فجر  مجلس ۲ مئی  ۲۶ء:علم دین کی برکت اور فضیلت       !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

13:47) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکراسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ استغفاراوردرودشریف۔۔۔

13:48) علم دین کی برکت اورفضیلت::: ترک ِگناہ کی ہمت استعمال نہ کرنے پر ایک حدیث سےعجیب استدلال: وَ دَرْکِ الشَّقَاۗءِ:اور اے اللہ!ہمیں بد نصیبی نہ پکڑے،بدنصیبی اور شقاوت آتی ہے نافرمانی سے، اس لئے بھی گناہ پر جرأ ت کرنا چھوڑ دو، اللہ کو بہادری مت دکھائو، نفس دشمن کی خاطر سے دوست کو مت چھوڑو۔پھرطبعی طور پر نفس کا مزاج یہ ہے کہ جس نے اس کو خوش کیا مرتے دم تک گناہ کے ساتھ قبر میں دفن ہوجائے گااور جس نے ہمت کرکے نفس کے تقاضوں کو نہیں مانا، روز بروز اس کا تقاضا ضعیف ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے شیر کو کھانا نہ دوتو آہستہ آہستہ سانس لیتا رہے گالیکن حملہ نہیں کرسکتا، اٹھنے کی طاقت ہی نہیں رہے گی،اسی طرح نفس کی غذا گناہ ہے،اس کو جو گناہ کی غذا دے گاتو اس کا نفس اور تگڑا ہوجائے گا، اگر اپنے نفس کو کمزور کرنا ہے تو گناہ چھوڑنے کی ہمت کرو،گناہ چھوڑنے سے مر نہیں جائوگے، میں لکھ کر دیتا ہوں، بلکہ گناہ کرکے مروگے۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے حیات میںاور حیات آئے گی، خالقِ حیات کی خوشنودی سے اور جان میں جان آجائے گی؎ آپ کے نام پر جان دے کر زندگی زندگی پا گئی ہے یہ اختر کا شعر ہے ۔دوستو! یہ راستہ ہمت کا ہے، ہمت سے کام لو، اگر ہمت نہیں استعمال کروگے جو اللہ نے آپ کو ہم کو عطا فرمائی ہے تو اس نعمت کی ناشکری پر موت اسی حالت میں آجائے گی۔

21:30) کیا آپ نےیہ حدیث نہیں پڑھی: (( اِنَّ اللہَ یُحِبُّ اَنْ یَّرٰی اَثَرَ نِعْمَتِہٖ عَلٰی عَبْدِہٖ ۔ رواہ الترمذی)) (مشکٰوۃ المصابیح :(قدیمی)؛ کتاب اللباس ؛ ص ۳۷۵) اللہ کو محبوب ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندوں پر دیکھے توہمت کا اثر بھی مالک دیکھنا چاہتا ہےکہ تم اپنی ہمت کو استعمال کرتے ہو یا نہیں؟اس حدیث سے گناہ چھوڑنے کی ہمت پر یہ استدلال کیسا ہےکہ گناہ چھوڑنے کی ہمت کی نعمت کا اثر بھی اللہ دیکھنا چاہتا ہے۔

23:21) کوئی عورت سامنے آجائے اور اس کے ساتھ ایک غنڈا بھی آجائےکہ میری عورت کو دیکھ کر دکھائو، آپ کی دونوں آنکھو ں پر یوں مکّا بھی مار رہا ہو تو آنکھ کھولے رکھوگےیا بند کرلوگے؟ بلکہ دونوں ہاتھ بھی آنکھوں پررکھ لوگے تاکہ انگلیاں زخمی ہوںمگر میری آنکھ زخمی نہ ہو، لیکن حسینوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی عظمت کیوں یاد نہیں آتی؟ وہاں اس ہمت کا استعمال کیوں نہیں ہوتا؟معلوم ہوا آپ کو اپنی آنکھیں عزیز ہیں،اگراللہ بھی ایسے ہی پیارا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئےحرام لذتوں کو چھوڑدو گے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کروگے۔ اس لئے خالی جذبات پر مت اپنے کو عاشق سمجھو، جذبات ہیچ ہیں جو مرتب عمل نہ ہوں، عمل کی توفیق اگر نہ ہو تو خالی جذبات سے تو سارے شاعر ولی اللہ ہوجاتے۔آپ دیکھ لیجیےکہ کتنا زبردست شعر ہے؎ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا لیکن کیا اس شعر سے ولی اللہ ہوجائے گا جب تک عمل کرکے نہ دکھائے؟ جان دینا تو درکنار، مالک کی مرضی پر آنکھ کی روشنی ہی فدا کردو۔

25:30) اللہ تعالیٰ اپنے فیصلوں پر حاکم ہے محکوم نہیں: وَسُوْۗءِ الْقَضَاۗءِ:اور اے اللہ جو فیصلے ہمارے لئے مضر ہیں ان کو نیک فیصلوں سے تبدیل فرما۔ اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ بھئی اللہ کا لکھا ہوا تو بدلتا نہیں، تو جب اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا تواللہ میاں کیسے بدلیں گے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کا لکھا مخلوق نہیں بدل سکتی، یہ تھوڑی ہے کہ اللہ بھی نہیں بدل سکتا۔

28:15) تینوں قل تین تین مرتبہ اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔

دورانیہ 29:53