مجلس۲۴ اکتوبر۲۰۱۳ء۔ معیارِمحبت تصانیف نہیں ، معیارِ محبت عمل ہے

آج کی مجلس کی جھلکیاں

آج الحمد للہ طویل مجلس تقریبا ۵۵ منٹ کی ہوئی اور حضرت اقدس حضرت میر صاحب دامت برکاتہم شروع ہی  سےمجلس میں رونق افروز تھے۔

ممتاز صاحب نے  حضرت کے حکم پر اس دفعہ کے ماہنامہ الابرار  ذی الحجہ ۱۴۳۴ سے  بہت اہم ملفوظات پڑھ کر سنائے۔

معیارِ محبت: اگر آپ کسی کی محبت پر ایک ضخیم کتاب لکھ دیں کہ میں آپ کی محبت میں تڑپ رہا ہوں، آپ کے بغیر میری زندگی موت ہے، راتوں کی نیند حرام ہے، ہر وقت آپ کی یاد دل کو تڑپاتی رہتی ہے تو آپ کی یہ کتاب محض ایک قول ہوگا، محبت کی دلیل تو آپ کا عمل ہوگا۔

پس آج کل بہت سے مصنفین ہیں کہ دین پر ان کی بڑی بڑی تصنیفات ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں دین کا بڑا درد ہے اور اللہ و رسول سے بڑی محبت ہے لیکن ان کی یہ محبت کتابوں کے صفحات تک ہی محدود ہے، ان کی زندگی دیکھئے تو عمل سے یکسر خالی ہے۔

ان کی آنکھوں میں اللہ کی محبت میں کوئی آنسو آپ نہیں دیکھیں گے، محض تصنیفات لٹریچر اور انشا پردازی سے کیا ہوتا ہے۔ صحابہؓ نے کتابیں تصنیف نہیں کی تھیں، انہوں نے تو اللہ و رسول پر جان قربان کر کے دکھائی تھی، ان کی محبت کا پیمانہ ان کا عمل تھا۔

یہ تھے وہ صحابہ جن پر آج کے بہت سے لٹریچر والے اعتراض کرتے ہیں، کل میدانِ قیامت میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسوں کا گریبان پکڑ کر پوچھیں گے کہ کس منہ سے تو نے میرے اصحاب پر اعتراض کئے تھے؟ تیری ناپاک زبان تو میرے اصحاب کا نام لینے کے بھی قابل نہیں تھی چہ جائے کہ تیری ناپاک زبان میرے صحابہ پرسب وشتم کرتی تھی تب پتا چلے گا۔

یہاں اس ملفوظ کے اختتام پر حضرت والا حضرت میر صاحب نے فرمایا : "وہ لٹریچر نویس اور بہت مشہور نقاد نعوذ باللہ نقاد صحابہ تھا، مشہور شخصیت ہے نام لینے کی اب ضرورت نہیں اب تو دُنیا سے جا چکااور سب لوگوں کو معلوم بھی ہے، اُس کا یہی حال تھااور جتنے بھی ایسے مصنفین ہیں۔۔۔ جو عمل سے خالی ہیں، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں تو کرتے ہیں ، محبت کی باتیں کرتے ہیں۔۔ لیکن زندگی محبت سے خالی ہے، محبت کے اعمال سے خالی ہے بلکہ اُس کے بر عکس اہل اللہ پر علماء پرصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پریہاں تک کہ بعض نالائقوں نےانبیاء  کرام علیہم السلام  پر بھی قلم اٹھا دیا۔۔۔ اور ایمان کُھو دیا۔

مزید ارشاد فرمایا: "اس پر مولانا  محمد یوسف لُدھیانوی  شہید رحمہ اللہ نے کتاب "اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم" لکھی ہے جس میں ایسے تمام فرقوں کی نشاندہی کی ہے جو گمراہ ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

یہاں پر حضرت نے اُس گمراہ کا کا ایک نہایت عبرت آموز واقعہ نقل فرمایا : کہ وہ شخص جو صحابہ پر اعتراض کرتا تھا اور بہت کتابیں بھی لکھی ہیں یہاں تک کہ تفسیر قرآن بھی لکھی ، حضرت نے فرمایا وہ تفسیر کیا ہے تقصیر ہے غلطیاں ہی غلطیاں ہیں، عربی بھی جانتا نہیں دوسروں سے لکھوا کر اپنا نام لکھ دیتا تھاخود عربی آتی نہیں تھی بہرحال عربی آتی ہو یا نہ ہوقابلیت بہت مشہور تھی کہ صاحب بڑے قابل ہیں، بڑے علامہ ہیں۔

واقعہ: تو حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب حج کو تشریف لے گئے تو انہوں نے دیکھا وہی شخص وہاں موجود تھا اور اُس نے ایک غلطی کی ارکان حج میں ؛تو حضرت مفتی شفیع صاحب نے اُس کو توجہ دلائی کہ آپ سے یہ غلطی ہوگئی ہےاور کہا کہ اس کو ٹھیک کر لیجیے ورنہ حج نہیں ہوگاتو وہ کہنے لگا)بدتمیزی سے( " کہ وہ آپ کا نہیں ہوگا ۔۔ ہمارا ہو جائے گا"

اور مفتی شفیع صاحب نے فرمایا کہ میں اُس شخص کو کعبہ کا طواف اس طرح کرتےہوئے  دیکھا کہ جیسے صحافی جائزہ لیتا ہے ۔۔۔ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے  ادھر اُدھر دیکھتا تھا، نہ کوئی خشیت، خوف نہ محبت۔ بس باتیں بڑی بڑی ہیں اور عمل بالکل کچھ نہیں محبت سے دل خالی ہے۔۔ اللہ تعالی ایسے علم سے محفوط رکھے!

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا یا اللہ میں آپ سے علم نافع چاہتا ہوں، نفع دینے والا علم مانگتا ہوں ۔۔۔۔

ایسا علم جو اللہ کا راستہ نہ دیکھا سکے، اللہ کے راستے پر چلنا نہ سیکھا سکےوہ علم نہیں ہے جہالت ہے۔

معیار محبت تصانیف نہیں ۔۔ معیار محبت اُس کا عمل ہے۔اُس کی زندگی کا ہر شعبہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے مطابق ہوگا اور اگر کبھی خطا بھی ہوجائےاہل اللہ سے تو حضرت رحمہ اللہ نے فرماتے کہ " کہ اُن کی جو توبہ ہوتی ہے ۔۔ وہ ہمارے عبادتوں سے بھی افضل ہوتی ہے۔)سبحان اللہ (

پھر صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین  کی عظمت بیان فرمائی ۔

حضرت والا کی اس تشریح پر حاضرین پر عجیب سرور کی کیفیت طاری تھی اور بہت ہی فائدہ محسوس ہورہا تھا۔

پھر ممتاز صاحب نے ملفوظات پڑھنا شروع کیے، جس کا عنوان "طالبِ دین کا مقام"  تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کفارِ قریش کے رئیسوں اور سرداروں کو تبلیغ فرما رہے تھے کہ ایک نابینا صحابی عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آگئے ۔۔ واقعہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کچھ چیں بجبیں ہوئے لیکن، اللہ کو یہ بات پسند نہیں آئی اور فرمایا: وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَىوَهُوَ يَخْشَى  فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّى  )سورۃ عبس(

جو شخص ہماری محبت کا درد لے کر آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور وہ ہم سے ڈرتا بھی ہے آپ اس سے روگردانی فرما رہے ہیں صرف اس خیال سے کہ ان کو دین پہنچ جائے جو ہماری طلب نہیں رکھتے، حالانکہ ان کا نفع مظنون)گمان(ہے لیکن یہ جو ہماری محبت لے کر دوڑتا ہوا آیا ہے اس کا نفع یقینی ہے، پھر آپ اس کی طرف توجہ کیوں نہیں فرماتے۔

حضرت والا نے مندرجہ بالا ملفوظ کی عجیب تشریح فرمائی ، سبحان اللہ ، سبحان اللہ کی آوازیں بلند ہوگئیں۔

حضرت نے اپنا ایک واقعہ محبت میں ڈورنے کی تشریح میں سنایا ۔

فرمایا جو محبت خشیت کے دائرہ میں رہتی ہےتو وہ محبت مقبول ہے۔۔۔ ورنہ بدعت ہے۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :  "اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے یہاں اپنے عاشقوں کا کیا مقام ہے کہ صحابی عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا ہیں، مفلس ہیں، بے نام و نشان ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کا کیا مقام ہے کہ اپنے نبی پر کس انداز سے عتاب فرمایا"

راہِ سلوک میں مجاہدہ کی اہمیت: اللہ کا راستہ چین سے بیٹھنے سے طے نہیں ہوتا، بے چینی سے طے ہوتا ہے، اگر گناہ کے تقاضے ختم ہوجائیں تو اللہ کے راستہ کی ترقی بھی رک جائے، ان تقاضوں ہی کی وجہ سے ترقی ہوتی ہے کہ گناہ تمہیں اپنی طرف کھینچیں اور تم پوری محنت سے ان سے اپنا دامن چھڑا کر اللہ کی طرف بھاگتے رہو۔

اسی طرح جہاں گناہ کا یقین نہیں محض گمان بھی ہو تو اس جگہ سے بھی فوراً بھاگ جائو، ہماری جانیں اللہ کے راستہ کا پرندہ ہیں،جو ہر وقت اللہ کی طرف اڑ رہی ہیں اور گناہ مثل باز اور شکاری کے ہیں۔

حضرت والا رحمہ اللہ کا ایک علم عظیم: چراغ کو اس وقت روشن کرتا ہے جب اس میں تیل بتی بھی ہو، اگر تیل بتی ہی نہ ہو گی تو چراغ کس چیز کو روشن کرے گا۔ اسی طرح شیخ کا کام یہ ہے کہ طالب کے دل میں اللہ کی محبت کا چراغ روشن کردے لیکن یہ چراغ کب روشن ہوگا؟ جب طالب کے دل کے چراغ میں ذکر و معمولات کی تیل بتی بھی ہو، یعنی شیخ کی خدمت میں حاضری سے پہلے پابندی سے ذکر و معمولات کا اہتمام رکھے۔

اسی طرح جو شخص ذکر و معمولات تو خوب کرتا ہے لیکن شیخ کی خدمت میں نہیں جاتا تو وہ ایسا ہے کہ گویا چراغ میں تیل بتی تو موجود ہے لیکن دوسرے چراغ کی لو سے اپنے آپ کو قریب نہ کرے تو وہ بھی ہر گزروشن نہ ہوگا، بس ایسا شخص جو صرف معمولات پر اکتفا کر لے اور شیخ کی صحبت میں نہ بیٹھے اس کے دل میں بھی اللہ کی محبت کا چراغ روشن نہ ہوگا۔

جو شخص یہ چاہے کہ گناہ بھی کرتا رہے اور اللہ کا ولی بھی ہوجائے وہ سخت دھوکہ میں ہے ایسا شخص چاہے کتنا ہی بڑا پیر ہوجائے، لاکھوں اس کے مرید ہوجائیں کتنا ہی بڑا عالم ہو جائے لیکن اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔

حضرت فضیل بن غیاض کا واقعہ ۔آیت۔ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ سن کر ایسی توبہ کی کہ بہت بڑے ولی اللہ ہوئے اور شجرے میں اُن کا نام آتا ہے۔

مجاہدے سے مت گھبراو۔ ولی اللہ بہت آسان ہے۔۔۔ گناہ چھوڑ دواور ولی اللہ بن جائو

ایک صاحب نے حضرت تھانوی سے پوچھا تھا کہ اب گناہوں سے بچنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی تو یہ اب اجر نہیں ملے گا مجاہدے کا؟  حضرت نے فرمایا: "اب تقوی میں رسوخ پیدا ہوگیا ، محسوس ہونا ضروری نہیں ہےلیکن اجر وہی ملتا رہے گاکیونکہ اُسی مجاہدے کی برکت اور   وجہ سے یہ حالت نصیب ہوئی ہے، تو وہ مجاہدے کا ثواب اب بھی جاری رہے گا۔)سبحان اللہ (

حضرت والا نے اپنا شعر سنایا:

ایسا  محبوب   کوئی   دکھلائے

ہو جو ہر دم دل حزیں  کا  حبیب

جو ہو  موجود  دل کی دھڑکن  میں

رگ جاں سے بھی ہو زیادہ قریب

آخر میں حضرت والا نے دُعا فرمائی کہ "یا اللہ اس قال کو حال بنادے" اور پھر بہت پیار سے فرمایا کہ اب مجلس برخاست ہوگئی ۔۔ یوں یہ طویل یادگار مجلس اختتام کو پہنچی۔

محفوظ کیجئے

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries