مجلس۹۔ اپریل۲۰۱۴ء ایمان کی حفاظت صحبتِ اہل اللہ میں ہے!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

خلاصۂ مجلس:محبی و محبوبی مرشدی و مولائی حضرت والا دامت برکاتہم اپنے کمرۂ مبارک سے باہر تشریف لائے اور حاضرینِ مجلس کو سلام فرمایا، نشست پر تشریف فرما ہوئے اورجناب ثروت صاحب کو اشعار سنانے کو فرمایا انہوں نے نہایت جذب اور درد سے اشعار سنانے شروع کیے۔۔ حضرت والا نے بہت پسند فرمائے۔ اس کے بعد جناب ممتاز صاحب نے ملفوظات سنائے۔۔ درمیان درمیان میں حضرت والا تشریح بھی فرماتے رہے  ۔ آج کی مجلس تقریباً ۱ گھنٹہ پر مشتمل تھی۔!۔۔

اہم ارشادات

تقریباً ۲۰ منٹ پر فرمایا : ان اشعار میں کس قدر نزول ہے حضرت والا کا! جس مقام پر حضرت تھے کوئی اُس کو گمان بھی نہیں کرسکتا وہاں سے نیچے اتر کر ہماری اصلاح کے لئے اپنی عزت کو داؤ پر لگا کر ہمارے امراض بیان فرماتے تھے، جس پر بعض احمق نادان بدگمانی کرتے تھے، اس لئے کہ جو اِس مرض میں خود مبتلا ہوتے ہیں وہی اعتراض کرتے ہیں کیونکہ وہ اس میں مبتلا رہنا چاہتے تھے اور اس سے توبہ بھی نہیں کرنا چاہتے۔ بعد میں یہ ظاہر بھی ہوا کہ ایسا ہی تھا

حضرت والا نے فرمایا تھا کہ مجھے سب معلوم ہے کہ لوگ مجھ سے بدگمانی کرتے ہیں لیکن میں اپنی عزت کو داؤ پر کر یہ مضمون بیان کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا! لوگ کہتے ہیں کہ اور امراض کو زیادہ بیان نہیں کرتے  تو حضرت والا نے فرمایا کہ جب کالرہ پھیلا ہوتا ہے تو ڈاکٹر کالرے کا علاج کرے گا یا نزلہ زکام کا! تو بس بدنظری،عشق مجازی کا کالرہ پھیلا ہوا ہے

کالرہ میں انسان ہلاک ہوجاتا ہے اور یہ عشق مجازی اور بدنظری ہلاک کرکے چھوڑتا ہے ایمان تک سلب ہوجاتا ہے اس کے لئے حضرت والا نے کیسے کیسے شعر کہے اور کھول کھول کر بیان فرمایا، خصوصاً آئی سی یو کمرے یعنی خاص اپنے حجرے میں خاص روحانی مریض ہوتے تھے تو حضرت والا کیسے کھول کر بیان فرماتے تھے، ایسا عام مجمع میں تو نہیں کرتے تھے اور ظاہر ہے کرنا بھی نہیں چاہیے لیکن جو امراض ہیں اُس  کو بیان فرماتے تھے

یہ اشعار بڑے بڑے محدثین نے بھی سنے، جامعہ اشرفیہ میں حضرت والا نے خود یہ اشعار پڑھ کر سنائے سارے محدثین جھومنے لگے، پورے پاکستان کے علماء وہاں جمع تھے، لیکن حضرت والا نے کبھی پروا نہیں کی اور جو حضرت نے فرمایا تھا ویسے ہی ہو کر رہا۔

حضرت نے فرمایا تھا میں عریانی و فحاشی کا سیلاب دیکھ رہا ہوں پھر میں کیسے خاموش رہوں ، حضرت والا موید من اللہ تھے مجدد تھے حضرت والا کو ہم کیا سمجھ سکتے ہیں

اللہ والوں کا نزول اُن کے عروج سے افضل ہوتا ہے، اگر وہ نزول نہ کریں تو ہمیں کیسے اللہ تک پہنچائیں گے، کیسے ہمیں بتائیں گے کہ اللہ کا راستہ کیا ہے، کیسے بتائیں گے کہ ان گناہوں کو چھوڑو جن میں تم مبتلا ہو، تو گناہوں کی نشاندہی کیسے کریں گے اور کون کرے گا

اس زمانے میں جو یہ عشق مجازی،بدنظری،حسن پرستی، امرد پرستی کی بیماری پھیلی ہوئی ہے ہر ایک کی ہمت بھی نہیں ہے کہ اس کو اِس طرح بیان کرے ۔ ۔ ۔  جوش سے فرمایا: بیوقوف ہیں جو یہ کہتے ہیں اِس مضمون پر اعتراض کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو مبتلا ہیں اور اِن کے منہ سے یہ ہدایت و نصیحت کی بات نکل نہیں سکتی، کیونکہ جو ایسے گناہوں میں خود مبتلا ہوگا اُس کے منہ سے یہ الفاظ نکل ہی نہیں سکتے وہ تو خود اندر سے شرمائے گا کہ کیا تعلیم کررہا ہے اور ہے اندر سے کیسا! وہ بات کھل کے کر بھی نہیں سکتا اور یہ وہی کرے گا کھل کر جس کا دل صاف ہوگا!

مولانا یونس پٹیل صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ حضرت والا آپ اِس طرح عشق و حسن کی مذمت اور رد بیان فرماتے ہیں اگر کوئی دوسرا اِس طرح بیان کرے تو جوتے اور ٹماٹر لوگ اسٹیج پر پھینک دیں مگر آپ کا تقویٰ ہے کہ لوگوں کو سُن کر مزہ آتا ہے اور جم کر بیٹھے رہتے ہیں اُٹھنے کا اُن کا دل نہیں چاہتا۔

فرمایا: وجہ کیا ہے پاک صاف دل ہے، اِس لئے اُن کی باتیں بھی پاک صاف ہوتی ہیں چاہے کیسا ہی بظاہر مضمون ہو لیکن آدمی کو حسن مجازی اور عشقِ مجازی سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے

حضرت والا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اِس میں میری کوئی نقل نہ کرے، ایک دفعہ مجھ سے فرمایا تھا کہ جس طرح میں بیان کرتا ہوں تم اِس طرح بیان مت کرنا، اس لئے کہ ہر ایک کا انداز مختلف ہے، میری بات اور ہے تمہاری بات اور ہے

بہت سے نادان ایسا کررہے ہیں جو بیانات حضرت والا کے خاص کمرے آئی سی یو کے تھے، خاص امراض کے خاص مریضوں کے لئے تھے، جیسے ٹی بی کا مریض ہے اُس کے لئے آئی سی یو کا کمرہ ہوتا ہے وہی یہ باتیں بتائی جاتی ہیں اُس کو عام وارڈ میں تو نہیں رکھتا جاتا اسی طرح جو باتیں آئی سی یو کی تھیں میں دیکھا اور سنا ہے وہ برسرعام بیان کررہے ہیں اس سے لوگوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔ پہلے دل ویسا بنالو پھر یہ بات کروتب تمہاری بات اثر کرے گی ورنہ لوگ بدگمانی کریں گے اور کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا۔ بس عام طور سے بیان کردیا جائےاس کےاندر یہ خرابی ہے یہ خرابی ہے مثلاً کمر ٹیڑھی ہوجائے گی، آنکھوں سے کیچڑ بہنے لگے گا لیکن جو خاص خاص باتیں حضرت والا فرما دیتے تھے وہ خاص کمرے میں خاص لوگوں کے لئے ہوتی تھیں۔ 

حضرت والا نے یوں بھی فرمایا تھا کہ جو اشعار ایسے ہیں اِس کو شائع مت کرنا، اس کو خاص خاص لوگوں کے لئے رکھو، مریضوں کے لئے رکھو، لیکن عام اِس کو شائع مت کرنا۔

اس لئے یہ حضرت والا کا نزول ہے، اس میں ہنسی کے بجائے بعض دفعہ رونا آتا ہے کہ کس قدرحضرت والا نے ہمارے لئے اپنے مقام سے نزول فرمایا۔

اسکے بعد جناب ممتاز صاحب نے جیسے ملفوظات سنانے شروع کیے، حضرت فیروز میمن صاحب نے حضرت والا سے عرض کیا کہ ابھی ابھی ایک میسج آیا ہے وہ اجازت وہ تو سنا دوں! حضرت والا کی اجازت سے حضرت فیروز میمن صاحب نے میسج میں سے پڑھ کر ایک خواب سنایا جس میں حضرت والا مرشدی و مولائی میر صاحب دامت برکاتہم کے لئے عظیم الشان بشارت تھے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

ایک نیک اور متقی خاتون نے رات کو خواب میں دیکھا کہ: حضرت والا میر صاحب دامت برکاتہم کی رہائش گاہ بیتِ میر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر کے ساتھ ساتھ بالکل قریب ہے!

حضرت فیروز میمن صاحب دامت برکاتہم نے مزید فرمایا کہ حضرت والا میر صاحب دامت برکاتہم نے اِسی جیسے ایک خواب کی یہ تعبیر بھی فرمائی تھی کہ اور بہت ہی آسان اِس کی تعبیر ہے کہ الحمدللہ ہمارے پیارے شیخ ہمارے آنکھوں اور دل کی ٹھنڈک، ہمارے محسن جن کے احسانات کے تلے میں میرا بال بال دبا ہوا ہے، تو جو حضرت والا میر صاحب دامت برکاتہم کو ہمیں نصیحتیں فرمارہے ہیں الحمدللہ پوری شریعت اور سنت کے مطابق ہیں جو پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر عمل کرے گا اور کروائے گا تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ساتھ ہوگا۔ اللہ ہمیں اپنے پیارے شیخ کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

حضرت فیروز میمن صاحب نے معافی چاہی کہ اس طرح میں نے بیج میں خواب سنا دیا اس پر فرمایا: ارے کوئی معافی کی بات نہیں  یہ آپ کا احسان ہے مجھے تو اِس سے اِتنی خوشی ہوئی کہ میں بتا نہیں سکتا، میں جتنا بھی سجدۂ شکر ادا کرتا رہوں تو خدا کی اِس نعمت کا شکر ادا نہیں کرسکتا، حضرت والا کا صدقہ ہے سب

ممتاز صاحب نے دوبارہ ملفوظات سنانے کا سلسلہ شروع کیا جس کی تشریح میں حضرت والا نے مندرجہ ذیل ارشادات فرمائے

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تقویٰ فرضِ عین فرمایا يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين اے ایمان والوں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور دوسری آیت میں فوراً فرما رہے ہیں کہ اور اللہ کے متقی بندوں کے پاس بیٹھو ۔ ۔ ۔ دونوں میں کیا ربط ہے ۔ ۔ ۔ بظاہر تو الگ الگ باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مفسرین نے لکھا ہے اور حضرت والا سے بارہا سنا ہے حضرت پھولپوری فرماتے تھے کہ كونوا مع الصادقين اس لئے فرمایا  کہ اگر تقویٰ چاہتے ہو جس کا حکم میں دے رہا ہوں اتقواللہ کا کہ تقویٰ حاصل کرو تو وہ موقوف کونو مع الصادقین پر ہے یعنی صحبت اہل پر موقوف ہے اُن کی صحبت میں بیٹھو گے تو متقی ہوجاؤ گے، اللہ والے ہوجاؤ گے اس لئے  حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کیونکہ تقویٰ فرض ہے اور اس زمانے میں تقویٰ حاصل کرنے کا اور ایمان پر باقی رہنے کا واحد طریقہ صحبتِ اہل اللہ ہے یہ بھی فرضِ عین ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے مجددِ وقت تھے حضرت تھانویؒ پچھلی صدی کے اور مجدد کا قول معمولی نہیں ہوتا وہ بھیجا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ عام آدمی نہیں ہوتا۔

جب تقویٰ فرضِ عین ہے تو صحبتِ اہل اللہ بھی اس زمانے میں فرضِ عین ہے کہ اس کے بغیر ایمان پر ہی قائم رہنا مشکل ہے تقویٰ تو بڑی دور کی بات ہے

اور یہ بھی تحریر فرمایا امداد الفتاوی میں کہ اللہ والوں کی صحبت میں جانے کےلئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے نہ بیوی کی نہ بچوں کی نہ ماں باپ کی نہ کسی کی، دین سیکھنے جانے کے لئے اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنے کے لئےکسی کی اجازت کی کچھ ضرورت نہیں ہے ہاں بے ادبی نہ کرو، نرمی کے ساتھ کہہ دو، بیوی اگر روکتی ہے اُس کو بھی نرمی کے ساتھ سمجھاؤ کہ اس زمانے میں اگر میں اللہ والوں یا اللہ والوں کے غلاموں کے پاس نہیں جاؤں گا اوراللہ والا نہیں بنوں گا تو تمہارا بھی خیال نہیں رکھ سکوں گا، ماں باپ سے یہ کہہ دو کہ اگروہاں نہیں جاؤں گا تو آپ کی فرماں برداری بھی مجھ سے نہیں ہوسکے گی میں بھی بھٹک جاؤں گا ادھر اُدھر چلا جاؤں گا۔

ادب کے ساتھ کہو کہ اس میں کوئی حائل نہ ہونے پائے، بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ماں باپ نے اجازت نہ دی تو وہاں گئے تو گناہ ہوگا تو ایسی کوئی بات نہیں ہے بالکل گناہ نہیں ہوگا! ۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries