عشاء مجلس ۲۳ جنوری ۲۶ء: طالب جاہ کو اللہ نہیں مل سکتا ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 08:36) بیان سے پہلے جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔!!کسی مخلص کی ضائع کوئی قربانی نہیں جاتی کسی مخلص کی ضایع کوئی قربانی نہیں جاتی کسی کے قلب سے جو آہ پنہانی نہیں جاتی اگر چہ معاف کردیتے ہیں وہ اپنی محبت سے مگر میں کیا کروں میری پشیمانی نہیں جاتی بتوں کی بے وفائی کا کیا ہے تجربہ تو نے مگر اے نفس پھر بھی تیری نادانی نہیں جاتی ترا بچپن یہ پچپن میں مجھے حیرت ہے اے ناداں بڑھاپے میں بھی تیری خوئے طفلانی نہیں جاتی عجب د’رویش ہیں تیرے کہ گدڑی پوش ہو کر بھی بہ فیض نور نسبت شان سلطانی نہیں جاتی محبت میں کبھی ایسے بھی دن آتے ہیں اے اخترؔ کہ رونے پر بھی غم کی اشکبارانی نہیں جاتی 08:36) جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتا ہے وہ تقویٰ کی فکر رکھتا ہے اورشرعی مسائل پوچھ پوچھ کر عمل کرتا ہے۔۔۔!! 12:44) تکبّر اور حُبِ جاہ دونوں حرام ہیں۔۔۔جاہ والا کسی کو حقیر نہیں سمجھتا اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔۔۔!! 15:01) خزائن معرفت ومحبت ::: طالبِ جاہ کو اﷲ نہیں مل سکتا: ارشاد فرمایا کہ کبھی شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ آج محنت و مجاہدہ کر لو ایک دن تم بھی شیخ ہو جائو گے تمہارے پاس بھی مخلوق دعا کرانے آئے گی تمہارے مکان کے سامنے بھی کاریں کھڑی ہوں گی ،لوگ آگے پیچھے پھریں گے۔ یہ خیال اﷲ تعالیٰ کے راستہ کا بہت بڑا بت ہے۔ جس کے دل میں اﷲ کے علاوہ کوئی اور طلب ہو گی اسے کبھی اﷲ نہیں مل سکتا کیونکہ یہ شخص اﷲ کا طالب نہیں ہے جاہ کا طالب ہے ،مولیٰ کو بھی چاہ رہا ہے اور غلاموں کی بھی طلب ہے ، اسے مولیٰ نہیں مل سکتا کیونکہ اس نے مولیٰ کو نہ پہچانا۔ اگر مولیٰ کی معرفت و عظمت اس کے قلب پر منکشف ہو جاتی تو غلاموں کی عظمت بھلا دل میں رہ سکتی تھی؟ جس کے پاس ایک لاکھ روپے کا نوٹ ہو اور وہ آٹھ آنے کی تمنا کرے تو کہا جائے گا اسے ایک لاکھ روپے کی معرفت نہیں، خالق مل رہا ہو اور مخلوق کی تمنا کر ے تو یہ شخص غیر عارف ہے ۔ خالق کے ملتے ہوئے مخلوق کی تمنا کرنا معرفت کے خلاف ہے۔ اس کو حق تعالیٰ نہیں مل سکتے ۔باد شاہ اور بھنگیوں کی دعوت ایک دسترخوان پر نہیں ہو سکتی یا تو باد شاہ ہی کو بلالو یا بھنگیوں ہی کو بلا لو۔۔۔ 21:08) ۔۔۔باد شاہ کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ بھنگیوں کو بھی مقام عظمت دیا جائے۔ تو جس دل میں خالق کی طلب کے ساتھ مخلوق کی طلب شامل ہو گی اسے خالق کی معیت نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ اس نے اﷲ کو پہچا نا ہی نہیں ۔عارف کو سوائے خدا کے کچھ مطلوب نہیں، وہ جانتا ہے کہ اگر اﷲ مل گیا تو سب کچھ مل گیا۔ وہ تو یوں کہتا ہے؎ جو تو میرا تو سب میرا فلک میرا زمیں میری اگر اک تو نہیں میرا تو کوئی شے نہیں میری 22:05) ۔۔۔جس کو اﷲ مل جائے اس کو اور کیا چاہیے۔ اگر اﷲ مل گیا اور فرض کر لو کہ مخلوق نہیں ملی تو کیا نقصان ہے ۔ہاں مخلوق تو واہ واہ کر رہی ہو اور اﷲ کا فضل متوجہ نہ ہو تو کیا وہ شخص کامیاب ہے ؟ پس صرف اﷲ سے اﷲ کو مانگو گوشۂ گمنامی کو دل سے محبوب رکھو، اگر گمنام رہنا دل کو پسند آگیا تو سمجھ لو کہ ایمان ہے ورنہ نفاق کا خطرہ ہے۔ 25:24) خاتمہ کا خوف جاہی اَمراض کا علاج ہے::: سالک کو فوراً احساس ہو جاتا ہے کہ اب قلب میں ریا آرہی ہے، اب حسد آرہا ہے، اپنی بڑائی اور دوسروں کی حقارت پیدا ہورہی ہے، اب جاہ گھس رہی ہے، اس لئے وہ فوراً ہوشیار ہو جاتاہے اور علاج میں مصروف ہو جاتا ہے۔ ان سب کا علاج خاتمہ کا خوف ہے۔۔۔ 36:08) اس لئے جب اپنی بڑائی یاکسی کی حقارت دل میں آئے فوراً اپنے خاتمہ کا خیال کرلو۔ اگر خاموش بیٹھے ہوئے ہو، بظاہر کوئی عمل نہیں کررہے لیکن قلب کی نگرانی کررہے ہو تویہ قلب کا عمل ہے، قلب کی عبادت ہے، ظاہری اعمال تو عام مومنین بھی کرتےہیں لیکن قلب کی نگرانی اولیاءا للہ ہی کرتے ہیں۔ 47:33) اللہ تعالیٰ کی تین بڑی نعمتیں۔۔۔فضل،رحمت اور اللہ تعالیٰ کی مشیت۔۔۔!! 50:14) چوبیس گھنٹے کا ذاکر کون ہے؟۔۔۔ 51:22) میں نے اپنے شیخ کو دیکھا ہے کہ تنہائی میں بیٹھے ہیں۔ میں دور سے حضرت کو دیکھا کرتا تھا لیکن ایسے کہ حضرت کو میری موجودگی کا علم نہ ہو، تاکہ حضرت کی عبادت میں خلل نہ پڑے۔ بیٹھے بیٹھے بعض دفعہ کہتے تھے: یاربی معاف فرمادیجئے،جیسے اللہ تعالیٰ سامنے ہوں اور باتیں ہورہی ہوں۔ یہ کیا تھا؟ یہی کہ کبھی جاہ کا خیال آگیا توفوراً اس کی تلافی کر دی کہ نفس میں بڑائی نہ آنے پائے۔اس راہ میں آخر دم تک قلب کی نگرانی کر نی پڑتی ہے، تراش خراش میں لگا رہنا پڑتاہے؎ اندر ایں ره می تراش و می خراش تا دمِ آخر دمے فارغ مباش 56:10) ۔۔۔بس یہ سوچنا چاہئے کہ نہ معلوم اللہ کو اس کا کون سا عمل پسند ہو اور علم الٰہی میں اس کا خاتمہ اچھا ہونا لکھا ہو اور میرا خاتمہ نہ معلوم کس حال پر ہو، نہ معلوم میری کون سی بات اللہ میاں کو ناپسند ہو کہ خاتمہ خراب ہوجائے اور حکم ہو جائے کہ جا کمبخت! تیرا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ساراعمل دھرا رہ جائے۔ اس لئے سب کو اپنے سے اچھا سمجھو، خوش اخلاقی اور تواضع سے پیش آؤ۔ 57:22) توجہ اور قلب جاری کردینے کا مطلب کیا ہے۔۔۔؟ 59:23) نفس کو مٹا کررکھو۔۔۔حضرت والا رحمہ اللہ کی حدودِ حرم میں کسی بات پر ایک مولانا کو خاص نصیحت۔۔۔!! 01:16:27) دُعا کی پرچیاں۔۔۔!! دورانیہ 1:17:45 | ||