عشاء مجلس یکم مئی  ۲۶ء:توبہ کی تین قسمیں    !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

05:18) استغفار اور توبہ میں فرق۔۔۔

05:19) مایوس کبھی نہیں ہوناشیخ کے پاس آتے رہیں جتنا زیادہ آؤ گے اتنا زیادہ فائدا ہوگا او راس کاپتا بھی نہیں چلے گا فائدا ہوتا رہے گا۔۔۔

10:42) ھدیے سے متعلق نصیحت۔۔۔

12:17) اللہ والوں کا شانِ استغناء۔۔۔

14:15) لالچ انسان کو تباہ کرتی ہے۔۔۔

17:28) توبہ سے متعلق مضمون چل رہا تھا مزید آگے بیان فرمایا::: ولایتِ عامہ اور ولایتِ خاصہ: اب رجوع الی اللہ کی تین قسمیں ہیں اور جب شانِ محبوبیت ہماری توبہ یعنی رجوع الی اللہ سے متعلق ہے تو محبوبیت کی بھی تین قسمیں ہوجائیں گی، اللہ کے پیاروں کی تین قسمیں ہوجائیں گی۔ ایک عوامی پیار، کہ اللہ ہر مومن کو پیار دیتا ہے۔ جیسے فرمایا: {اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا} اللہ ہر ولی کو پیار کرتا ہے، ہر مومن کا ولی ہے۔ مگر یہ ولایت عامہ ہے۔ جو تقویٰ سے رہتے ہیں وہ خاص ولی ہیں۔ ان کی دوستی کا معیار بلند ہوجاتا ہے۔

23:59) مومن متقی ولی خاص ہوتا ہے لیکن ہر مومن کو ولی فرمایا اگرچہ گناہگار ہو مگر میرے دائرہ دوستی سے خارج نہیں ہے، بوجہ کلمہ اور ایمان کے کچھ نہ کچھ دوستی یعنی ولایتِ عامہ تو حاصل ہے۔ اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا میں تقویٰ شامل نہیں ہے۔ ولایتِ خاصہ تقویٰ پر موقوف ہے جس کی دلیل الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ہے اور فرمایا: {اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ} فرماتے ہیں میری ولایت اور دوستی کا معیار اور علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اندھیروں سے نکالتا رہتا ہے فی الحال بھی اور مستقبل میں بھی۔ ظلمات جمع ہے اور نور واحد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اندھیرے کو جمع اور نور کو مفرد کیوں نازل فرمایا؟ اس کی علامہ آلوسی سید محمود بغدادی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں فرماتے ہیں: {جمع الظلمات لکثرۃ فنون الضلال} ظلمات کو جمع نازل فرمایا کیونکہ گمراہی کی بہت سی قسمیں ہیں۔ کفر کی گمراہی اور ہے، فسق کی گمراہی اور ہے، زنا کی اور ہے، بدنظری کی اور ہے، تکبر کی او رہے۔ بس چونکہ گمراہی کی بے شمار طرحیں اور اقسام ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظلمات کو جمع نازل فرمایا اور نور کو واحد نازل فرمایا لواحدۃ الحق کیونکہ حق ایک ہوتا ہے۔ تو میں کہہ رہا تھا جتنی توابون کی قسمیں ہوں گی توبہ کی بھی اتنی ہی قسمیں ہیں اور اتنی ہی محبوبیت کی قسمیں لازمی ہوجائیں گی۔ تو اب سنئے توبہ کی تین قسمیں ہیں۔

25:37) توبہ کی تین قسمیں (۱) توبۃ العوام (۲) توبۃ الخواص (۳) توبۃ اخص الخواص تو اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کی بھی تین قسمیں ہوجائیں گی۔ (۱) محبوبیتِ عامہ سے محبوبِ عام (۲) محبوب خاص (۳) محبوب اخص الخواص یعنی اللہ کا پیار عوامی والا اور اللہ کا پیار علیٰ الخواص اور اللہ کا پیار اخص الخواص والا یعنی اللہ کے پیارے پھر خاص پیارے، پھر خاص میں بھی اخص الخواص۔ آپ لوگ اللہ تعالیٰ کا کون سا پیار چاہتے ہیں؟ اخص الخواص والا، سب سے اعلیٰ والا یا یونہی معمولی؟ دیکھو ایک دن مرنا ہے۔ اگر اعلیٰ درجہ کے پیار کو نہیں پائوگے تو پچھتانا پڑے گا لہٰذا جس دنیا پر مررہے ہو اور جس کی وجہ سے اخص الخواص والا پیار حاصل نہیں کررہے ہو کہ میں نہایت بزی (مصروف) ہوں تو سمجھ لو جن پر بزی ہو یہ سب چھوٹنے والے ہیں۔ بیوی ہو، بچہ ہو، سموسہ ہو، پاپڑ بریانی ہو۔ مرنے کے بعد کوئی مُردہ سیٹھ ایسا ہے جو ایک قطرہ چائے یا مکھن کی ایک ڈلی نگل لے۔ میں ایک ہزار روپیہ اس کو انعام دوں گا اگر کوئی مرُدہ مکھن کی ایک ٹکیہ نگل لے اور مرُدہ تو لے گا نہیں اس کے وارث کو دوں گا۔

27:28) توبہ کی پہلی قسم: توبہ کی پہلی قسم کا نام ہے۔ اَلرَّجُوْعُ مِنَ الْمَعْصِیَۃِ اِلَی الطَّاعَۃِ توبۂ عوام یہ ہے کہ گناہ چھوڑدے اور اللہ کی فرماںبرداری میں لگ جائے۔ مولانا عبدالحمید صاحب کا افریقہ سے فون آیا کہ یہاں دو سو معتکف ہمارے پاس ہیں اور جب مجلس کرتا ہوں تو تین سو ہوجاتے ہیں اور لکھنؤ تک کے علماء آئے ہوئے ہیں۔ موزمبیق اور دوسرے ملکوں کے علماء آئے ہوئے ہیں اور میرے ہاتھ پر بیعت ہورہے ہیں۔ کہنے لگے ڈرتا ہوں کہ دل میں بڑائی نہ آجائے۔ میں نے کہا آپ شکر ادا کریں، تشکر اور تکبر میں تضاد ہے۔ تشکر کریں گے تو اللہ کا قرب ملے گا۔ تکبر سے بُعد ہوتا ہے اور تشکر سے قرب ہوتا ہے اور بُعد اور قرب میں تضاد ہے اور اجتماع ضدین محال ہے۔ یہ میرا ٹیلی فونک خطاب ہے۔ تکبر ہمیشہ ظالم اور احمق کو ہوتا ہے جو اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اللہ سے نظر ہٹ کر اپنی صفت پر اس کی نظر آجاتی ہے۔ شکر سے اللہ کی صفتِ قرب اس کو عطا ہو تو ناممکن ہے کہ اس میں تکبر بھی آجائے چونکہ تکبر نام ہے بندہ کا اپنے مولیٰ سے غافل ہوکر اپنی کسی صفت پر نظر کرنا کہ میں ایسا ہوں اس لیے دوسروں سے برتر ہوں۔ جیسے ایک شخص دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ میرے محبوب ہیں اور میں آپ کے حسن وجمال پر فدا ہوں۔

31:02) توبہ کی دوسری قسم: اس کے بعد توبۃ الخواص ہے۔ وہ کیا ہے اَلرُّجُوْعُ مِنَ الْغَفْلَۃِ اِلَی الذِّکْرِ یعنی فرمانبردار تو پہلے ہی تھے مگر اپنے شیخ کا بتایا ہوا ذکر وتلات سب بھول گئے تھے لیکن پھر چونکے اور دوبارہ اللہ کو یاد کرنا شروع کردیا۔ ذکر کی قضا نہیں ہے ندامت کافی ہے۔ ذکر چھوٹ گیا تو اب پھر شروع کردو، اللہ کی یاد سے پھر جان میں جان آجائے گی ؎ مدت کے بعد پھر تیری یادوں کا سلسلہ اِک جسمِ ناتواں کو توانائی دے گیا اعلیٰ درجہ یعنی اخص الخواص کی توبہ: اب فرسٹ ڈویژن یعنی اعلیٰ درجہ کی توبہ کیا ہے جس سے اعلیٰ درجے کی محبوبیت ملے گی الرجوع من الغیبۃ الی الحضور کہ اپنے دل کو ہر وقت نگرانی میں رکھو، اپنے قلب کی نگرانی کیجئے جس کو انگریزی میں انسپکشن کہتے ہیں۔

32:08) کشکولِ معرفت::: مقدر سے ملی جس کو محبت کی فراوانی اسی کے ہاتھ سے ہوتی ہے روشن شمع ایمانی اَلْہِدَایَۃُ الْحَاصِلَۃُ مِنْ ہٰذَا الشِّعْرِ: جس کے قلب پر اللہ تعالیٰ کی محبت غالب ہوجاتی ہے تو اس کی محبت کی فراوانی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ عبادات و ذکر کی حلاوت میں، احباب کی تربیت میں اور علیٰ رئوس المنابر اس کی محبت کا جھنڈا لہرا جاتا ہے۔ ونعم ما قال جگر؎ میرا کمالِ عشق بس اتنا ہے اے جگر ؔ وہ مجھ پہ چھاگئے میں زمانہ پہ چھاگیا صنمارہ قلندر سزدار بمن نمائی کہ دراز و دور دیدم رہ و رسم پارسائی یعنی طرزِ محبت سے افناء نفس تام جلد نصیب ہوتا ہے۔ قال العارف الرومی رحمۃ اللہ علیہ ؎ عشق ساید کوہ را مانند ریگ عشق جوشد بحر را مانند دیگ شاد باش اے عشق خوش سودائے ما اے طبیب جملہ علتہائے ما اے تو افلاطون و جالینوس ما اے دوائے نخوت و ناموس ما (رومی ؔؔ) محبت تیری یہ برکت محبت تجھ پہ صد رحمت نہیں پندار دیکھا میں نے سرشار محبت میں پریت کی لذت جب سے ملی ہے دل کا عالم ہے کچھ اور نگر ڈھونڈورا پیٹ رہا ہوں پریت کرو سب کوئے (حضرت پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ) سنا جس نے وہی سو جان سے حق پر ہوا قربان کوئی دیکھے تو آکر عاشقوں کی شانِ گویائی عجب عالم ہو اللہ اکبر اہل محفل کا حدیث عشق کی احمدؔ نے جب بھی شرح فرمائی احمدؔ تیرا نغمہ ہے یہ پیغامِ محبت دلکش ہے یہ آواز کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں مٹادو ہاں مٹادوں اپنی ہستی تم محبت میں یہی کہتے ہیں بسطامیؒ ، غزالیؒ اور جیلانیؒ

47:46) تمام انعامات ظاہرہ و باطنہ کے ہوتے ہوئے بھی اپنے نفس کو مٹانا اصل انعام ہے۔ اگر یہ حاصل نہ ہوا تو سب لاحاصل ہے کیونکہ تواتر اولیاء اُمت سے افناء نفس کی ضرورت اور اہمیت ثابت ہے اور یہ امر بین الصوفیاء مشہور علی الالسنۃ ہے جس کا صحیح مقام حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ: ’’میں اپنے کو تمام مسلمانوں سے فی الحال اور تمام کافروں سے حتیٰ کہ بہائم سے بھی کمتر سمجھتا ہوں فی المآل۔ اور اگر حق تعالیٰ اہل جنت کی جوتیوں میں جگہ عطا فرماویں تو اس کو غنیمت سمجھوں گا۔ اس سے زیادہ کا مجھے حوصلہ نہیں اور یہ جگہ بھی بربنائے استحقاق نہیں بلکہ ازراہِ ترحم ہے کہ دوزخ کا تحمل نہیں۔‘‘ اور فرمایا کہ مجھے ناز و کبر بحمداللہ تعالیٰ نہیں ہوتا ہے کیونکہ ہر وقت اس کا دھیان ہے کہ ’’قیامت کے دن نجانے اشرف علی کا کیا حال ہوگا۔‘‘ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ان ارشادات میں سالکینِ راہ کے لیے نہایت اہم تعلیمات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ عمل کی توفیق بخشیں، آمین۔ العارض محمد اختر عفااللہ عنہٗ ۲۳؍ جمادی ۱۴۰۵ھ

دورانیہ 46:51