عشاء مجلس ۲۹ / اپریل ۲۶ء:خوفِ شکستِ توبہ مضر نہیں ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* *02:22) سالکین جو وقت لگانے آتے ہیں اُن کے لیے نصیحت۔۔* *03:25) بڑے بالوں سے متعلق نصیحت۔۔* *05:37) کلمے کا تعلق دل سے ہے کوئی بھی تلوار کے زور پر کسی کو مسلمان نہیں کرسکتا ۔۔* *14:58) توبہ و استغفار کا یہاں سے دوبارہ مضمون شروع ہورہا ہے جس کو الگ کرکے ایک جگہ جمع کرنا ہے۔۔ان شاء اللہ۔۔* *17:13) توبہ و استغفار کا فرق۔۔* *18:13) دوستو! آج کا مضمون عجیب و غریب ہے یا نہیں؟* *وہ خمر کہن تو قوی تر ہے لیکن* *نئے جام و مینا عطا ہورہے ہیں* *22:20) اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اپنے پالنے والے سے ماضی سے معافی مانگو کہ کیوں ایسی خطا ہوگئی، لیکن آئندہ کے لئے ارادہ کرلو کہ اب دوبارہ اللہ کو ناراض نہیں کرنا ہے،اس عزم کا نام توبہ ہے: اَنْ یَّعْزِمَ عَزْمًا جَازِمًا اَنْ لَّا یَعُوْدَ اِلَیْہِ عزم پکا کرو کہ اب دوبارہ اس گناہ کی طرف لوٹنا نہیں ہے،جو غلطی ہوچکی اور جس سے معافی مانگی، آئندہ اے اللہ! ہم آپ کو ناراض نہیں کریں گے، عزمِ جازم کافی ہے۔* *23:21) خوف ِشکستِ توبہ مضر نہیں:۔* *یہ ارادہ پکا ہو،اگر ٹوٹ جائے تو اب یہ نہ سوچئے کہ توبہ بیکار ہوگئی، توبہ بیکار نہیں گئی، توبہ قبول گئی۔ صرف یہ شرط ہے کہ توبہ کرتے وقت پکا ارادہ ہو کہ اب مالک کو ناراض نہیں کریں گے،شکستِ توبہ کا ارادہ نہ ہو،لیکن خوف ِشکستِ توبہ مضرِ قبول ِتوبہ نہیں ہے۔* *24:31) مان لو شیطان کہتا ہے کہ یہ گناہ تم سے پھر ہوگا، ہم تمہیں آزمائے ہوئے ہیں، تم بار بار توبہ کرتے ہوبار بار توڑتے ہو،تو ابلیس کو جواب دے دو کہ اے مردود! تو مردود ِازلی ہے، ہمیں مردود کرنا چاہتا ہے، نااُمید کرنا چاہتا ہے، اگر ہم ایک لاکھ گناہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ایک لاکھ گناہ بھی معاف کرنے پر قادر ہیں۔* *25:41) مائیں اپنے بچے سے کہہ سکتی ہیں جسے دست لگے ہوں کہ اب میرے پاس چڈی نہیں ہے، اور کیا کہتے ہیں؟ پمپر؟ہاں،پمپر بھی نہیں ہے،تُو ہر وقت ہگتا رہتا ہے، ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے، کہتی ہے ڈاکٹر صاحب! اس کے موشن سے ہم عاجز آگئے، کہاں تک پمپر خریدیں، خریدتے خریدتے ہماری پینٹ اُتری جارہی ہے، اتنی گنجائش ہماری نہیں ہے۔* *30:32) لیکن اللہ تعالیٰ توبہ کا لباس اور ولایت کا لباس دیتے دیتے کبھی تھک نہیں سکتے کہ تم نے اتنی دفعہ توبہ کی، اب ہم لباس ِدوستی اور لباسِ ولایت اور لباس ِمقبولیت دیتے دیتے تھک گئے، اب ہمارے پاس لباس ِمقبولیت نہیں ہے، سلاطین بھی تھک سکتے ہیں شہزادوں سے کہ تم اتنی دفعہ گٹر میں گرتے ہو، ہمارا خزانہ خالی ہوا جارہا ہے، کتنا ہم شاہی لباس تم کو پہنائیں۔ بس اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمارے کانوں میں لَا تَقْنَطُوْا کہتی رہتی ہے کہ نااُمید نہ ہونا:* *لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ* *میری رحمت ِغیرمحدود سے نااُمید مت ہونا، تم اپنے محدود گناہوں کی اکثریت کے باوجود میری غیرمحدود رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ کیوں؟کیونکہ محدود اپنی اکثریت کے باوجود غیرمحدود رحمت کے سامنے اقلیت میں ہوتا ہے۔ اگرچہ تمہارے گناہ کثرت میں ہیں، کروڑوں کروڑوں ہیں لیکن میری غیرمحدود رحمت کے سامنے محدود ِکثیر بھی اقلیت ہے۔* *32:16) دنیا میں ہی دیکھ لیجئے کہ جب ایک محدود کثیر کے سامنے چھوٹے محدود اقلیت میں ہوتے ہیں،سمندر کیا ہے؟ محدود ہے یا نہیں؟ غیرمحدود نہیں ہے مگر سمندر کے سامنے دریا اور حوض اور تالاب اور جھیلیں اور نہریں یہ سب اقلیت میں ہیں یا نہیں؟ حالانکہ نہر محدود ہے، سمندر بھی محدود ہے لیکن کثیر اور بڑے محدود کے سامنے قلیل اور چھوٹے محدود اقلیت میں ہوتے ہیں، جب دنیا کی میری مخلوق بڑی محدود کے سامنے ہماری چھوٹی مخلوق اقلیت میں ہوجاتی ہے تو میری غیر محدود رحمت کے سمندر کے سامنے تمہارے گناہوں کی اکثریت کیا حیثیت رکھتی ہے؟* *دورانیہ* *46:19* | ||