عشاء مجلس ۹ جنوری ۲۶ء:اہل اللہ کی صحبت کی اہمیت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم 04:53) اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور ان میں غوروفکر۔۔۔ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔۔۔!! 04:54) اللہ تعالیٰ کی محبت گناہوں سے دُوری کاسبب بنتی ہے۔۔۔!! 09:49) بدنظری اور بے حیائی ۔۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس لیے پیدا کیا ہے؟ 15:37) چین سکون اوراطمینان والی زندگی اللہ تعالیٰ کوراضی کرنے میں ہے۔۔۔!! 17:20) جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔!! دلِ پر آرزو رکھتے ہوئے بے آرزو رہنا حقیقت میں تو رہنا ہے یہی باحق و ھو رہنا کوئی رہنے میں رہنا ہے یہ محوِ رنگ و بو رہنا علامت جذبِ پنہاں کی یہی معلوم ہوتی ہے تری خاطر مری ہر سانس وقفِ جستجو رہنا یہ دعوت بے زباں بھی ہے مگر آتش فشاں بھی ہے گریباں چاک ہوکر عشق حق میں کوبہ کو رہنا حقیقت بندگی کی ہے یہی اے دوستو سن لو دل پر آرزو رکھتے ہوئے بے آرزو رہنا مرے احباب مجلس سے کوئی پوچھے مزہ اس کا بشرحِ دردِ دل اخترؔ کا محوِ گفتگو رہنا 22:34) اگر آپ کو اﷲ والا بننا ہے تو کسی اﷲ والے کو اپنا خلیل بنا لو تاکہ اس حدیث کے مصداق بن جاؤ: {اَلْمَرْأُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ} (مسند احمد) لہٰذا کسی برے انسان کو دوست بناؤ گے تو برے بن جاؤ گے اور اچھے انسان کو دوست بناؤ گے تو اچھے ہوجاؤ گے، جیسا خلیل ہوگا ویسے اخلاق ہوجائیں گے۔ ایک دیہاتی نے میرے شیخ شاہ عبد الغنی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ سے عرض کیا کہ حضور میرے آم کے پیڑ سے نیم کی شاخ متصل ہوکر گذر گئی، میرا سارا آم کڑوا ہوگیا تو دوستو ذرا دائیں بائیں دیکھتے رہو کہ تمہارے قلب کے قریب سے کسی بدعقیدہ ، بد عمل یا بداخلاق انسان کے قلب کی شاخ تو نہیں گذر رہی ہے۔ مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ دیکھو کہ جس کے اخلاق اچھے ہیں، جو اﷲ والے ہیں ان کے ساتھ ساتھ چلوتو اﷲ تک پہنچ جاؤ گے، یہ ایک اﷲ والے کا لکھنؤ میں علماء ندوہ سے خطاب تھا پھر یہ شعر پڑھا ؎ تنہا نہ چل سکو گے محبت کی راہ میں میں چل رہا ہوں آپ میرے ساتھ آئیے 25:55) نقوشِ کتب پر عمل کے لیے نفوسِ قطب کی اہمیت جس وقت مصنف عبد الرزاق کے محشی، ہندوستان کے سب سے بڑے محدث مولانا حبیب الرحمن اعظمی صاحب نے مولانا شاہ محمد احمد صاحب کو اپنے دارالعلوم اعظم گڑھ میں بلایا تو حضرت نے فرمایا ؎ دارالعلوم دل کے پگھلنے کا نام ہے دارالعلوم روح کے جلنے کا نام ہے اگر دارالعلوم میں اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں سکھائی جاتی، خدا کی یاد میں تڑپنا نہیں سکھایا جاتا، سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی مشق نہیں ہوتی تو خالی نقوشِ کتب پڑھنے سے کتب بینی تو ہوجائے گی مگر نقوشِ کتب پر عمل کرنے کے لیے قطب بینی کی ضرورت ہوتی ہے پھر نقوشِ کتب سے نفوسِ قطب بنتے ہیں۔ حکیم الامت تھانوی سے سہارنپور کے علماء نے پوچھا کہ آپ کے علم میں برکت کہاں سے آئی؟ کیا آپ بہت کتب بینی کرتے ہیں؟ فرمایا نہیں اے میرے پیارے علماء حضرات! درس کی جو کتابیں آپ نے پڑھی ہیں وہی میں نے بھی پڑھی ہیں لیکن میری ایک نعمت مستزاد ہے کہ میں نے حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی، مولانا گنگوہی اور حضرت مولانا یعقوب صاحب نانوتوی کی قطب بینی بھی کی ہے اور اللہ تعالیٰ یہ برکت اسی قطب بینی کی وجہ سے عطا فرماتا ہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اگر تم صاحبِ نسبت ہوجائو گے تو تمہارے مٹکے کے علم کو سمندر اور دریا سے تعلق ہوجائے گا ۔ 28:06) صحبت اہل اللہ کی اہمیت پر اکابر ین کے ملفوظات: حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اﷲ علیہ اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں کہ تم نے بخاری شریف پڑھ لی، عالم ہوگئے لیکن یاد رکھو کہ بخاری شریف کی روح تب ملے گی جب اہل اللہ کی جوتیاں اُٹھائو گے پھر جوش میں فرمایا کہ اللہ والوں کی جوتیوں کے خاک کے ذرّات بادشاہوں کے تاج کے موتیوں سے افضل ہیں۔ مولانا ظفر احمد عثمانی رحمۃ اﷲ علیہ نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں ختم بخاری شریف کے موقع پر فرمایا کہ اے طلباء کرام! جائو کچھ دن کسی صاحبِ نسبت، صاحبِ تقوٰی کی صحبت میں رہ لو تاکہ ان کے صدقے میں تم بھی متقی بن جائو پھر یہ شعر پڑھا ؎ دردِ دل نے اور سب دردوں کا درماں کردیا دل کو روشن کردیا آنکھوں کو بینا کردیا علامہ سید سلیمان ندوی مولانا ظفراحمد عثمانی کے صدقہ حضرت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ سے بیعت ہوئے ورنہ یہ تھانہ بھون کا مذاق اُڑاتے تھے۔ ایک دن مولانا ظفر احمد عثمانی نے انہیں خط میں مولانا رومی کا یہ شعر لکھا ؎ قال را بگذار مردِ حال شو پیشِ مردِ کاملے پامال شو اے علامہ سید سلیمان ندوی! میں جانتا ہوں کہ شرقِ اوسط میں تمہارے نام کا غلغلہ ہے لیکن چند دن کسی اللہ والے کی صحبت میںبھی رہ کر دیکھ لو، حضرت سید سلیمان ندوی فوراً تھانہ بھون پہنچ گئے اوروہاں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب اور مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کے ساتھ ایک مجلس میں حکیم الامت حضرت تھانوی کی صحبت اٹھائی پھر فرمایا کہ آہ! ہم جس علم پر ناز کرتے تھے آج معلوم ہوا کہ اصل علم تو اس بوریہ نشین کے پاس ہے، ہمارا علم ان کے سامنے گرد ہے پھر روتے ہوئے اشکبارآنکھوں سے یہ اشعار پڑھے ؎ جانے کس انداز سے تقریر کی پھر نہ پیدا شبۂ باطل ہوا آج ہی پایا مزہ قرآن میں جیسے قرآں آج ہی نازل ہوا اور جب حضرت کے مشورے سے اللہ اللہ کیا تو فرمایا ؎ نام لیتے ہی نشہ سا چھا گیا ذکر میں تاثیرِ دورِ جام ہے وعدہ آنے کا شبِ آخر میں ہے صبح سے ہی انتظارِ شام ہے پھر فرمایا کہ جس کی صحبت کو ہم حقیر سمجھتے تھے، جس کا ہم مذاق اُڑاتے تھے اے دنیا والو! آج سید سلیمان ندوی ببانگِ دُہل یہ اعلان کرتا ہے کہ حکیم الامت تھانوی کی قدر کرلو ؎ جی بھر کے دیکھ لو یہ جمالِ جہاں فروز پھر یہ جمالِ نور دِکھایا نہ جائے گا چاہا خدا نے تو تیری محفل کا ہر چراغ جلتا رہے گا یوں ہی بجھایا نہ جائے گا دورانیہ 35:07 | ||