مجلس۱ مارچ۲۰۱۴ء عشقِ مجازی کا انجام نفرت ہے!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

الحمدللہ حضرت والا مجلس میں رونق افروز تھے۔ شروع میں جناب رمضان صاحب (خلیفہ حضرت والا رحمہ اللہ ) نے حضرت والا کے  اشعار جوعشقِ مجازی کی مذمت پر مشتمل تھے ، بہت ہی عمدہ انداز میں پڑھے ، درمیان درمیان حضرت اقدس صدیق زمانہ قلندرِ وقت حضرت میر صاحب دامت برکاتہم کچھ اشعار کی تشریح بھی فرماتے جاتے تھے فرمایا

حضرت  تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ عشق مجازی عذاب ِ الٰہی ہے ۔

عشق مجازی والے  نام کے عاشق ہیں اصل میں فاسق ہیں، نافرمان ہیں۔

حسین صورتاً تو پھول ہیں لیکن خاروں سے زیادہ تکلیف دہ ہیں، پہلا تو اثر یہ ہوتا ہے کہ جس سے دل لگ جاتا ہے  پھر آدمی کہیں کا بھی نہیں رہتا  نہ اُسے دنیا کی کوئی چیز اچھی لگتی ہے ۔ اور ایک اللہ کا عشق ہے کہ اللہ سے اگر دل لگ جاتا ہے تو  ہر چیز میں مزہ ہر چیز میں کیف۔

اور یہاں ہر وقت گھٹ رہا ہے کہ اُس سے ملاقات ہی نہیں ہورہی، کیونکہ اِن سے وصالِ دوام  یعنی ہمیشہ وصال ہونا  سوائے  اللہ کے حضرت فرماتے تھے ناممکن ہے۔کیونکہ اللہ سے ہر وقت وصال رہتا ہے اس  لئے ہمیشہ مست رہتا ہے۔

 جن آنکھوں سے شربتِ روح افزا ٹپک رہا ہے ،اُن سے دھواں اُٹھے گا،  آنکھوں سے کیچڑ بہنے لگے گا، آنکھیں چندھیا جائیں گی ، جس وقت وہ ساڑھے گیارہ نمبر کا چشمہ لگائے گی ، تو سارے مستی جو شراب کی سی تھی وہ کہاں چلی گئی۔۔۔ تو ایسی چیز سے کیوں دل لگاتے ہو، اور اُس کی عارضی  حسن پر کیوں جان دیتے ہو جس کے انجام میں یہ ہونا ہے، تمہیں پچھتاوا کرنا پڑے گا ۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries