عشاء مجلس ۱۰ جنوری ۲۶ء:صحبتِ صالحین اور درد دل کی نعمت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم 13:22) بیان سے پہلے اشعار ہوئے درمیان میں حضرت والا نے تشریح فرمائی۔۔ 13:42) کسی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا ہے۔۔ ہم فرض اور تقویٰ کی فکر چھوڑ کر نفل اعمال کی فکر میں پڑ گئے ہیں۔ قرآن پاک میں جس چیز پر زور دیا گیا ہے، اس پر ہماری توجہ نہیں۔ دین میں سختی نہیں، توازن ہے۔ اصل کامیابی فرض کی پابندی، تقویٰ اور اللہ کی رضا کی فکر میں ہے 24:05) بہت خوبصورت اور پُراثر اشعار جنا ب مفتی محمد کریم صاحب نے پڑھے جو حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کے اشعار آئینہ محبت میں ہیں—محبت، شیخ کی صحبت **ہر جلوت میں شرافت کی باتیں، میرے شیخ کے پاس آ کر تو دیکھو محبت کے دن ہیں، محبت کی راتیں، میرے شیخ کے پاس آ کر تو دیکھو وہ خود ہیں سراپا محبت، وہ خود ہیں سراپا محبت سنو گے تو بس ان سے محبت ہی محبت کی باتیں* * 27:29) اہل اللہ سے فیض کی منتقلی ۔۔۔ 42:39) صحبتِ صالحین اور دردِ دل کی نعمت مضبوط نسبت وہ ہے جو انسان کے دل میں دردِ دل، دردِ نسبت اور دردِ محبت پیدا کر دے۔ خانقاہ کا مقصد یہی ہے کہ جو بھی وہاں آئے، محروم نہ جائےشیخِ کامل اور صالحین کی صحبت کی برکت کا خاص فائدہ جو انسان کی زندگی بدل دیتی ہے۔ 43:46) ختمِ بخاری: اکابر کے طریقے کی حفاظت اور بدعات سے اجتناب دارالعلوم دیوبند میں ختمِ بخاری اور تقسیمِ انعامات کے موقع (18 رجب 1447ھ / 8 جنوری 2026ء) پر دی گئی ایک درد بھری نصیحت جس میں حضرت والا مولانا محمد سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم کا ملفوظ پڑھ کر سنایا کہ ختمِ بخاری خوشی، نمائش، فوٹوگرافی، پھول ڈالنے یا مہنگے تحائف کا موقع نہیں بلکہ آنسو بہانے، عاجزی اور دین کی عظمت کو محسوس کرنے کا وقت ہے۔ مدارس میں خواتین کی فوٹوگرافی، غیر ضروری رسومات، مہنگے تحائف، قرض لے کر دینا، اور اکابر کے طریقے کے خلاف شدید نقصان کا سبب ہیں۔ اکابر دیوبند کی راہ پر قائم رہنے ہی میں دارالعلوم کی بقا ہے۔
| ||