اُس میں ملا۔ فرمایا کہ بعض اشخاص میں فطری شوخی ہوتی ہے، جنہیں عرفِ عام میں بعض لوگ “چھچھورا کہہ دیتے ہیں، حالانکہ ایسے لوگ دراصل نفس کے مردہ اور روح کے زندہ ہوتے ہیں۔

حضرت نے فرمایا کہ مصنوعی بشاشت روح کے مردہ اور نفس کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ ایسے شخص میں اکثر تکبر پایا جاتا ہے، جبکہ فطری شوخی میں تکبر نہیں ہوتا۔ انسان جیسا ہے ویسا ہی سامنے ہونا چاہیے۔ ایک واقعہ بیان فرمایا کہ مولانا عبدالغفور صاحب ہندوستان میں تھے۔ وہ گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے اور پریشان نظر آ رہے تھے۔ پوچھا گیا: کیوں پریشان ہیں؟ کہنے لگے: لوگ کیا کہیں گے؟ مولوی کا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ حضرت نے فرمایا: بتائیے، اس میں کون سا گناہ ہے؟ حضرت کے سامنے کئی علماء نے کہا: حضرت! آپ نے ہمیں حسنِ طبع سکھایا ہے۔

ہم پہلے اس لیے نہیں ہنستے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے، مولوی ہنس رہا ہے۔ حضرت نے فرمایا: یہ ریا نہیں ہے۔ ریا یہ ہے کہ مخلوق کو دکھانے کی نیت سے عمل کیا جائے۔ اور مخلوق کے خوف سے نیک عمل چھوڑ دینا بھی ریا میں داخل ہے۔ ریا دکھلانے کا نام ہے، دیکھے جانے کا نہیں۔ اگر کسی کی آنکھ سے آنسو نکل آئے اور کسی نے دیکھ لیا، تو وہ ریا نہیں۔ البتہ اگر جان بوجھ کر آنسو کو دکھایا جائے تو وہ ریا ہے۔ اگر آنسو نکل آئے تو جہاں تک ممکن ہو، اسے چھپا لیا جائے۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ: جس کی آنکھ سے اللہ کے خوف سے آنسو نکل آئے، اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔

01:44:06) اس ملفوظ کا خلاصہ یہ ہے حضرت نے فرمایا کہ :۔ 1۔فطری خوش مزاجی اور شوخی شریعت میں جائز ہے، مگر دوسروں کو اذیت دینے والا مذاق حرام ہے۔ 2۔جو لوگ قدرتی طور پر ہنستے بولتے ہیں، وہ روحانی طور پر زندہ ہوتے ہیں۔ 3۔بناوٹ کی سنجیدگی اور مصنوعی بشاشت دراصل نفس کی علامت ہے۔ 4۔لوگوں کے خوف سے نیکی چھوڑ دینا بھی ریا ہے۔ 5۔ریا دکھاوے کا نام ہے، محض دیکھے جانے کا نہیں۔ 6۔اللہ کے خوف سے نکلنے والا آنسو بڑی فضیلت رکھتا ہے، حتیٰ کہ دوزخ کی آگ سے حفاظت کا سبب بنتا ہے۔

*دورانیہ* *1:30:24