مجلس۳۱ اکتوبر۲۰۱۳ء۔ مشورہ واجب العمل نہیں ہے۔۔

محفوظ کیجئے

آج کی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

خلاصہءمجلس:آج حضرت والا شروع ہی مجلس میں رونق افروز تھے۔۔۔ ۔۔۔ ممتاز صاحب نے ملفوظات خزائن معرفت محبت صفحہ نمبر ۳۵۸ سے  ملفوظاتت پڑھنا شروع کیے ، بیچ بیچ میں حضرت والا اپنے تشریح فرماتے جاتے ۔۔۔ مشورے دینے اور عمل کرنے  کے حوالے   سے ملوظات اور حضرت کی تشریح۔۔۔ہرمشورہ واجب العمل نہیں ۔۔۔ مشورہ دینے کے تین درجے بیان ہوئے۔۔۔۔ غیر کی اصلاح کے درپے ہوجانا یہ حرام ہے اور ناجائز ہے اور دوسروں کی جوتیوں کے لیے اپنا دوشالہ گنوا نا ہے۔۔۔۔  تقریبا ۴۵ منٹ کی مجلس ہوئی۔۔۔

حضرت والا کے حکم پر ممتاز صاحب نے معرفت محبت صفحہ نمبر۳۵۸سے ملفوظات پڑھنا شروع کیے۔۔۔

عشقِ مجازی کا انجام ذلت و رسوائی ہے: مسلمان کو اسلام پھیلانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، خالی مسلمانی کرانے سے تھوڑی مسلمان ہوتا ہے کہ بس سنت ادا ہوگئی۔ بھئی مسلمانی کی حفاظت بھی کرو تاکہ تمہارا اسلام محفوظ رہے۔

اب ایک فیچر اور سن لو! ایک عاشق نے ایک معشوق کے حسن سے متاثر ہو کر اس کے قدموں پر اپنا سر رکھ دیا اور عاشق صاحب رو بھی رہے ہیں، آخر میں وہ بے قوف حسین پھنس گیا اور عاشق صاحب نے اس کے ساتھ بدفعلی کرلی۔۔۔۔۔۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ حسن و عشق کی دنیا والے نہایت احمق اور پاگل ہیں۔

دُنیاوی معشوقوں کی بے وَفائی کا حال: ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کا واقعہ پڑھا گیا۔

حسن وعشق کی دُنیا کی بے چینی: ۔۔۔لہٰذا تم لیلاؤں کے چکر میں نہ رہو، تمہارے لیے مولیٰ کافی ہے، کیا آپ لوگوں نے قرآنِ پاک میں نہیں پڑھا:" کیا اﷲ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ (سورۃ الزمر، آیت:۳۶)۔۔۔بس اس آیت کامراقبہ کرو اور اپنے مولیٰ ہی سے دل لگاؤ، اﷲ ہمارے لیے کافی ہے، وہ ہم کو خوش رکھنے پر بھی قادر ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو مشورہ: ۔۔۔۔حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا مشورہ ہے یا حکم ہے؟ فرمایا کہ یہ مشورہ ہے، میرا حکم نہیں ہے۔ مشورہ اُمت کے لیے واجب العمل نہیں ہے۔۔۔۔

بظاہر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی لیکن در حقیقت خلاف ورزی نہیں کی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمادیا کہ یہ مشورہ ہے جو واجب العمل نہیں۔۔

یہاں حضرت والا حضر ت میر صاحب نے مشورے کے حوالے سے مزید تشریح فرمائے: " قرآن مجید میں اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا ہے ۔۔۔وَشَاوِرْ ھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔۔۔مفہوم : کہ اپنے معاملات میں صحابہ کرام سے مشورے کر لیا کیجئے ۔۔۔ کیوں مشورے میں برکت ہے  ۔۔۔ لیکن آگے پھر فرمایا تھا ۔۔۔فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔۔اس سے معلوم ہوا کہ مشورہ واجب العمل نہیں ہوتا ۔۔کوئی شخص مشورہ دے اور دوسرا اس پر عمل نہ کرے تو آج کل بُرا مانتے ہیں کہ ہمارے مشورےپر عمل نہیں کیا۔۔ حالانکہ یہ بالکل ناجائز ہے۔

حضرت والا نے فرمایا تھا کہ ۔۔۔۔ مشورہ دے اُ سے بالکل بے تعلق ہوجائو۔۔۔بس جو وہ خیر سمجھے گا اُس پر عمل کر لے گا۔۔۔ اگر وہ اِس کو اچھا سمجھے گا۔۔۔ تو عمل کرے گا۔۔ ورنہ اُس کے خلاف کرے گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ دینی معاملات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مشورہ کرلیا کیجیے لیکن آگے فرمایا پھر جب آپ کسی کام کا ارادہ فرمالیں تو ۔۔پھر کسی کے مشورے کی پراو نہ کیجیے۔۔پھر اللہ پر بھروسہ کرکے وہ کام کر لیجئے۔۔۔اس سے معلوم ہوا مشورہ واجب العمل نہیں ہے۔

مشورہ دینا تو سنت ہے ۔۔ برکت کی بھی چیز ہے ۔۔۔لیکن واجب العمل نہیں ہے۔۔۔اسی بات سے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ اسی آیت سے جمہوریت کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔

حضرت والا نے مزید تشریح فرمائی جس کا مفہوم یہ تھا : اسلام میں یہ ہے کہ جو سواد اعظم یعنی بڑی جماعت متقین کی ہو اُن کی رائے کی اہمیت ہے ۔۔۔چاہے وہ تھوڑی تعداد میں ہی کیوں نہ ہوں ۔۔۔اور جمہوریت میں بس اکثریت کو دیکھا جاتا ہے چاہے اکثریت فاسقین ہی کی کیوں نہ ہو۔۔۔

جمہوریت بالکل اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام میں کبھی بادشاہت بھی نہیں رہی ۔۔۔ اور جمہوریت بھی نہیں رہی ۔۔ لیکن امارت تھی ۔۔اللہ والا۔۔  امیر ہوتا تھا ۔۔۔۔ جب اُس کو امیر بنا دیا گیا تو ۔۔۔اس کو بالکل اختیار ہوتا تھا ۔۔۔ کہ جو وہ چاہے اُس کے حکم پر عمل کرنا پڑے گا۔۔۔ اُس کی اطاعت کرنی پڑے گی۔۔۔جائز بات میں ۔۔ اور ظاہر ہے اللہ والا امیر  ناجائز کا حکم ہی نہیں کرے گا۔

جمہوریت میں سوائے نقصان اورکچھ نہیں ۔۔۔ فلاح صرف اسلام میں ہی ہے ۔

یہ بڑے بوڑھوں کے کان کھڑے کرنے والے مضامین ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مشورہ پر عمل کرنا واجب ہے ۔

اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:وَشَاوِرْ ھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ  (سورۂ اٰل عمران، آیت:۱۵۹)اے نبی! آپ صحابہ سے مشورہ کرلیں مگر جب عزم کرلیا تو اللہ پر بھروسہ کیجیے۔یعنی توکلاً علیٰ اﷲ اپنے عزم پر عمل کریں خواہ مشورہ کے خلاف ہو۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ مانگا۔۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں امیرالمؤمنین ہوں، میں تنہا اللہ کے راستے میں جنگ لڑنے کا مکلف ہوں۔۔میں اکیلے جہاد کروں گا اور جان دے دوں گا۔ صدیق کی جان اور نبی کی جان ایک ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے اس عزم مصمم کے بعد تمام صحابہ کو شرح صدر ہوگیا اور سب نے عرض کیا کہ ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد لڑیں گے۔

شہادت کے درجے سے صدیقیت کا درجہ افضل ہے:  جنگِ اُحد میں جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اﷲ علیہ کے دندان مبارک سے خون بہتا ہوا دیکھا تو بے چین ہوگئے۔۔۔ اور کافروں طرف جھپٹے اور اپنی جان دینا چاہتے تھے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جان نہیں دینے دی۔۔۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کو حق حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہے جہاد کرنے کا حکم دے اور جس کو چاہے نہ دے۔صدیق آئینۂ نبوت ہوتا ہے اور صدیق کے معنی ہیں کہ جو نبی کے کام کو انجام دے۔۔۔۔لہٰذا شہادت کے درجے سے صدیقیت کا درجہ افضل ہے جیسا کہ آیت پاک کی ترتیب بتا رہی ہے:

مِنَ النَّبِیِّیْنَ والصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ(سورۃ النساء، آیت:۶۹)صدیقیت کے بعد شہداء کا درجہ ہے، صدیق کی زندگی شہید کی زندگی سے افضل ہے کیونکہ صدیق زندہ رہ کر نبوت کے کام کو انجام دیتا ہے۔۔۔

اپنے شیخ کو بھی صدیق سمجھنا چاہیے کہ ان کی زندگی موت سے بہتر ہے۔

تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زندگی بچاکر زندہ رہے اور مرے بھی تو بھی زندہ رہے یعنی شہید کا درجہ بھی ملا۔

یہاں حضرت والا نے تشریح میں ارشاد فرمایا: کہ حضرت والا  رحمہ اللہ نے فرمایاتھا یہاں آیت میں صدیقین جمع کا ضیغہ ہے کہ قیامت تک صدیق پیدا ہوتے رہے گے ۔۔۔لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی صدیق نہیں ہوگا کیونکہ نگاہ نبوت سے اُن کو صدیقیت ملی تھی۔۔۔

ایک علم عظیم بیان فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔۔۔ اس سے بظاہر لگتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر سے بڑھ گئے کیونکہ حضرت ابوبکر کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا ہے ۔۔۔ اس پر حضرت نے الہامی مضمون ارشاد فریاد کہ حضرت ابوبکر صدیق گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں فنا ہوگئے تھے ، الگ تھے ہی نہیں ۔۔۔۔ صدیق گویا کہ نبوت کا آئینہ ہوگئے تھے ۔۔۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں۔۔۔۔ میری ساری زندگی کی عبادت ایک طرف اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رو راتیں ایک طرف۔۔۔۔

حضرت والا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ کسی بزرگ کے پاس آتے ہیں اور ان کو ہدایت ہو جاتی ہے اس کی کیا وجہ ہے ۔۔۔ فرمایا کہ اسم ھادی کی تجلی اہل اللہ پر ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔اس لیے جو ان کے پاس آنے والے ہیں ۔۔ اُن پر بھی وہ تجلی پڑ جاتی ہے۔۔۔اور ان کو بھی ہدایت ہو جاتی ہے۔۔۔

اور جو گمراہ لوگ ہیں ۔۔۔ کافر ہیں یا فاسق ہیں یا بدعقیدہ لوگ ہیں ۔۔۔ اُن پر اسم مضل کی تجلی پڑ رہی ہے۔۔۔ گمراہ کرنے والا۔۔۔جو ان کے پاس جاتا ہے۔۔۔ تو اللہ کی تجلی سے کون ٹکرا سکتا ہے ۔۔۔چنانچہ وہ بھی گمراہ ہوجاتے ہیں۔۔۔اسی لئے گمراہ لوگو ں کی صحبت منع ہے۔۔۔پھر مولانا رومی رحمہ اللہ کا شعر ارشاد فرمایا اور اس کی تشریح فرمائی۔۔۔

حضرت تھانوی  رحمہ اللہ کے ایک مرید کا قصہ بیان فرمایا کہ ان کی نظریں ایک کافر کی نظروں سے ٹکڑا گئیں ۔۔ اُس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے دل میں کفریہ خیالات پیدا ہونے لگے۔۔۔۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے ذکر کیا۔۔۔ حضرت ایک منٹ کے لیے خاموش  ہوگئے۔۔ ۔حضرت نے ڈانٹ لگائی ۔۔۔ کہ تمہارے ساتھ جو سادھو کافر بیٹھا ہوا تھا تم نے اُس کی طرف دیکھا کیوں!،۔۔۔پھر ان کو پانی پر دم کر کے دیا۔۔۔

اہل اللہ کے لباس ، جائے نماز، تسبیح میں انوار ہوتے ہیں۔۔۔ان کی کتابوں میں بھی انوار۔۔۔ اور کافروں کے لباس اور ان کی کتابوں میں گمراہی کے اثرات ہوتے ہیں۔۔۔

مشورہ دینے والوں کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے:﴿وَشَاوِرْ ھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ﴾(سورۂ اٰل عمران، آیت:۱۵۹) اس آیت سے ثابت ہوا کہ جمہوریت باطل ہے

امیر المؤمنین جو فیصلہ کرے وہ اﷲ کے یہاں حق پر ہے۔ ورنہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اکیلے جہاد کے لیے نہ نکلتے جبکہ پوری قوم ساتھ نہیں تھی۔۔

اس وقت آپ نے فرمایا کہ غار ثور میں جب یہ آیت نازل ہوئی لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَاتو اس وقت اے صحابہ! تم میں سے کوئی وہاں نہیں تھا، صرف میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، لہٰذا میرے ساتھ خدا ہے، میں تنہا لڑکر جان دے دوں گا، جب اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَاکینصِ قطعی سے اﷲ میرے ساتھ ہے تو مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔۔

حضرت والا نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی فنائیت کی شان بیان فرمائے کہ اپنی رائے کو مٹا دیا۔۔۔ اور فرمایا اس وقت بھی جو اپنے شیخ سے صحیح تعلق رکھنے والے ہیں اُن کا بھی حال یہی ہوتا ہے۔۔۔ کہ شیخ جو کچھ فرما دیتا ہے ۔۔۔۔اُس پر عمل کرتے ہیں۔۔۔چاہے سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔۔۔

حضرت والا رحمہ اللہ نے علم عظیم بیان فرمایا:  اﷲ تعالیٰ نے یہاں مَعَنَا  جمع کا صیغہ نازل فرمایا کیونکہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت صدیق سے فرمایا تھا کہ گھبراؤ مت اﷲ ہمارے ساتھ ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جمع کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا تھا ۔۔۔۔

سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے ایک مخلص کے مشورہ کا جواب۔۔۔

مشورہ دینے کے تین درجے بیان ہوئے۔۔۔

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک وعظ ’’ تصَدِّی بالغیر‘‘ ہے یعنی غیر کے درپے ہوجانا۔ غیر کی اصلاح کے درپے ہوجانا یہ حرام ہے اور ناجائز ہے اور دوسروں کی جوتیوں کے لیے اپنا دوشالہ گنوا نا ہے۔

یہاں پر ۴۶ منٹ کی نور میں ڈوبی مجلس اختتام کو پہنچی ۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries