مجلس۲۹ اکتوبر۲۰۱۳ء۔ مقصد حیات اللہ تعالی کو راضی کرنا ہے

محفوظ کیجئے

آج کی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

خلاصہءمجلس:آج الحمد للہ طویل ترین مجلس تقریبا سوا  گھنٹے کی ہوئی ، شروع کے ۱۵ منٹ حضرت والا کے غیر موجودگی حضرت فیروز میمن صاحب دامت برکاتہم نے بیان فرمایااس کے بعد حضرت والا تشریف لے آئے۔پھر ممتاز صاحب نے ملفوظات خزائن معرفت محبت سے پڑھنا شروع کیے ، بیچ بیچ میں حضرت والا اپنے تشریح فرماتے جاتے تھے۔ بہت مفید مضامین بیان ہوئے اور حضرت والا کی تشریحات نے لطف دوبالا کردیا۔۔۔نفس کا مزاج دوزخ کا ساہے۔۔۔ انسان کا مقصد حیات کیا ہے۔۔اس پر حضرت والا میر صاحب کی درد بھری نصیحت۔۔ کھانا پینا ذرائع ہیں مقصد نہیں۔۔۔ مقصد حیات اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اللہ تعالی دین کی سمجھ عطا فرمائے۔۔جذب کے واقعات بیان ہوئے۔۔۔فجور کا مادہ ہی تقوی کی بنیاد ہے۔۔۔آخر میں حضرت والا کی حاضرین پر شفقت کا ظہورہوا ۔۔

شروع میں حضرت والا کے Dialysisکی وجہ سے مجلس میں تشریف لانے میں تاخیر تھی لہذا حضرت کے حکم پر حضرت فیروز میمن صاحب نے تقریبا ۱۵ منٹ بیان کیا۔ اتنے میں اطلاع آئی کہ حضرت والا تشریف لارہے ہیں، حاضرین نے چہرہ ء انور کی زیارت کے ساتھ ہی ماشاء اللہ سبحان اللہ کہا اور حضرت صوفے پر رونق افروز ہوگئے۔

حضرت والا کا معمول ہے کہ مجلس شروع کرنے سے پہلے ایک دو منٹ خاموشی سے زیر لب دُعائیں پڑھتے ہیں ۔۔۔ اس سے فراغت کے بعد ممتاز صاحب کو حکم ہوا کہ ملفوظات خزائن معرفت و محبت میں سے پڑھیں۔ صفحہ ۳۵۲ خزائن  معرفت و محبت سے ملفوظات شروع ہوئے:

 نفس کا مزاج دوزخ کا سا ہے: ۔۔۔۔ حکیم الامت نے فرمایا کہ ساری دنیا کی حسینوں سے کوئی بدنظری کرلے پھر اس کے کان میں کوئی کہے کہ ابھی ایک حسین باقی ہے تو وہ کہے گا کہ وہ بھی دکھا دو۔ تو نفس کا مزاج یہ ہے، نفس کی خواہش قبر کی مٹی ہی ختم کرے گی، جب مٹی میں دفن کیا جائے گا تو مٹی ہی اس کا پیٹ بھرے گی لیکن اﷲ والوں کا مزاج دنیا ہی میں اﷲ کی تجلیات اور اﷲ کے انوار وبرکات سے بدل جاتا ہے۔

اِنسان کا مقصد حیات کیا ہے؟۔۔۔۔دیکھو! ایک ریل جارہی ہے، اس ریل میں ہتھکڑی لگے ہوئے مجرمین بھی ہیں اور اسی ریل کے فرسٹ کلاس میں وزیر اعظم بھی جارہا ہے تو دنیا بھی ایک مسافر خانہ ہے، اسی دنیا میں پیغمبر ان اور اولیاء بھی رہتے ہیں اوراسی دنیا میں ایک سے ایک خبیث الطبع بدمعاش بھی ہے، یہ دنیا بھی ریل ہے جو خاموش سے چل رہی ہے۔

جنہوں نے امپورٹ ایکسپورٹ آفس کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھا ہے کہ کھائے جا، گو بنائے جا، یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم کس لیے پیدا ہوئے۔

حالانکہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے تم کو امپورٹ ایکسپورٹ آفیسر نہیں بنایا میں نے تم کواپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، یہ جوکھاتے پیتے ہو یہ وسیلۂ حیات ہے لیکن مقصدِ حیات میری عبادت ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے اپنے ایمان کی روشنی کے لیے دو تار دیئے ہیں، نماز روزہ اور دیگر عبادات یہ مثبت تار ہے اور گناہ سے بچنا، حسین لڑکوں اور لڑکیوں سے سے بچنا، غیبت سے بچنا یہ منفی یعنی مائنس تار ہے، دونوں تاروں پر عمل کرو پھر بھول جاؤگے ان سب مرنے والے حسینوں کی لاشوں کو۔

یہاں پر حضرت والا نے مندرجہ بالا ملفوظ کی تشریح فرمائی:اللہ تعالی کو راضی کرنا اور ان کی ناراضگی سے بچنا  مقصد زندگی ہے ۔۔ ۔ تو ذریعے میں اور مقصدمیں یہی فرق ہے۔

آج کل یہ ہوا ہے کہ ہم نے ذریعے کو مقصد بنا لیا ہے ۔۔۔ اور دُنیا کمانے میں لگ گئے۔۔

اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے لئے ہمیں پیدا کیا ۔۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔ فرمایا  حضرت والا نے فرمایا تھا کہ علامہ الوسی رحمہ اللہ  نے فرمایا کہ یہاں لیعبدون،ليعرفونکے معنی میں ہے یعنی  اپنی معرفت کے لئے پیدا کیا ہے ۔

یہ گھر انے کا واقعہ بیان فرمایا کہ ماں بچے کو اسکول نہ  جانے پر تو مارتی تھی لیکن فجر کی نماز میں کہتی تھی کہ سونے دو اور کوئی پروا نہیں کرتی تھی۔

فرمایا : کہ پاخانہ بنانے کی مشین نہیں ہے کہ اوپر سے کھایا نیچے سے نکالا۔۔۔اللہ تعالی نے اپنی فرماں برداری کےلئے انسان بنایا ہے تاکہ ہم اللہ والے ہو کر اس دُنیا سے جائیں۔۔۔ باقی یہ سب چیزیں ذرائع ہیں۔۔ وسیلے ہیں۔۔ مقاصد نہیں ہیں۔

سب کچھ کرو ۔۔۔یہ نہیں کہ سب کچھ چھوڑ دو۔۔۔ ذرائع کو استعمال کرنا بھی ضرور ی ہے۔حدود شریعت کے اندر رہ ذرائع کو اپنانا  بھی ضرور ی ہے۔۔۔ لیکن یہ مقصد حیات نہیں ۔۔۔ اس لیے ہے تاکہ تم اس کے ذریعے سے اپنے جسم کو پالو۔۔ اور جسم کو اللہ کی عبادت میں لگادو اور یہ عبادت کیا ہے ۔۔ بیوی بچوں کو پالنا بھی عبادت ہے ۔۔ اگر اللہ کے لیے ہے ۔

ایک مثال ارشاد فرمائی کہ ایک شخص اگر آفس میں اس  نیت  سے بیٹھا ہوا ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو پالو گا اور اللہ کا حکم پورا کروں گا۔۔۔ تو یہ پورا عرصہ اس کا عباد ت میں لکھا جائے گا۔

مسلمان کا کوئی فعل  کوئی لمحہ ایسا نہیں جو عبادت سے خارج ہو۔۔۔۔۔کھانا پینا، ہنسنا بولنا، سونا جاگنا بھی عبادت ہو جاتا ہے ۔۔

ایک اور عجیب مثال نیت کی درستگی پر بیان فرمائی ۔ ایک امرود    والے کا امرودبیچنا  ثواب ہوسکتا ہے اور ایک عبادت گزار کی عبادت بھی ۔۔۔ گناہ ہوسکتی ہے ۔۔۔۔نیت کے صحیح اور خراب ہونے سے ۔

پھر ممتاز صاحب نے ملفوظات پڑھنے شروع کیے۔عشقِ مجازی سے بچنے کا ایک عجیب و غریب مراقبہ:

۔ شیطان تو ان حسینوں کے گوموت کا سارا سسٹم چھپا دیتا ہے اس لیے لوگ ان کے حسن پر پاگل ہو رہے ہیں، ان پر پاگل ہونے والے بھی گوخور ہیں، جو حسینوں کے پیشاب پاخانے کے مقامات سے مستفید ہوناچاہتا ہے۔

آپ خود سوچئے کہ اس شخص کا کیا مقام ہے اور یہ شخص کس قدر نمک حرام ہے۔ بتاؤ اگر اسے دس دن کھانا نہ ملے تو دیکھنے کی طاقت رہے گی؟ تو جس کانمک کھاتے ہو اس کی مرضی کے خلاف کیوں چلتے ہو؟

واقعہ :  دمشق میں حسن پرستی عام ہوگئی تھی۔۔ اﷲ کا غضب نازل ہوا، بارش روک دی، غلہ ختم ہوگیا، جب پندرہ دن کھانا نہیں ملا تو لوگوں نے ان عاشقوں سے پوچھا کہ میں اس وقت آپ کے لیے روٹی لاؤں یا آپ کا معشوق لاؤں؟ تو سب نے کہا کہ معشوقوں کے گالوں پر جھاڑو پھیرو، روٹی لاؤ، مجھے تو اتنی بھوک لگی ہوئی ہے کہ اب آنکھ سے نظر بھی نہیں آرہا۔

یاد رکھو! جوتوں کا انتظار مت کرو، جلد توبہ کرو، واﷲ! اﷲ کا عذاب جب آئے گا تو اس کے مقابلے میں جوتے کچھ نہیں، ایسا عذاب آتا ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو، بڑے بڑے صحت مندوں کو میں نے دیکھا کہ سوکھ کے کانٹا ہوگئے، چار پائی سے لگ گئے۔۔۔

حضرت والا نے حسن پرستی اور عشق مجازی سے نجات کے لیے مختلف علاج اور طریقے بیان فرمائے۔

حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمہ اللہ، عاشق شیخ تھے اُن کا ایک واقعہ بیان فرمایا کہاُن سے بدنگاہی نہیں چھوٹ رہی تھی۔۔تو۔۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے بہت معالجات بتائے لیکن خواجہ صاحب نےعرض کیا حضرت فائدہ نہیں ہوا ۔۔ مجھ سے یہ مرض نہیں جاتا ہے۔۔۔اب جب حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے دیکھا کہ اب کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ۔۔۔۔ تو فرمایا ۔۔۔۔ اچھا خواجہ صاحب اگر اب یہ عادت نہ چھوٹی تو مجھ سے آپ کا تعلق ختم ۔۔۔ خانقاہ میں آپ کو آنے کی اجاز ت نہیں ہوگی۔۔۔بس حضرت والا نے فرمایا تھا کہ شیخ نے ایسا تیر مارا ہے ۔۔ بس اُس دن کے بعد سے ماشاء اللہ سب چھوڑ دیا۔۔

جذب کے مختلف واقعات  بیان فرمائے۔

فرمایا : فجور یعنی نافرمانی کی خواہش ہی نہیں ہوگی تو کس چیز سے اپنے نفس کو روکوں گے اور تقو ی کیسے پیدا ہوگا۔۔۔ یاں تو پھر ایسا ہوگا ۔۔۔کہ مخنث ہوگا ۔۔۔ یا فرشتہ ہوگا۔۔۔

انسان کو جو فضیلت فرشتوں پر حاصل ہوئی وہ تقوی ہی کی برکت سے حاصل ہوئی یعنی اللہ کے راستے کا غم اٹھانے سے  گناہ چھوڑنے سے۔

آخر میں حضرت والا نے مجلس سے اوقات کے بار ے میں مشورہ فرمایا کہ جو خواتین کا چونکہ باپردہ انتظام ہے اور وہ نماز عشاء سے پہلے ہی آجاتی ہیں ۔۔۔ اس لیے ان کو انتظار کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے ۔۔۔اس پر حضرت نے حاضرین سے مشورہ طلب فرمایا ۔۔ اس سے حضرت والا کی حاضرین مجلس پر شفقت و رحمت خوب ظاہر ہوتی ہے ۔۔۔ آنے والوں کی راحت کی کتنی فکر ہے۔۔

اسی ضمن میں حضرت والا  نے حضرت ہردوئی رحمہ اللہ  کا واقعہ۔۔۔ بیان فرمایا۔

آخر میں یہی طے پایا کہ معمول کے مطابق اپنے وقت پر ہی مجلس ہوا کرے گی وقت میں تبدیلی نہیں کی جائے گی البتہ حضرت والا کو اگر تاخیر ہوجائے تو مجلس میں حضرت سے حکم سے بیان ہوجایا کرے گا ۔۔ اس پر حضرت والا نے فرمایاکہ کوشش کروں گا کہ اگر Diaylsis کی وجہ سے تاخیر ہوبھی گئی توبھی پانچ دس منٹ کے لئے مجلس میں حاضری ہوجائے تاکہ لوگوں کی برکات حاصل ہوجائیں)سبحان اللہ کیا فنائیت اور تواضع ہے (

آخر میں حضرت والا نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی صحت کے حوالے سے فرمایا کہ حالانکہ مجھے کئی بیماریاں ہیں ۔۔ لیکن حضرت والا رحمہ اللہ کی دُعائوں کی برکات انتقال کے بعد بھی  محسوس ہورہی ہیں کہ مجھ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ میں بیمار ہوں ۔۔۔ بس کھڑے ہونے میں تکلیف ۔۔۔ وہ بھی چند دن اگر ورزش کی جائے تو بہت بہتری ہوجاتی ہے ۔ ان شاء اللہ اس کا معمول بنائیں گے۔تمام حاضرین مجلس کو حضرت کی صحت کے حوالے سے سن کر بہت خوشی ہوگئی اور سب الحمد للہ کہنے لگے ۔۔

یوں یہ اب تک کی طویل ترین مجلس اختتام کو پہنچی  ۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries