عشاء مجلس ۸ مئی ۲۶ء:اللہ والوں کی صحبت کی اہمیت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 06:30) بیان سے پہلے جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب دامت برکاتہم کی شرح درسِ شمائل ترمذی سے تعلیم کی۔۔۔ 06:31) اللہ تعالیٰ کا پیارا بننا فرض ہے۔۔۔ 09:55) اللہ تعالیٰ کی خاص دوستی کیا ہے؟۔۔۔ 11:19) اسمارٹ فون کی تباہ کاریاں۔۔۔ 15:15) دین کیسے پھیلانا ہے اس کو سیکھیں::: کسی کے عیب مت دیکھیں نظر اپنے عیبوں پر رکھیں۔۔۔ کسی نیکی کو اپنا کمال مت سمجھیں سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔۔۔ 26:09) کشکولِ معرفت::: اللہ والوں کی صحبت پر مضمون بیان ہوا: جو لوگ اللہ والوں سے اللہ تعالیٰ کی نسبت سے محبت رکھتے ہیں اور ان کا اکرام کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی محبت اور اللہ تعالیٰ ہی کا اکرام ہے جس طرح کسی کی اولاد سے محبت کرنا اور اکرام کرنا ان کے باپ کی محبت اور اکرام میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ (کمالاتِ اشرفیہ، ملفوظ نمبر: ۳۰۲، صفحہ: ۶۸) اہل اللہ کی محبت چونکہ اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے اس لیے تحریر ہے کہ جن لوگوں نے بزرگوں کی محبت اور ان کی صحبت اختیار کی ہے اور ان کے ناز برداشت کیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلندی اور عزت دنیا میں بھی عطا فرمائی ہے۔ 31:13) حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم اور مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت حاجی امداداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اور تعلق کے بعد مخلوقِ خدا میں جو عزت ملی اور مخلوقِ خدا نے ہماری جو قدر و منزلت کی وہ تعلق سے قبل نہ تھا۔ 35:03) اللہ والوں کی نقل اور ان سے محبت کی وجہ کیا ہے؟۔۔۔ 42:08) احقر کے قلب میں اس نعمت کی دو دلیل سمجھ میں آئی ہے: (۱)… مَنْ تَوَاضَعَ ِﷲِ رَفَعَہُ اﷲُ، حق تعالیٰ کے لیے جو اپنے آپ کو مٹائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بلندی عطا فرمائے گا۔ دوسری دلیل یہ حدیث ہے: ((مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا ِﷲِ إِلاَّ أَکْرَمَ رَبُّہٗ عَزَّ وَ جَلَّ)) (مشکاۃ المصابیح، ص:۴۲۷) جو بندہ اللہ کے لیے کسی سے محبت کرتا ہے تو دراصل یہ محبت اللہ کے اکرام میں داخل ہے (یعنی اللہ کا خاص بندہ سمجھ کر اس کی عزت و محبت کرنا ایسا ہی ہے گویا کہ اس نے اپنے رب کا اکرام کیا) اور وعدہ ہے جزاء موافق عمل کا’’جَزَآئً وِّفَاقًا‘‘ دورانیہ 44:02 | ||