فجرمجلس  ۱۸  مئی  ۲۶ء:قلبِ شکستہ کی تعمیر !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی

بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

08:50) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکراسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔

08:51) استغفاراوردرودشریف کی ایک تسبیح۔۔۔

14:10) قلبِ شکستہ کی تعمیر سلطان دیدہ آنکھوں کو نظر کی سخت حفاظت چاہیے: تو بعض لوگ ایسے ہیں کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم باز ِشاہی ہیں اور بادشاہ کے مقرب ہیں لیکن وہ چھپ چھپ کر چمگادڑی کرتے ہیں۔کیا مطلب؟ غیر اللہ سے نظر بازیاں کرتے ہیں،غیراللہ اور مُردوں سے دل لگاتے ہیں اور اللہ کی ناخوشی کی راہوں سے حرام خوشیوں کو استیراد یعنی درآمد اور امپورٹ کرتے ہیں۔مولانا روم رحمہ اللہ کی مثنوی کا ایک شعر اپنےاس شعر کی تائید میں پیش کرتا ہوں، مولانا جلال الدین روم رحمہ اللہ فرماتے ہیں؎ گر خفاشے رفت در کور و کبود باز سلطاں دیدہ را بارے چہ بود

16:36) قلب ِشکستہ کی تعمیر خود حق تعالیٰ فرماتے ہیں:

حقارت سے مت دیکھ ان عاصیوں کو کہ توبہ کی برکت سے درباریاں ہیں

جو پرہیز کرتے نہیں معصیت سے انہیں راہ میں سخت دشواریاں ہیں

گناہوں کے اسباب سے دور ہوگے تو منزل میں ہر وقت آسانیاں ہیں

دوائے دلِ سالکاں عشقِ حق ہے دلوں میں بہت گرچہ بیماریاں ہیں

رہِ حق میں ہر غم سے کیوں ہے گریزاں رہِ عشق میں کب تن آسانیاں ہیں

یہ خونِ تمنا کا انعام دیکھو جو ویرانیاں تھیں وہ آبادیاں ہیں

فدا ان کی مرضی پہ اپنی رضا کر فقیری میں دیکھے گا سلطانیاں ہیں

ترے ہاتھ سے زیرِ تعمیر ہوں میں مبارک مجھے میری ویرانیاں ہیں

اب ان اشعار کی شرح سمجھ لیجیے خصوصاً اس آخری شعر کی۔ جو سالک اورجو اللہ کا عاشق اپنی بُری بُری خواہشوں کو ہر وقت ویران کرتا ہے اور اللہ کو ناخوش نہیں کرتا، اپنے دل کی خواہش کو توڑتا ہے، دل توڑ دیتا ہے مگر اللہ کے قانون کو نہیں توڑتا اور غم اٹھا لیتا ہے تو یہ دل بظاہر ویران ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس شکستہ دل کو،ٹوٹے ہوئے دل کو، غمزدہ دل کو، زخم ِحسرت والے قلب کو اپنی محبت اور حلاوت ِایمانی کے مٹیریل سے خود تعمیر فرماتے ہیں،اللہ نے اس تعمیر کی نسبت اپنی طرف کی ہے: (( اَبْدَلْتُہٗ اِیْمَانًا یَّجِدُ حَلَاوَتَہٗ فِیْ قَلْبِہٖ)) (کنز العمال :(دار الکتب العلمیۃ) ؛ ج ۵ ص ۱۳۰ ؛ رقم الحدیث ۱۳۰۶۴ ) فرماتے ہیں کہ ایسے دل جو میری راہ میں غم اٹھاتے ہیں ہم ان دلوں کو حلاوت ِایمانی،اپنی محبت کا درد عطا کرتے ہیں ۔

ترے ہاتھ سے زیر تعمیر ہوں میں، اس کا یہ مطلب ہے۔یہ میرا شعر ایسے ہی نہیں ہے، آپ محسوس کر لیں گے، ان شاء اللہ کہ میرے قلب میں اللہ تعالیٰ کا کرم میرےقلب کو پیار کررہا ہے ۔

25:43) اللہ والوں کے نور ِقلب کا عالم: اگرہم اپنی بُری خواہش کو نہ توڑتے اور دل کو تباہ نہ کرتے تو حق تعالیٰ ہمارے اس تباہ شدہ ملبۂ قلب کو تعمیر کا شرف عطا نہ کرتے،اور پھر اچھی، حلال اور جائز نعمتوں کو اللہ منع نہیں کرتا۔ہمیں ہر تمنا کو توڑنے کا حکم نہیں ہے،اپنی حلال بیوی سے محبت کرو،حلال کا سموسہ پاپڑ خوب کھائو لیکن جب شیطان کا حرام جھانپڑنظر آئے تو جھانپڑ مت کھاؤ۔

27:39) تینوں قل تین تین مرتبہ۔۔۔

دورانیہ 34:40