عشاءمجلس ۵ جون ۲۶ء:اللہ والوں کی محبت اور قیمت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 07:20) فائرنگ اور آتش بازی وغیرہ سے متعلق نصیحت کہ یہ کس کی نقل ہے اور اس سے کتنے لوگوں کو اذیت ہوتی ہے؟۔۔۔ 07:21) گناہ کو گناہ سمجھنا یہ سب سے پہلاانعام ہے۔۔۔ 08:11) بیان سے پہلے حسبِ معمول تعلیم ہوئی۔۔۔ 11:31) لباس سے متعلق نصیحت کہ کیسا ہوناچاہیے؟۔۔۔ 16:05) گناہوں کی زندگی سے توبہ کریں اور نئی زندگی کا آغاز کریں۔۔۔ 21:27) بیوی کے حقوق: اگر بیوی کو ستایا ہے تو اس سے معافی مانگنی چاہیےاور کچھ ھدیہ بھی دینا چاہیے۔۔۔ 25:59) اللہ والوں کی محبت کی قیمت: ارشاد فرمایا کہ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کا ایک جملہ ہے، فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ جب کسی کو اپنا ولی بنانا چاہتے ہیں تو اس زمانے کے کسی ولی کی محبت اس کے دل میں ڈال دیتے ہیں،جس سے پھر وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے۔‘‘یہ حضرت کا وہ جملہ ہے جو میں نے بچپن میں پڑھا تھا،جب میں حکمت پڑھ رہا تھا۔اسی جملے سے میرے دل میں آگ لگی اور میں نے اللہ والوں کی تلاش شروع کی،الٰہ آباد گیا،پھر پھولپور گیا۔ پاکستان آنے سے پہلے غالباً ۱۹۵۰ء کی بات ہے،ہم اپنے شیخ کے ساتھ ٹرین میں دہلی جارہے تھے۔اچانک آواز آئی’’جیب کٹ گئی،جیب کٹ گئی،ظالم تین کپڑوں کے اندر سے صدری کی جیب کاٹ کر لے گیا۔‘‘خیر!پھر گیارہ بجے رات کو میرے شیخ لیٹ گئے۔حضرت کی عادت تھی پیر دبوانے کی،سیٹ کے نیچے کچھ جگہ ہوتی ہے،تو میں نیچے بیٹھ کر حضرت کے پیر دبانے لگا۔ایک ہندو نے پوچھا کہ یہ آپ کے کون ہیں؟میں نے سوچا کہ اگر میں مرشد کہتا ہوں تو یہ ظالم مرشد کو کیا جانے؟تو میں نے کہا کہ یہ میرے گرو ہیں۔تو اس ہندو نے جواب دیا کہ سیوا کرے تو میوا کھائے یعنی خدمت کرے تو میوا کھائے، لیکن شیخ کی خدمت اللہ کے لئے کرے،دنیا کی نیت سے نہ کرے۔ 27:47) حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کی چند باتیں: ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ھ مطابق ۴؍نومبر۱۹۹۱ ء، بروز دوشنبہ ارشاد فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمہ اللہ نے حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کی نیند کے بارے میں ارشادفرمایاکہ جب حضرت کو خوب گہری نیند آتی تو اُٹھنے کے بعد فرماتے کہ الحمدللہ!خوب غرق ہوکے نیند آئی ۔ حضرت کے یہاں ظہرسے عصر تک مجلس ہوا کرتی تھی،ابتداء میں ایسا بھی ہوا کہ مجلس سننے ایک آدمی بھی نہیں آیالیکن حضرت حکیم الامت کے پائے استقامت میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی، ظہرسے عصر تک اکیلے بیٹھے رہے اور فرمایا’’ ہم نے تودکان لگالی،کوئی آئے نہ آئے، گاہک بھیجنا میاں کاکام ہے‘‘اگرکوئی افسر دفترجائے اور پورادن دفتر میں رہے لیکن کوئی آدمی کام لے کر نہ آئے توکیا اس کوپوری تنخواہ نہیں ملے گی؟ توحضرت نے پوری مزدوری لے لی۔ 30:26) حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمہ اللہ کاحضرت حکیم الامت رحمہ اللہ بہت اکرام فرماتے تھے،خط میں’’محبی و محبوبی شاہ عبدالغنی‘‘ لکھتے تھے اور جب میرے شیخ تھانہ بھون خانقاہ حاضرہوتے توحضرت حکیم الامت کچھ قدم آگے بڑھ کر معانقہ فرماتے اور فرماتے’’اے آمدنت باعثِ صد شادیٔ ما‘‘(اے عبدالغنی! تمہارے آنے سے مجھے سینکڑوں خوشی ہوئی )، ایک مرتبہ جب میرے شیخ نے حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے حاضری کی اجازت مانگی توفرمایا’’ اجازت چہ معنی بلکہ اشتیاق‘‘(آپ اجازت کیوں مانگ رہے ہیں؟جلد آئیے،آپ کی ملاقات کا تو خود مجھے اشتیاق ہے) 33:14) زندگی افسانہ درافسانہ ہے بس عنوان بدل جاتے ہیں۔۔۔ 38:57) میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایاکہ ایک مرتبہ حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے پاس میرے علاوہ کوئی نہیں تھا، میں نے تنہائی میں پوچھا کہ حضرت! لوگ آپ کو مجدد کہتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ مجھے بتادیجئے۔ تو حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک بھینس کے بچہ نے اپنی ماں سے پوچھا کہ ماں ری ماں! پدمنی کسے کہے ہیں؟ پدمنی کے معنی بغیر سمجھے سمجھ لو۔ بھینس نے کہا کہ چپ چپ!ایسا سوال مت کر، لوگوں کا خیال میری ہی طرف ہے کہ میں ہی پدمنی ہوں۔ تو میرے شیخ نے عرض کیا کہ حضرت! ابھی سمجھ میں نہیں آیا، صاف صاف بتائیے۔آہ ؎ ناز را چہرہ بباید ہمچو ورد (ناز کے لئے چہرہ بھی گلاب سا ہونا ضروری ہے!)کس ناز سے فرمایا کہ حضرت! صاف صاف بتائیےکہ آپ مجدد ہیں یا نہیں؟مگر ناز ایسوں ہی کو زیب دیتا ہے، ہر ایک کا منہ نہیں۔بس حضرت نے فرمایا کہ ہاں بھئی! میرا بھی یہی خیال ہے کہ میں اس زمانے کا مجدد ہوں، اس زمانے کا نہیں بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اتنا کام لیا ہے کہ کئی صدی، کئی سو برس تک جو بھی مجدد ہوگا میری ہی تعلیمات سے اپنے لوگوں کی اصلاح کرے گا۔ 41:30) حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے کارنامے بتاتے ہیں کہ حضرت مجدد تھے بلکہ حضرت مولانا اصغر میاں دیوبندی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ میں حکیم الامت رحمہ اللہ کا مرید نہیں ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ جامع المجددین تھے، وہ معمولی مجدد نہیں تھے۔ فرمایا کہ ہر صدی میں مجدد کسی ایک فن میں ہوتا ہے، کوئی تفسیر میں ہوتا ہے، کوئی حدیث میں ہوتا ہے، کوئی فقہ میں ہوتا ہے، مولانا تھانوی رحمہ اللہ ہر فن میں مجدد تھے، ان کا کس فن میں رسالہ نہیں ہے، تجوید میں ان کا رسالہ ہے، منطق میں ان کا رسالہ ہے، فقہ میں ان کی تصنیف ہے اور حدیث اور تفسیر میں ان کی مستقل تصانیف ہیں۔ میرے شیخ فرماتے تھے کہ آہ!اگر کوئی مرید تعریف کرے تو کہہ دیتے کہ عقیدت ہے، مبالغہ ہے، لیکن ایک غیر مرید اور جید عالم ایسی تعریف کررہا ہے۔ 43:29) حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کا اُمت سے مخفی ایک حال: ارشاد فرمایا کہ حضرت حکیم الامت مجددالملت مولانا اشر ف علی تھانوی رحمہ اللہ ایک مرتبہ عجیب عنوان سے دعامانگ رہے تھے،اس کا راوی میراایک دوست ہے جس نے خود اس دعاکو سنا،اب اس کاانتقال بھی ہوچکا،یہ بات کسی کتاب میں نہیں ملے گی۔حضرت، اللہ میاں سے یوں دعاکررہے تھے کہ اے اللہ !ہم سے توگناہ نہیں چھوٹ رہے لیکن آپ اپنی رحمت کوہم پربندنہ کیجئے ۔اس میں معافی بھی شامل ہے اور عاجزی بھی شامل ہے،جیسے کوئی بیٹا اپنے ابّاسے فریادکررہاہوکہ ابّاجان!مجھ سے آپ کی نافرمانی نہیں چھوٹتی لیکن آپ اپنے کرم اور مہربانی کومجھ پربند نہ فرمائیے۔ 46:06) حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے محمدعلی جناح کی عقیدت: یکم؍صفر المظفر ۱۴۱۲ھ مطابق ۱۲؍اگست۱۹۹۱ ء بروز پیر ارشاد فرمایا کہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے محمد علی جناح کی عقیدت اتنی زیادہ تھی کہ حضرت کا پیغام جناح کے پاس لانے والے حضرت کے سگے بھتیجے مولانا شبیر علی تھانوی رحمہ اللہ کے لئے جناح صاحب نے اپنے محافظوں کو کہہ رکھا تھا کہ مولانا شبیر علی صاحب جب آویں تو خبردار!ان کو روکنا مت،یہ اگررات کے۲؍ بجے آویں گے تومیں ان سے ملاقات کروں گا۔لہٰذا ایک بار مولانا شبیر علی صاحب رحمہ اللہ حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کاکوئی بہت اہم پیغام لے کر، جناح صاحب کے نام حضرت کا خط لے کر ان کی قیام گاہ پررات۱۲؍بجے پہنچے،محافظوں نے ان کو پہچان لیا اور نہیں روکا،محافظوں کواتنی بھی اجازت نہ تھی کہ مولانا کے آنے کی اطلاع پہلے اندر پہنچائیں پھرجانے دیں،اپنی آمد کی اطلاع مولاناخود لے کر مسٹر جناح کے کمرے میں پہنچے،دیکھاکہ محمد علی جناح سجدے میں سر رکھے اللہ سے رو رہے ہیں کہ اے اللہ!پاکستان بنادے۔ 48:55) حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کا سجدہ میں پاکستان کے لئے رونا: ۷؍ربیع الاول۱۴۱۲ھ مطابق ۱۷؍ستمبر۱۹۹۱ ء بروز منگل بعد فجر، خانقاہ امدادیہ اشرفیہ،گلشن ِاقبال،کراچی ارشاد فرمایا کہ جب پاکستان بنا تو حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کانپور ہجرت کر گئے تھے کیونکہ میرے شیخ، اعظم گڑھ مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری تھے۔چھ مہینے کے لئے وہاں تشریف لے گئے کیونکہ جب پاکستان بن گیا تو حکومت ِہند نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے تھے۔لوگوں نے حضرت سے کہا کہ آپ وطن چھوڑ دیجئے،اب یہاں رہنا مناسب نہیں ہے۔لیکن حضرت کبھی جھنڈا لے کر جلسوں میں نہیں دوڑتے تھے،سوائے مسجد میں رونے کے۔حضرت کو تو اعزازی طور پر لوگوں نے جنرل سیکریٹری بنا لیا تھا،نام کے طور پر مگر میرے شیخ کبھی جلوس لے کر نعرے نہیں مارتے تھے،ہاں!سجدے میں پاکستان کے لئے بہت روتے تھے کہ یا اللہ!پاکستان بنا دے،سجدے میں بہت رونے کی میں شہادت دیتا ہوں۔ 52:38) پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس کی قدر کریں اور اس کے لیے دُعائیں کریں۔۔۔ 53:37) دُعائیہ پرچیاں۔۔۔ دورانیہ 53:13 | ||