اتوارمجلس ۱۷ مئی ۲۶ء:حقوق اللہ حقوق العباد ادا کرنے والے ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 18:10) بیان سے پہلے جناب سید ثروت حسین صاحب نے مختلف اشعارپڑھے۔۔۔ 19:21) نفسیات اوراس معاملے میں احتیاط سے متعلق کچھ نصیحتیں۔۔۔ 27:24) بیان میں تعدادکو مت دیکھیں ،حضرت والا رحمہ اللہ کی ایک خاص نصیحت۔۔۔ اللہ والوں کی خاموشی بھی ہادی ہے۔۔۔ 32:49) علماء کی بُرائیاں کرنے والوں کی باتیں ہرگز مت سنیں۔۔۔ 36:22) دین کی سمجھ اوراعتدال سے متعلق نصیحت کہ کس وقت کیا کرنا ہے ؟۔۔۔ حضرت والا رحمہ اللہ کے ایک سفر کا واقعہ جس میں حضرت کے پوتے مولانا ابراہیم صاحب بھی ساتھ تھے تو حضرت والا نے ان کو واپس بھیجا۔۔۔ 38:39) اخلاص اوراس کی ایک مثال۔۔۔ 40:15) اصلاح کرانا اور اللہ کا پیارا بننا فرض ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ فرض فرمایا کیوں؟تاکہ تم مجھ سے دُور نہ رہو۔۔۔ 42:00) قافلہِ جنت کی دونشانیاں۔۔۔ 43:01) مومن کامل کی شان اور گنہگار بندوں کے لیے بشارت: حق تعالیٰ شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں: {وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اﷲَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اﷲُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ } ( سورۃ اٰل عمران، آیت:۱۳۵، پ:۴) ترجمہ و تفسیر از بیان القرآن:اور ایسے لوگ جب ایسا کام کر گذرتے ہیں جس میں زیادتی ہو دوسروں پر یا کوئی گناہ کرکے خاص اپنی ذات پر نقصان اٹھاتے ہیں تو معًا اللہ تعالیٰ کی عظمت اور عذاب یاد کرلیتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہنے لگتے ہیں یعنی اس طریقے سے جو معافی کے لئے مقرر ہیں کہ دوسروں پر زیادتی کرنے میں ان اہلِ حقوق سے بھی معاف کرائے اور خاص اپنی ذات سے متعلق گناہ میں اس کی حاجت نہیں اور اللہ تعالیٰ سے معاف کرانا دونوں حالتوں میں مشترک ہے۔ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشتا ہو۔ رہا اہلِ حقوق کا معاف کرنا سو وہ لوگ اس کا اختیار تو نہیں رکھتے کہ عذاب سے بچالیں اور حقیقی بخشش اسی کا نام ہے۔ اور وہ لوگ اپنے فعلِ بدپر اصرار نہیں کرتے اور وہ ان باتوں کو جانتے بھی ہیں کہ فلاں کام ہم نے گناہ کا کیا اور یہ کہ توبہ ضروری ہے اور یہ کہ خدا تعالیٰ غفّار ہے، مطلب یہ کہ اعمال بھی درست کرلیتے ہیں اور عقائد بھی درست رکھتے ہیں۔ 47:31) اللہ والوں اور علماءِ دین کو ستانے والوں کے لیے وبال اور وعید۔۔۔ شخصیت پرستی اور اللہ والوں کی نقل ۔۔۔ 57:23) اللہ والوں کی مخلوق میں محبوبیت اور ان پر اعتراضات۔۔۔ 01:00:38) اللہ والوں کے ساتھ رہنے کی اہمیت اورفضیلت۔۔۔ 01:03:49) بعض وقت اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو ایسی راہوں سے پیار دیتے ہیں جو بظاہر بہت خون ریز نظر آتی ہیں، اس راہ میں بعض اوقات ایسے مصائب آتے ہیں کہ دل لرز جاتا ہے کہ اس مصیبت کا کیا انجام ہوگا مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کسی مصیبت کو رائیگاں نہیں جانے دیتے بشرطیکہ ان سے رجوع رہے، مرکز نہ چھوڑے، چاہے مرجائے مگر مرکز نہ چھوڑے، آخری سانس تک اللہ تعالیٰ سے لپٹا رہے۔ 01:07:33) اللہ تعالیٰ کی عظمت و وعید کو یاد کرنے والے: وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ اگر کسی اللہ والے سے کبھی کوئی خطا ہو بھی جائے تو اس خطا کی تلافی وہ کیسے کرتے ہیں، پھر کیا کیفیت ہوتی ہے ان عاشقوں کی۔ گناہ کے بعد ان کی علامتِ مقبولیت کیا ہے ذَکَرُوا اللہَ اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ 01:14:33) ذَکَرُوا اللہَ اَیْ ذَکَرُوْا عَظْمَتَہٗ وَ وَعِیْدَہٗ (روح المعانی: ۶۰/۴) اللہ تعالیٰ کی عظمت کو یاد کرتے ہیں کہ بہت بڑے مالک اور بڑی طاقت والے مالک کو میں نے ناراض کرکے اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ہے، اگر خدا نے کینسر پیدا کر دیا تو کہاں جائوں گا یا ہارٹ فیل کر دیا تو اس خبیث حالت میں موت آجائے گی۔ مگر یہ عقل بھی اُسی کو آتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہو، گدھوں کو یہ عقل نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں سے جب کوئی خطا ہو جاتی ہے تو ذَکَرُوْا عَظْمَتَہٗ اللہ کی عظمت کو یاد کرتے ہیں وَوَعِیْدَہُ اور اس کی وعید اور عذاب کو یاد کرتے ہیں کہ اتنے عظیم مالک نے اگر عذاب دیا تو کہاں پناہ ملے گی۔ عَظْمَتَہٗ اور وَعِیْدَہٗ کی ایک ہی تفسیر ہے، جب عظمت ہوتی ہے تب ہی اس کی وعید بھی عظیم معلوم ہوتی ہے۔ اگر عظمت نہ ہو تو اس کی وعید سے بھی نہیں ڈرتا مثلاً ایک آدمی مر رہا ہے، چار پائی پر لیٹا ہے، ٹی بی میں مبتلا ہے، وہ اگر کسی کو دھمکاتا ہے کہ تجھے ڈنڈے ماروں گا تو دوسرا کہتا ہے کہ ابے تو کیا کرلے گا؟اُٹھے گا تو چکر کھا کر گر پڑے گا۔ لہٰذا جس کے دل میں اللہ کی عظمت ہوتی ہے وہی اس کے عذاب سے ڈرتا ہے اور جتنی سزائیں ہیں جہنم وغیرہ کی سب کو سوچتا ہے کہ میرا کیا حال ہو گا؟ 01:17:09) اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی پیشی کو یاد رکھنے والے ایک تفسیر ہو گئی اور دوسری تفسیر ہے: وَ ذَکَرُوا الْعَرْضَ عَلَیْہِ تَعَالٰی شَانُہٗ (روح المعانی: ۶۰/۴) اور اللہ کے حضور اپنی پیشی کو یاد کرتا ہے کہ اللہ کے سامنے پیش ہو کر جواب دینا ہے۔ دو تفسیریں ہو گئیں۔ قیامت کے دن کے حساب کو یاد رکھنے والے اب تیسری تفسیر پیش کرتا ہوں: ذَکَرُوْا سُؤَالَہٗ بِذَنْۢبِہم یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (روح المعانی: ۶۰/۴) قیامت کے دن کے سوالات کو یاد کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کے متعلق پوچھیں گے کہ تم نے فلاں کو بری نظر سے کیوں دیکھا تھا؟ تم کو زندگی میں نے کس لیے دی تھی؟ جوانی کس لیے دی تھی؟ تم نے مقطع صورت میں کون سا کام کیا؟ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کی شکل میں تم نے ننگِ یزید کام کیوں کیا؟ پس اللہ کے حساب سے ڈر کر اللہ سے معافی مانگتا ہے۔ 01:24:30) اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے ڈرنے والے اور چوتھی تفسیر ہے: ذَکَرُوْا جَلَا لَہٗ فَھَابُوْا (روح المعانی: ۶۰/۴) اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو یاد کرتا ہے کہ جس نے شیر پیدا کیا کہ اگر شیر دھاڑ دے تو آدمی ڈر کے مارے بے ہوش ہو کر گر پڑے چاہے شیر کٹہرے میں بند ہو حالانکہ جانتا ہے کہ شیر باہر نہیں آسکتا مگر پھر بھی آواز سے بے ہوش ہوجائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے اللہ کی جلالت شان کو یاد کر کے ڈر جاتے ہیں کہ جب اس کی ادنیٰ مخلوق کا یہ حال ہے تو جو شیر کا خالق ہے اس کے جلال کا کیا عالم ہو گا۔ آیت فَدَ مْدَ مَ عَلَیْھِمْ…الٰخ کی تفسیر اللہ نے نافرمان قوموں کی نافرمانیوں کے بدلہ میں جب عذاب نازل کیا تو اللہ کے عذاب میں کیا طاقت ہے؟ فَدَمْدَمَ عَلَیْھِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْۢبِھِمْ فَسَوّٰھَااللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان نا فرمانوں کے گناہ کے سبب ان پر ہلاکت نازل فرمائی پھر ان کو برابر کر دیا یعنی اس ہلاکت کو پوری قوم کے لیے عام کردیا کہ کوئی بھی بچنے نہ پایا اور ان کا نام و نشان تک نہ رہا۔ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ میں نے آج دشمن کو برابر کر دیا یعنی ایسا تباہ و برباد کیا کہ اس کا وجود بھی باقی نہیں رہا۔ جن کو اپنی قوت پر ناز تھا آج ان کا اور ان کی بڑی بڑی عمارتوں کا کہیں نشان تک نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک ایسی شان نازل کی جو پوری کائنات میں کسی بھی عظیم الشان مملکت والے بڑے سے بڑے بادشاہ کو چاہے وہ پوری دنیا کا مطلق العنان بادشاہ ہو حاصل نہیں، وہ صرف اللہ کے لیے خاص ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب نازل کرنے کی طاقت کے ذیل میں بیان فرما رہے ہیں کہ جس قوم پر اس کے گناہ کے سبب ہم نے عذاب نازل کیا اور اس کا نام و نشان مٹا دیا تو دنیوی بادشاہ تو کسی قوم کو سزا دے کر ڈرتے رہتے ہیں لیکن ہماری کیاشان ہے؟ فرماتے ہیں وَلَا یَخَافُ عُقْبٰھَا اور اللہ تعالیٰ کو عذاب نازل کرنے کے بعد اس کے رد عمل، ری ایکشن اور انتقام کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس دنیا میں کوئی بادشاہ کسی قوم یا کسی صوبہ پر انتقام نازل کردے، بمباری کرادے تو بعد میں ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں کوئی مجھ سے انتقام نہ لے۔ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو دیکھ لو ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں، نیندیں اُڑی ہوئی ہیں کہ کہیں کوئی قوم ہم سے انتقام نہ لے اور ہمارا کام تمام کر دے۔ یہ چار تفسیریں ہو گئیں۔ جمالِ الٰہی کو یاد کر کے گناہوں پر نادم ہونے والے پانچویں تفسیر ہے: ذَکَرُوْا جَمَالَہٗ فَاسْتَحْیَوْا (روح المعانی: ۶۰/۴) اللہ کے جمال کو یاد کرتے ہیں پھر شرما جاتے ہیں کہ میں نے کہاں ان فانی چیزوں سے دل لگایا۔ جو سارے عالم کی لیلائوں کو نمک دیتا ہے وہ خود کتنا پیارا ہوگا۔ قیامت کے دن جنت میں جب وہ پیارا نظر آئے گا، اللہ اپنا دیدار کرائے گا تو واللہ کہتا ہوں کہ دنیا ہی نہیںجنت کے بھی پیارے یاد نہیں آئیں گے۔ اللہ ایسا پیارا ہے کہ جنت کی پیاری حوریں بھی یاد نہیں آئیں گی۔ دورانیہ *1:32:27* | ||