مجلس۹ دسمبر۲۰۱۳ء اللہ کی ناراضگی سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں!

محفوظ کیجئے

آج کی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

خلاصہءمجلس:الحمدللہ شروع ہی سے حضرت والا مجلس میں رونق افروز تھے ۔مولانا ابراہیم کشمیری صاحب صاحب نے شروع میں حضرت والا شیخ العرب و العجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار   سنائے جن کا عنوان تھا "نظر مت کر حسینانِ جہاں پر" ۔۔ جس کی تشریح حضرت اقدس میر صاحب ساتھ ساتھ فرماتے جاتے تھے ۔۔۔تقریباً۲۵ منٹ اشعار اور ان کی تشریح ہوتی رہی۔۔۔ اس کے بعد کتاب آفتاب نسبت مع اللہ   کےملفوظات صفحہ ۱۵۶ سے ۱۶۱  تک آج پڑھےگئے بیچ بیچ میں حضرت والا تشریح بھی فرماتے جاتے تھے۔ یہ پُر نورمجلس جو ۵۳ منٹ پر مشتمل تھی اختتام پذیر ہوئی۔ ۔

شروع میں حضرت اقدس میر صاحب دامت برکاتہم نے مولانا ابراہیم کشمیر ی صاحب کو اشعار پڑھانے کو فرمایا ، انہوں نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے  اشعار  سنانا شروع کیے جس کا عنوان تھا "نظر مت کر حسینانِ جہاں پر"

جو رکھا سر تمہارے آستاں پر

زمین پہ رہ کہ ہوں میں آسمان پر

نہ ہنس ظالم مری آہ و فغاں پر

نظرتیری نہیں زخم ِ نہاں پر

۲ منٹ ۴۰ سیکنڈ: مندرجہ بالا اشعار کی تشریح میں فرمایا:"اللہ کی یاد میں رونے ، آہ وفغاں کرنے پر یہ جو زاہد ِ خشک ہیں جن کو اللہ کی محبت حاصل نہیں وہ ہنستے ہیں کہ کیا یہ صوفی لوگ ہر وقت روتے گاتے رہتے ہیں ۔ تو حضرت فرماتے ہیں کہ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل پر اللہ کی محبت کی چوٹ نہیں لگی، اگر ان کے دل پر چوٹ لگ جاتی جیسے دنیا کے کسی محبوب سے محبت ہوجاتی ہے تو راتوں کو تارے گنتے ہیں روتے ہیں ، اِن فانی حسین کی یاد میں تو  سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کی یاد میں تڑپنا اور بے چین ہونا یہ دنیا داروں اور ان لوگوں کو جن کو اللہ کی محبت حاصل نہیں صرف نفوش علم کے پڑھ رکھے ہیں لیکن کسی اللہ والے سے اللہ کی محبت حاصل نہیں کی تو وہ بھی اِس چیز کو نہیں سمجھ پاتے۔اور جو پہلے شعر تھا حضر ت کا

جو رکھا سر تمہارے آستان پر

زمین پہ رہ کہ ہوں میں آسمان پر

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ سر جو اللہ تعالی کی چوکھٹ پر رکھ دیا ،نماز میں سجدے میں یہ بھی سر رکھنا ہے اور دوسرا سر یہ رکھنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی سے بچنے میں جو غم اُٹھایایہ بھی اللہ تعالی کی چوکھٹ پر سر رکھنا ہے ۔۔ تو ایسے شخص کو ایسا قرب نصیب ہوتا ہے کہ دُنیا میں رہتے ہوئے بھی گویا   کہ عرش اعظم پر اُ ن کی روح رہتی ہیں۔ حضرت والا نے انتہائی فنائیت سے فرمایا" ہم تو بس نقل کرتے ہیں اپنے بزرگوں کی ، حضرت والا کو دیکھاکہ زمین پر رہتے ہوئے وہ زمین کے آدمی نہیں تھے ہر وقت اُن کی روح گویا عرش اعظم کاطواف کرتی تھی ۔خواجہ صاحب فرماتے ہیں  :

 

بیاں ادنی سا فیضِ صحبت پیر مغاں کردوں

اگر سجدے میں سر رکھ دوں زمیں کو آسماں کردوں

یعنی اپنے شیخ کی صحبت کا فیض تھوڑا سا بیان کردوں  یعنی ادنی سا فیض اور کرامت یہ ہے کہ اگر سجدے میں سر رکھ دوں زمیں کو آسماں کردوں ۔

حضرت والا کا جو یہ شعر ہے بہت زیادہ بلیغ ہے نورِعلم بھی ہے اس میں اور اس میں دونوں معنی ہیں ظاہری عبادت بھی اور باطنی عبادت بھی مثبت عبادت بھی اور منفی عبادت بھی یعنی اللہ تعا لی کی عبادت کرنا ذکر و تلاوت کرنا ، سجدے میں سر رکھنا نماز پڑھنااور گناہوں سے بچنا ۔گناہوں سے بچنے کا غم اُٹھانا اللہ کے راستے میں اللہ کی نافرمانی میں بچنے کا غم اُٹھانایہ بھی اللہ کی چوکھٹ پر اُس کا سر ہے۔

پھر مولانا ابراہیم کشمیری صاحب نے مندرجہ ذیل شعر پڑھا

زمیں پر جسم مشغول ِ عمل ہے

دل عارف مگر ہے آسمان پر

۷ منٹ ۷ سکینڈ: اللہ والوں کا جسم تو دُنیا کے کام میں مشغول ہوتا ہے وہ بھی کاروبار ، تجارت ، نوکری کرتے ہیں ۔ ہاتھوں سے کام کرتے ہیں لیکن دل اللہ تعالی کے ساتھ رکھتے ہیں گویا آسمان پر ہوتا ہے ۔اُس وقت بھی وہ اللہ کو کسی حال میں نہیں بھولتے کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس سے اللہ تعالی ناراض ہوجائیں، ایک شعر اور ہے حضرت والا اِس کے بارے میں 

دنیا کے مشغولوں میں بھی یہ باخدا رہے

یہ سب کے ساتھ رہ کر بھی سب سے جدا رہے

اللہ والے سب کے ساتھ ہوتےہیں لیکن وہ سب جیسے نہیں ہوتے، سب سے الگ ہوتے ہیں اُ ن کے دل کا معاملہ کچھ اور ہوتا ہے وہ ہر وقت اللہ تعالی کے ساتھ ہوتےہیں ۔

خدا ناراض ہو جس گلستاں سے

تو لعنت  بھیج ایسے گلستان پر

۹ منٹ ۳۳ سکینڈ: فرمایا:"یہاں گلستان سے اس کو تعبیر کیا ہے کہ جن خوشیوں سے اللہ تعالی ناراض ہوں حضرت فرماتے ہیں وہ خوشی اس قابل ہے کہ اُس پر لعنت بھیجی جائے  کہ وہ خوشی اللہ کو ناراض کردے وہ خوشی نہیں ہے ۔۔۔۔جا دل تجھے چھوڑا کہ جدھر وہ ہیں اُدھر ہم

عاشق کا یہی حال ہوتا ہے کہ اِدھر اللہ تعالی ہیں اُدھر وہ چیز ہے جس کو انہوں نے منع کردیا چاہے وہ ہمارے لیے کتنی ہی مرغوب ہو، کتنی ہی لذیذ ہو، کتنی ہی اُس کے اندرلذت ہوجیسے حسینوں کو دیکھنایا اور گناہ کرنا وہ اگرچہ اتنا ہی محبوب ہو جتنا آدمی کو چمن اور گلستان محبوب ہوتا ہے ۔۔لیکن اللہ تعالی ایسے گلستان سے خوش نہیں ہیں اِن خوشیوں سے خوش نہیں ہیں تو حضرت فرماتے ہیں کہ اُس پر لعنت بھیجواور چھوڑ دوکیونکہ اللہ کی ناراضگی سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہے ۔ جس سے اللہ ناراض ہوجائے سمجھ لو سارے لذتیں اُس کے سامنے ہیچ ہیں کیونکہ چند دن کی لذت ہے پھر پالا تو اللہ تعالی ہی سے پڑنا ہے ۔

مولانا شاہ محمد احمد صاحب کا شعر حضرت والا پڑھا کرتے تھے

خوشی کو آگ لگا دی خوشی خوشی ہم نے

جب کوئی بندہ گناہ سے بچتا ہے اور اُس کا دل خوش ہوتا ہے تو یہ علامت ایمان کی ہے تو وہ خوشی خوشی اللہ تعالی کی نافرمانی سے بچتا ہےاُس کو بظاہر تو غم ہوتا ہے لیکن دل میں سکون ہوتا ہے اُس کی روح خوش ہوتی ہے  اُ س خوشی کو اُس حلاوت کووہ محسوس بھی کرتا ہے ۔

حدیث پاک ہے ۔۔ جب کوئی نیکی تجھے خوش کردے اور گناہ غمگین کردے گناہ کرکے ندامت ہوجائےیہ علامت ہے ایمان کی۔ کہ تو پکا مومن ہے کیونکہ یہ علامت ہے ایمانِ کامل کی۔

مولانا ابراہیم کشمیری صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :

جہاں بیٹھے ہوں کچھ اللہ والے

فد ا ہوں ایسی بزم ِ دوستاں پر  

۱۳ منٹ ۵۰ سیکنڈ: حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا مزاج یہی تھا۔۔ حضرت والا کو تنہائی اور تنہا رہنا بس اُس وقت تک تھا جب حضرت والا عبادت کرتے تھےورنہ حضرت والا یہی فرماتے تھے کہ اللہ والوں میں رہناان میں اُٹھنا بیٹھنااُن کے ساتھ جینا مرنامجھے یہی محبوب ہے ۔۔ تیرے عاشقوں میں جینا ۔۔۔ تیرے عاشقوں میں مرنا۔۔حضرت فرماتے تھے کہ میں جہاں جاتا ہوں ہر ملک اور شہر میں  اللہ والوں کو تلاش کرتاہوں ۔ اُن سے مل کر مجھے سکون ملتا ہے ۔

 یہی پہچان ہے  اور جو زیادہ الگ رہتے ہیں اُن کے اندر خشکی پیدا ہوجاتی ہے عُجب اور کبر پیدا ہوجاتا ہے جو اہل اللہ کے ساتھ رہتے ہیں اُن کی صحبت کی برکت سےاُن کےدل کو شکستگی رہتی ہے اور اللہ تعالی کا خاص قرب نصیب ہوتا ہے۔

اور حضرت نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہر شخص دوسرے کو سمجھے کہ یہ اللہ والا ہے ۔ یہ نہ سمجھے کہ میں اللہ والا ہوں جیسے یہاں لوگ آئے ہوئے ہیں ایک دوسرے کو سمجھیں کہ یہ اللہ والا ہیں۔ یہ بھی نہیں کہ شیخ یہ سمجھے کہ میں تو اللہ والاہوں باقی تو سب نعوذباللہ ایسے ہی ہیں ۔۔ تو وہ اللہ والا شیخ نہیں بلکہ میخ ہے ۔

حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃا للہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو لو گ اللہ کے لیے میرے پاس آتے ہیں اُن کے قدموں کی زیارت کو  میں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوں ۔ اللہ ہم سب کو یہ نصیب فرمائے۔ تو ہر شخص ایک دوسرے کواللہ والا سمجھے اپنے کو حقیر سمجھے ۔

 

مولانا ابراہیم کشمیری صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :

ہے نقش ِ حسن فانی چند روزہ

نظر مت کر حسینانِ جہاں پر  

۱۷ منٹ ۱۹ سیکنڈ: فرمایا : " یہ حضرت والا کامجددانہ کارنامہ ہے یہ  کارِ تجدیداللہ نے حضرت سے لیا ہے ورنہ یہ مضامین یعنی حُسن فانی کی ایسی مذمت بلکہ جو پوسٹ مارٹم کیا ہے کہ اُس کی اصلیت کھول کررکھ دی کہ ایسی گندی چیز ہے ۔ جیسے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں تو مردے کی سب آلائشیں باہر آجاتی ہیں اِسی طرح دنیا کے شاعر تو حسن کی تعریف کرتے ہیں لیکن صرف حضرت والا کے کلام میں آپ دیکھیں گے اُنہی حسین الفاظ کے اندرحسن فانی کا پوسٹ مارٹم ہے  کہ اُس سے نفرت پیدا کردی ہے ۔

عشق فانی ہے حسن فانی ہے

پھول مرجھا گئے ذرا کھل کے

ذرا سی دیر کو پھول کھلتا ہے اُس کے بعد مرجھا جاتا ہے حُسن فانی کا یہی حال ہے تو دونوں چیزیں فانی ہیں کہ جب وہ پھول مرجھا گیا تو عاشق صاحب بھی رفو چکر ہوگئے اور حسن بھی ختم ہوگیا ۔

حضرت والا  کا یہ کارنامہ اتنا عظیم الشان ہے کہ اب انشاء اللہ قیامت تک آنے والے مصلحین اور مجددین اور مشایخ اور صالحین وہ حضرت کی ان تعلیمات پر عمل کریں گے۔ مجدد جو ہوتا ہے وہ خاص وہ شعبہ جو لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوجاتا ہے اور اُس کو لوگ اہمیت نہیں دیتے دین نہیں سمجھتے اسی کی اصلاح کے لیے آتا ہے وہ دیکھا دیتا ہے کہ یہ بھی دین کا شعبہ ہے جس کو ہم لوگ بھول چکے ہیں۔ اس لیے حضرت والا نے بتا دیا کہ یہ حُسن فانی اور بدنظری عشق مجازی یہ کبیرہ گناہوں میں ہے کوئی معمولی گناہ نہیں ہے ، ایمان تک اِس میں جاتا رہتا ہے ۔ اس لیے فرما رہے ہیں اِس شعر میں کہ یہ چند روزہ حُسن ِ فانی ہے اور یہ اتنا خطرناک ہے کہ آدمی کا ایمان تک چلا جاتا ہے اس لیے اِ ن حسینوں کو مت دیکھو اور بدنظری مت کرو۔

 

 مولانا ابراہیم کشمیری صاحب نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا :

جنہوں نے جان دے دی راہِ حق میں

نہ کر تنقید اُن کی داستان پر

۲۱منٹ ۲۰سیکنڈ: فرمایا:" یعنی جنہوں نے اللہ کے راستے میں غم اُٹھائے ،  دنیا کی نافرمانیوں سے بچے، دنیا کی حرام لذتوں سے بچے۔ لوگ اِن کو کہتے ہیں کہ یہ بڑے بیوقوف لوگ ہیں یہ ۔ یہ کیسے زندگی گزاریں گے ۔۔ نہ ٹی وی دیکھتے ہیں نہ حسینوں کو دیکھتے ہیں، نہ سینما دیکھتے ہیں ۔۔ تو اِن مولویوں کو کیا ملے گا  ۔ )نعوذ باللہ(حضرت والا فرمارہے ہیں کہ نادان لوگ اِ ن پر تنقید کرتے ہیں ۔۔ تمہیں کیا معلوم ہے اُس کے دل میں کیا ہے اُن کے دل پر اللہ کی محبت کی چوٹ لگی ہوئی ہے یہ اللہ کی محبت کا غم اُٹھا رہے ہیں ۔ تو اُن پر تنقید کرناانتہائی بیوقوفی ہے  اور نادانی ہے ۔۔ اور اپنی آخرت کو تباہ کرنا ہے ۔

مولانا ابراہیم کشمیری صاحب نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار کا مقطع پڑھا:

نہ کر اختر سے ظالم بدگمانی

تبسم کیوں ہے اُس کی داستان پر

۲۳منٹ ۱۵سیکنڈ: فرمایا:" یہ حضرت والا کی پوری زندگی کی تاریخ ہے کہ حضرت والا جب اپنے شیخ پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہتے تھے تو حاسدین پیدا ہوگئے تھے ۔۔ پھر حضرت اقدس میر صاحب دامت برکاتہم نے حضرت والا کے مجاہدات کے چند واقعات ذکر فرمائے۔۔۔۔تو اِس بدگمانیوں اور حاسدوں کے درمیاں ۲۰ سال  حضرت والا نے گزارے شب و روز حاسدوں سے واسطہ تھا۔۔ ہر وقت وہ ستاتے تھے ۔۔ لیکن حضرت والا فرماتے تھے کہ میں شیخ کو چھوڑنے پر قادر ہی نہیں تھا۔۔ اللہ ہم سب ایسی محبت نصیب فرمائے۔

اس کے بعد ممتاز صاحب نے آفتاب نسب مع اللہ صفحہ ۱۵۶ سے ملفوظات پڑھنا شروع کیے۔۔

جینے کا مزہ نعمتوں میں نہیں، اللہ پر فدا ہونے میں ہے۔۔اسی لیے کہتا ہوں دوستو! کہ جینے کا مزہ اﷲ پر مرنے میں ہے، سموسہ پاپڑ نعمت تو ہے لیکن اس کے بعد لیٹرین میں کیا مال نکالتے ہو؟ کیا بریانی ویسی ہی خوشبودار رہتی ہے یا رنگ اور بو بدلا ہوا ہوتا ہے تو نعمتیں تو کھاؤ مگر نعمت دینے والے پرمرنے کے لیے کھاؤ، نعمت کو مقصود مت بناؤ۔ اﷲ کا نام لوگے تو دل میں دریائے نورپیدا ہوگا، ہر وقت کھانے پینے میں لگے رہو گے تو گو بناتے رہو گے، میں نعمت کی توہین نہیں کررہا لیکن نعمت دینے والے سے غفلت پر مجھے غصہ آتا ہے کہ نعمتیں کھا کر مولیٰ کو کیوں نہیں یاد کرتے، ۔۔دُعا: اے خدا! اختر اپنے لیے، اپنی اولاد کے لیے، اپنے دوستوں کے لیے اس گھڑی سے پناہ چاہتا ہے جس میں حسینوں اور غیرمحرم عورتوں اور لڑکوں کو دیکھ کر حرام لذت کو دل کشید کر کے نمک حرامی، بے غیرتی، بے وفائی، کمینے پن کا ثبوت دے۔ اے میرے زندگی دینے والے ہم سب کو جلد توفیق دے کہ ہم آپ پر اپنی زندگی کو فدا کریں اور جس اﷲ والے سے مناسبت ہو اس سے زندگی کو قربان کرنے کا طریقہ سیکھیں اور اپنی رحمت سے ایسا ایمان اور ایسا یقین اور ایسی محبت ہم سب کو نصیب فرما دے کہ ہماری زندگی کی ہر سانس آپ پر فدا  ہو کر، آپ کی خوشیوں پر فدا ہو کر رشکِ سلاطینِ ہفت اقلیم ہوجائے۔ ہم سب ایک سانس بھی آپ کو ناراض کر کے حرام لذت کو اپنے اندر نہ لائیں۔

حیاتِ اولیاء کیا ہے؟:  اﷲ پر جینا اور اﷲ پر مرنا کیا ہے؟ اﷲ پر جینے کے معنیٰ یہ ہیں کہ جس بات سے اﷲ خوش ہوتا ہے اس پر عمل کرو، اپنی خوشیوں کو مت دیکھو، جہاں اﷲ کی خوشی ہو اور ہماری بھی خوشی ہو وہ کام کرلو جیسے دل چاہتا ہے مرنڈا پینے کو، پی لو اور جب دل چاہے کہ ائیر ہوسٹس کو دیکھو وہاں نظر نیچی کر لو۔ اﷲ پر جینے کا مفہوم یہ ہے کہ جس بات سے اﷲ تعالیٰ خوش ہو اس پر عمل کرنا اور جس بات سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو تو اﷲتعالیٰ کو ناخوش کر کے حرام خوشیوں کو اپنے اندر نہ لانا اور حرام خوشیوں کو مار دینا یہی اﷲ پر مرنا ہے اسی کو حیاتِ اولیاء کہتے ہیں۔

۔ اﷲ کی خوشی کے مطابق جینا یہ حیاتِ اولیاء ہے اور اﷲ کو ناراض نہ کرنا یہ بھی حیاتِ اولیاء ہے جب مائنس اور پلس دونوں تاروں کی فٹنگ ہوتی ہے تب گھر میں روشنی آتی ہے ایسے ہی جو اﷲ کی مرضی پر چلتا ہے اور اس کی ناراضگی سے بچتا ہے تو مائنس اور پلس دونوں تار مل کر اس کے دل میں اُجالا کر دیتے ہیں

۔۔۔ایک عالم نفلی حج کو جارہے تھے، ایک ا ﷲ والے نے پوچھا کہ جس کے گھر جارہے ہو کیا اس گھر والے سے تمہاری جان پہچان بھی ہے؟ بس رونے لگے، عشق کا تیر لگ گیا پھر کہا کہ اب آپ کعبہ والے اﷲ سے جان پہچان کرادیجئے، میں ایک سال تک آپ کی خدمت میں یہیں رہوں گا۔ وہ عالم ایک سال تک اس اﷲ والے کے پاس رہے، اﷲاﷲ کیا اور اﷲ والوں کی غلامی کے صدقے میں اﷲ کی پہچان نصیب ہوگئی تو اس سے پہلے بیس حج و عمرے کیے تھے لیکن اس دفعہ جب حج کرنے گئے تو کعبہ والا بھی مل گیا، خالی گھر نہیں ملا گھر والا بھی مل گیا۔

کوئی اﷲ کا عاشق مل جائے پھر دیکھو اختر کیسا بیان کرتا ہے۔ کچھ دن کسی اﷲ والے کے ساتھ یا اﷲ والوں کے غلاموں کے ساتھ رہ کر دیکھ لو ان شاء اﷲ آنکھیں کھل جائیں گی کہ بادشاہوں کی سلطنت افضل ہے یا دل کی سلطنت افضل ہے۔

۔۔۔میری شاعری میرے دردِ دل کی آواز ہے اور میرے اکثر اشعار آدھی رات کے بعد کے ہیں۔ مولانا رفیق ہتھورانی میرے خلیفہ بھی ہیں انہوں نے میرے اشعار کے مجموعہ فیضانِ محبت سے انتخاب کرکے اشعار سنائے ہیں، فیضانِ محبت کی جلد حسین وجمیل ہے، کاغذ اعلیٰ اور قیمتی ہے، کتابت شاندار ہے، علماء کہہ رہے ہیں کہ ایسی کتابت اور ایسے اشعار ہم نے آج تک کسی کے کلا م میں نہیں دیکھے۔ اﷲ تعالیٰ اس مجموعۂ کلام کو جمالِ ظاہر و باطن عطا فرمائے، آمین۔۔۔۔ایک شعر کی شرح:

سوا تیرے کوئی سہارا نہیں ہے

سوا تیرے کوئی ہمارا نہیں ہے

نہیں ختم ہوتی ہے موجِ مسلسل

مرے بحرِ غم کا کنارہ نہیں ہے

اس شعر کی شرح ضروری ہے کہ بحرِ غم کے کنارے سے کیا مراد ہے؟ بس ہر سانس یہ غم ہو کہ میرا اﷲ کہیں مجھ سے ناراض نہ ہوجائے ، اس غم میں گھلنا یہ اﷲ کے دوستوں کا غم ہے، ہر وقت یہ غم، یہ فکر رہنا کہ ہم سے کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے ہمارا پالنے والا ناراض ہوجائے، یہ غم اﷲ کے دوستوں کا غم ہے۔ اس لیے بتا دیا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہمارا پیر غم کی وجہ سے کسی ڈیپریشن یا ٹینشن میں مبتلا ہے لہٰذا آپ فکر نہ کرو، نو پرابلم(No problem)، اس سے اﷲ تعالیٰ کی محبت کا غم مراد ہے کہ اﷲ کی ایسی محبت ہوجائے کہ ہر وقت یہی فکر ہو کہ میرا اﷲ ایک سانس، ایک لمحہ بھی مجھ سے ناراض نہ ہو۔

آہ! جسے ہر وقت اﷲ کو خوش رکھنے کی توفیق ہو تو اﷲ بھی ایسے بندے کو ہمیشہ خوش رکھتا ہے اور جس کو اﷲ خوش رکھے گا اس کو کہاں سے ڈیپریشن آئے گا؟ ارے کسی اﷲ والے کے گھر جاکر تو دیکھو، تمہارا ڈیپریشن بغیر کیپسول کھائے ہوئے خود غائب ہوجائے گا اور اگر گھر نہ جاسکو تو سمندروں کے کنارے ہم سفر ہوجاؤ، اس کے ساتھ ساتھ رہو ان شاء اﷲ سب ڈیپریشن اور ٹینشن ختم ہوجائے گا، ادھرتو بغیر انجکشن کنکشن ہے سمجھ گئے نا! کہیں بعض لوگ مخمصے میں نہ پڑ جائیں کہ اﷲ کے راستے میں تو غمزدہ ہونا پڑے گا اور اُس غم کا تو کوئی کنارا بھی نہیں ہے، تو یہ کون سا غم ہے؟ یہاں اﷲ کی محبت کا غم مراد ہے۔۔

بقیہ تفصیلات  ٹائپ کی جارہی ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries