بعد تراویح  ۱۹ فروری   ۲۶ء:رمضان: سچی توبہ  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

رمضان، سچی توبہ اور اللہ کی دوستی کا راستہ

(10:38 ارشاد فرمایا کہ رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ اللہ کی ناراضگی سے بچ کر اللہ کی دوستی حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ سچی توبہ کی چار شرطیں ہیں: گناہ چھوڑنا، ندامت، آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ اور حقوق کی ادائیگی۔

جو شخص اخلاص سے پلٹ آئے، اللہ تعالیٰ اس کے ریت کے ذرات جتنے گناہ بھی معاف فرما دیتے ہیں۔ گناہ کو چھپانا چاہیے اپنے گناہ کو کسی کے سامنے ظاہر مت کریں اور اپنی اصلاح کریں اپنے گناہوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا نئی رسوائی اور مزید گواہوں کو جمع کرنا ہے۔ آنکھ، زبان اور جسم کے ہر عضو کا حساب ہوگا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ماضی پر پردہ ڈال کر حال سنوارا جائے، حقوق ادا کریں اور عاجزی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں۔۔ توبہ، ندامت اور اللہ کی بے پایاں رحمت کا پیغام۔۔

(30:38 اللہ تعالیٰ کی رحمت لا محدود ہے، جو بندہ اخلاص سے پلٹ آئے وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے، اس لیے کبھی مایوس نہ ہونا چاہیے۔ سچی توبہ، ندامت اور پکا ارادہ انسان کو گناہوں کے اندھیروں سے نکال کر اللہ کی دوستی اور نور کی طرف لے آتا ہے۔ اللہ والوں کی صحبت کا فیض اور شقاوت سے سعادت تک کا سفر۔۔۔

(44:38 بہت اہم نصیحت بیان فرمائی۔۔۔ اللہ والوں کی صحبت دلوں کو بدل دیتی ہے، جیسے مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ ذکر و اصلاح کی مجلس میں آتا ہے، اس کی بدبختی بھی اللہ کے فضل سے سعادت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ فرض نماز کی فکر، اہلِ اللہ کی صحبت اور نسبت کی حفاظت:۔ رمضان اور زندگی کے ہر لمحے میں سب سے پہلی فکر فرض نماز کی ہونی چاہیے، نہ کہ کاروبار یا افطاری کی مصروفیات کی۔

اہلِ اللہ کی صحبت اور نسبت امانت ہے؛ جو جتنا قریب رہے گا، اتنا ہی اصلاحِ قلب پائے گا۔