عشاء مجلس ۷ جنوری ۲۶ء:نظر کی حفاظت اور شرعی زندگی ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* *پورے بیان کا خلاصہ:۔* آج کا سبق یہی ہے: اپنے گناہوں سے نہ ڈریں، اللہ کی رحمت پر نظر رکھیں، اور ہر دن بہتر انسان بننے کی کوشش کریں۔ فرمایا:۔ ، انسان کی زندگی میں نیکیاں بھی ہیں اور کبھی کبھار گناہ بھی ہو جاتا ہے ۔ ماضی کے گناہوں کو دفن کر دینا اور حال میں بھلائی اختیار کرنا ضروری ہے۔ حسد، غصہ اور تکبر جیسی کمزوریاں انسان کو پریشان کرتی ہیں، لیکن اللہ کی رحمت سے ہر کمزوری پر قابو پایا جا سکتا ہے شیطان اسی کا فائدہ اٹھا کر انسان کو مایوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں! اگر ہم سچے دل سے توبہ کریں، اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے انتہا ہے، اور اس کی مدد سے ہم دنیاوی مشکلات اور روحانی آزمائشوں کو سمجھ کر حل کر سکتے ہیں۔ گناہ چھوڑدیں، اللہ والوں کی صحبت اختیار کریں، اور دل و عمل کی پاکیزگی کو اپنا سرمایہ بنائیں۔۔ زندگی میں ہر انسان کے لیے اللہ تعالیٰ بار بار نیکی کی طرف اشارے بھیجتا ہے۔ گناہ وقتی طور پر چھپ جاتے ہیں، مگر دل و جسم میں رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ انسان کو دوبارہ گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ نظر، دل اور تعلقات کی حفاظت کریں، اور چھوٹے بہانوں میں بھی محتاط رہیں۔ اللہ والوں کی صحبت زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ان کی سادہ زندگی، نماز، عمل، حیا، اور تقویٰ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ علم تب تک نافع نہیں جب تک عمل اور خوفِ خدا ساتھ نہ ہو حقیقی قدر حسن و جمال میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، اللہ سے تعلق اور تقویٰ میں ہے۔ دوستی، مذاق، چھوٹے بہانے، کھیل اور بے احتیاطی آہستہ آہستہ انسان کو شیطان کے جال میں پھنسا دیتی ہیں۔ اسی لیے احتیاط، مراقبہ، اور سچی توبہ ہی نجات کا راستہ ہے۔ شیخ کی رہنمائی اور سادہ زندگی کی درسگاہ۔۔ "علم، تقویٰ اور قربانی کی راہ: والدین اور اولاد کے کردار کی نصیحت" علم کے حصول کی اہمیت,دولت اور دنیاوی آسائشیں انسان کو برائی کی طرف لے جا سکتی ہیں، لیکن علم اور دین کی تعلیم سب سے بڑی دولت ہے۔ والدین کی کوشش کریں اور قربانی دیں ، جیسےجناب تحسین صاحب نے اپنے بیٹے کو عالم بنانے میں کی اور آج دیکھ لیں کیا کام دارلعلوم سے ہورہا ہے، ایک روشن مثال ہے کہ حقیقی کامیابی دین اور علم میں ہے۔ "نظر کی حفاظت اور شرعی زندگی: تقوی، توبہ اور روزمرہ عملی نصائح" فرمایا:۔کہ نظر کی حفاظت سے تقویٰ آسان ہوتا ہے اور انسان بے شمار گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ بد نظری، زبان، حرص، غیر شرعی تقریبات، اور میڈیا کے غلط استعمال سے بچنا نہ صرف شرعی فریضہ ہے بلکہ ذہنی سکون، اطمینان اور خوشگوار زندگی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ شرعی پردے اور حلال تعلقات کی اہمیت۔ غیر شرعی تقریبات، فیس بک، یوٹیوب اور دیگر میڈیا سے بہت بچیں۔ والدین کی تعلیمات اور بچوں کی تربیت میں نظر کی حفاظت کا کردار۔ نظر کا فتنہ اور اس کا علاج:۔ فرمایا:۔کہ موجودہ دور میں موبائل، فلمیں اور دیگر جدید ذرائع نے گناہوں، خصوصاً نظر اور شہوت کے فتنہ کو عام کر دیا ہے، یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ یہ مرض صرف عام لوگوں تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات سالکین اور پرہیزگار افراد بھی اس دھوکے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں لیکن اُن کو معلوم نہیں کہ اس دھوکے میں گرفتار ہیں اور گناہوں کی طرف جارہے ہیں۔۔ علاج اس کا یہے کہہ انسان خود کو کسی نیک یا جائز دنیاوی کام میں مشغول رکھے۔ حسینوں کی محبت اور امرد لڑکوں کی محبت کے بارے میں فرمایا کہ اصل محبت جسم سے نہیں بلکہ روح سے ہونی چاہیے۔ | ||