فجر مجلس ۴ مئی ۲۶ء:جذب اور صحبتِ اہل اللہ ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 13:58) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکر اسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ استغفاراوردرودشریف ۔۔۔ 13:59) جذب کے بغیر کوئی اللہ والا نہیں بن سکتا: اللہ تعالیٰ سے جذب کو مانگنا چاہیے۔۔۔ حضرت ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ بھی جذب ہوئے۔۔۔ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کے ہوجاتے ہیں۔۔۔ 20:05) علمِ دین کی برکت اور فضیلت::: حضرت ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ کے ہاتھ پر شرابی کا توبہ کرنا: جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ہر وقت دیکھ بھال کرتے ہیں، سلطان ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ نے دیکھا کہ ایک شرابی راستے میں پڑا ہوا ہے، بہت حسین و جمیل، رئیس کا بیٹا،شراب زیادہ پی کر راستہ میں بے ہوش پڑا تھا اور قے ہو رہی تھی، فوراً انہوں نے پانی لاکر اس کا منہ دھلایا، ہاتھ پیر وغیرہ صاف کئے تو وہ ہوش میں آگیا۔ اس نے کہا کہ حضرت! میں آپ کو جانتا ہوں، آپ تو سلطنت ِ بلخ خدا پر فدا کرنے والے، اتنے بڑے ولی اللہ مجھ جیسے شرابی پر آپ نے یہ عنایت کیوں کی؟ ہم تو سمجھتے تھے کہ اللہ والے گنہگاروں سے نفرت اور بغض رکھتے ہیں، آپ کے عمل سے تو معلوم ہوا کہ اللہ والوں سے بڑھ کر ہم گنہگاروں سے محبت کرنے والا شاید ہی کوئی ہو؟ لہٰذا ہاتھ بڑھائیے میں شراب سے توبہ کرتا ہوں، وَاللہِ لَا اَشْرَبُ خَمْرًا اَبَدًا ۔خدا کی قسم!آج سے میں کبھی شراب نہیں پیوںگا۔ توبہ کرتے ہی سلطان ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ کو منکشف ہوا کہ اولیائے صدیقین کی آخری سرحد تک اللہ نے اس کو پہنچادیا۔ابھی تہجد نہیں پڑھی، تلاوت نہیں کی، اشراق نہیں پڑھی،اوابین نہیں پڑھی، صرف ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ کے ہاتھ پر توبہ کی۔ملا علی قاری رحمہ اللہ شرح مشکوٰۃ میں یہ واقعہ لکھتے ہیں کہ رات کوسلطان ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ نےاللہ تعالیٰ سےخواب میں پوچھا کہ یااللہ! ایک شرابی کو توبہ کرتے ہی آپ نےاتنے اونچے مقام تک پہنچادیا جہاں برسوں کے تہجد والوں کو بھی میں نے ابھی تک نہیں پایا،یہ کیا وجہ ہے؟اللہ تعالیٰ نے خواب ہی میں فرمایاکہ اے سلطان ابراہیم ابن ادھم! تو نے میری محبت میں سلطنت ِبلخ فدا کی، اور میری محبت میں اور میری نسبت سےاس شرابی کا منہ دھویا اور قے صاف کی: 25:44) ((اَنْتَ غَسَلْتَ وَجْہَہٗ لِاَجْلِیْ فَغَسَلْتُ قَلْبَہٗ لِاَجْلِکَ)) (مرقاۃالمفاتیح:(رشیدیہ) ؛باب اسماء اللہ تعالٰی ؛ ج ۵ ص ۱۷۱) تو نے میری محبت میں میرے گنہگاربندے کا منہ دھویا،میں نے تیری خاطر سے اس کا دل دھودیااور جس کا دل خدا دھودے اس کے امراض و رذائل اور اخلاق ِرذیلہ کا صرف اِمالہ نہیں ہوتا، ازالہ ہوجاتا ہے۔ 26:02) صحبت اہل اللہ اور چراغ کی مثال: یہ کرامت اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ابن ادھم h کودی کہ وہ نوجوان سب سے آگے بڑھ گیا۔ اس پرعلماء نے فرمایا کہ اللہ والوں نے جتنے مجاہدات کئے ہیں ان کی خاطر سے اللہ تعالیٰ بندہ کو مختصر راستے سے سلوک طے کرا دیتے ہیں لہٰذا ان کی ایک منٹ کی صحبت کو سو برس کی عبادت سے افضل فرمایا گیا؎ یک زمانے صحبتے با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا 26:25) لیکن مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ سے پوچھا کہ سو برس کی اخلاص کی عبادت سے اہل اللہ کی تھوڑی دیر کی صحبت کیوں افضل ہے؟ وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ حضرت ہنسے اور فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ مبالغہ معلوم ہوتا ہے، فرمایا کہ شاعر نے کم بیان کیا ہے، حقیقت یہ ہےکہ؎ بہتر از لکھ سالہ طاعت بے ریا کسی اللہ والے کی تھوڑی دیر کی صحبت ایک لاکھ سال کی عبادت سے افضل ہے کیونکہ اللہ والوں سے اخلاص ملتاہے۔ اعمال کا وجود توہوجاتا ہےلیکن قبول اہل اللہ کی صحبتوں سےملتا ہے،میرے شیخ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم نے تبلیغی جماعت کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مدارس اور تبلیغی جماعتوں سے اعمال کا وجود ملتا ہے، اہل اللہ کی صحبتوں سے بواسطہ ٔ اخلاص اعمال کا قبول ملتا ہے۔ 30:59) توتھوڑی دیر کی صحبت ِ اہل اللہ سے قلب کا سارا درد منتقل ہوجاتا ہے، دل سے دل میں خفیہ راستے ہیں، مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں؎ کہ ز دل تا دل یقیں روزن بود نے جدا و دور چوں دو تن بود کہ دل سے دل تک خفیہ راستے ہیں،جسم تو الگ الگ ہوتا ہے، شیخ کا الگ اور طالب کا الگ لیکن ان کے دل آپس میں ملے ہوئے ہیں،اس پر کیا مثال دی ہے،آہ! کیا مثالوں کے بادشاہ تھے۔ فرمایا کہ چراغ اور بلب تو الگ الگ جل رہے ہیں۔۔۔ 32:06) دو چراغ الگ الگ جلتے ہیں،ان کے جسم الگ الگ ہیں، لیکن ان کے انوار فضاؤں میں ملے ہوئے ہوتے ہیں،اس لئے کسی اللہ والے کے سامنے اپنے آپ کوفنا کردو۔حکیم الامت رحمہ اللہ نے اپنے تمام علمی و عملی کمالات کی نسبت اپنے شیخ حاجی امداد اﷲ صاحب رحمہ اللہ کی طرف کی، حضرت کا ایک شعر ہے؎ تمہاری کیا حقیقت تھی میاں آہؔ یہ سب امداد کے لطف و کرم تھے حضرت نے اپنا تخلص آہ رکھا تھا،ایک مجدد زمانہ، ڈیڑھ ہزار کتابوں کے مصنف، بڑے بڑے علماء کے شیخ نے اپنی نفی کرکے اپنے کمالات کو اپنے شیخ کی طرف منسوب کیا۔ 36:15) تینوں قل اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔ ایک صاحب کو بیعت کیا۔۔۔ دورانیہ 36:05 | ||