مرکزی بیان  ۲۹       جنوری   ۲۶ء:قربِ الہٰی!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

04:34) بیان سے پہلے جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔!!

میں نے غم بھی بہت اُٹھائے ہیں داغِ حسرت سے دل سجائے ہیں تب کہیں جا کے اُن کو پائے ہیں

04:34) داغِ حسرت سے دل سجائے ہیں تب کہیں جا کے اُن کو پائے ہیں اشعار کی تشریح۔۔۔

اللہ تعالیٰ کے راستے میں تکلیفیں آئیں گی۔۔۔گناہوں کے خیالات آئیں گے لیکن ان پر عمل نہیں کرنامجاہدے اُٹھانے ہیں۔۔۔!!

08:49) نظر کی حفاظت اور بنات کے مدرسے میں پڑھانے پرقیمتی نصیحتیں۔۔۔!! جو اکابرین کے طریقے سے ہٹا وہ کھائی میں گرگیا۔۔۔!!

16:00) قلب میں جب وہ جس کے آئے ہیں اپنا عالم الگ سجائے ہیں ان حسینوں سے دل بچانے میں میں نے غم بھی بہت اُٹھائے ہیں حسنِ فانی کے چکروں میں میر کتنے لوگوں نے دن گنوائے ہیں

18:42) اصلاح اور خود رائی پر نصیحت۔۔۔!!

21:36) شکل بگڑی تو بھاگ نکلے دوست جن کو پہلے غزل سنائے ہیں منزلِ قرب یوں نہیں ملتی زخمِ حسرت ہزار کھائے ہیں

23:55) منزلِ قرب یوں نہیں ملتی زخمِ حسرت ہزار کھائے ہیں اللہ تعالیٰ کی دوستی ایسی ہی نہیں ملتی بلکہ اس کے لیے غم اُٹھانے پڑتے ہیں گناہ نہ کرکہ دل پر غم آتے ہیں اور مجاہدے کرنے پڑتے ہیں تب اللہ تعالیٰ کی ذات ملتی ہے۔۔۔!!

27:16) کام بنتا ہے فضل سے اخترؔ فضل کا آسرا لگائے ہیں

28:33) بیان کاآغاز ہوا۔۔۔!! رسول اللہ ﷺ کی نظر میں دنیا کی حقیقت: ترجمہ: حضرت مہاجر بن حبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں حکیم کے ہر کلام کو قبول نہیں کرلیتا لیکن میں اس کے ارادہ اور نیت کو قبول کرتا ہوں ۔اگر اس کی نیت اورمحبت میری اطاعت میں ہے تو میں اس کی خاموشی کو اپنی تعریف قرار دیتاہوں اور وقار اگرچہ وہ کلام نہ کرے۔ تشریح:یعنی اگر کلام کرے دین کا اور نیت دنیا ہو تو وہ دنیا ہی ہے او ر اگر خاموشی اختیار کرے اللہ تعالیٰ کی محبت و اطاعت کے لیے تو وہ خاموشی محمود اور حمد و ثناء کے رتبہ میں مقبول ہے اور مایۂ وقار علم کا ہے اسی سبب سے مشائخ سے منقول ہے کہ اللہ والوں کی خاموشی بھی ہادی ہےجس طرح سے ان کا نطق درجۂ قال سے ہادی ہے ان کا سکوت بھی درجۂ حال سے ہادی ہےَ خامش اندونعرۂ تکرار شاں میرودتا یار تخت یار شاں ترجمہ: مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اولیا ءاللہ خاموش بھی ہوتے ہیں اس وقت بھی ان کے باطن سے حق تعالیٰ تک مناجاۃ خاصہ و فریاد خاص کا رابطہ قائم رہتا ہے۔

30:57) ترجمہ:حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف گئے تو دیکھا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا معاذ !کون سی چیز تم کو رلارہی ہے ۔معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھ کو وہ بات رہا رہی ہے جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا ۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تھوڑا سا ریاء بھی شرک ہے اور یہ کہ جو شخص اللہ کے دوست سے دشمنی رکھے (یعنی اپنے قول و فعل سے اس کو اذیت پہنچائے ) اس نے گویا اللہ سے جنگ کی اور مقابلہ کیا ۔۔۔

34:45) دین کیسے پھیلا۔۔۔؟

45:53) اللہ کے ولی کو ستانہ: جو شخص اللہ کے دوست سے دشمنی رکھے (یعنی اپنے قول و فعل سے اس کو اذیت پہنچائے ) اس نے گویا اللہ سے جنگ کی اور مقابلہ کیا (اور جو شخص اللہ سے مقابلہ کرے گاتباہ و رسوا ہو گا) اللہ تعالیٰ نیکوکاروں ،پرہیز گاروں اور ان مخفی حال کے (گمنام ) لوگوں کو پسند کرتاہے کہ جب وہ نظر سے غائب ہوں تو ان کو پوچھا نہ جائے اور جب موجود ہوں تو ان کو بلایا نہ جائے اور (بلایا جائے تو)پاس نہ بٹھایا جائے ان لوگوں کے دل چراغ ہدایت ہیں (کہ اس کے نور سے راہ راست پائی جاتی ہے)اور یہ لوگ ہر زمین سے ظاہر و پیدا ہوتے ہیں ۔

52:26) جھوٹ بولنا اور اس کا علاج۔۔۔!!

54:40) حرام غذا کا اثر ہوتا ہے۔۔۔!!