مجلس۱۱۔ اپریل۲۰۱۴ء اللہ کو معاف کرنا بہت پسند ہے!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں(کلک کریں)

خلاصۂ مجلس: محبی و محبوبی مرشدی و مولائی حضرت والا دامت برکاتہم مجلس میں رونق افروز ہوئے اور حاضرینِ مجلس کو سلام فرمایا، نشست پر تشریف فرما ہوئے۔۔۔۔۔ جناب تائب صاحب حاضرِ خدمت تھے حضرت والا نے اشعار سنانا کا فرمایا، انہوں نے اپنے اشعار سنائے۔ حضرت والا نے بہت پسند فرمائے اور کئی اشعار مکرر سنے، اس کے بعد جناب ممتاز صاحب نے ملفوظات پڑھ سنائے۔۔ درمیان درمیان میں حضرت والا تشریح بھی فرماتے رہے  ۔ آج کی مجلس تقریباً ۱ گھنٹہ پر مشتمل تھی۔!۔۔

اہم ارشادات

تائب صاحب کے اشعار سے حضرت والا کی یاد تازہ ہوگئی ایسا لگ رہا ہے کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ اشعار سن رہے ہیں۔

جان ایسی فدا کی کہ راستے کے مجاہدات بھی دیکھتے رہ گئے، جان ایسی لٹائی کہ دار ورسن  بھی دیکھتے رہ گئے

شاعری یہی ہے کہ یہ نہ معلوم ہو کہ سوچ سمجھ کرکہا گیا،شعر وہ ہے جو سنتے ہی دل میں اُتر جائے

اہل اللہ کے کلام کا مقصد دردِ دل ہے اور الفاظ تو اُس کا ذریعہ ہیں ، دنیاوی شعراء کا مقصود صرف الفاظ ہوتے ہیں اور اندر تو کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ دنیاوی شاعروں کے اشعار کھوکھلے ہوتے ہیں اہل اللہ کے اشعار اصل ہیں۔

حضرت والا کے لطائف قرآنیہ۔ ۔ ۔

حضرت والا الفاظ سوچ نہیں فرماتے تھے الفاظ وارد ہوتے تھے اور الہامی ہوتے تھے

حضرت والا کی ایک حدیث کی دُعا کی محبت بھری تشریح

عمرہ کے لئے ایک خاص دعا کا تحفہ مع شرح:
    کچھ لوگ عمرے کا ارادہ رکھتے ہیں تو عمرے سے متعلق بخاری شریف کی ایک دعا سکھاتا ہوں کہ جب آدمی کسی بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو بادشاہ کے جو قریبی ہیں ان سے پوچھتا ہے کہ بادشاہ کے لیے ہم کیا تحفہ لے جائیں کہ بادشاہ مجھ سے خوش ہوجائے ؟ تو رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم جو اﷲ تعالیٰ کے مزاجِ مبارک کو اتنا جانتے ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام بھی نہیں جانتے، پوری کائنات میں سب سے زیاہ اﷲ تعالیٰ کے مزاجِ الوہیت، خدائیت، معبودیت مسجودیت اور ربوبیت کو سید الانبیاء محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جانتے ہیں۔ اُمت کو مغفرت کیسے ملے؟ یہ بھی سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون جانتا ہے تو جب کعبہ شریف میں پہنچیں تو اور سب دعائیں جتنی کتابوں میں ہیں پڑھیے مگر ایک دعا اختر سکھا رہا ہے، وہ ایسا تحفہ ہے جس کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تحفہ اﷲ کو پیار ا ہے، محبوب ہے۔ وہ کیا ہے؟ اﷲ کو اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنا زبردست محبوب عمل ہے لہٰذا اس دعا کو یاد کر لیجئے۔ جب مقامِ ابراہیم پر دو رکعت پڑھو تو اﷲ کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر جیسا موقع ہو اﷲ تعالیٰ سے یہ دعا کرو:
(( اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ))(سننُ الترمذی،کتابُ الدعوات،ج: ۲،ص:۱۹۱)
عَفُوٌّ کے معنیٰ کیا ہیں اَنْتَ کَثِیْرُ الْعَفْوِ آپ بہت معافی دینے والے ہیں، یہ خالی جملہ خبریہ نہیں ہے اس میں انشائیہ چھپا ہے کہ آپ بہت معافی دینے والے ہیں یعنی آج آپ ہم کو محروم نہ کیجئے ہم کو معاف کردیجئے اور آپ کریم بھی ہیں کہ نالائقوں کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتے، جو لائق او راچھے لوگوں پر مہربانی کرے وہ کریم نہیں ہے بلکہ جونالائق ہو اور رحمت اورکرم کا مستحق نہ ہو، بالکل ہی محروم ہو، نہایت کمینہ ہو، معافی کے قابل نہ ہو اس کو جو معاف کردے وہ کریم ہے۔

    علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ ﷲ نے مؤمن کا نفس خریدلیا اور نفس امارہ بالسوء ہے، اﷲ نے یہ نہیں فرمایا کہ اﷲ نے مومن کادل خریدلیا، مؤمن کی روح خریدلی کیونکہ مومن کا دل او رروح اچھے ہیں کیونکہ ان میں کلمہ ہے، بدمعاشی تو یہ نفس کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کرم سے تمہارا عیب دار مال خریدا ہے بے عیب سودے سے، ہم نے ا س کے بدلے میں جنت دی بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ لَا عَیْبَ فِیْھَا میں نے تمہارے امارہ بالسوء اور گندے نفس کو جو ہر وقت گناہ کرتا ہے کس کے بدلے میں خریدا؟ بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ لَا عَیْبَ فِیْھَا اس جنت کے بدلے میں جس میں کوئی عیب نہیں ہے، اے میرے بندو! میں نے تمہارے عیب دار مال کو خریدا بے عیب سے۔ یہی دلیل ہے کہ اﷲکریم ہے، جب مارکیٹ میں کسی کا سودا خراب ہوتا ہے اور سورج ڈوبنے لگتا ہے، بازار ختم ہونے والا ہوتا ہے تو آدمی روتا ہے کہ آہ میرا سودا تو نہیں بک رہا، اس میں خرابی ہے تو جب کوئی کریم شخص دیکھتا ہے کہ یہ بیچارہ غمگین ہے تو وہ اس کا خراب سودا خرید لیتا ہے تو اﷲ نے ہمارے خراب نفس کو خریدلیا، یہ اﷲ کے کریم ہونے کی دلیل ہے۔

تو بخاری شریف کی حدیث میں سرورِعالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے سکھا دیا کہ اﷲ تعالیٰ سے یہ کہو اے اﷲ آپ بہت معافی دینے والے ہیں اورنالائقوں کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتے تُحِبُّ الْعَفْوَ یعنی اَنْتَ تُحِبُّ ظُہُوْرَ صِفَۃِ الْعَفْوِ عَلٰی عِبَادِکَ یعنی آپ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے کو بہت پیارا اور بہت محبوب رکھتے ہیں جیسے کوئی کہے کہ اس کو فش یعنی مچھلی کا شکار بہت پسند ہے، کانٹا لگائے بیٹھا ہوا ہے، مچھلی پھنسے نہ پھنسے اُلو کی طرح بیٹھا رہتا ہے، دس دس گھنٹہ بیٹھا رہتا ہے چاہے ایک فش بھی نہ ملے مگر اس کو مزہ آتا ہے۔ ایسے ہی کسی کو ہرن کا شکار پسند ہے، ہرن کے پیچھے دس دس میل تک دوڑتے ہیں پسینے پسینے ہوجاتے ہیں تو سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں بتا دیا کہ اے میری امت کے گنہگار لوگو! اﷲ تعالیٰ کو بھی ایک شکار بہت پسند ہے وہ ہے گنہگاروں کے گناہ کو معاف کردینا تُحِبُّ الْعَفْوَ آپ معافی دینے کو بہت محبوب رکھتے ہیں تُحِبُّ الْعَفْوَ یعنی اَنْتَ تُحِبُّ ظُہُوْرَ صِفَۃِ الْعَفْوِ عَلٰی عِبَادِکَ جب بندوں کے گناہوں کو معاف کرنا آپ کو بہت پسند ہے، آپ کو یہ عمل بہت اچھا لگتا ہے، بہت پیارا لگتا ہے تو ہم اپنے اپنے ملکوں سے گناہوں کا ذخیرہ لائے ہیں تو آپ ہم کو معاف کرکے اپنا پیارا اور محبوب عمل ہم پر جاری کردیجئے، آپ کا محبوب عمل ہوجائے گا، محبوب شکار ہوجائے گا اور ہمارا بیڑہ پار ہوجائے گا کہ ہم لوگ معافی پاجائیں گے۔

    بتاؤ! اﷲ تعالیٰ کے اس مزاج کو کس نے بتایا؟ دنیا میں اﷲ کو سب سے زیادہ پہچاننے والے رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم گنہگاروں کو بتا دیا کہ  جہاں بھی رہو چاہے جوہانسبرگ میں رہو، چاہے دبئی میں رہو کہیں بھی رہو یہ دعا جاری رکھو تا کہ اﷲ اپنے محبوب عمل کو تمہارے اس جملے سے جو میں سکھا رہا ہوں اور میں وہی سکھا رہا ہوں جس پر اﷲ کو پیار آجائے، میں رحمۃ للعالمین ہوں اور اﷲ ارحم الراحمین ہے، مجھ سے بڑھ کر تم کو خدا کی رحمت دِلانے والا کون ہوگا؟ لہٰذا ہم تمہیں یہ دعا سکھا رہے ہیں کہ جب تم اﷲ کے دربار میں عمرہ کرنے جاؤ تو ہم سے پوچھ لو، بخاری شریف سے معلوم کرلو، وہ ہماری ہی کتاب ہے کہ اﷲ کے پاس کیا تحفہ لے جانا چاہیے۔

    بعض لوگ اپنے شیخ کے پاس جاتے ہیں تو شیخ کے مریدوں سے پوچھتے ہیں کہ بھئی میرا شیخ کیا پسند کرتا ہے؟ کوئی بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو پوچھتا ہے کہ بھئی منڈیلا کے پاس جارہے ہیں اس کو کیا پسند ہے؟ سنڈیلا کالڈو تونہیں پسند کرتا۔ لکھنؤ کے پاس سنڈیلا ایک شہر ہے وہاں کا لڈو مشہور ہے اور جیسے ہی ریل وہاں پہنچتی ہے تو آواز لگتی ہے کہ سنڈیلا کے لڈو، سنڈیلا کے لڈو۔ تو منڈیلا سے جاکر کہو کہ منڈیلا کے لیے سنڈیلا کا لڈو لایا ہوں تو منڈیلا ہنسے گا یانہیں ؟

    تو سرورِعالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دنیا کے بادشاہ اﷲ کے سامنے کچھ نہیں ہیں، وہاں جا کے بادشاہ بھی بھیک منگا بن جاتا ہے، کسی مسلم ملک کا بادشاہ بیت اﷲ جائے گا تو بتاؤ ہاتھ اٹھا کے بھیک مانگے گا یا نہیں؟ روئے گا یانہیں تو یہ جومیں نے دعا سکھائی یہ اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی کہ یہ تحفہ اﷲکے پاس لے جاؤ، اﷲ اس تحفے کو بہت پسند کرتاہے کہ تم اﷲسے یہ کہہ دو کہ میں آپ کے لیے اپنے گناہوں کا تحفہ لایا ہوں، گناہوں کا ذخیرہ لایا ہوں اور آپ کے رسول نے ہمیں بتا دیا کہ جب آپ گناہ معاف کرتے ہیں تو آپ خوش ہوجاتے ہیں، تُحِبُّ الْعَفْوَ آپ کو معافی دینا بہت محبوب عمل ہے فَاعْفُ عَنِّیْ  تو دیر نہ کیجئے، اپنے اس محبوب عمل کو جاری فرما دیجئے، یہاں فائے تعقیبیہ ہے، محبوب کام میں کوئی دیر کرتا ہے؟ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سکھا رہے ہیں کہ جب آپ کا بندوں کی خطاؤں کو معاف کرنا پیارا عمل ہے تو اے خدا پیارے عمل میں دیر نہ کیجئے فَاعْفُ عَنِّیْ  جلدی سے ہم کو معاف کردیجئے اور اپنا شکار کرلیجئے۔ بتاؤ! شکار میں جب مچھلی آجاتی ہے تو آدمی دیر کرتا ہے؟ فوراً کانٹا اٹھا لیتا ہے تو ہم اپنے اپنے ملکوں سے اپنے اپنے گناہوں کو لے کے آئے ہیں تو آپ فوراً اپنی رحمت و کرم کاکانٹا ڈال کر اپنا محبوب عمل جاری کردیجیے، آپ کا محبوب عمل ہوجائے گا، آپ خوش ہوجائیں گے اور ہمارا بیڑہ پار ہوجائے گا۔

    یہ دعا جس کو یاد نہ ہو وہ یاد کرلے اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ اے اﷲ! آپ بہت معافی دینے والے ہیں، کریم ہیں، نالائقوں کو بھی معاف کردیتے ہیں، جو معافی کے قابل نہیں ہے ا س کو بھی معاف کردیتے ہیں اور معافی دینے کے عمل سے آپ بہت خوش ہوتے ہیں، یہ عمل آپ کو زبردست محبوب ہے، محبوب کے معنیٰ ہیں پیارا تو جب معاف کرنا آپ کا پیارا عمل ہے تو اس پیارے عمل کو کرنے میں آپ ایک سیکنڈ دیر نہ کیجئے۔ فَاعْفُ عَنِّیْ میں فائے تعقیبیہ ہے یعنی ہمیں جلدی سے معاف کرکے آپ اپنا محبوب اور پیارا عمل کرلیجئے اور ہمارا کام بنا دیجئے کیونکہ ہم معاف ہوجائیں تو اس سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی نعمت نہیں ہے۔

بتاؤ! عمرہ کرنے والوں کے لیے اختر نے یہ عظیم تحفہ پیش کیا یا نہیں؟ کوئی بادشاہ سے ملنے جارہا ہو اور کوئی کان میں بتا دے کہ بادشاہ کو یہ پسند ہے تو وہ خوش ہوجائے گا یا نہیں؟ تو میں نے حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام آپ کے کانوں میں ڈال دیا۔ یہ دعا یہاں بھی مانگو، ساری دنیا میں مانگو مگر جب اﷲ کے یہاں، بادشاہ کے یہاں کعبہ شریف جاؤ تو وہاں یہ دعا ضرور مانگو تاکہ اﷲ تعالیٰ اپنا محبوب عمل ہم پر کرلے اور ہمارا بیٹرہ پار ہوجائے۔ جو غیر عالم ہیں علماء دین ان کو لکھ کے دے دیں، یہ دعا پرچہ پر لکھ کر یاد کرلو۔ جو بھی عمرہ کرنے جانے والاہو اس کو یہ دعا ترجمہ کرکے دے دینا۔ میں نے آج آپ لوگوں کو عظیم الشان تحفہ دے دیا، بخاری شریف کی یہ دعا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی عطا فرمودہ ہے۔ 

حضرت نے فرمایا :بڑے بڑے علماء کرام نے اعتراف کیا کہ اس دفعہ عمرہ میں جو مزہ آیا کہ آپ نے یہ دُعا کی شرح فرمائی ۔۔۔ اس طرح مانگا تو ایسا مزہ آیا کہ پوری زندگی میں ایسا مزہ نہیں آیا!

جنت میں فراق نہیں ہے ملاقات ہی ملاقات ہے وصال ہی وصال ہے ۔ ۔  دنیا میں تو آنا جانا ہے ۔ ۔  جنت میں لاکھوں سال گذر جائیں گے۔ جنت کو کوئی عقل سے نہیں سمجھ سکتا ہے ۔ ! ۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries