۱۳ اکتوبر ۲۰۱۹ء  عشاء  : خونِ تمنائے حرام سے خدا ملتا ہے

حضرت مولانا عبدالمتین صاحب بنگلہ دیش سے براہ راست مسجد اختر میں بیان

مجلس محفوظ کیجئے

بیان کی تفصیلات

  خانقاہ امدادیہ اشرفیہ بنگلہ دیش سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا زبردست الہامی، عاشقانہ والہانہ بیان جو 13 اکتوبر 2019 کو بعد نماز عشاء مسجد اختر میں 150 سے زائد احباب اور بیت اقبال میں شرعی پردے کئی سو خواتین نے بھی حضرت دادا شیخ مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم کا بیان سنا، اور 150 سے زائد مقامات اور 20 ممالک میں بذریعہ ویب سائٹ بھی سنا گیا۔ الحمدللہ۔۔

 بیان کی اہم ملفوظات تحریر کیے جاتے ہیں

ہ:00:02) عربی خطبہ؛ آیت: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ۔۔۔ حدیث پاک : ۔۔رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد رسولا ، إِنَّ أَهْلَ بَيْتِي هَؤُلَاءِ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِي ، وَإِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ ، مَنْ كَانُوا حَيْثُ كَانُوا۔۔۔ 01:26) اللہ پاک ہم سب کو مغفرت عطا فرمائیں اور نور والی اللہ کی محبت والی معرفت والی زندگی سے نوازیں۔ خوش نصیب وہ انسان ہے جو اللہ پر جان فدا کرتا ہے،ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں اور جستجو میں مشغول رہتا ہے۔ 02:20) حضرت والا کا شعر ؎ وہ میرے لمحات جو گذرے خدا کی یاد میں۔۔۔بس وہی لمحات میری زیست کے حاصل رہے، زندگی اصل میں وہی زندگی ہے جو اللہ کے ساتھ ہو، اللہ کی محبت میں گذرے۔۔۔۔میرے شیخ فرماتے تھے کہ ہر سانس اپنے مالک تعالیٰ پر فدا کرو( روتے ہوئے فرمایا) اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے مالک کو خوش کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہ کی ناراضگی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ 03:25) حضرت والا کی مختصر باتیں ہوتی ہیں لیکن ایک جہاں میں عشق و محبت کی آگ لگانے والی ہوتی تھی، حضرت والا کا ارشاد:جس جہاں سے ہمیشہ کو جانا اورپھر کبھی لوٹ کرنہ آنا۔۔ ایسی دنیا سے کیا جی لگانا۔ یہ دنیا فانی ہے، سب مٹی ہے۔۔۔ اس مٹی کو مالک پر فدا کرو، پھر یہ مٹی قیمتی ہوجائے تھی، حضرت والا کاشعر کسی خاکی پر مت کر فدا اپنی زندگانی کو۔ جوانی کرفدا اس پر کہ دی جس نے جوانی کو۔۔ جو جوانی اللہ پر فدا ہوجاتی ہے، اس کی خوشبو سے لاکھوں کروڑوں بندوں کو حیاتِ جادوانی عطا ہوتی ہے ان کے انفاس کے ذریعے سے اللہ کے عشاق اور دیوانے ہو جاتے ہیں۔۔۔ جوانی کی قدر کرنے والے جانتے ہیں کہ ان کی روح کو حق تعالیٰ کیسی لذت سے نوازتے ہیں۔۔۔ 05:17) حضرت والا کے بچپن سے ہی اللہ کی محبت میں مرتے تھے اور فدا ہوتے تھے۔۔۔ بچپن سے ہی اللہ والوں کی صحبت ملی، شاہ عبد الغنی صاحب کے ساتھ 16 سال رہے، 17 سال کی عمر میں تشریف لے گئے اور حضرت پھولپوری کی عمر 70 سال کی۔ پہلی نظرجب حضرت پھولپوری کو دیکھا تو حضرت کو ایسا کہ اس زمانے شمس الدین تبریزی سے میری ملاقات ہوگئی ۔ حضرت حکیم الامت ایک شعر پڑھا کرتے تھے۔۔۔۔جس روح کو اللہ تعالیٰ انوار سے مامور فرماتے ہیں ان کو اللہ کے عاشقوں کا پتہ چل جاتا ہے، اگر دل اعتراض سے خالی ہے تب بھی لوگوں کو کشش ہوتی ہے اہل اللہ کی طرف، حضرت پھولپوری کو یہ فارسی شعر لکھا۔۔دل و جاں اے شاہ قربانت کنم۔۔۔دل ہدف را تیرِ مژگانت کنم۔۔۔ حضرت پھولپوری سمجھ گئے کہ کوئی دیوانہ آیا ہے 07:31) اہل اللہ کی صحبت سے بیٹھنے والوں کو خاص باطنی دولت سے نوازتے ہیں،جن کو نوازتے ہیں اُنہی کو پتہ چلتا ہے۔۔۔۔ اگر صلاحیت نہیں ہوتی لیکن اہل اللہ کے پاس پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ وہ پیاس بھی عطا فرمادیتے ہیں۔۔۔وہ نگاہ بھی عطا فرمادیتے ہیں۔۔۔۔حق تعالیٰ کے ساتھ جو ہمیشہ باوفا ہیں۔۔۔ ان کی صحبت کی برکت سے طلب بھی حاصل ہوجائے گی، رفتہ رفتہ تبدیلی آتی ہے، دیوانہ بن جاتا ہے۔۔۔ شعر:"وہ اُن کا رفتہ رفتہ بندہ بےدام ہوتا ہے" رفتہ رفتہ اللہ کا دیوانہ بن جاتا پہلے وہ آزاد زندگی تھی۔۔۔پھر اللہ کی قید میں رہنا یہ پسند آتا ہے۔۔۔۔اہل اللہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے قیدخانے محبوب ہوتے ہیں۔۔ اہل اللہ کی صحبت میں ایسی خوشبو ارواح کومحسوس ہوتی ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ پر مرنے پر وہ مجبور ہوتے ہیں۔۔۔آزادی تو حاصل رہتی ہےلیکن آزادی استعمال کرنےکی طاقت ختم ہوجاتی ہے۔۔۔ایسا قربِ لذت عطا ہوتی کہ اس لذت سے فرار ناممکن ہوجاتا ہے۔۔۔ایسی حالت پیداہوجاتی ہے۔۔ حضرت والا کا شعر ؎:لذت قرب بے انتہاء کو کس طرح لائے اختر زبان میں۔۔۔شروع میں جو لوگ اہل اللہ کے پاس آتے ہیں تو شروع میں روح میں اتنا عروج تو حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن اہل اللہ جو حق تعالیٰ کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں تو ساتھ رہنے والوں کو کچھ نہ کچھ اس کا حصہ مل ہی جاتا ہے۔۔۔۔ آہستہ روح میں قوت و صلاحیت عطا ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ پھر نورِ خاص بھی قلب کو عطا فرمادیتے ہیں، شعر: تو نے مجھ کو کیا سے کیا۔۔۔وہ روح جو مردہ تھی اُس میں زندگی ایسی زندگی عطا ہوتی ہے کہ اُس روح کی برکت سے پاجاتی ہے، لاکھوں مردہ جانوں کو جان حاصل ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔ایسی زندگی اللہ تعالیٰ اس کو عطا فردیتے ہیں۔۔۔ 11:31) خواجہ صاحب کےجب حکیم الامت تھانوی کی خدمت میں شروع میں حاضر ہوئے تو شعر لکھا ؎ نہیں کچھ اور خواہش آپ کے در پر میں لایا ہوں۔ مٹنے کےلیے حاضر ہوئے تھے، صرف اللہ مقصود تھا۔۔۔ حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں اس طریق میں دو چیزیں: وحدت مطلب اور وحدت مطلوب۔ صرف اللہ پر نگاہ ہو مقصد صرف اللہ کی ذات ہو۔۔۔مٹنے سے اللہ ملتا ہے، جو نفس کا غلام ہوتا وہ اللہ سے محروم رہتا ہے، صرف اللہ پر نظر ہو۔ 13:28) خواجہ صاحب کا شعر ؎ ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی۔۔۔ اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی اس شعر پر حکیم الامت بہت خوش ہوئےفرمایا کہ اگر میرے پاس ایک لاکھ روپے ہوتا تو آپ ہدیہ دیتا۔۔۔ 14:06) خدا خونِ تمنا سے ملتا ہے، عجیب ذوق حضرت والا کا ہر بات میں عشق الٰہی میں بات تھی عشق نام ہے نامرادی کا، عاشق خدا وہ ہے جو اللہ کی مرضی میں راضی رہے، جو اللہ کی مرضی وہی میری مرضی 15:09) شعر خواجہ صاحب( روتے ہوئے پڑھا) آرزو خون ہوں یاں حسرتیں پامال ہو۔۔۔ اب تو اِس دل تو تیرے قابل بنانا ہے مجھے 15:35) مولانا رومی کا عربی شعر۔۔۔ مفہوم: قتل حرام خواہشات میں ہی مومن کی زندگی ہے۔۔۔۔خالقِ جان پر جو جان فدا ہوجائے تو اُس جان کی قیمت کو کیا پوچھئے۔۔۔ اللہ تعالیٰ یہ نعمت ہم سب کو عطا فرمائے ۔۔۔۔ حضرت والا کا شعر ؎ منزلیں قرب یوں نہیں ملتی۔۔۔ زخمِ حسرت ہزار کھائے ہیں۔۔ شعر:وقفے وقفے سے آہ کی آواز ۔۔ آتش غم کی ترجمانی ہے۔ 17:16) عجیب شان کی حضرت والا کی کہ نگاہوں سے آہوں سے عشقِ الٰہی کی آگ برستی تھی، ایسی کیفیت تھی۔۔۔ ایسا نہیں کہ یہ لقب تکلف سے دیا گیا ہو واقعتاً حضرت والا اپنے زمانے کے رومی اور شمش الدین تبریز تھے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے حضرت والا کو ممتاز فرمایا تھا۔۔۔ کہ حضرت میر صاحب فرماتے تھے حضرت والا جیسے اہل اللہ اللہ تعالیٰ اس جہاں میں خال خال ہی پیدا فرماتے ہیں، حضرت والا اپنی مثال آپ تھے۔ایسا نوازا تھا اللہ تعالیٰ نے 17:59) حضرت والا کی دن رات یہی نصیحت تھی کہ اپنی خواہشات کو اپنے مالک کے لیے قربان کردو۔۔۔۔بار بار فرماتے تھے کہ خونِ تمنا سے خدا ملتا ہے، خون تمنا کرو اللہ تعالیٰ ضرور مل جائیں گے، دردِ نسبت کی دوستو تدبیر۔ ہر نفس دل کی پاسبانی ہے ہر لمحہ نفس کی نگرانی ۔۔۔ 19:01) اللہ کے راستے کا مجاہدہ بہت لذیذ اور پیارا ہے، سلاطین کو کیا پتہ۔۔۔واقعہ: حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی رحمۃا ﷲ علیہ نے مغل بادشاہوں کو خطاب اور فارسی شعر دلے دارم جواہر پارئہ عشق است تحویلش۔۔۔۔کہ دارد زیر گردوں میر ساما نے کہ من دارم 20:24) مولانا شاہ محمد احمد صاحب کا شعر ۔۔ ۔نہ کوئی غیر آجائے یا کوئی پاس آجائے۔۔۔ جب دل کی نگرانی ہوتی ہے تو دم بدم روح کو عروج حاصل ہوتا رہتا ہے، گناہوں میں تو لعنت ہی لعنت ہے۔۔۔۔ مجاہدہ میں انوار اور لطف اور لذت ہی لذت ہے، شعر: اُف کتنا ہے تاریک گناہگار کا عالم۔۔۔انوار سے معمور ہے ابرار کا عالم 21:31) سالک سے کوئی غلطی ہوتی ہے تو اُس کو احساس ہوجاتا ہے کہ قر ب الٰہی میں کمی آگئی تو وہ وہ رونے لگتا ہے اور حق تعالی پہلے سے زیادہ قرب عطا فرماتے ہیں۔ مولانا گنگوہی سےحضرت حکیم الامت سے عرض کیا کہ حضرت دعا فرمادیں کہ رضائے دائم حاصل ہوجائے تو فرمایا ارے میاں جس سے اللہ تعالیٰ ایک دفعہ راضی ہوجاتے ہیں تو پھر اُس کو مردود نہیں فرماتے ہیں یہ کہو کہ رضائے کامل عطا ہوجائے۔۔۔۔۔۔ جو اللہ کے ہوتے ہیں تو اُن کو ہروقت غم رہتا ہے کہ کہیں میں اس دروازے سے مردود نہ کردئیے جائیں، اہل اللہ کا غم اور عام لوگوں کا غم میں فرق۔ جو خاص ہوتے ہیں ان کو ہر وقت یہ فکر رہتی ہے کہ میں مردود نہ کردیا جاوں، یہ ایسا عجیب غم ہے جس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتے ہیں کہ یہ ہماری ناراضگی سے کتنا ڈرتا ہے، 24:37) ہر لمحہ گناہ سے بچنے سے قرب عظیم عطا ہوتا رہتا ہے، حفاظتِ نظر، غیبت سے بچنے سے، نفلی عبادت۔۔۔۔ ایک دفعہ الحمدللہ کا ذکر پورے میزان کو بھر دیتا ہے، 30:10) خواجہ صاحب کا شعر: کامیابی تو کام سے ہوگی۔۔۔ ذکر و فکر کی اہمیت۔۔۔۔۔ حضرت تھانوی ؒ ملفوظ: تعلق مع اللہ دولت عظیم ہے طریق حصول کا دوامِ طاعت اور کثرتِ ذکر ہے۔۔۔۔ ملفوظ کی تشریح فرمائی۔۔۔۔ اہل اللہ ذکر کی تلقین فرماتے رہتے تھے کہ ذکر کو مت چھوڑنا۔۔۔ اسلافِ دین کے نزدیک ذکر اللہ کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔ حیاتِ عالم ذکراللہ کے ساتھ مقید ہے، ذکر اللہ اتنا عظیم الشان ہے۔ ہر زمانے میں اہل اللہ نے ذکر اللہ اہتمام فرمایاہے۔۔۔اکابر اہل اللہ کے نزدیک ذکر اللہ کی بہت اہمیت تھی، حضرت والاکامقام و شان واقعہ: 1983 میں حضرت والا کی خدمت میں اصلاحی خط لکھا جواب میں ذکر اللہ کی اہمیت پر نصیحت فرمائی۔ کہ ذکر میں ناغہ نہ ہو۔۔۔شرعی عذر سے کم بھی کرنا پڑے تو 50 دفعہ ۔۔۔یہ بھی نہ ہوسکے تو 20دفعہ کرلو۔۔۔یہ بھی نہ ہوسکے تو 10 دفعہ کرلو۔۔۔اور اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو ایک ہی دفعہ اللہ کہہ لیا۔۔۔۔ شیخ سے مشورے سے اگر ایک دفعہ بھی اللہ اللہ کیا تو اُسی سے اللہ کا قرب عظیم ہوجائے گا، کیونکہ۔۔۔دوام عمل پر قرب عظیم عطا ہوتا ہے اس پر حدیث ذکر فرمائی۔ بس کام کیے جاؤ۔۔ذکر اللہ والہانہ کرنا چاہیے، مولانا رومی کا شعر۔ نعرہ مستانہ خوش می ۔۔۔اہل کی روح ذاکر ہوتی ہے۔۔۔اپنے مولیٰ سے گفتگو میں مشغول رہتی ہے۔۔۔لیکن یہ گفتگو بے زبان ہے۔۔۔۔ بس دل میں اللہ کیمحبت کی ضرورت ہے، اخلاص ہو، نام و نمود نہ ہو، حدیث ریا۔۔۔۔ اللہ کے دیوانوں کی شان۔۔۔آیت: الی ربک فارغب کی تفسیر۔۔۔۔حضرت والا کا شعر ؎ دل میرا ہوجائے اک میدانِ ھُو۔۔۔۔یعنی میدانِ یادِ الٰہی۔۔۔میدانِ ذکر الٰہی۔۔۔بس دل خالق پر فدا رہے ہروقت۔۔۔ 45:44) حضرت والا شعر، یہ تڑپ تڑپ کے جینا لہو آرزو کا پینا۔۔۔ حضرت والا کے ذکر اللہ کے دوران اشعار۔۔۔۔ 46:58) مولانا رومی کا شعر ؎ از کرم از عشق معزولم مکن۔۔۔۔جُز بذکرِ خویش مشغولم مکن ۔۔۔۔دنیا والے تو اپنی نوکری سے معزول ہونے کا ڈر رہتا ہے، اور اہل اللہ کو اللہ کی محبت اور چاکری سے معزولیت سے پناہ چاہتے ہیں۔یا اللہ اپنے کرم سے ہمیں معزول نہ فرمائیے۔ فارسی شعر ۔ اہل اللہ اللہ کے ہی ہونا چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ اپنا بنالیتے ہیں وہ دنیا سے فارغ ہوجاتے ہیں، بیکار ہوجاتے ہیں اس پر خواجہ صاحب کا شعر بڑی کارآمد یہ بیکاریاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے 48:55) پھرتا ہوں دل میں یار کو مہمان کیے ہوئے۔ روئے زمین کو کوچہ جاناں کیے ہوئے۔۔۔۔ کیا شعر ہے۔ اس طرح کا دل حق تعالیٰ عطا فرمادے اور یہ عطا ہوتا ہے جب ایسے دل والوں سے پیوند کاری ہو۔ حضرت پھولپوری فرمان ملفوظ ۔ اللہ والوں سے اللہ ملتا ہے ۔۔۔۔ محبت کا سینہ چاہیے! محبت والا ہو، جب تک غیر یعنی گناہوں کے راستے سے الگ نہ ہوں وہ قلب کیسے اللہ کی محبت کے قابل بن سکتا ہے۔ ( روتے ہوئے فرمایا) ہم کو اللہ کی محبت میں اپنی جان سے بھی الگ ہوگئے، حضرت سعدی فارسی شعر: باسودائے جاناں۔۔۔ ۔۔۔محبتِ الٰہی کے حصول کےلیے فکر رہے، تقویٰ والی زندگی بناؤ، میرے شیخ فرماتے تھے جو متقی ہے وہی ولی ہے، ولایت بغیر تقویٰ کے حاصل نہیں ہوسکتی ہے دونوں لازم و ملزوم ہیں ، تقویٰ اور ولایت، 51:46) دیوانوں کا راستہ ہی دیوانہ بناتا ہے، اور اللہ کے دیوانے کی کامیاب ہوتے ہیں، شعر: مستند رستے وہی مانے گئے،۔۔۔ جن سے ہوکر تیرے دیوانے گئے بس اللہ کی محبت میں دیوانے رہو۔ اس کےلیے کوشش کرنی ہے، مجاہدات کرنے ہیں، مجاہدات بھی ضرور ی ہے صحبت اہل اللہ بھی ضروری ہے۔ اس موقع پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جس سے مناسبت ہو اُس سے تعلق کرے یہ کوئی پارٹی بازی تھوڑی ہے کہ سب ایک ہی پارٹی میں جائیں۔ مناسبت ضروری ہے۔ جس روح کو جس روح سے مناسبت معلوم ہو تو اُسی روح کے ذریعے سے عروجِ قربِ الٰہی عطا ہوگا۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔ 53:53) حکیم الامت فرماتےتھے کہ دو چیزیں لازمِ طریق ہیں: ایک وحدت مطلب اور دوسرا وحدت مطلوب۔۔ وحدتِ مطلوب یہ ہے کہ بس اللہ ہی اللہ مقصود ہو۔۔۔وحدت مطلب یہ ہے بس ایک ہی شیخ سے تعلق رکھے، اور فرماتے تھے کہ جب تک نسبت راسخ نہ ہو تو کہیں اور نہیں جانا چاہیے، اپنی اصلاح کے لیے صرف شیخ۔ عشق الٰہی کی دولت اور اصلاح باطن کے مشورے کے لیے مختلف جگہ نہیں جانا چاہیے، حضرت حکیم الامت کی مثال۔ شیخ سے خاص تعلق ہونا چاہیے لیکن ایسا بھی نہیں کہ دوسرے شیوخ سے اعراض کرے،سلام، دعا، حسن سلوک، حسن خلق رکھے، یہ بھی ضروری ہے۔ بعض لوگ کم سمجھ ہوتے ہیں کہ بتایا کچھ جاتا ہے اور سمجھتے کچھ اور ہیں۔۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔۔ ہاں۔ بس شیخ سے تعلق بہت پختہ گہرا ہونا چاہیے، ایسا تعلق ہو کہ شیخ کا دل یہ سمجھے کہ یہ بس میرا ہی ہے۔ ایسا تعلق ہو۔ پھر جناب کیا کہنا ۔۔ فارسی شعر:من تو شُدم تو من شُدی۔۔۔۔ایسا معاملہ تعلق کا جب ہوجاتا ہے تو شیخ کے روح کے انواراُس کے قلب میں جذب ہوہی جاتے ہیں منجانب اللہ۔۔ 56:40) حق تعالیٰ کا نظام تربیت ایسا ہی ہے۔۔۔کہ شیخ کے واسطے سےتربیت ہوتی ہے۔۔طالب کو انوار عطا ہوجاتے ہیں۔۔۔اس کو مختصر الفاظ میں حکیم الامت ؒ نے یوں فرمایا کہ حقیقتِ شیخ تجلی حق ہے۔انوار حق اہل اللہ پر نازل ہوتے ہیں جن جن کے حق میں ہدایت مقدر ہے وہ سب بندے نوازے جاتے ہیں۔۔۔ یہ عجیب بات ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بن جاؤاور پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ جو میرے ہیں اُن کے بن جاؤ۔۔۔ یہ وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ میں ہے۔۔۔جو بالکل ہی میرے ہیں تم اُن کی پیروی کرو۔۔۔تو تم بھی میرے ہی بن جاؤ گے۔۔ واہ کیا کلامِ پاک ہے۔۔۔ہم لوگ ترجمہ کو اس کا پڑھ لیتے ہیں لیکن مقاصدِ قرآن سمجھنے کےلیے اہل اللہ کے پاس جانا ضروری ہے، ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔الرحمن فسئل به خبيرا۔۔ رحمن کی شان کسی باخبر سے پوچھو! 59:40) حضرت حکیم الامت کا اہم ملفوظ جس کے بارے میں حضرت ہردوئی فرماتے کہ ایک ملفوظ میں حضرت نے سلوک کی ابتدا سے انتہاء کے تمام امور کو فرماگئے۔ ملفوظ:حق تعالیٰ تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے کہ (1) اخلاق رزیلہ جاتے رہیں (2)حمیدہ پیدا ہو جائیں (3) معاصی چھوٹ جائیں (4) غفلت من اللہ جاتی رہے (5) رجوع الی اللہ پیدا ہوجائے۔ 01:02:15) مولانا شہید السلام صاحب نے عامر بھائی کا تفصیل کا پیغام حضرت کو سنایا۔ 01:04:32) حضرت دادا شیخ کی دعاوں کی درخواست پر جامع دعا۔ ۔۔۔۔۔انفاس محبت ، انفاس تقویٰ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عطا فرمائے۔