مجلس۱۷نومبر۲۰۱۳ء سارا جہاں خلاف ہو پروا نہ چاہیے

محفوظ کیجئے

آج کی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

خلاصہءمجلس:الحمدللہ شروع ہی سے حضرت والا مجلس میں رونق افروز تھے ۔۔۔۔۔۔ آفتاب ِ نسبت مع اللہ ۔۔  جوحضرت والا رحمہ اللہ جنوبی افریقہ کے آٹھویں سفر کے ارشادات  کا عظیم الشان Encylopedia  ہے ۔ حضرت والا کے حکم پرصفحہ نمبر ۵۲ سے سنانا شروع کیا۔۔۔زندگی پُر بہار ہوتی ہے۔۔جب خدا پر نثار ہوتی ہے۔۔تاثیرِ زبان تابع قلب کے ہے۔۔۔اﷲتعالیٰ کے دین میں کشش ہے۔۔۔حدیث: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْاَلُکَ الْعَفْو… الخکی تشریح۔۔۔ مجلس کے بیچ بیچ میں حضرت والا میر صاحب تشریح فرماتے جاتے تھے۔۔ مجلس کے کچھ ہدایات ارشاد فرمائیں اور آخر میں ایک وہمی شخص کا بہت ہی پرلطف لطیفہ بھی ارشاد فرمایا۔۔۔آج کی مجلس تقریباً ۵۴ منٹ کی تھی۔۔

حضرت والا کے حکم پرصفحہ نمبر ۵۲ سے سنانا شروع کیا:اختر کا شعر ہے؎

زندگی پُر بہار ہوتی ہے

جب خدا پر نثار ہوتی ہے

خالق بہار پر کوئی فدا ہو اور اس کے دل میں بہار نہ آئے؟ کیا کہوں بعض دوستوں کو ایک زمانہ گذر گیا مگر ابھی تک حفاظت نظر کا جیسا حق ادا ہونا چاہیے ادا نہیں کیا۔۔۔۔

میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میری نظر یا میرا ہر لمحۂ حیات اﷲ تعالیٰ کے ساتھ وفادار ہے مگر وفادار بننے کے لیے جان کی بازی لگانے کی توفیق اﷲ سے مانگتا ہوں ۔۔۔

۔۔۔ہمیں اپنے نفس کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اور آپ کو اختر کے اس طریقۂ سلوک سے ان شاء اﷲ تعالیٰ بہت جلد ولایت ملے گی۔۔۔

معمولی درجے کی دوستی نہیں ملے گی، اولیاء صدیقین کی جو خط انتہا ہے نظر بچانے کے غم سے آپ وہاں پہنچیں گے، ان شاء اﷲ اور آپ کی برکت سے لاکھوں اولیاء اﷲ پیدا ہوں گے۔۔۔۔

جن لوگوں نے ابھی تک اس مقام کو حاصل کرنے کے لیے جان کی بازی نہیں لگائی، کبھی کبھی نظر سے چوری بھی کرتے ہیں تو ہمیں بتاؤ کہ ان کی چوریوں کا انہیں کیا انعام ملا؟

 یہ گورے گال آپ کو گندی جگہ لے جائیں گے، ایسے گالوں کو مت دیکھو جو تمہیں گندے مقامات میں اِن (in)کردیں اور مقامِ گومیں لے جائیں۔۔۔

میں اپنے اور آپ کے نفس کو اﷲ کی رحمت کے سپرد کرتا ہوں، اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور توفیق کے سائے کے سپرد کرتا ہوں کہ اﷲ ہماری بھی حفاظت فرمائے اور آپ سب کی حفاظت فرمائے لیکن دل میرا چاہتا ہے کہ اس لذتِ قربِ اولیاء صدیقین کی خطِ انتہا کے لطف سے آپ لوگ لطف اندوز ہوں ورنہ حیات ایک دن ختم ہوجائے گی اور اس قربِ خدائے تعالیٰ سے محرومی کے ساتھ مرو گے۔۔

بس اﷲ کے کرم ہی سے راستہ طے ہوتا ہے، کوئی دن ناغہ نہیں جاتا کہ اختر یہ دعا نہ کرتا ہو کہ اے خدا! اختر کو، میری ذُرِّیات اور میرے احباب کو اولیاء صدیقین کی خط انتہا تک پہنچا دے، میری یہ دعا بلاناغہ ہے اور سارے عالم میں ہے یہاں تک کہ ہوائی جہاز پر بھی اس دعا کی توفیق ہوتی ہے۔۔۔۔

جب یہ نعمت پاؤ گے تب مزہ آئے گا، یہ بات ایسے سمجھ میں نہیں آتی، مولیٰ کی لذتِ بے مثل کو کوئی کیا جانے، ہم کس چیز سے تشبیہ دیں؟۔۔۔

اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں بے مثل ہوں، میرا کوئی ہم سر نہیں وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ،کُفُوًا  نکرہ تحت النفی ہے تو لذتِ بے مثل کے بیان کے لیے کوئی لغت نہیں ہے، اﷲ ہمارے دلوں کو اپنے قرب کی دولت دے دے تب ہمیں پتہ چلے گا۔۔

۵ منٹ ۴۰ سیکنڈ: حضرت والا میر صاحب نے فرمایا: درپردہ حضرت والا اپنے دل کی کیفیت اور مقام قرب اس میں بیان فرماگئے۔۔سمجھنے والے سمجھ لیں گے۔۔ یہ تو فرمارہے ہیں کہ میں اپنے آپ اس کا دعوی نہیں کرتالیکن جب اس لذت کو پا ؤ گے پھر پتہ چلے گا۔۔ کیا کیا  بیان فرمایا ۔۔۔ حضرت والا کو یہ سب نعمت حاصل تھی،۔۔۔ جس کو دینے کےلیے وہ بے چین تھے۔۔

مگر اہل اللہ اپنے حالات کو اپنے مقامات کو چھپاتے ہیں۔۔۔اور یہ بھی عجیب بات ہے۔۔کہ اس تفصیل کے ساتھ یہ جو کیفیات حضرت نے بیان فرمائی ہیں۔۔بہت سے بزرگانِ دین گذر گئے۔۔ لیکن اس طرح کے ارشادات بہت کم نظر آئیں گے۔۔یہ حضرت والا کو اللہ تعالی نے خاص فرمایا تھا۔۔۔تاکہ اُمت کو سبق ملےاور لذت رُوحانی کے سامنے جویہ  تمام  کائنات کی لذتیں ہیچ ہیں۔۔۔یہ مقام ہم سب کو حاصل ہوجائے۔

حضر ت اقدس میر صاحب دامت برکاتہم نے نہا یت درد بھرے لہجے میں فرمایا: اِسی غم میں حضرت والا پوری زندگی رہے اور اِسی غم میں حضرت والا اِس دُنیا سے تشریف لے گئے۔۔ اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دےاور حضرت کی دُعاؤں کو ہم سب کے لیے قبول فرمالے۔۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا:  ۔۔۔ اﷲ ہمارے دلوں کو اپنے قرب کی دولت دے دے تب ہمیں پتہ چلے گا کہ اس کے سامنے سلاطین کے تخت و تاج کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لیلائے کائنات کے نمکیات کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اﷲ کے سامنے سب مردہ ہیں، جن کا انجام مردہ ہے عین عالمِ شباب میں بھی اس کے اندر مردہ ہونے کے اثرات ہوتے ہیں۔

املی کا پودا ابھی چھوٹا سا ہے لیکن ابھی سے اس کے پتوں میں کھٹاس ہے تو جو مرنے والے ہیں ان کے عالمِ شباب میں بھی مردہ پن کا اثر ہوتا ہے کیونکہ مستقبل میں مرنے والے ہیں، ہر ماضی اور حال اپنے مستقبل کا ترجمان ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ مردوں سے دل لگاؤ گے تو دل میں مردہ پن آئے گا۔۔۔

اﷲ کا شکر ہے کہ ہم کو لاالٰہ کی قینچی ملی ہوئی ہے، جب دل میں غیر اﷲ آئے فوراً لاالٰہ پڑھو اور نظر کی حفاظت کے ساتھ اﷲ سے رونا شروع کردو۔۔۔

جیسے ماں بچے کو چپکائے ہوئے ہے، اگر کسی نے اس کی ٹانگ کھینچی تو وہ ماں سے اور زیادہ لپٹ جاتا ہے تو جب ہمیں حسین اپنی طرف کھینچیں تو اور زیادہ اﷲ سے چپک جاؤ۔۔۔

۔۔۔ میرے اس درد ِدل کو اﷲ سارے عالم میں پھیلا دے اور ایک گروہِ عاشقاں عطا فرما دے کہ سفر میں اختر کے ساتھ رہے، کیونکہ اکیلے سفر کرنے سے دل گھبراتا ہے، اﷲ کے عاشقوں میں رہنا اختیاری مضمون نہیں ہے، کمپلسری ہے، لازمی ہے۔۔۔

دلیل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جماعت کی نماز واجب فرما دی کہ اکیلے اکیلے رونے کی نعمت کو اہمیت مت دو، تنہائی کی عبادت بھی  نعمت ہے مگر پانچوں وقت میرے عاشقوں سے ملا کرو، وجوبِ جماعت کی یہی دلیل ہے کہ گروہِ عاشقاں کی زیارت نعمت عظمیٰ ہے اور یہ اختیاری نہیں ہے، واجب ہے، کمپلسری ہے ورنہ غمِ عاشقاں سے محروم ہوجاؤ گے اور کمتری میں مبتلا ہوجاؤ گے اور نرسری نہیں پاؤ گے اور میری اس بات کو سرسری مت سمجھنا۔۔

نمازِ پنجگانہ کے بعد نمازِ جمعہ کے اجتماع میں میرے عاشقوں کی اور بڑی تعداد سے ملو، پھر عید بقرہ عید میں اور بڑی تعداد سے ملو اور حج کرنے جاؤ تو بین الاقوامی عاشقوں سے ملو اور پھر جب جنت میں آؤ گے تو ہم وہاں بھی تمہیں یہی کہیں گے کہ جنت کی نعمت کی طرف رُخ بھی نہ کرنا فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ پہلے میرے عاشقوں سے ملو پھر جنت کی نعمت کا استعمال کرو

۱۱ منٹ ۹سیکنڈ: حضرت والا میر صاحب نے فرمایا: پنجگانہ نماز باجماعت کی حکمت جو حضرت والا نے فرمائی کہیں نہ پڑھی نہ سُنی ۔۔۔ یہ اللہ تعالی نے حضرت والا کو خاص عطا فرمائی ہے۔۔یہ تو بہت عجیب و غریب ہے۔۔بالکل الہامی ہے۔۔کسی سے بھی ہم نے نہیں سنا کہ پنجگانہ نماز جو ہے وہ اللہ کے عاشقوں سے ملاقات کے لیے بھی ہے۔۔کہ اللہ کے عاشقوں سے ملاقات ہوجائے تاکہ  تمہیں دین پر استقامت نصیب ہوجائے

یہاں  تک کہ جنت میں بھی پہلے یہی فرمایا فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ۔۔ میرے خاص بندوں میں داخل ہو جاؤ۔۔ پہلے اُن سے ملاقات کرو۔۔پھر  وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْاُس کے بعد فرمایا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ۔۔

تو اللہ کے خاص بندوں سے ملاقات کا اول درجہ ہے ۔۔۔اور جنت کو اللہ تعالی نے ثانوی درجہ دیا۔۔ کیونکہ جنت اُنہی اللہ کےپیاروں  کے صدقے میں تو ملے گی۔۔تو اُن کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔۔اس لیے قرآن پاک کا اسلوب بھی یہ بتارہا ہے۔۔کہ صحبت اہل اللہ اتنی اہم ہے۔۔کہ جنت میں بھی اللہ تعالی نے اِس کو اولیت دی ہے۔۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا:  پہلے میرے عاشقوں سے ملو پھر جنت کی نعمت کا استعمال کروکیونکہ میرے عاشقین عاشقِ منعم ہیں

۱۳ منٹ ۵ سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:" منعم کے معنی انعام دینے والا۔۔ کہ جو میرے خاص بندے ہیں۔۔وہ انعام دینے والے عاشق ہیں یعنی جنہوں نے نعمتیں عطا فرمائیں ہیں۔۔۔ وہ اس کے عاشق ہیں"

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا:  ۔۔۔کیونکہ میرے عاشقین عاشقِ منعم ہیں۔۔۔پہلے عاشقِ منعم سے ملو پھر نعمت کو درجۂ ثانوی رکھو۔ بتاؤ! ایک شخص عاشقِ منعم ہے، ایک عاشقِ نعمت ہے، کس کا درجہ افضل ہے؟ اس لیے فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ کو اﷲ نے مقدم کیا وَاشْکُرُوْا لِیْ  پر، شکر پر ذکر کو مقدم فرمایا۔۔

۱۳ منٹ ۵۲ سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:" فَاذْکُرُوْنِیْ تم مجھ کو یاد کرواَذْکُرْکُمْمیں تمہیں یاد رکھوں گا۔ یاد تو ہوتے ہیں مگر یہاں احاطہ مراد ہے۔۔۔ یعنی اِس کا انعام ملے گا"۔۔ تو حضرت والا فرماتے ہیں کہ  اس کے بعد فرمایاوَاشْکُرُوْا لِیْ  وَلاَ تَكْفُرُونِ کہ تم نعمتوں کا شکر کرو۔۔۔ تو نعمت کو درجہ ثانوی لیااورذکر کو درجہ اولیت دیا  ۔۔۔ تو شکر پر ذکر کو مقدم فرمایا"

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔۔۔ذکر کا حاصل نعمت دینے والے پر فدا ہونا ہے اور آدمی شکر تب کرتا ہے جب کچھ کھاتا پیتا ہے، سموسہ پاپڑ کھاتا ہے تو شکر نعمت میں مشغول ہونا ہے اور ذکر نعمت دینے والے میں اشتغال رکھنا ہے۔۔

۱۵ منٹ ۶سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"جو نعمت کھاتا ہے ۔۔ نعمتیں ملتی ہیں ۔۔تو اُس کا شکر کرتا ہے۔۔اور جو ذکر کرتا ہے اللہ تعالی کا ۔۔۔جس نے یہ نعمتیں دیں ہیں ۔۔اُس پر فد ا ہے۔۔اُس پر عاشق ہے۔۔۔

شکر سے تو نعمت کا حق ادا کررہا ہے۔۔تو ایک آدمی عاشق نعمت ہے۔۔اور ایک آدمی عاشق منعم ہے۔۔۔ یعنی نعمت دینے والے کا عاشق ہے۔۔تو خود ہی سوچ لو کہ  کس کا درجہ زیادہ ہے۔۔

اولیاء اللہ کو یہی مقام نصیب ہوتا ہے۔۔وہ عاشق منعم یعنی نعمت دینے والے کے عاشق ہوتے ہیں۔۔اس کے بعد اللہ تعالی کی نعمتوں کا بھی شکر ادا کرتے ہیں۔۔لیکن درجہ اولین میں اُن کی نظر پہلے اللہ پر جاتی ہے۔۔

اپنے  بیوی بچوں کو دیکھتے ہیں تب بھی یہی کہتے ہیں کہ یا اللہ یہ آپ نے عطا فرمایا ہے۔۔پھر شکر کرتے ہیں۔۔پھر اور نعمتیں ۔۔کھانا پینا، دولت مال ، آسائش آرائش جو کچھ بھی دیکھتے ہیں۔۔جو نعمتیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں ۔۔۔ پہلے نظر اُن کی اللہ کی عطا پر جاتی ہے۔۔کہ یہ مالک نے مجھے دی ہے۔۔

وہ نعمت دینے والے کے عاشق ہیں اس کے بعد جو نعمت اللہ کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔اس کا بھی شکر کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ تعالی ہی کا شکر ہے اللہ تعالی ہی کی محبت کی وجہ سے ہے اور اُس پر وعدہ بھی ہے کہ شکر کرو گے تو میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کردوں گا۔۔۔۔لیکن درجہ اولین اللہ تعالی نے ذکر کو دیا ہے۔۔

ذکر کا حاصل نعمت دینے والے پر عاشق ہونا   اور شکر کا حاصل ہے کہ نعمت پر عاشق ہونا اور اس کا شکر ادا کرنا

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔۔۔پس عربی عبارت تفسیر روح المعانی کی یہ ہے اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدَّمَ ذِکْرَہٗ عَلٰی شُکْرِہٖ لِاَنَّ حَاصِلَ الذِّکْرِ الْاِشْتِغَالُ بِالْمُنْعِمِ وَحَاصِلَ الشُّکْرِ الْاِشْتِغَالُ بِالنِّعْمَۃِ فَالْاِشْتِغَالُ بِالْمُنْعِمِ اَفْضَلُ مِنَ الْاِشْتِغَالِ بِالنِّعْمَۃِایک شخص نعمت دینے والے میں مشغول ہے اور ایک شخص ایک نعمت کھا رہا ہےبتاؤ کس کا درجہ زیادہ ہے؟

۱۷ منٹ ۵۷سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"حَاصِلَ الذِّکْرِ الْاِشْتِغَالُ بِالْمُنْعِمِذکر کا حاصل ہے اللہ تعالی کے ساتھ مشغول ہونا نعمت دینے والے کے ساتھ مشغول ہوناوَحَاصِلَ الشُّکْرِ الْاِشْتِغَالُ بِالنِّعْمَۃِاور شکر کا حاصل یہ ہے کہ نعمت میں مشغول ہو مشتغل ہونا ۔فَالْاِشْتِغَالُ بِالْمُنْعِمِ اَفْضَلُ مِنَ الْاِشْتِغَالِ بِالنِّعْمَۃِیعنی منعم نعمت دینے والے کے ساتھ مشغول ہونا اُ س پر فدا ہونا اُس سے محبت کرنا یہ افضل ہے۔۔نعمت پر شکر کرنے سے ۔نعمتوں سے مشغول ہونے سے افضل ہے اللہ تعالی کی محبت اور ذکر میں مشغول ہونا۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :لیکن نعمت کا استعمال اس لیے ہے تاکہ نعمت دینے والے کا ذکر کرو تو وہ بھی ذکر میں شامل ہوجائے،

۱۷ منٹ ۵۷سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"نعمت پر شکر کیا تو وہ اس نیت سے کر رہا ہے کہ اللہ تعالی اس سے خوش ہوجائیں گےتو وہ بھی ذکر ہی میں شامل ہے

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :لیکن روٹی بھی اگر ہم اس نیت سے کھائیں کہ ذکر کی طاقت پیدا ہو تو ہماری روٹی بھی ذکرِ الٰہی میں شامل ہے۔

تاثیرِ زبان تابع قلب کے ہے:گر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲعنہٗ کوئی آیت تلاوت فرمائیں تو اس کا اثر بڑھ جائے گا، جیسا قلب ہوتا ہے ویسی زبان ہوتی ہے۔ اس لیے دل بنانے کی ضرورت ہے، زبان کی تاثیر قلب کی قیمت پر ہے۔۔۔

۔۔۔اﷲتعالیٰ کے دین میں کشش ہے، اﷲ کے نام میںکشش ہے کیونکہ سارے دنیا کے مقنا طیس کون پیدا کرتا ہے؟ اللہ پیدا کرتا ہے، تو پھر اﷲ کے نام میں کتنی کشش ہوگی اور جو اﷲ کا نام لیتے ہیں ان کے اندر کتنا مقناطیس ہوگا اور جن کے دل میں اﷲ ہوگا ان کے قلب کا کیا عالم ہوگا۔۔۔

جن کے دل میں وہ مقناطیس پیدا کرنے والا بھی آجائے یعنی وہ ایسا ذاکر ہے جو مذکور کو بھی اپنے دل میں رکھتا ہے، مولیٰ بھی اس کے دل میں ہے تو اس کا اثر کیسا ہوگا۔ آہ! اس کے مقناطیس کو سارے عالم کے ذاکرین نہیں پاسکتے۔۔

۔۔۔ذاکر تقویٰ کی برکت سے اپنے نور کو نکلنے نہیں دیتا، اسٹیم کو ضائع نہیں کرتا، جیسے جو آنکھ کی حفاظت نہیں کرتا اس کا نور آنکھوں کے راستے نکل جاتا ہے اور بعض لوگ گانا سن لیتے ہیں تو دل کا نور کان سے نکلتا ہے، اس کا نام ہے راہِ شنیدنی، جو ہر طرف سے حفاظت کرے گا پھر اس کی اسٹیم ایسی ہوگی جس سے ہوائی جہاز اُڑ جائے گا۔۔۔

اگر ہوائی جہاز رن وے پر تیز دوڑے اور سوئی نے بتا دیا کہ اڑنے کی اسٹیم پیدا ہوگئی مگر اس کی ٹنکی میں کوئی سوراخ کردے اور اسٹیم نکل جائے تو جہاز اُڑ سکے گا؟ تو جب شیطان دیکھتا ہے کہ یہ بندہ اپنے شیخ پر عاشق ہے اور جلد ولی اﷲ ہونے والا ہے، اس کی اسٹیم بہت تیز ہے تو وہ فوراً اسے کسی لونڈے یا لونڈیا کے چکر میں ڈال دیتا ہے۔۔۔

شیطان ہمیں مرنے والی لاشوں کے چکر میں ڈال کر لاشے کردیتا ہے۔ اسی لیے ہمارے اکابر نے فرمایا کہ چاہے عبادت تھوڑی ہو، اسٹیم تھوڑی ہو مگر اس کی حفاظت کی کوشش زیادہ کرو، کم کماؤ لیکن کمائی کو ضائع نہ ہونے دو۔۔۔

۔۔۔کم کماؤ مگر مت گنواؤ، زیادہ کماؤ اور ڈاکوؤں کو دے دو تو کیا فائدہ، محنت ضائع ہوئی بعض لوگ عبادت بہت کرتے ہیں مگر بزرگوں سے تعلق نہ رکھنے سے توفیق تقویٰ سے محروم رہتے ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرتقویٰ چاہتے ہوتو میرے تقویٰ والے بندوں کے ساتھ رہنا پڑے گاکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَکا ترجمہ دیکھ لو، اہل تقویٰ کے ساتھ رہو گے تو تم بھی متقی ہوجاؤ گے

۲۳ منٹ ۵۰سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"ذکر و تلاوت اور اوبین اور چاشت سب کچھ کررہا ہے مثبت عبادت کررہا ہےلیکن منفی عبادت نہیں کررہا یعنی گناہوں سے نہیں بچ رہا ہے جو کہ عبادت کا ۲۴گھنٹے کی ہے ۔

نگاہوں کو نہیں بچاتابدنظری سے ، گانے سن لیتا ہے ، نامحرموں سے بات کرلیتا ہے۔اس ہی طرح حرام مال کھا لیتا ہے۔۔تو جو نور جمع ہوا تھا۔۔۔ وہ گناہوں سے سب نکل جاتا ہے۔۔یہ حضرت فرمارہے ہیں۔۔

آنکھ سے بدنظری کرلی۔۔تو جو دل میں نور پیدا ہوا تھا وہ آنکھ کے راستے سے نکل گیا ، گانا سن لیا تو کان کے راستے سے وہ جمع شدہ نور نکل گیا ۔۔۔اسی طرح ہاتھ پاؤں سے گناہ کرلیاتو جو نور دل میں پیدا ہوا تھا ۔۔ وہ جوارح سے نکل گیا۔

قلب کا نور جوارح سے ہاتھوں سے نافرمانی کی وجہ سے نکل جاتا ہےزائل ہوجاتا ہے۔اسی کو حضرت فرمارہے ہیں کہ کماؤکم لیکن گنوا ؤ نہیں ۔۔ زیادہ  کمایا اور گنوادیا اگر لاکھوں بھی کمایا اور گنوایا دیا تو کیا حاصل سب ڈاکو لے گئے ۔

اور ایک شخص تھوڑا کماتا ہے ۔۔ لیکن جمع کرتا رہتا ہے ۔۔تو وہ ایک دن مال دار ہوجائے گا۔۔اسی طرح کوئی کم عبادت کرتا ہے لیکن گناہوں سے بچتا ہے ۔۔۔ اپنی عباد ت کا جو نور ہے ۔۔اُس کو نافرمانی سے  گناہوں سے ضائع نہیں ہونے دیتا۔۔تقوی سے رہتا ہے۔تو اُس کی تھوڑی سی عبادت کا جو نور ہے ۔۔وہ جمع ہوتے ہوتے ایک دن سمجھ لو ایک نور کا خزانہ اُس کے دل میں جمع ہوجاتا ہے اور وہ صاحبِ نسبت ہوجاتا ہے۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :حدیث: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْاَلُکَ الْعَفْو… الخ کی تشریح:

سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ میں تین نعمتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْاَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ))(المعجم الکبیر للطبرانی) اے اﷲ! ہم کو معافی دیجئے اور عافیت دیجئے اور دنیا وآخرت میں معافات دیجئے تو میں آج کے سبق میں ان تین نعمتوں کی شرح کروں گا۔ عفو کی، عافیت کی اور معافات کی۔

۱)… عفو کی تشریح:۔۔۔عفو کے معنیٰ ہیں کہ ہمارے گناہ کو نہ صرف بخش دیجئے بلکہ ان کے نشانات بھی مٹا دیجئے جیسے ایک شخص نے غلط لکھا اور اس کو کاٹ دیا تو دیکھنے والا سمجھ جاتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے تو اے اﷲ! ہمارے نامۂ اعمال سے ہمارے گناہوں کو صرف کاٹئے ہی نہیں بالکل مٹا دیجئے،(Nothing) کر دیجئے۔۔، کراسنگ میں تو نظر آجائے گا کہ بھئی اس نے کوئی گناہ کیا تھا ،یہ دیکھو اﷲ نے اسے کراس کردیا، نہیں کراسنگ کے بجائے نتھنگ کر دیجئے، اس کا نشان بھی مٹادیجئے۔

علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ نے عفو کے معنیٰ محو لکھا ہے، محو معنیٰ مٹانے کے ہیں کہ ہمارے گناہ کو کراس کرنے کے بجائے مٹادیجئے جس کی تفسیر اﷲ پاک کی یہ آیت کرتی ہے کہ جب بندہ توبہ کرتا ہے توتوبہ کی برکت سے ہم ا س کی برائیوں کی جگہ نیکیاں لکھ دیتے ہیں، برائی کا وجود بھی نہیں ہوتا، سب گناہ ختم کرکے وہاں نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔۔۔

ہم اس کی تمام برائیوں کو مٹا کر کے نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔ علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ برائیوں کو نیکیوں سے تین طریقے سے تبدیل کرتا ہے یعنی تبدیلی کے تین طریقے ہوتے ہیں۔ نمبر ۱۔ ایک شخص فلمی گانے گاتا ہے، اب حج کر آیا، تو بہ کرآیا تو نامہ اعمال میں جہاں اس کا گانا لکھا تھا وہ مٹا کر اﷲ نے لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ لکھ دیا۔۔۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کی برائیوں کو مٹا کر اﷲ تعالیٰ اس کی نیکیوں کولکھ دیتے ہیں، برائیوں کی رِیل صاف کرکے اس پر نیکیوں کی رِیل چڑھا دیتے ہیں۔۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ بندے کے گناہوں کے تقاضوں کی شدت کو نیکیوں کے تقاضے کی شدت سے بدل دیتے ہیں۔

۲۹ منٹ ۴۸سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"گناہوں کے برے برے تقاضوں کو ہٹا کر نیکیوں کے تقاضے اُس پر غالب کردیتے ہیں۔۔ اورگناہوں میں جو اُس کو مہارت تھی ، زیادتی اور شدت تھی ۔۔۔اُس کو کم کر کے نیکی کا تقاضا اُس کے دل میں پیدا فرمادیتے ہیں۔۔

اور ایک صورت پہلے یہ بیان فرمائی کہ اُس کو محو فرمادیتے ہیں۔۔یعنی صرف کاٹتے ہی نہیں ہیں ۔۔اس کا وجود ہی نہیں رہتا ۔۔ اُس کی جگہ اُس کی کوئی نیکیاں اللہ تعالی لکھ دیتے ہیں ۔۔ اس پر حضرت والا میر صاحب نے  کئی مثالیں ارشاد فرمائیں۔۔ ، جب توبہ کرلی تو وہ جگہ جو مٹائی گئی تو وہ جگہ خالی ہوگئی نا؟ ۔۔۔ اُس جگہ پر دوسرا عمل کوئی لکھ دیا گیا۔۔مثلاً یہ اہل اللہ کی زیارت کیا کرتا تھا۔۔

یعنی گناہوں کی جگہ جو اُس نے نیکیاں کیں ہیں وہ لکھ دی جاتی ہیں اور دوسرا یہ فرمایا کہ جن گناہوں کی اُس کو عادت تھی اور شدت تھی اُس میں ملکہ یعنی کمال  حاصل تھا ۔ جو معصیت کا کمال اس کو حاصل تھا اور تقاضا شدید حاصل تھا تو اس کو نیکیوں سے تبدیل فرمادیتے ہیں یعنی نیکیوں کے تضاضو ں میں کمال نصیب فرمادیتے ہیں۔یعنی پہلے گناہ کرنے کو اُس کا جی زیادہ چاہتا تھا۔۔۔اب نیکی کو اللہ کے راستے میں رونے کو ، اللہ والوں سے ملنے کو اُس کا دل چاہنے لگتا ہے۔۔یعنی برائی کو نیکی سے تبدیل کرنے کا یہ طریقہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا: یعنی جس شدت سے ہر وقت گناہوں کے لیے پاگل ہوتا تھا، ہر وقت دل چاہتا تھا کہ گناہ کرو، عورتوں کو دیکھو، حسینوں کو دیکھو، نظر لڑاؤ اب اُس کو اﷲ تعالیٰ اسی شدت سے نیکیوں کا ملکہ عطا کرتے ہیں۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس بندے کے تمام صغائر کو مٹا دو اور وہاں ہماری طرف سے حسنات لکھ دو۔۔

تواﷲ تعالیٰ ملکۂ تقاضائے معصیت کو ملکۂ تقاضائے حسنات سے بدل دیتے ہیں یعنی جس کے دل میں ہر وقت گناہ کا تقاضا ہے اس کو ہر وقت نیکیوں کا تقاضا ہونے لگے گا

۳۲منٹ ۳۱سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"ملکہ کے معنی ہیں پختگی ، عادت کا رسوخ،عادت میں پختگی آجاتی ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ اس کا شعر کہنے میں ملکہ حاصل ہے یعنی بہت پختگی اور مہارت حاصل ہے۔۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا : اوّل میں اسی کی کمائی تھی، اسی کے مکسوبات تھے اور یہاں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے موہوبات اور بخشش ہوگی۔۔۔

۳۳منٹ ۴۸سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"پہلے تو دو طریقے تھے کہ جو کچھ اُس نے نیکیاں کیں تھیں جو کچھ کمایا تھا۔۔تو گناہوں کی جگہ وہ نیکیاں لکھ دی گئیں۔۔۔اور یہاں مکسوبات  یعنی جو اُس کی کمائی نہیں ہے بلکہ موہوبات یعنی اللہ تعالی کی عطا ہے ۔یعنی اُس کے چھوٹے گناہ ہیں ان سب کو مٹا دواور اُس کی جگہ نیکیاں لکھ دو جو اُس نے نہیں کیں۔وہ بھی لکھ دو۔۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس بندے کے تمام صغائر کو مٹا دو اور وہاں ہماری طرف سے حسنات لکھ دو، پہلے بندے کی اپنی کمائی تھی، اس نے جو کمایا تھا اس کے مکسوبات تھے اور یہاں میرے موہوبات ہوں گے لہٰذا اس کی برائیوں کو کاٹ کر وہاں نیکیاں لکھ دو تو اوّل میں او رثانی میں کیا فرق ہوا؟ اوّل میں اسی کی کمائی تھی، اسی کے مکسوبات تھے اور یہاں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے موہوبات اور بخشش ہوگی، اس کی کمائی نہیں ہوگی، اﷲ کی طرف سے فرشتے برائیوں کی جگہ نیکیاں لکھ دیں گے۔

جب وہ دیکھے گا کہ گناہ پر ہم کو انعام مل رہا ہے تو کہے گا کہ اﷲ میاں یہ تو میرے چھوٹے گناہ ہیں مَا لِیْ لَآ اَرٰی ذُنُوْبًا کَبِیْرًاکیا ہوگیا مجھ کو کہ میں اپنے بڑے بڑے گناہ اس میں نہیں پارہا، ذرا اس کی جرأت کو دیکھئے! یہ بات بیان کرتے وقت حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہنسی آگئی، کیا کریم مالک ہے۔ آہ! اﷲ کی کیا رحمت ہے۔

۳۵منٹ ۱۸سیکنڈ : حضرت نے فرمایا: "کہ بندہ دیکھے گا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر اُس کو نیکیاں لکھی ہوئی ملیں گی اللہ تعالی لکھوا دیں گےجو نیکیاں اُس نے کیں بھی نہیں تھیں۔۔۔ تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوں گی کہ اُس کو لکھ دو۔۔ تو وہ کہے گا کہ اوہ ہو کیا ہوگیامیں نے تو اور بڑے بڑے گناہ بھی کیے تھے اس میں تو کچھ نظر ہی نہیں آرہا ۔۔ کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا کہ جب چھوٹے گناہوں پر اتنا انعام مل رہا ہے ۔۔تو بڑے پر ناجانے کیا دیں گے۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حدیث ارشاد فرمائی تو آپ کھکھلاکر ہنس پڑے اور آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :مولانا گنگوہی رحمۃ ا ﷲ علیہ فرماتے تھے کہ پوری دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام سے قیامت تک اﷲ کی رحمت کا ایک حصہ نازل ہوا ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں، استاد شاگرد سے، شیخ مرید سے اور ماں باپ اپنے بچے سے محبت کرتے ہیں، یہ سب اس ایک حصہ مادّۂ رحمت کا اثر ہے، ننانوے حصے اﷲ نے ابھی بچائے ہوئے ہیں، قیامت کے دن اس کو ظاہر فرمائیں گے۔

۳۶منٹ ۳۳سیکنڈ : حضرت نے فرمایا: "اللہ تعالی نے اپنی رحمت کا صرف ایک حصہ نازل فرمایا ہے جس سے آپس میں جانور وں اور اپنے جانور بچوں سے محبت ہے ۔۔ انسانوں کو اپنے بچوں سے محبت ہے ۔۔اور ایک دوسرے سے آپس میں محبت ہے ۔۔یہ سب اُسی رحمت کا اثر ہے۔۔صرف ایک فیصد کا یہ اثر ہے ۔

حضرت گنگوہی رحمۃا للہ علیہ فرماتے ہیں ۹۹ حصے قیامت دن اللہ نے اپنے لیے محفوظ رکھیں ہیں تو جب قیامت کے دن وہ ظاہر فرمائیں گے۔تو بتاو اُس وقت کیا عالم ہوگا۔

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا شعر ہے  

جب حشر میں بخشیں گے گناہوں کو کرم سے

کیا   ہوگا  بھلا   آپ   کی   سرکار   کا   عالم

تو ۹۹ حصے جب ظاہر ہوں گےتو حضرت گنگوہی رحمۃاللہ علیہ  فرماتے تھے۔۔۔کہ جن کو تم یہاں جہنمی سمجھتے تھے یعنی وہ تھے مسلمان لیکن اعمال ایسے خراب تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ جہنمی کام کررہا ہے۔تو جب وہ محبت کا ۹۹ حصے ظاہر ہوگا تو جن کو تم جہنمی سمجھتے تھے۔۔وہ جنت میں بھاگے جارہے ہوں گے۔وہ رحمت کا اللہ تعالی کی۔

جب حشر میں بخشیں گے گناہوں کو کرم سے

کیا   ہوگا  بھلا   آپ   کی   سرکار   کا   عالم

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنے کا سلسلہ جوڑا: مولانا گنگوہی رحمۃ ا ﷲ علیہ نے فرمایا کہ جس کو تم سمجھتے تھے کہ وہ جہنم میں جائے گا وہ سب جنت میں جائیں گے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی ایک حصہ رحمت میں تو یہ حال ہے کہ اس  کی وجہ سے ہم کسی کی تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتے۔

قطب العالم مولانا گنگوہی رحمۃ اﷲعلیہ فرماتے ہیں کہ قیامت میں ایسے ایسے لوگ بخشے جائیں گے جن کو ہم سمجھتے تھے کہ یہ جہنم میں جائے گا۔ اس لیے کسی کے بارے میں ناامید نہ ہو۔

عفوکی تفسیر ہو گئی کہ اﷲ تعالیٰ گناہوں کی صرف معافی نہیں دیں گے بلکہ گناہوں کے نشانات تک مٹا دیں گے۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:  اِذَا تَابَ الْعَبْدُ اَنْسَی اللّٰہُ الْحَفَظَۃَ ذُنُوْبَہٗ وَاَنْسٰی ذَالِکَ جَوَارِحَہٗ وَمَعَالِمَہٗ مِنَ الْاَرْضِ…الخ(مرقاۃُ المَفاتیْح،کتابُ الدعوات،ج  :۵، ص :۹)

جب بندہ توبہ کرلیتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرشتوں کو بھی اس کے گناہ بھلا دیتا ہے تاکہ معافی ملنے کے بعد فرشتے یہ نہ کہیں کہ یہ ایسا ہے ویسا ہے، چناں ہے چنیں ہے، اور اﷲ تعالیٰ اس کے اعضاء کو بھی تمام گناہ بھلا دیں گے، جن اعضاء سے گناہ کیا تھا اور وہ اعضا ء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیتے۔

۴۰منٹ ۳۳سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:" یہ حدیث پاک کا ترجمہ ہے  کہ اِذَا تَابَ الْعَبْدُجب بندہ توبہ کرتا ہے  اَنْسَی اللّٰہُ الْحَفَظَۃَ ذُنُوْبَہٗ تو اللہ تعالی وہ جو فرشتے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں اور اُس کے نامہ ء اعمال کو لکھ رہے ہیں وہ اُ ن مٹا دیتے ہیں اُن سے بھلا دیتےہیں ۔۔اُن کو بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ قیامت کے دن طعنہ نہ دے سکیں کہ یہ تو ہم نے مٹایا تھا۔۔تم نے تو یہ  یہ گناہ کیے تھے ۔۔۔تو اللہ تعالی ان کے ذہن سے اُس کو بھلا دیں گے۔اوروَاَنْسٰی ذَالِکَ جَوَارِحَہٗاور قیامت میں جوارح بھی تو گواہی دیں گے ہاتھ پاوں کہ ہاتھ کہے گا کہ میں نے اس ہاتھ سے چوری کی تھی ۔۔ آنکھ خود کہے گی کہ میں نے بدنگاہی کی تھی ۔۔ زبان خود کہے گی کہ میں نے چغل خوری کی تھی ، بہتان اور غیبت لگائی تھی ۔۔تو جب بندہ توبہ کرلیتا ہے تو  وَاَنْسٰی ذَالِکَ جَوَارِحَہٗ۔جوارح یعنی اُس کے اعضا  ء سے گناہوں کو مٹادیتے ہیں ۔۔اور وَمَعَالِمَہٗ مِنَ الْاَرْضِاور جس زمین پر گناہ کیا تھا وہاں سے اُس کے نشانات مٹا دیتے ہیں ۔۔

فرمایا : " اعمال نامے کا اس میں ذکر نہیں ہے ۔۔کیونکہ اعمال نامہ تو فرشتوں ہی کے لکھنے سے تو بنے گا!۔۔تو جب فرشتوں ہی سے بُھلا دیا گیا اُن کے ذہن سے نکل گیا تو یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بلاغت ہے کہ ۔۔اُس کا ذکر نہیں کیا۔ ۔۔۔اور یہاں تک کہ وہ اللہ سے اِس حالت میں ملے گا۔۔کہ گناہ کا کوئی نشان بھی باقی نہیں ہوگا۔۔

ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا:اﷲ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بھلا دیں گے اور زمین پر جہاں جہاں اس نے گناہ کیا تھا تو زمین پر ان کے نشانات کو بھی مٹا دیں گے تو یہ ہے عفو کہ ایسی معافی دے دیجئے کہ نشانات اور گواہی اور کہیں بھی کسی قسم کا وجود ہی نہ رہے۔

۲)… عافیت کی تشریح

۴۳منٹ ۳۵سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"پہلے عفو کی تشریح ہوگئی اب عافیت کی تشریح ہوگی۔۔کہ اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْاَلُکَ الْعَفْوَاے اللہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں یعنی میں اپنے کو گناہوں کو محو کرنا مانگتا ہوں کہ آپ میرے گناہوں کومحو کردیں اس کا نام و نشان مٹا دیں پھر اس کے بعد حدیث پا ک میں ہےوَالْعَافِیَۃَتو عافیت کی تشریح حضرت فرمارہے ہیں

۲) ممتاز صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا… عافیت کی تشریح: ور عافیت کے دو معنی ہیں، نمبر ایک کہ ہمارا دین کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہو،دین مفتون نہ ہو، فتنہ نہ پیدا ہو، کیا مطلب کہ ہم سر سے پیر تک آپ کے رہیں اور سر سے پیر تک ہمارے اعضاء کسی نافرمانی میں مبتلا نہ ہوں، اگر مخلوق ناراض بھی ہوتو فکر نہ کرو۔

ایک صاحب نے مجھ سے کہاکہ اگر ہم ان سے بات نہ کریں تو ان کو بہت غصہ آتا ہے، میں نے کہا کہ ان کو غصہ آتا ہے مگر اﷲ کو تو پیار آئے گا، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کس کے غصے سے بچنا ہے، ائیرہوسٹسوں کے غصے سے بچنا ہے یا اﷲ میاں کے غصے سے بچنا ہے، لوگ جو کچھ چاہے کہہ لیں، ہم سب کچھ سہنے کے لیے تیار ہیں مگر اپنے اﷲ کو ناراض کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ہمارے ایک دوست تھے احمد رشید۔۔۔،  جرمنی میں ایک ریل میں بیٹھے، ایک کم عمر جرمن لڑکی ان کے بالکل قریب آکر بیٹھ گئی۔۔۔س لڑکی نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔ اس نے انگریزی میں کہا کہ یہ آپ کا اسلام ہے، اتنی بڑی ڈاڑھی رکھ کر آپ نے میرا دل توڑ دیا، ہم نے تو محبت سے ہاتھ بڑھایا تھا، آپ نے اس کو نفرت سے کھینچ لیا۔۔

احمد رشید نے مجھے بتا یا کہ میں نے اس جرمنی لڑکی کو جواب دیا کہ دیکھو اگر میرا ہاتھ اور تیرا ہاتھ مل جائے گا تومجھے کرنٹ لگ جائے گا، میرا ایمان جل کر خاک ہوجائے گا اور اگر کرنٹ زیادہ تیز ہوگیا تو میں تجھ سے لپٹ جاؤ ں گا اور لپٹنے کے بعد اور کیاہوتاہے اس کو تو خود سوچ لے بس وہ ڈر گئی اور کھسک گئی اور کہا ویری گڈ! اور اس نے کہا یو آر پادری۔۔۔

۴۶منٹ۳۲سیکنڈ : حضرت نے فرمایا:"پادری معنی بہت نیک آدمی ۔اُن کے یہاں پادری نیک آدمی کو کہتےہیں جیسے یہاں یہاں بہت بڑا پیر ہوتا ہے۔۔اُس کو کہتے ہیں ۔۔لیکن اُن کے یہاں پادری سب سے زیادہ بدمعاش ہوتا ہے ۔۔۔اُس کا پول کھل گیا تھا۔۔فرانس میں ویٹی کن میں ۔۔سارا پول کھل گیا تھا۔ کہ یہ کیا کیا کرتے ہیں۔۔جو بڑے پوپ صاحب تھے وہاں کے وہ رو رہے تھے یہ خبر سن کر کہ پادریوں نے ایسے کام کیے ہیں۔۔ٹپ ٹپ رو رہے تھے اگر چہ خود بھی اُس میں مبتلا ہوگئے.۔۔تو پادری معنی  جب اُ س  نے کہا یعنی You are Popeیعنی بہت ہی نیک شخص ہو۔۔                                                             

یعنی تیری پاد بھی ری کنڈیشن ہوچکی ہے یعنی اخلاقِ رذیلہ اخلاقِ حمیدہ سے بدل گئے۔ دیکھو انہوں نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ یہ لڑکی کیا کہے گی۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو ہمت و توفیق دے؎

سارا جہاں  خلاف  ہو پروا   نہ   چاہئے

پیش نظر تو مرضی  جانا  نہ     چاہئے

پھر اس نظر سے جانچ کر تو کر یہ فیصلہ

کیا کیا تو کرنا چاہیے کیا  کیا  نہ  چاہئے

۴۸ منٹ ۳۲سیکنڈ حضرت والا نے فرمایا :" بس مجلس برخاست اور ایک اعلان یہ کرنا ہے ۔۔عورتوں کے یہاں آنے کا وقت سوا آٹھ بجے ہے اور نماز پونے آٹھ بجے ہوجاتی ہے۔۔تو بعض حضرات یہاں آٹھ بجے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔۔اور عورتوں سے سامنا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔۔تو مرد حضرات جو یہاں آئیں احتیاطاً آٹھ بیس تک آئیں اُس سے پہلے نہ آئیں ۔۔ تاکہ بے پردگی نہ ہو۔۔ہمارے بزرگوں سے اُس کو بھی پسند نہیں فرمایا اسی لیے ہال کی جو خرابیوں میں سے یہ بھی ہےکہ راستہ ایک ہوتا ہے۔۔یہ جو کہتے ہیں نہ کہ ہم نے بیج میں Partitionکرادیا ہے ۔ Partitionتو کرادیتے ہیں لیکن راستہ آنے جانے کا ایک ہے۔۔ایک ہی طرف سے مرد آرہے ہیں اور ایک ہی طرف سے عورتیں آرہی ہیں۔۔وہ راستہ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ جسم سے جسم بھی مل سکتا ہے ۔۔ اور اگر نہ بھی ہو ۔۔نگاہ خراب ہوسکتی ہے ۔۔دل میں برے خیالات آسکتے ہیں ۔۔اس لیے احتیاط کی جائے

حضرت والا نے مدینہ منورہ میں فرمایا تھا کہ عورت اگر برقعے میں بھی ہو تو پھر بھی اُس کو مت دیکھو۔۔اس سے بھی نفس لذت لے لیتا ہے۔۔تو اتنی احتیاط فرمائی ہمارے بزرگوں نے ۔

ہالوں میں ۔۔اور بھی خرابیاں ہیں ۔۔۔لیکن ایک خرابی یہ بھی ہے ۔کہ راستہ ایک ہوتا ہےاسی میں سے مرد آرہے ہیں اُسی میں عورتیں جارہی ہیں ۔۔اس میں بہت فتنے کا اندیشہ ہے۔۔عورتوں کو بھی ناگوار ہوتا ہےاس لیے آٹھ بیس سے پہلے کوئی صاحب یہاں نہ آئیں اُس کے بعد آئیں تاکہ عورتیں آسکیں۔اور واپسی میں بھی جلدی کریں اُن کو گھر بھی جانا ہوتا ہے۔

حضرت والا نے گفتگو نے اختتام پر ایک نہایت پر لطف لطیفہ وہی شخص کا سنایا ۔۔

یوں یہ بابرکت مجلس تقریباً ۵۴ منٹ کی اختتام کو پہنچی