مجلس۰۳۰ اکتوبر۲۰۱۳ء۔ حسن پرستی: اس زمانے کا سب سے بڑا فتنہ

محفوظ کیجئے

آج کی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

خلاصہءمجلس:آج حضرت والا کے  تشریف لانے میں تاخیر تھی ۔۔۔ حضرت فیروز میمن صاحب دامت برکاتہم نے بیان فرمایا۔۔۔ ۴۰ منٹ کے بیان کے بعد اطلاع آئی حضرت تشریف لارہے ہیں ۔پھر ممتاز صاحب نے ملفوظات خزائن معرفت محبت سے پڑھنا شروع کیے ، بیچ بیچ میں حضرت والا اپنے تشریح فرماتے جاتے ۔۔۔ عشقِ مجازی سے بچنے کا ایک عجیب و غریب مراقبہ۔۔۔اللہ تعالی کو پانے میں صرف گناہ رکاوٹ ہیں۔۔۔حسن پرستی عشق بازی ۔۔بدنگاہی ۔۔۔ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہیں۔۔۔ حضرت والا کا کارِ تجدید۔۔۔اس مضمون کو کُھل کر بیان فرمایا۔اپنے مقام سے نزول فرمایا  ہم لوگوں کی اصلاح کے لیے۔۔

 شروع میں حضرت فیروز میمن صاحب دامت برکاتہم نے بیان فرمایا:

ایک صحابی  رضی اللہ عنہ کے عاشقانہ حالات بیان کیے۔۔۔ایمان لانے اُن کو بہت مارا گیا تھا۔۔ اُن کا انتقال ہوا تو وہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر میں اتارا۔۔۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین رشک کرنے لگے

چند روز پہلے حضرت والا میر صاحب دامت برکاتہم نے رات ۲ بجے مجلس خاص فرمائی اُس میں ارشاد فرمایا تھا کہ ہمارت حضرت والا رحمہ اللہ پر بالکل تھانہ بھون یعنی حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا رنگ تھا ۔۔۔۔

حضرت تھانوی رحمہ اللہ  کی شان استغناء اور نواب صاحب کی دعوت کا قصہ بیان ہوا۔

اللہ والوں کی مجلسوں کی زیادہ فکر کرو۔۔ اُن سے اخلاص ملتا ہے۔

پھر حضرت فیروز میمن صاحب نے خزائن معرفت و محبت  صفحہ نمبر ۲۲۲سے ملفوظات پڑھنا شروع کیے:

حضرت والا رحمہ اللہ نے فرمایا:  جس شخص سے تم کو تکلیف پہنچے اس سے تم مہربانی کرو۔ اللہ کے خاص مقرب اور ولی ہونا چاہتے ہو تو دل گردہ کو مضبوط کرلو۔ مہربانی کے بدلے مہربانی کرنا کیا کمال ہے۔ کافر بھی مہربانی کے بدلے مہربانی کر لیتا ہے۔ ۔۔۔

مخلوق سے ظلم دیکھو اور اس کے ساتھ مہربانی کرو۔پتھر کا کلیجہ چاہیے اس کے لیے، ظلم دیکھ رہے ہیں او ر مہربانی کر رہے ہیں کیوں کہ ہمارا اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔

تمہارے ساتھ برائی سے پیش آئے تم اس کے ساتھ اچھائی کرو۔ جنگِ احد میں کافروں نے حضور صلی للہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے کان، ناک اور کلیجہ کاٹ کر چبالیا تھا۔ حضور صلی للہ علیہ وسلم نے جب لاش مبارک دیکھی تو قسم کھالی کہ جب تک ستر کافروں کے اسی طرح سے ناک اور کان نہ کاٹ لوں گا چین سے نہ بیٹھوں گا۔

"اگر تم بدلہ لینا چاہتے ہو تو لے سکتے ہو جائز تو ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے بدلہ میں ستر کو ماردو۔ ایک کے بدلے ایک کو مار سکتے ہو لیکن اللہ کو یہ بات پسند ہے کہ صبر کرو اور لوگوں کو معاف کردو" )آیت:۱۲۶سورۃ النحل(۔ حضور صلی للہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بلا کر اعلان فرمایا کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم صبر اختیار کرتا ہے مجھے بھی وہی بات پسند ہے جو میرے اللہ کو پسند ہے۔

لیکن کسی سے تکلیف پہنچے اور پھر اس کے ساتھ مہربانی کرے یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ وہی کر سکتے ہیں جن کو ایمان و یقین کا خاص درجہ حاصل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مقامِ قرب پر فائز فرمایا ہے۔ ہر ایک کو یہ نعمت نہیں ملتی۔

اگر یہ نعمت ایسی عام ہوتی تو اللہ تعالیٰ یہ کیوں فرماتے: "نہیں دی جاتی یہ نعمت مگران لوگوں کو جو بڑے صبر کرنے والے ہیں اور نہیں دی جاتی یہ نعمت مگر بڑے نصیب والوں کو"(سورۂ فُصِّلٰت، آیت:۳۵) مراد اس سے اولیاء اللہ ہیں مخلوق کے ظلم کو دیکھ رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ مہربانی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

جس کے دل کو اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہو گا جو ان کی رضا کو ڈھونڈتا رہتا ہے جو ہر وقت تلاش میں رہتا ہے کہ کو ن سی ایسی بات کرلوں کہ میاں راضی ہو جائیں۔۔۔۔وہ یوں سوچتا ہے کہ حسنِ سلوک سے پیش آتا ہوں اگر چہ میرے نفس کو تکلیف ہوتی ہے لیکن میرا اللہ اس سے خوش ہوگا اگر میں اسے معاف کردوں۔

حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ایک صحابی کا وظیفہ بند کر دیا تھا۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا صدیق کو یہ پسند نہیں کہ وہ ہمارے ایک بندے کی خطا معاف کردیں تاکہ اللہ ان کی خطائیں معاف کر دے۔ صدیق کو یہ زیبا نہیں کہ وہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی سے پیش آئے۔صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان صحابی کو معاف فرمادیا اور پہلے سے زیادہ احسان فرمانے لگے۔

جب کسی نبی نے یا ولی نے مظلوم ہو کر ظالم کے لیے دعا کی ہے وہ تیر کی طرح پہنچی ہے۔جس سے تکلیف پہنچے اس کے لیے دعا کیا کرو بہت جلد قبول ہوتی ہے۔

میرے شیخ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت تھانویؒ نے ایک برا بھلا کہنے والے کو اس سستی کے زمانے میں پانچ روپیہ کی امرتی بھیجی تھی اور فرمایا تھا کیونکہ آپ میرے محسن ہیں آپ نے میرے گناہ دھودیے اس لیے یہ نذرانہ پیش کرتا ہو۔

حضرت تھا نویؒ خود کتنے بڑے عالم تھے اپنے وقت کے امام غزالی اور امام رازی  تھے اور دین کا کتنا عظیم الشان کام اللہ نے ان سے لیا لیکن فرماتے تھے کہ "سب حاجی صاحب کی جوتیوں کا صدقہ ہے"۔ شیخ کا فیض نہ ہو تو علم سے بھی نفع نہیں ہوتا۔

۔۔۔۔حکیم الامت تھانویؒ نے اچانک ایک نعرہ لگایا ’’ہائے امداد اللہ‘‘ اور منبر پر بیٹھ گئے۔۔۔۔ حاجی صاحب کی برکت سے اتنے مضامین قلب میں آرہے تھے۔۔۔۔

فیروز میمن صاحب ملفوظات پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں اطلاع آئی حضرت تشریف لے آئے۔۔۔ حضرت والا اپنی نشست پر تشریف فرما ہوئے۔۔۔ چند منٹ زیر لب دُعائیں پڑھنے کے بعد حضرت ممتاز صاحب کو ملفوظات سنانے کا حکم فرمایا ۔۔۔

صفحہ ۳۵۶ خزائن معرفت و محبت سے عشقِ مجازی سے بچنے کا ایک عجیب و غریب مراقبہ۔۔۔ عبرناک سبق آموز فیچر پڑھ کر سنایا۔

جن حسین لڑکیوں پر، جن حسین لڑکوں پر تم ایمان ضائع کرتے ہو زندگی ضائع کرتے ہو اپنی مٹی کو مٹی کے کھلونوں پر مٹی کرتے ہو یہ تمہارے کچھ کام نہیں آئیں گے، ابھی تمہارے گردے میں کینسر ہوجائے یا بلڈ کینسر ہوجائے یا پھیپھڑوں میں کینسر ہوجائے اور ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوجاؤ تو بتاؤ کوئی حسین یا حسینہ کام آئے گی؟

حسینوں کا حسن تو اﷲ تعالیٰ کی بھیک ہے، جس نے ان کو حسن دیا ہے اس سے تعلق قائم کرو، بھیک منگوں سے کچھ مت مانگو۔

اسی لیے میں اس فانی حسن کی حقیقت کا ایک فیچر پیش کررہا ہوں کہ فرض کرلو ایک ہزار مربع گز کا احاطہ ہو اور پچاس حسین لڑکیاں جو دنیا میں حسن میں اوّل آئی ہیں اور پچاس حسین لڑکے جن کے ڈاڑھی مونچھ نہیں ہے اور بلا کے حسین ہیں، ان حسینوں کے لیے چھوٹے چھوٹے سو خیمے لگا دئیے گئے۔۔۔۔علیٰ درجے کی بریانی کباب کا انتظام کر دیا۔۔۔۔

کھانے کا انتظام تو اعلیٰ سے اعلیٰ ہے مگر بیت الخلا نہیں ہے۔۔خوب بریانی کباب کھا کر اس بڑے رہائشی احاطے کے گوشوں اور کناروں میں جا جا کے رات کو اندھیرے میں پاخانہ کریں گے۔۔۔

اب جگہ جگہ ہگ رہے ہیں۔ جب وہاں روزانہ سو آدمیوں کا گو جمع ہوگا تو جب عاشق لوگ وہاں جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ بدبو خانہ ہے، ہر جگہ ایک ایک فٹ پر پاخانے کا ایک ڈھیر لگا ہوا ہے اور دو چار مہینے کے بعد ایک دن ایسا آئے گا کہ ہگنے کے لیے کوئی زمین ہی نہیں رہے گی، گو پر گو اور پاخانے پر پاخانہ کریں گے، کوئی زمین خالی نہیں ملے گی۔۔۔

ایسی بدبو آئے گی کہ پھر حسینوں کا انجام معلوم ہوگا کہ پیٹ میں یہ سب بھرا ہوا ہے۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ ان مرنے والوں پر اپنی آخرت مت خراب کرو۔۔۔

اس کے بعد ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ سب کا جغرافیہ بدلا ہوا ہوگا، ہر پانچ سال کے بعد حسن کے جغرافیہ میں تبدیلی آتی ہے۔

یہاں حضرت والا مرشدی و مولائی حضرت میر صاحب نے ارشاد فرمایا :کہ حضرت والا رحمہ اللہ نے ہماری اصلاح کے لئے اس خطرناک مرض یعنی حسن پرستی ،عشق مجازی، بدنگاہی سے بچنے کی تدابیر بتاتے ہیں۔۔۔اور کس قدر نزول فرماتے ہیں اپنے مقام سے۔۔۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔۔۔ایک عام آدمی بات کرے تو اُس کے لئے کچھ مشکل نہیں ۔۔۔ لیکن ایسا شخص جس کے سامنے ہر وقت اللہ تعالی ہوں اور وہ ہر وقت اللہ تعالی کے قریب ہو اُس کی رو ح عرش اعظم کا طواف کررہی ہو۔۔۔ وہ اس طرح نزول فرما کر ۔۔ ہماری اصلاح کے لیے۔۔۔ کس کس عنوان سے سمجھایا حضرت والا نے ۔اللہ بس ہمیں عمل کی توفیق دے۔اور جیسا حضرت والا چاہتے تھے ویسا بنا دے۔

شیخ کامل وہی ہے جو کہ اپنے مقام سے نزول کر کے سالک کے مقام پر آکر کے پھر بات کرتا ہے۔

پھر فرمایا کہ حضرت والا نے اس پر جہاز کی مثال ارشاد فرمائی تھی ۔۔۔ اگر جہاز فضاء میں ہی اڑتا ہی رہے اور زمین پر نہ اُترے توخود تو اُڑ جائے گالیکن دوسروں کو اُس سے نفع نہیں پہنچ سکتا ۔۔ اُسی جہاز سے فیض پہنچتا ہے جو نزول کرتا ہے اور مسافروں کو لے کرپھر وہ اُڑ جاتا ہے۔تو ۔۔۔ شیخ کامل یہی ہے کہ وہ اپنے مقام سے نزول کرتا ہے اور وہ طالبین کو لے کر اللہ تعالی تک پہنچادیتا ہے ۔

پھر حضرت والا میر صاحب اپنا وہ شعر سنا یا جو حضرت والا رحمہ اللہ کی شان میں کہاتھا  ۔۔

یہ وہ چمن ہے جہاں طائران بے پروبال

باسوئے عرش بیک دم اڑائے جاتے ہیں

حضرت والا میر صاحب نے مزید ارشاد فرمایا: کہ حضرت والا رحمہ اللہ خود فرماتے تھے کہ کوئی میری ایک تقریر سن لے تو اللہ تک پہنچانے کے لئے کافی ہے ۔۔۔ پورا راستہ سامنے آجاتا ہے ۔

حضرت والا رحمہ اللہ نے ہماری اصلاح کے لئے اپنی جان قربان فرما دی اخیر دم تک ہماری ہی فکر رہی ۔۔۔ کہ ہم لوگو ں کی اصلاح ہوجائے اور گناہ چھوڑ دیں۔

ایک درد بھرا واقعہ ۔۔ حضرت والا رحمہ کا سنایا ۔۔۔سفر بنگلہ دیش میں حضرت کی طبیعت بہت ناساز تھی اسی ناسازی میں رات ۱۲بجے اچانک سب مریدین کو  ایک بڑے ہال میں جمع فرما کر ارشاد فرمایا تھا : ۔۔یا ۔۔گناہ چھوڑ دو۔۔۔ یا ۔۔۔مجھے قتل کردو۔۔۔ "  اتنا فرما کر حضرت میر صاحب رونے لگے  پھر فریایا: "اتنے درد سے فرمایا تھا حضرت نے کہ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں ۔۔۔۔ اتنی حضرت والا کو فکر تھی  ۔۔۔ کہ اللہ کی نافرمانی ہم لوگ چھوڑ دیں ۔۔۔ تو ہم خالی ولی اللہ نہیں ہوں گے بلکہ صدیقین کے سردار ہوجائیں گے۔

فرمایا :اللہ تعالی کی راہ میں صرف گناہ حائل ہیں ۔۔۔ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

سب سے بڑافتنہ اس زمانے  میں حسن پرستی ہے ۔ ۔۔ جس کا معالجہ حضرت والا کا کار تجدید ہے کہ اس طرف پوری امت کو توجہ دلائی۔۔۔

اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی حسن پرستی ہے، عشق مجازی ہے،بدنظری ہےاور ویسے ہر گناہ ۔۔۔ جیسے ۔۔۔ اپنے کو اچھا سمجھنا ، دوسروں کو حقیر سمجھنا ، ہوس ، دُنیا کی محبت۔۔۔ اسی طرح اور بیماریاں ہیں ۔۔۔

پھر نہایت درد سے فرمایا ان سب کا علاج کسی شیخ کامل سے مرنے سے پہلے پہلے کروالوتاکہ اللہ کے پاس پاک صاف ہو کر جائیں اور اللہ تعالی ہمیں مل جائیں ۔

اللہ تعالی کو راضی کرنے میں آخرت میں تو جنت ہے ہی ۔۔۔پر ۔۔ حضرت والا رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ دُنیا میں ہی جنت کا مزہ آنے لگتا ہے۔پھر یہ بہت ہی پیارا شعر عطا فرمایا  :

تیرے تصور میں جانِ عالم مجھے یہ راحت پہنچ رہی ہے

کہ جیسے مجھ تک نزول کرکے بہار جنت پہنچ رہی ہے

اور خواجہ صاحب فرماتے ہیں ۔ ۔ ۔

میں دن رات رہتاہوں جنت میں گویا

میرے  باغِ دل میں وہ گلگاریاں ہیں

حضرت والا کی الہامی اصطلاحات کا استعمال ۔۔۔ اور مولانا یونس پٹیل رحمہ اللہ کا اعتراف کہ ایسی اصطلاحات کہیں نہیں سنیں ۔

جتنی کسی قربانی ۔۔۔اتنی خدا کی مہربانی ۔۔۔ اس پر مثال بیان فرمائی ۔

حضرت والا میر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ ہمارا گمان اقرب الی الیقین یہ ہے کہ حضرت والا کے اپنے  حالات ومقامات میں بالکل منفرد تھے ۔ بقول شخصے  ۔۔کہ امت میں خال خال اولیاء اللہ ایسے گزرے ہیں جو کہ اس طرح مستغرق ہوں اللہ تعالی کی یاد میں ۔۔۔۔حضرت والا کی مجلس بالکل آخرت کی مجلس ہوتی تھی۔۔ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ ہم دنیا میں بیٹھے ہیں ۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حضرت والا رحمہ اللہ کی مجلس میں کہ گویا اللہ تعالی کے قریب بیٹھے ہیں ۔۔۔ ایسا یقین حضرت والا کے قلب مبارک میں تھا کہ دوسروں پر یہ اثر پڑتا تھا کہ گویا اللہ تعالی کے سامنے حاضر ہیں۔۔

پھر حضرت نے نہایت درد بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا :"اللہ پاک ہم نے جو ناقدری کی اُس معاف فرمادیں اور عمل کی توفیق عطا فرمائیں"

اس دُعا پر طویل مجلس اختتام کو پہنچی ، حاضرین کے دل یہ گواہی دے رہے تھے حضرت والا میر صاحب کی مجلس کا رنگ بھی حضرت والا رحمہ اللہ کی مجلس جیسا ہے ۔۔۔وہی ہر وقت اللہ کی یاد میں غرق رہنا۔۔۔بالکل آخرت کی مجلس معلوم ہوتی ہے کہ دُنیا جیسے بھول  سی جاتی ہے ۔۔۔

جو تم پہ پڑی وہ پہلینظر ۔۔۔  کیا چیزہے دُنیا بھول گیا۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries