طلباءکرام کے لئے بیان   ۱۰  / اپریل   ۲۶ء:قرآن کی فضیلت اورطالبِ علم کی ذمہ داریاں      

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجدِ اختر نزدسندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر بلاک12کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

*01:43) بیان کے آغاز میں جناب مصطفی مکی صاحب نے اشعا پڑھے* *دونوں جہاں تباہ ہیں جس نے دیا ہے ان کو دل* *ظالم نہ کر حیات کو نذرِ بتانِ سنگ دل* *قیمت حیات کی نہ تھی جب تک محض تھی آب و گل* *لذتِ زندگی نہ پوچھ جب سے ملا ہے دردِ دل* *خالق دل پہ دوستو جس نے فدا کیا ہے دل* *کہتے ہیں اس کو اہلِ دل سارے جہاں کے اہلِ دل*

*07:58) بیان کا آغاز ہوا۔۔* *سنت پر عمل کی نصیحت۔۔*

*09:28) اللھم حاسبنی حساباً یسیرا* *{روح المعانی ج۳۰ ص۸۰}* *اے خدا ہمارا آسان حساب لیجئے۔* *مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آسان حساب کے کیا معنی ہیں؟* *اب الفاظِ نبوت کی شرح الفاظِ نبوت سے سنئے۔ یعنی اپنے کلام کی شرح خود سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی کہ آسان حساب اس کو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے نامۂ اعمال پر ایک نظر ڈالیں اور پھر کچھ نہ پوچھیں اور فرمائیں جائو جنت میں۔ یہ ہے آسان حساب اللھم حاسبنی حساباً یسیرا*

*10:06) ایک شخص کی حکایت بیان کی گئی کہ ایک بزرگ نے اس کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ ’’مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ‘‘ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ اس نے کہا: ’’حَاسَبَنِیْ رَبِّی‘‘ میرے رب نے میرا حساب شروع کیا۔ ’’فَخَفَّتْ کِفَّۃُ حَسَنَاتِیْ‘‘ میری نیکیوں کا پلہ ہلکا پڑگیا۔ میں نے سمجھ لیا کہ بس اب جہنم میں جانا پڑے گا۔ ’’فَوَقَعَتْ فِیْہَا صُرَّۃٌ‘‘ کہ ایک چھوٹی سی تھیلی آکر گری جس سے میری نیکیوں کا وزن بڑھ گیا اور نجات مل گئی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: ’’مَاہٰذَا یَارَبِّیْ‘‘ اے میرے رب! یہ تھیلی کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہٰذَا کَفُّ تُرَابٍ اَلْقَیْتَہٗ فِیْ قَبْرِ مُسْلِمٍ‘‘ یہ وہ مٹی ہے جو اپنے ہاتھ سے تو نے ایک مسلمان کی قبر پر ڈالی تھی، وہی میں نے قبول کرلی تھی۔ آج اسی کے صدقہ میں تیری مغفرت ہوگئی۔*

*22:00) طلباء کرام ۔۔اللہ تعالی نے آپ کو چنا ہے یہ انبیاء علیھم السلام کی وراثت ہے اس کی قدر کرلیں۔۔*

*23:44) جب پکا ارادہ کرلوگے کہ اب یہ گناہ نہیں کروں گا تو شیطان ایک وسوسہ ڈالے گا کہ تم تو بارہا ایسی توبہ توڑچکے ہو، جب کوئی ایسی چیز سامنے آتی ہے جس کو دیکھنا منع ہے تو تم کو کچھ یاد نہیں رہتا، ماضی کی توبہ کا تصور بھی نہیں ہوتا تو اس کو یہ جواب دے دو کہ اس وقت میں پکی توبہ کررہا ہوں لیکن آیندہ کیا ہوگا؟*

*28:12) تو آیندہ کے لیے مجھے خوفِ شکست توبہ تو ہے مگر میں شکستِ توبہ کا عزم اور ارادہ نہیں رکھتا ہوں۔ خوفِ شکستِ توبہ اور ہے اور عزمِ شکستِ توبہ اور ہے۔ خوف میں اور عزم میں فرق ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ دل ڈرتا ہے کہ کہیں میری توبہ نہ ٹوٹ جائے اور ایک یہ ہے کہ دل میں ارادہ کررہا ہے کہ میں ضرور گناہ کروں گا، اس کام کو کرنا ہی ہے، اپنی شیطانیت سے باز نہیں آئوں گا*

*28:23) چین سکون اور اطمیان کا راستہ*

*30:55) ایک بہت اہم ملفوظ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کہ لوگ اللہ والوں کو تو اللہ والے سمجھتے ہیں لیکن جو قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے ہیں یا بہت زیادہ قرآن پاک سے تعلق ہے تو اُس کو اللہ والا سمجھتے ہی نہیں جبکہ قرآن پاک کا درجہ کتنا بڑا ہے۔۔*

*40:38) قرآن کا کتنا بڑا درجہ ہے اور آج کل اس میں کتنی کوتاہی ہورہی ہے اس بارے میں اہم مضامین بیان ہوئے۔۔* *قرآن سے تعلق، توبہ کی حقیقت اور کامیابی کا راستہ*

*50:22) قرآنِ کریم کی عظمت، عملِ سنت ۔۔* *قرآنِ کریم ہدایت بھی ہےاور نجات بھی اور اہلِ علم کی ذمہ داری کیا کیا ذمہ داریاں ہیں۔۔*

*52:28) قرآن سے تعلق اور زندگی کی حقیقی کامیابی۔۔*

*01:01:59) دین کس طرح پھیلانا ہے یہ بھی سیکھنا ہے۔۔*