فجر مجلس ۱۵ / اپریل ۲۶ء:ذکر اللہ اور اس کی فضیلت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 06:00) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیبہ۔۔۔!! 06:01) ذکراسم ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔!! 09:21) استغفاراللھم اغفرلی وارحمنی۔۔۔!! 12:03) درودشریف ۔۔۔!! 14:39) ذکر کے بارے میں حضرت والا رحمہ اللہ کے ملفوظات::: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لَیْسَ لَھَا حِجَابٌ الخ کی شرح: میرا یہ تصوف بلادلیل نہیں ہے۔حدیث شریف ہے کہ سرور ِ عالمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب بندہ زمین پر لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے تو اس کی لا الٰہ الا اللہ ساتوں آسمان پار کرکے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: (( لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ لَیْسَ لَھَا حِجَابٌ دُوْنَ اللہِ ۔رواہ الترمذی )) (مشکٰوۃ المصابیح : (قدیمی) ؛ باب ثواب التسبیح والتحمید ؛ص ۲۰۲) لا الٰہ الا اللہ میں اور اللہ میں کوئی پردہ نہیں ہے۔نکرہ تحت النفی ہے، تفید العموم ہے،یعنی کوئی ذرّہ،ایک ذرّہ کا حجاب نہیں ہوتا،پھر اس نعمت کو کیوں نہیں غنیمت سمجھتے؟بے پردہ اللہ سے کیوں نہیں ملاقات کرتے؟کس منہ سے اپنے کو عاشق کہتے ہو اور عاشقی کا دعویٰ کرتے ہو؟ دینی خدمات سر آنکھوں پر ہیں لیکن مالک سے ملاقات جیسی نعمت کا کوئی بدل نہیں ہے،یہ لا الٰہ الا اللہ ہمیں اللہ سے ملاقات کراتی ہے۔ 16:00) ((لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَّقُوْلُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مِائَةَ مَرَّةٍ اِلَّا بَعَثَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَوَجْهُهٗ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ)) (کنز العمال :(دار الکتب العلمیۃ)؛کتاب الایمان والاسلام ؛ج ۱ ص ۴۳ ؛رقم ۱۷۹) کہ لا الٰہ الا اللہ اگر سو دفعہ روزانہ پڑھ لیں تو قیامت کے دن منہ چودہ تاریخ کی چاند کی طرح اجالا ہوگا، اور جب منہ اجالا کرنے کا فیصلہ ہوگا تو منہ اجالا کرنے والے اعمال بھی اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے اور منہ کالا کرنے والے اعمال سے حفاظت بھی فرمائیں گے۔جب روزانہ اللہ تعالیٰ سے بے پردہ ملاقات ہوگی تو حق تعالیٰ کے اَخلاق بھی ہم میں منتقل ہوں گے، اور خوشبو اور طہارت اور پاکیزگی سے مناسبت ہوگی کیونکہ اللہ پاک ہے، جب اللہ پاک کا ہم نام لیں گے تو ہمارا دل بھی پاک ہوجائے گا،ان شاء اللہ تعالیٰ۔ کم سے کم ایک تسبیح تو پڑھ لو ورنہ جس کو تین تسبیح بتائی ہے، تین تسبیح کرو۔لا الٰہ جب کہو تو سمجھ لو غیراللہ قلب سے نکل گیا اور جب الا اللہ کہو تو سمجھ لو اللہ تعالیٰ کا نور ہمارے قلب میں آگیا،اور دوران ِذکر تین شعر حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کے پڑھ لیا کرو؎ دل مرا ہوجائے اِک میدانِ ھُو تُو ہی تُو ہو تُو ہی تُو ہو تُو ہی تُو اور مرے تن میں بجائے آب و گِل دردِ دل ہو دردِ دل ہو دردِ دل غیر سے بالکل ہی اُٹھ جائے نظر تُو ہی تُو آئے نظر دیکھوں جدھر 18:22) مجلس کا ایک ادب اور نصیحت۔۔۔!! 19:58) داڑھی سے متعلق نصیحت: داڑھی رکھنے سے اللہ تعالیٰ کی دوستی گھاڑی ہوجاتی ہے۔۔۔!! 22:00) ذکر اللہ نہ کرنے سے ابتلائے معصیت کا اندیشہ ہے: ارشاد فرمایا کہ شیخ جو ذکر بتادے اس کو چھوڑو مت، یہ کشتہ ہے،اگر شیخ سے دور بھی چلے گئے، اپنے کاروبار میں یا اپنی ضروریات میں تو اللہ کا نام آپ کو گرم رکھے گا۔شیخ کے پاس رہنا آگ کے پاس بیٹھنا ہے، کب تک آگ کے پاس بیٹھے رہوگے؟کوئی اور کام بھی دنیا میں ہے یا نہیں؟ آپ بتائو! سخت سردی ہو،کیا ہر وقت آگ کے پاس بیٹھے رہوگے؟ کاروبار بھی کرنا ہے،ملازمت ہے،دنیا کے اور بھی تو مشاغل ہیں۔ 30:06) ۔۔۔تو آج سے جو شیخ نے ذکر بتایا ہے لیٹے ہوئے بھی پورا کرو، بخار میں بھی پورا کرو، ان شاء اللہ تعالیٰ! آپ اس کا فائدہ دیکھوگے۔ جتنی بھی مصروفیات ِدینیہ ہیں مگر اللہ کا نام سب مصروفیات سے اونچا ہے، ورنہ جتنے بھی دینی کام ہیں،سب میں ریا داخل ہوجائے گی۔ نفس کی سازش، آمیزش، آویزش، ریزش سے حفاظت کے لئے بتادیا،اللہ کا نام ہمیں اخلاص پر قائم رکھے گا اور ان کی محبت کو غالب رکھے گا۔ 30:45) تینوں قل تین تین مرتبہ اورلاحول ولاقوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔!! دورانیہ 37:00 | ||