دینی و اصلاحی سفر(کراچی)خانقاہ غرفۃ السالکین گلستانِ جوہر بلاک۱۲

لسانِ اختر، اخترِ ثانی،شیخ الحدیث، شیخ العلماء ،ترجمانِ اکابر،امیرِ محبت، قلندرِ وقت، عارف باللہ

حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم

----(بروز ہفتہ۳۰ نومبر تا  منگل۱۰ دسمبر ۲۰۱۹ء)----

 یکم  دسمبر ۲۰۱۹ء  عشاء  : کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنا تزکیہ کرا لیا

قطب زماں عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبدالمتین صاحب دامت برکاتہم کا  مسجد اختر میں بیان

مجلس محفوظ کیجئے

بیان کی تفصیلات

 04:04) بیان کے آغاز جناب مصطفی صاحب نے حضرت تائب صاحب دام برکاتہم کے اشعار شیخ کی محبت میں درج ذیل اشعار پڑھ کر سنائے اشعار کا عنوانات: (۱) میری زندگی میں تم سا کوئی ہے۔۔۔۔!(۲) بتلائیں کیا ہوا ہے،بتلائیں کیا ہوا ہے تجھے دیکھنے کے بعد(۳) جن کی پیری شباب جیسی ہے‘‘،(۴) اہل دل کو جو سرسری جانے(۵) عشاق کے جینے کے ڈھنگ اور طرح کے ہیں۔(۶) میرے دل پہلے جو تھا سو تھا بس ابھی بسا کوئی اور ہے۔(۷) غم کی تاثیر ہے اپنی اپنی (۸) تم اپنی قید میں لے لو کہ ہم آزاد ہوجائیں۔(۹) پڑھ کر سنائے۔۔ 38:13) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مسجد اختر میں رونق افروز ہوئے 39:22) پانی پیے تو دونوں ہاتھ سے پیے! تھوڑا تھوڑا کرکے پانی پینا چاہیے، اسلام کی ہر ادا میں جمال ہی جمال ہے، کوئی کھانے کی چیز یا پینے کی چیز ہو تو بسم اللہ پڑھیں! محبوب پاک کا نام پاک لیتے رہو، کیا حسن 42:11) آپ ﷺ ادائیں سب اسلام کی ادائیں ہیں، جس میں دلکشی ہی دلکشی ہے۔ اسلام کتنا حسین و جمیل ہے! 44:07) جتنا آدمی گناہوں سے دور رہے گا! (گریہ سے روتے ہوئے فرمایا) جتنا اپنے اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی بنائے گا اُتنے ہی اسلام کے محاسن اس کے سامنے روشن ہوں گے، روح عارف تو محاسن اسلام سے مست رہتی ہے۔ 45:42) حضورﷺ کی طرح زندگی بناؤ تو کامیاب ہوجاؤ، میرے محبوبِ حسین کی طرح ادائیں دکھاؤ تو یجب اللہ کا مقام تمہیں عطا ہوجائے گا، اللہ تعالیٰ بندے کا حسین و جمال والا ہونا پسند فرماتے ہیں۔ 48:28) آپ ﷺ نے فریایا کہ اللہ پاک جمیل اور جمال کو پسند فرماتے ہیں، تمہارا حسین بن کر رہنا پسند فرماتے ہیں اور حسین اور جمال کون سا پسند جمالِ محمدی ہمیں پسند ہے، تم جمال محمدی کے ذریعے سے اپنے کو جمیل بناؤ! 49:18) حضورﷺ کے ظاہری باطنی میں درجہ کمال رکھتے تھے، حضورﷺ کی مسکراہٹ کے سامنے تمام حوروں کی مسکراہٹیں ماند پڑجاتی ہیں، اور آپﷺ مسکراہٹ لبوں پر رہتی تھی ، تبسم کا راز آپ ﷺ حق تعالیٰ کی ذات پاک سے غیر وسیع ناقابل تصور اوپر تعلق مع اللہ کی برکت سے ہمیشہ ہونٹوں پر مسکراہٹ رہا کرتی تھی، نمرود اور فرعون کی ہنسی تو سراسر ظلمت تھی۔ 53:30) حضرت پھولپوری ؒ نفل جگہ چھوڑ چھوڑ کر پڑتے تھے۔ حضرت والا ؒ کا فہم دین تھا کہ دور دور سے حضرت پھولپوری کی عبادت دیکھتے رہتے تھے، ایسے کہ حضرت پھولپوری کو معلوم نہ ہو، مولانا رومی ؒ فرماتے تھے کہ ، قرآن پاک کیا ہے آئینہ ہے حق تعالیٰ کے جمال کا! 57:26) جس کو توفیق توبہ ہوجاتی ہے یہ علامت ہے کہ رحمت الٰہیہ کا طوفان اس کی طرف متوجہ ہورہا ہے، ، توفیق توبہ علامت ہے رحمت حق کی، حضرت والا کا شعر 59:23) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے حکم پر سید ثروت حسین صاحب نے جناب انیس الہ آبادی نعت شریف کے اشعار ’’ نبی کی نظر کا اثر دیکھ لیجیے‘‘ والہانہ انداز سے پڑھ کر سنائے، سب لوگ مست ہوگئے، 01:06:29) مال کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے، مسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی دعاؤں کی عظیم الشان عاشقانہ تشریح 01:10:13) دعاؤں اور اذکار میں تعلق مع اللہ کی روح ہے، ہمارے اکابر نے اس کو کھول کھول بیان کیا ہے، 01:14:42) دل اپنا پاک کرلو! اللہ تعالیٰ سے تعلق مع اللہ کا تقاضا اورلحاظ یہ ہے کہ ہمیشہ دل کو پاک و صاف رکھیے، کسی حال میں گندگی میں ملوث نہ ہوں، گناہ اور اسباب گناہ گندی چیز ہے! 01:17:48) مومن کی شان یہ ہے کہ جہاں بھی رہے گا پاک صاف رہے گا! طہارت ہی طہارت ، آدھا معاملہ تو پاک صاف رہیں اور دوسرا یہ ہے آراستہ رہیں، آراستہ کیا ہے اتباع سنت و شریعت۔ 01:20:14) قد افلح من زکٰھا ۔۔۔۔الخ کی الہامی تشریح، مومن جہاں بھی جاتا ہے اُس کا مشغلہ حق تعالیٰ کو خوش کرنا ہی ہوتا ہے، حضرت والا شعر مشغلہ اہل دل کا ہے اختر۔باغ دل کی پاسبانی ہے 01:23:05) خواجہ صاحب کی فداکاری جب حضرت تھانوی ؒ نے نکال دیا تھا، نظر شیخ ، عنایت کے مشاق تھے ، حق تعالیٰ کی ایک ایک نظر کےلیے عشاق کو بالکل تیار ہر لمحہ رہنا چاہیے، اہتمام ، تاکہ ہم آپ کو پسند آجائیں، اس اہتمام کا نام عملِ صالحات ، اول اہتمام ایمان ہے پھر تقویٰ ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اس کو اُن پر فدا کاری کی توفیق ہوتی رہتی ہے۔ 01:25:30) اللہ تعالیٰ کو اپنی انکساری اور کمزوری دکھاؤ، کہ یا اللہ ہم تو کمزور ہیں کبھی اللہ پاک کی رحمت سےمایوس نہ ہوناچاہیے۔ اس لیے کسی گناہ گار کو حقیر نہ سمجھنا چاہیے، بادشاہ کے بیٹے کی مثال عجیب بیان فرمائی، اس لیے مشایخ پرانے گناہ گار کی روحِ ندامت کے اثر سے شیخ بھی متوجہ ہوجاتے ہیں، روحِ فیاض شیخ کی برکتوں سے پرانے پرانے مجرم اللہ والے بن جاتے ہیں کہ انہار ولایت ان کی روح میں جاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے جو ہمارے ہیں اُن کے ساتھ لگ جاؤ کونو مع الصادقین! سچے کے ساتھ رہ پڑو! 01:32:18) حق تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ جیو ہمارے لیے ، مرو ہمارے لیے!عارفین فرماتے ہیں اس طرح جینا اور مرنا عشاق حق کی صحبتوں سے عطا ہوتا ہے۔ 01:33:22) جتنا آدمی گناہوں سے الگ ہوجائے گا اور اہل اللہ کے ساتھ تعلق بھی ہوجائے اور مشغلہ اللہ کے ساتھ بنائے گا پھر اس کو قرآن کے انوارات معلوم ہوجائیں گے۔ 01:35:50) حضور ﷺ کے وحی کے نزول کا عجیب حال بیان فرمایا! 01:39:02) کامیاب ہوچکا ہے یہ! کون ! ایک تو پاک و صاف ہوجائے، اور یہ کہ محبوب پاک کی یاد اپنا مشغلہ بنائے، ہماری یاد کی تکمیل میں سب سے اونچا والا معاملہ یعنی نماز پوری زندگی رکھیں گے، کیونکہ نماز میں ہم حق تعالیٰ سے بہت قریب ہوتے ہیں،لہٰ 01:41:58) قرآن پاک کے ظاہری اور باطنی شان 01:44:06) آخر میں حضرت شیخ دامت برکاتہم نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے بیان کے بارے میں اپنے تاثرات اور کثیر تعداد میں متعلقین کے پیغامات کا خلاصہ پڑھ کر سنایا، آج کا بیان 20 ممالک میں 230 جگہ یہ عظیم الشان بیان سنا گیا 01:48:28) آخر میں مسجد اختر میں کثیر تعداد نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مصافحہ کیا، لوگ ایک طرف سے آتے اور مصافحہ کرکے انتظام کے ساتھ دوسری طرف سے نکل جاتے تھے، حضرت دادا شیخ باوجود ضعف کے کافی دیر تک مسجد اختر میں احباب سے نشت پر بیٹھے ہوئے مصافحہ فرماتے رہے۔ ماشاء اللہ!