دینی و اصلاحی سفر(کراچی)خانقاہ غرفۃ السالکین گلستانِ جوہر بلاک۱۲

لسانِ اختر، اخترِ ثانی،شیخ الحدیث، شیخ العلماء ،ترجمانِ اکابر،امیرِ محبت، قلندرِ وقت، عارف باللہ

حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم

----(بروز ہفتہ۳۰ نومبر تا  منگل۱۰ دسمبر ۲۰۱۹ء)----

--( عصر مجلس، بعدمغرب عظیم الشان مرکزی بیان،بعد عشاء غرفہ مجلس و اشعار)--

۵ دسمبر ۲۰۱۹ء بروزجمعرات 

(۳۵) نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا معمول ظہر نماز تک آرام کرنے کا تھا، اس لیے  ظہر سے کچھ دیر پہلے بیدار ہوئے ، نمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد کھانے کی ترتیب تھی ، کھانے سے فراغت کے بعد عصر سے کچھ دیر پہلے مختصر مجلس ہوئی جس  ہمارے حضرت شیخ مدظلہ، حضرت مفتی نعیم صاحب اور دیگر خاص خدام حاضرِ خدمت تھے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم چائے نوش فرمارہے تھے ، کل عشاء میں ہونے والے عظیم الشان مایوسی سے نکالنے والے بیان کے بارے میں احباب نے دوبارہ بہت تعریف اور نفع کا ذکر کیا، جس پر قیمتی  ملفوظات  ارشاد فرمانا شروع کیے۔۔۔حضرت دادا شیخ کو بیماری کی وجہ سے نمازِ عصر حجرہ میں ادا کرنی تھی اس لیے سب احباب مسجد میں نماز کے لیے چلے گئے، صرف چند خدام جنہوں نے حضرت کے ساتھ جماعت سےنماز پڑھی تھی وہ موجود رہے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  بھی نماز کی تیاری کرنے لگے کچھ دیر بعد حضرت شیخ دامت برکاتہم اور دیگر احباب نمازِ عصر مسجد اختر میں پڑھ کر واپس حجرہ میں حاضر ہوچکے تھے، حضرت شیخ کے ساتھ جامعہ اشرف المدارس کے ایک  مولانا صاحب بھی تھے ، جو بہت ہی پرانے ہیں ، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم ان سے مل کر بہت خوش ہوئے،  کچھ محبت بھری باتیں ہوئیں جس کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے نمازِ عصر باجماعت ادا فرمائی۔۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۳۵)نمازِ عصر سے پہلے  مختصر اہم ملفوظات:  اذان  سے متعلق نصائح، احباب نے کل رات کے بیان کی تعریف فرمائی، اس پر فرمایا کہ حق تعالیٰ توسب  غیر محدود محبت کے  ساتھ فرماتے ہیں اور ہم لوگ قرآن پاک کو عربی لغات کے ذریعے سےسمجھنا چاہتے ہیں، اس سے قرآن پاک کیسے سمجھ میں آئے گا، اس پر حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ بیان فرمایا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے الغفور کے ساتھ الودود کیوں فرمایا ؟  ہم جو تمہیں معاف کردیتے ہیں جانتے ہو کیوں؟ "مارے مَیَا کے"۔۔(یعنی ما رے محبت کے ) یہ ایک عارف کے قلب میں مضمون القاء ہوا، ۔۔ حق تعالیٰ ایسی محبت سے فرماتے ہیں ہم لوگ نہیں سمجھتے ہم تو ترجمہ کریں گے الغفور بہت زیادہ معاف کرنے والا  اور الودود بہت زیادہ محبت کرنے والا ! ہوگیا قصہ ختم ! حالانکہ یہاں کچھ بھی ہم نہیں سمجھے صرف اتنا ہوا کہ ترجمہ کردیاسمجھ میں آیا حقائق کہاں منکشف ہوئے۔۔ حالانکہ الغفور الودود تو ایسی تعبیر ہے کہ جان کودم بھر میں موہ لے! اللہ بالکل ہی اللہ پر سو جان سے فدا ہونے لگے واہ کہ آپ نے کیا فرمایا ہے! حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری ؒ کے تلاوتِ قرآن کا حال بیان فرمایا کہ گویا اللہ تعالیٰ کو دیکھتے تھے!۔۔۔ ایک اور بزرگ کے تلاوتِ قرآن پاک کا عجیب واقعہ بیان فرمایا۔۔۔جامعہ اشرفیہ لاہور سے مولانا بلال اشرف صاحب  حاضر خدمت تھے اُن کو دیکھ کر فرمایا کہ آپ سے تو غائبانہ بہت زیادہ محبت ہوگئی ہے۔۔۔ خوب شفقت سے باتیں ہوئیں۔۔۔پھر اس کے بعد اردو زبان کےقدر اور اہمیت،دینی زبان ہونے کی وجہ سے اس کی حفاظت لازم ہونے پر عجیب و غریب نصائح فرمائیں!۔۔۔۔ اور اکابرِ دین کے علوم و معارف کے مطالعہ کی اہمیت کا ذکر فرمایا۔۔۔ ہمارے حضرت والا کے تمام مواعظ حضرت حکیم الامت ؒ کے ملفوظات کی تشریحات ہیں۔۔۔غرفۃ السالکین میں احباب کی تعریف فرمائی۔۔۔ حضرت شیخ دامت برکاتہم کی طبیعت مبارک کل سے کچھ ناساز تھی، پھر بھی حضرت شیخ  حضرت دادا شیخ کی خدمت میں دن رات ایک کررہے ہیں ، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ہمارے شیخ دامت برکاتہم سے طبیعت پوچھی اور حضرت  شیخ کی بھی تعریف فرمائی اور  حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کی ہمارے شیخ دامت برکاتہم سے  محبت کا ایک واقعہ بھی سنایا ۔۔۔ پھر حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی شانِ محبت و شفقت اپنے احباب سے، اس پر ایک دلچسپ واقعہ اور شعر سنایا!۔۔اس کے بعد حضرت شیخ بمع دیگر احباب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے حجرۂ مبارک سے مسجد اختر نماز کی ادائیگی کےلیے روانہ ہوگئے، نماز پڑھ حضرت شیخ ، جامعہ اشرف المدارس سے ایک پرانے مولانا صاحب  کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوئے اُن کی ملاقات حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے کروانی تھی ، حضرت دادا شیخ پرانے ساتھی سے مل کر بہت خوش ہوئے۔۔۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے دوبارہ حضرت شیخ سے طبیعت دریافت فرمائی اور فرمایا کہ اپنی نظر بھی اتروا لیجیے اور ساتھ ڈاکٹر کا علاج بھی جاری رہے، پھر اُن مولانا صاحب کو خوب دعا دی اورحضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  نمازِ عصر کی ادائیگی فرمانے لگے۔۔۔۔

(۳۶) عصر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہمارےحضرت شیخ دامت برکاتہم حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر تھے اور حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ۱۴ جولائی ۲۰۱۹ء کو ایک مسجد اختر میں ایک بیان بنگلہ دیشں سے براہ راست فرمایا تھا اس بیان میں سے کچھ ملفوظات ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم پڑھ کر سنارہے تھے، سب احباب یہ  الہامی جملے سن کر بہت خوش تھے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا:  حق تعالیٰ کا فضل عظیم ہے حالانکہ مجھے یاد بھی نہیں ہے!۔۔۔غرفۃ السالکین کے بارے میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا:"یہاں تو الحمدللہ ہر وقت دل اتنا خوش ہے کہ ہر وقت رونق ہی رونق ہے"۔ حضرت شیخ دامت برکاتہم نے مزید عرض کیا کہ حضرت دُور دُور سے احباب صرف حضرت والا کی زیارت اور ایک بیان سننے کےلیے آرہے ہیں، ابھی باہر بہت بڑا مجمع ہے"۔ آج چونکہ جمعرات تھا اور بعد مرکزی بیان میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بیان فرمانا تھا ۔ اس لیے نمازِمغرب کی تیاری فرمانے لگے ، آج ماشاء اللہ! نماز مغرب کی امامت حضرت دادا  شیخ دامت برکاتہم نے فرمائی ! کثیر تعداد میں مجمع تھا ، مسجد اختر نے اوپری منزل پر بھی لوگ ہی لوگ تھے، ہر طرف نور ہی نور برس رہا تھا، اِس پرنور مجمع میں نمازِ مغرب کی امامت میں جب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  نے تکبیر اولیٰ میں "اللہ اکبر" فرمایا تو دل اُچھل کر حلق کو آگیا ، عجیب کیفیت ہوگئی اور جب حضرت دادا شیخ نے تلاوت شروع فرمائی تو یوں محسوس ہونے لگا کہ قرآن مجید کے الفاظ موتیوں کی طرح زبانِ مبارک سے نکل رہے اور اِس کا نور مسجد میں پھیلتا جارہا ہے، سبحان اللہ !ماشاء اللہ! خوب تجوید کے ساتھ بہت عمدہ انداز میں پہلی رکعت میں "سورۃ التکاثر"اور دوسری رکعت میں "سورۃ الاخلاص " کی تلاوت  پرکیف انداز میں فرمائی!  نمازِ کے اختتام پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم غرفۃ السالکین واپس تشریف لے آگئے وہاں کچھ مہمانوں سے ملاقات کرنی تھی اس لیے فرمایا کہ میرے آنے تک حضرت والاؒ کے اشعار سنائے جائیں۔  یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے۔

(۳۶)نمازِ عصر سے پہلے  مختصر باتیں ، مسجد اختر میں نمازِ مغرب کی امامت اور پرسوز تلاوت

(۳۷) مسجداختر  مرکزی بیان میں بہت بڑی تعداد میں احباب حاضر تھے ، مسجد اختر پوری بھری ہوئی تھی، اوپر کی منزلیں بھی تیزی سے بھر رہی تھیں،  احباب دور دور سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے بیان کا سن کر آگئے تھے ، چونکہ اگلے منگل کی رات کو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی واپسی تھی، لہٰذااس نادر موقع سے احباب پورا پورا فائدہ اُٹھانا  چاہتے تھے ، بیان کے شروع میں ۵۰ منٹ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار ِ معرفت پڑھ کر سنائے گئے،تقریباً ۵۰ منٹ بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مسجدمیں رونق افروز ہوئے اور بیان شروع فرمایا! بیان بہت ہی عجیب چاشنی اور درد لیے ہوئے تھا، رونا بھی تھا ، ہنسنا بھی تھا، تسلی اور اللہ پاک کی رحمت و مغفرت کے پیغامات سنا کر گناہوں سے پریشان ناامید لوگوں کو مایوسی  کے دریا سے  نکال کر توبہ و استغفار کی شاہراہ پر گامزن کرنے والے عجیب و غریب تعبیرات سے پُر الہامی مضامین کا بیان تھا، بہت لوگ رو رہے تھے ، حضرت دادا شیخ نے بیان کے آخر میں کثیر تعداد میں موجود احباب سے ظاہری و باطنی سب گناہوں کو چھوڑنے پر عہد لیا، خود بھی روتے رہے اللہ کی مغفرت و رحمت کی خوشخبریاں ہم جیسے نالائقوں کو سناکر اُمید مغفرت و رحمت دلاتے رہے، بہت عظیم الشان یادگاربیان فرمایا، بیان کے آخر میں ہمارے شیخ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم نے بیان کی تفصیل بہت درد سے پیش فرمائی، پہلی دفعہ اتنی کثیر تعداد میں بیان میں لوگ آئے تھے کہ اتنے  عشاقِ حق تو عید کی نماز میں بھی نہیں ہوتے،دور ایک گھر بیت اقبال میں شرعی پردے خواتین کا بیان سننے کا انتظام  بھی تھا، وہاں بھی پہلی دفعہ ایک ہزار  خواتین یہ بیانِ درد سماعت کیا۔ ذیل میں بیان کے ضروری مضامین کی تفصیل کے ساتھ آڈیو منسلک ہے:

(۳۷) بعد مغرب مرکزی بیان:  "تقویٰ کے راستے سے ضرور وصول الی اللہ ہوجائے گا" (عظیم الشان الہامی بیان)

بیان کے اہم مضامین 

 00:32) مصطفیٰ بھائی نے حضرت والاؒ کے اشعار(۱) ’’ پہاڑوں کا دامن سمندر کا ساحل‘‘ (۲) سنا ہے خانقاہوں میں محبت کے ہیں مے خانے‘‘ 17:00) مفتی انوار صاحب مدظلہ نے حضرت والا ؒ کے اشعار ’’دلِ تباہ میں فرماں روائے عالم ہے‘‘ 25:30) سید ثروت صاحب نے اشعار ’’ (۱)چند دن خون تمنا سے خدا مل جائے ہے‘‘ (۲) گلشن ہے ترے فیض کا ہر لمحہ راز دار 40:00) مولانا عبد الکریم صاحب نے حضرت والا ؒ کے اشعار ’’(۱) ہے اسی طرح سے ممکن تری راہ سے گذرنا‘‘ (۲) جس نے سر بخشا ہے اُس سے سرکشی زیبا نہیں! . 51:04) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مسجد اختر میں رونق افروز ہوئے ماشاء اللہ! 51:50) حضرت شیخ دامت برکاتہم نے تصویر کشی کی ممانعت کے حوال سے اعلان فرمایا 52:26) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھ کر بیان شروع فرمایا 54:33) شروع میں دعا فرمائی کہ اللہ پاک ہمیں اپنی اطاعت کامل اور اتباع سنت اور ذکر اللہ والی زندگی عطا فرمادے(گریہ کے ساتھ رونے لگے) اتباع کامل والی زندگی عطا فرمادے 55:29) اچھا وہ انسان ہے خالق پاک کے ساتھ جس کا اچھا تعلق ہو، اُس محسن عظیم کا رزق کھایا پلایا۔۔۔ لیکن مانتا اُن کی بات نہیں ہے یہ کیسا انسان ہے؟ خود فیصلہ کرے! ۔۔اے اللہ ظلمات کو دور فرمادیجیے،دوری کو ہم سے دور فرمادیجیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پالنے والے ہیں، بے شمار نعمتوں سے پالا ! صرف تمہیں نہیں بلکہ تمہارے ماں باپ کو بھی پیدا کیا پالا! 57:57) حدیث پاک کا مفہوم حضورﷺ کی عبدیت کا تذکرہ، 58:56) چھوٹا بچہ ماں باپ کو کیسے پہچان لیتا ہے ! عجیب مثال فرمائی ، جب چھوٹے سے بچے کو اپنی ماں کی پہچان ہے تو انسان کو اپنے خالق کی پہچان حاصل نہ ہوں یہ کیسی انسانیت ہے؟ حضرت والا فرماتے تھے کہ کوئی بھی شریف بندہ اپنے مالک و خالق کی نافرمانی نہیں کرسکتا! 01:00:55) حق تعالیٰ فرماتے ہیں تم ہمیں یاد رکھنا ہم بھی تمہیں یاد رکھیں گے! سبحان اللہ کیا شان ہے اللہ تعالیٰ ! حق تعالیٰ مجرمین سے بھی بات فرماتے تو قوانین والی بات نہیں کرتے، اُن سے محبت کی بات کرتے ہیں، مجھ سے معافی مانگ لو! میں معاف کردوں گا اور شفقت اور محبت کے ساتھ معاف کرلوں گا اور اپنا مقرب بنا لوں گا اور جنت میں جگہ دوں گا! ایسے کریم ذات کی نافرمانی کیسے کی جائے!01:02:41)قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے پالنے والے کی طرف سے دعوت ہے کہ آؤ گناہ گاروں! جلدی سے آؤ اور مغفرت لے جاؤ! یہ شان ہے محبوب پاک کی! جگہ جگہ رب کا ذکر فرماتے ہیں کہ آجاؤ! تیزی سے آجاؤ! ہم ہی تمہارے پالنے والے ہیں، جو پالتا ہے اس سے محبت ہوجاتی ہے۔ 01:04:08) حدیث شریف :ماں اور باپ میں سے کس کی خدمت زیادہ کرے۔ اس کا جواب حضورﷺ نے دیا ۔ ماں کی شفقت کا حق تین درجہ زیادہ ہے باپ سے۔ باپ کے حق بعد میں ہے لیکن باپ کا حکم بھی مانیں گے، لیکن محبت کا حق ماں کا زیادہ ہے۔ 01:05:45) جنت کی نعمتوں کا بیان۔ 01:07:07) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لاکھوں، کروڑوں گناہ ہوجائیں آؤ! میرے بندوں اپنے پالنے والے سے ابھی ابھی بھاگ کے آکر مغفرت لے جاؤ۔۔ اے اللہ ہم سب کو معاف فرمادیجیے! اللہ تعالیٰ کی شان زبردست پالنے والے ہیں، الغفور و الرحیم ، بہت معاف کرنے والے ہیں اس کا کیا مطلب ہے کہ بہت زیادہ مغفرت لے لو۔ 01:08:25) حضرت تھانوی ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ، میدان قیامت میں مختلف بہانوں سے معاف فرمادیں! کم لوگ ایسے ہوں گے جو جہنم میں جائیں گے۔۔ تو ایسے رحیم مالک سے کیسا تعلق رکھنا چاہیے! 01:09:36) مبلغین کرام کو وعظ حکمت سے پیش کرنے کی تعلیم 01:10:27) جنت متقین کے لیے تیار کردہ ہے! اس میں ترغیب ہے کہ متقی ہی بن جاؤ! ایمان والے جو ہوتے ہیں اُن کو فکرو تلاش ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ کس بات سے خوش اور کس بات سے ناراض ہوتے ہیں۔ 01:11:43) مولانا رومیؒ کا شعر تشریح: جمادے چند دادم زد خریدم۔۔۔ بحمدللہ عجب ارزاں خریدم۔۔۔گناہوں کی گندی چیزیں چھوڑ دینے کی وجہ سے حق تعالیٰ ہمیں اپنے مقربین میں شامل فرمارہے ہیں کیسی عظیم رحمت ہے ! حالانکہ ہم تو گندے پانی سے پیدا ہوئے ہیں پھر بھی یہ مقام! 01:13:22) حضرت تھانوی ؒ کی تمام مسلمانوں کو وصیت: جہاں رہنا اللہ کے لیے تڑپ رکھنا! 01:13:52) مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ ! اللہ تعالیٰ کی محبت جب دل میں آتی ہے تو اللہ کے لیے مٹنے میں اللہ والوں کو مستی معلوم ہوتی ہے۔۔لوگ کہتے ہیں بڑا بننے میں مزہ ہے ، حالانکہ چھوٹا بننے میں، مٹنے میں وہ عزت ہے کہ جس کے لیے بندگانِ خدا نے سلطنتیں چھوڑ دیں۔ اللہ پاک ہمیں مٹنے کی توفیق عطا فرمادیں۔ مٹ کے ملتے ہیں حق تعالیٰ! 01:16:46) حضرت حاجی صاحب ؒ کا تذکرہ کہ جب اُن سےحضرت گنگوہی ؒ بیعت ہوئے مولانا نانوتوی بیعت ہوئے، تو کچھ لوگ حضرت حاجی صاحب کے پاس آئے کہ یہ بڑے بڑے عالم کیسے آپ سے بیعت ہوگئے آپ تو عالم بھی نہیں ؟ یہ کیا بات ہے؟ حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ ہاں مجھے بھی سمجھ میں نہیں آتا! دیکھ لیجیے کیا حال ہے؟ اتنے مٹے ہوئے تھے ۔۔مقامِ عبدیت میں اتنا عروج تھا۔ 01:19:41) اللہ والوں کے دل میں جب اللہ تعالیٰ اپنے قرب کی حلاوت عطا فرماتے ہیں تو اُن کی باتیں اور گفتگو میں حلاوت ، انداز، رفتار اور کردار میں حلاوت اور مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے، حدیث پاک پیش فرمائی جو اللہ و رسول پر فدا ہوگیا اُس کو ایمان کی مٹھاس اور لذت مل جاتی ہے، اسی پر قرآن پاک کی آیت تلاوت فرمائی (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا ۔۔الخ)۔۔ اس کی الہامی تشریح۔ دنیا کا بادشاہ اگر کچھ کہہ دے تو اطمینان ہوجاتا ہے۔۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو ہمیں خوش کرے گا ہم اُس کو ضرور بالضرور بالطف زندگی عنایت فرمائیں گے۔ 01:23:10) بچوں کو بیان کرنے والے کے سامنے نہیں بیٹھنا چاہیے ،واعظ کے سامنے ایسے لوگوں کو بیٹھنا چاہیے جو فہیم ہوں اس پر مولانا رومی ؒ کا شعر فرمایا! 01:27:52) شمال بنگال میں حضرت والا ؒ کے ایک سفر کا واقعہ! ۔۔حضرت ہردوئیؒ کا بنگلہ دیش کی ریل میں سفر کا واقعہ حضرت ہردوئی ؒ پر حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی فداکاری کا مزیدار واقعہ 01:32:35) اکابر کی شانِ فنائیت کا تذکرہ۔ اپنے کو کچھ نہ سمجھنا چاہیے! اس پر اکابر کی فنائیت کے عجیب واقعات بیان فرمائے! 01:33:17) مولانا ہردوئی ؒ طلبہ کرام کو نصیحت فرماتے تھے۔ ہمارا نام تھا طالب علم و عمل! اس لیے دن رات جس طرح ہم علم حاصل کرنے میں مصروف رہیں اسی طرح عمل کے لیے بھی مصروف رہیں! 01:33:17) مولانا نانوتویؒ کا قول کہ میں تو حضرت حاجی صاحب سے حضرت کے علم کی وجہ سے بیعت ہوا اور لوگ تو بزرگ سمجھ کر جاتے ہیں۔ مولانا رومی کا شعر تشریح ۔ 01:35:26) بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے قلوب میں انوار ہی انوار ہیں! عارفین کامل کسی حال میں مطمئن نہیں ہوتے، جس نور پر آپ خوش ہونے لگے یہ نور تو نورِ مخلوق ہے، اس لیے کسی حال میں مطمئن نہ رہیں 01:36:23) حضرت والاؒ کے پاس جب کوئی آتا کہ دعا کردیں کہ میں اللہ والا ہوجاؤں تو حضرت فنائیت سے دعا دیتے ۔ "اللہ مجھ کو بھی اللہ والا بنائے آپ کو اللہ والا بنائے"۔ یہ حضرات ایسے تھے کہ ان کی مقامات پر نظر نہیں ہوتی۔ 01:39:00) حضورﷺ کی نصیحت ایک صحابی بار بار کو یہی نصیحت فرمائی غصہ میں نہ آنا!۔۔ ایسے ہی حضور ﷺ نےجنت کی ضمانت کچھ اعمال پر لی، تو کیا اسلام میں اور گناہ کو چھوڑنا نہیں ہے کیا! بات یہ ہے کہ  ان باتوں میں ایسے مجاہدات ہوتے ہیں کہ اور گناہ چھوٹ جاتے ہیں یہ اندازِ تربیتِ نبوت ہے۔ اسی طرح حضرت والا ؒ کا بھی یہی انداز تھا۔ اللہ کے چاہنے والے جنتی لوگوں کے اوصاف (۱) مال خرچ کرتے ہیں تنگی اور (۲) غصہ پر عمل نہیں کرتے۔ ۔۔ (۳) جو توبہ کرتے رہتے ۔۔۔ کوئی بھی مسلمان پوری طرح لذت گناہ حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے دل میں ایمان کی وجہ سے پریشانی لاحق ہوجاتی ہے۔ توبہ استغفار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے مغفرت ہے۔ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً۔۔۔ الخ (سورہ عمران آیت 135 اور 136 )کی الہامی عاشقانہ تشریح فرمائی۔ 01:49:46) خدام دین کو قرآن و حدیث و اکابر دین کا مطالعہ کرنے پر نصیحت ، اس سے اعمال کردار اور تقریر میں اعتدال پیدا ہوگا، کھلم کھلا کسی گنہگار کا اظہار کیے بغیر اگر نصیحت کی جائے تو اس سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ 01:51:32) يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين (سورہ توبہ آیت 119) کی عاشقانہ تشریح فرمائی۔ قرآن کو پڑھنے اور دیکھنے سے اور پاس بیٹھنے سے بھی راحت دو جہاں مل جاتی ہے۔ حق تعالیٰ کا خیال رکھنا ایسا ہے کہ ہر طرح کے غیر کا خیال ختم ہوجاتا ہے۔ یاد حق جس کو عطا ہوجائے بہت بڑی نعمت ہے!۔ فکر کی برکت سے اللہ کے راستے کھل جاتے ہیں تقویٰ کے راستے سے ضرور وصول الی اللہ حاصل ہوجائےگا۔ جو اللہ والے ہیں وہ میرے ہیں اُن کے ساتھ ہوجانا! صادقین کون ہیں؟ خدا کے پیاروں کےساتھ اتنا رہو کہ اُن جیسے بن جاؤ! ۔۔ سچوں کے ساتھ رہ پڑو! 01:58:31) الرحمن فسئل به خبيرا (سورہ الفرقان -آیت 59) کی تشریح بیان فرمائی! رحمٰن کی شان کسی باخبر سے پوچھو، اکابر کی باتوں میں کیسا دریائے نور ہے!  01:59:34) ایک تو یہ ہے کہ تقویٰ کا مجاہدہ! پیاروں کے ساتھ رہنا ان سے تعلق رکھنا یہ دونوں سے اللہ مل جائیں گے!اس پر عارف باللہ حضرت ڈاکٹر ؒ کا شعر فرمایا: اُن سے ملنے کی ہے یہی راہ ۔۔۔۔ حضرت والاؒ کا شعر۔۔ (کسی اہل دل کی صحبت جو ملی کسی کو اختر)۔ 02:00:47) ہر گناہ چھوڑ دو! کسی اعضاء سے گناہ نہ کرے ، ظاہری گناہ بھی چھوڑ دو! باطنی گناہ بھی چھوڑ دو! یہاں ( حضرت دادا شیخ نے سب سے عہد لیا سب سے ہاتھ اُٹھا کرعہد لیا کہ ہم سب گناہ چھوڑ دیں گے، بہت لوگ رو رہے تھے حضرت دادا شیخ بھی رونے لگے) پھر بہت بہت روتے ہوئے دیر دردِ بھری دعا فرمائی ! ! 02:09:54) آخر میں حضرت والا کا ایک واقعہ مکمل فرمایا! حضرت والا سونے کی کوشش کررہے تھے حضرت دادا شیخ بھی قریب تھے دیکھا کہ حضرت والا یہ شعر جذب کی کیفیت سے تڑپ اور درد کے ساتھ پڑھ رہے تھے سینکڑوں مجنوں تری راہ میں ملے ۔۔۔ حضرت سے پوچھا کہ حضرت آپ کا مخاطب کون تھا؟ فرمایا میں نے اپنی روح کو مخاطب کیا! حضرت دادا شیخ نے فرمایا کہ مرید کو ایسا ہی جواب دینا چاہیے تھا اور یہ بھی تھا کہ حضرت والا نے اپنے شیخ پھولپوری کا یاد کرکے شعر میں مخاطب کیا تھا! حضرت شیخ دامت برکاتہم نے آخر میں بیان سنے جانے کی تفصیل بیان فرمائی! اور فرمایا کہ حضرت ابھی یہاں ہے قدر کرلو! میرے پاس الفاظ نہیں ہے بیان کرنے کے!بیان کے آخر میں مولانا شاہین اقبال اثر صاحب نے اعلان فرمایا کہ ان شاء اللہ ہفتہ ۷ دسمبر  کو حضرت والا دامت برکاتہم  ہمارے ادارے میں تشریف آنا منظور فرمالیا ہے اور اس سے پہلے جناب حضرت حافظ محمد احمد صاحب کی خانقاہ میں بھی  تشریف لے جائیں گے۔

(۳۸) مسجداختر  مرکزی بیان فرمانے کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے نمازِ عشاء مسجد میں ہی ادا فرمانے کے بعد غرفۃ السالکین تشریف لائے، ہال میں جناب سید ثروت حسین صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو کثیر مجمع کی موجودگی میں کھڑے کھڑے ہی مولانا منصور صاحب دامت برکاتہم کے اشعار"جو لوگ صحبتِ اہل وفا ہیں پائے ہوئے" پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم حجرۂ مبارک میں تشریف لے گئے اور وہاں دارالعلوم کراچی کے کچھ مفتیانِ کرام اور دیگر علماء و احباب حاضر تھے کچھ دیر بعد  قیمتی نصائح کا سلسلہ  جس سے بہت عظیم الشان علمی مجلس ہوگئی، پھر رات کھانے کے بعد مختصر مزاح کی مجلس ہوئی جس میں سید ثروت حسین صاحب نے اشعار سنائے، یہاں تک کہ رات کے ۱۲ بجے گئے تھے،احباب نے آج کے بیان پر  اپنے تاثرات کا  اظہارکیا، پھر کچھ احباب جنہوں نے حضرت نے بیعت کی درخواست کی ہوئی تھی ،اُن کو بیعت فرمایا، پھر آرام فرمایا یہاں تک آڈیو منسلک ہے:

(۳۸) مسجد اختر سے غرفۃ السالکین حجرۂ مبارک واپسی، کھانے سے پہلے اور بعد میں نہایت قیمتی علمی ملفوظات: ’’توبہ کرنے والے بھی  متقین ہیں، متقی رہنا بہت آسان ہے جیسے باوضو رہنا، ٹوٹ جائے تو دوبارہ کرلیا، ۔۔۔ جن کے دل میں خوف خدا ہوتا ہے وہ ہر بات میں رضائے الٰہی کا اہتمام رکھتے ہیں۔۔۔مزاج کو ترجیح نہیں دین کو ترجیح دینا چاہیے ۔۔ یہ نہیں کہ کوئی خیال آیا  جوش آیا اُس کو اصل قرار دے کر پھر دلائل سوچتے ہیں کہ دلائل کہاں سے لائیں؟ یہ کیا طریقہ ہے؟ اصل تو ہے کہ دین کیا ہے! ہم اُس کے تابع ہوجائیں، ہمارے جذبات اُس کے تابع ہوجائیں! ہاں اگر ایسی ضرورت پیش آئی کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے دین میں تو پھر تلاش کریں لیکن  اپنے جذبات کو اصل نہ قرار دیں!دین کو اصل قرار دیں اور دین کو اصل قرار دینے کا طریقہ یہ ہے کہ دلائلِ دین کی تشریحات اکابرِ دین کی نظر میں کیا ہیں! اگر اِسی بات پر ہم جم کررہیں گے تو بالکل صراطِ مستقیم ہے‘‘۔۔۔۔ اس مضمون کو مزید تفصیل سے سمجھایا کہ اکابرِ دین کی ہدایات اور تشریحات کی روشنی میں سوچیں گے اس پر شعر فرمایا: مستند رستے وہی مانے گئے۔۔۔ جن سے ہوکر تیرے دیوانے گئے۔۔۔لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے۔۔۔تابہ منزل صرف دیوانے گئے۔۔۔ حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کی شانِ علمی اور حق پرستی کا تذکرہ فرمایا۔۔ حضرت کا طریقہ یہ تھا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کریں گے اور اکابرِ دین کی تشریحات کی روشنی میں بات کریں گےکہ ہمارے اکابر نے تو یوں فرمایا ،ہمارے اکابر کا یہ موقف رہا۔۔پھر اکابر ثلاثہ  کا کا والہانہ  تذکرہ اور پھر علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ، علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی علمی شان کی عظمتوں کو بیان فرمایا اس ضمن میں کئی اکابر علماء اور مفتیانِ کرام کا نام لیا۔۔۔اور فرمایا کہ ایک ایک شخص کا کیا مقام تھا اور رمزی اٹاویؒ کا شعر فرمایا ۔۔۔اس بات کو مکمل فرماکر فرمایا کہ ماشاء اللہ! آج بڑی تعداد میں لوگ آئے ہیں اور اللہ کے لیے آئے ہیں ، اللہ کے آنا بہت بڑی بات ہے۔۔۔کسی کے ہاں قدر نہ ہو لیکن حق تعالیٰ کے ہاں  اس کی بڑی قدر ہے (وکان سعیکم مشکورا)۔۔۔ ایک صاحب  سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ساڑھے پانچ گھنٹے کا سفر کرکے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا بیان سننے کےلیے  ٹنڈو بھاگو سے ۲۷ احباب کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں، حضرت دادا شیخ یہ سن کر بہت خوش ہوئے خوب دعائیں دیں۔۔۔پھر سامنے خدمت میں حاضر جناب حافظ محمد احمد صاحب(خلیفہ مجاز حضرت والا رحمہ اللہ ) کا تذکرہ فرمایا ۔۔۔شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ کا ملفوظ نقل فرمایا کہ’’جتنا ادب شیخ کا اُن کے سامنے ہے اُتنا ہی ادب اُن کی غیر موجودگی میں ہے، جتنا حیات میں ادب ہے اُتنا ہی وفات کے بعد بھی ہے، کیونکہ ادب جس کے لیے اللہ والوں کا کرتے ہیں  وہ تو اللہ کی ذات ہے اور اللہ تو حاضر و ناظر ہیں سب کچھ دیکھتے ہیں!‘‘ مفتی نعیم صاحب نے دارالعلوم کراچی سے حاضر مفتی یعقوب صاحب مدظلہ کا تعارف ایک کتاب کے حوالے سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے عرض کیا۔۔۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی غیر عالم خلفاء کرام کو نصیحت  کہ حضرت حکیم الامت کے  مواعظِ ثلاثہ بہشتی زیور ، تسہیل المواعظ کا مطالعہ رکھیں اور اِس کو سنایا بھی کریں ۔۔۔عظیم الشان نفع ہوگا۔۔۔۔خدمت میں حاضر حضرت حافظ ضیاء الرحمٰن صاحب کا تذکرہ فرمایا کہ اِن کو عالم ہونے کا شوق تھا تو  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  حافظ صاحب کو مختصر نصاب بناکردیا تھا، حافظ صاحب کو اِس سے بہت ہی نفع ہوا جس کا ذکر انہوں نے کیا۔۔۔۔ پھر فرمایا کہ  علم دین کی باتیں اور علم دین والی ساری باتیں بہت ہی پیاری ہیں۔۔۔۔ یہاں ہر آئمہ اربعہ کے آپس میں علمی اختلاف کے بارے میں فرمایا کہ کیا پیارا جھگڑا ہے۔۔۔ بہت مزیدار جھگڑا ہے!۔۔۔ اس لیے جو اہل حق ہیں وہ  چاروں آئمہ کرام کو احترام اور محبت سے دیکھتے ہیں!۔۔۔۔اس پر ایک مزیدار واقعہ بیان سنایا۔۔۔(تقریباً آدھے گھنٹے کی زبردست علمی ملفوظات کے بعد حضرت دادا شیخ نے  کھانا نے بمع احباب کھانا تناول فرمایا) کھانے کے بعد  پندرہ مختصر پرلطف مجلس ہوئی جس میں سید ثروت حسین صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اشعار پڑھ کر سنائے جس سے حضرت دادا شیخ اور سب احباب بہت محظوظ ہوئے۔ مجلس کے اختتام پر  مولانا ابراہیم کشمیری صاحب حاضر ہوئے اور آج کے مرکزی بیان کے بارے میں اپنے تاثرات کا خوب اظہار کیا۔۔۔۔

چھٹے دن کی تمام آڈیوز کو محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......یکم دسمبر برو ز اتوار.......۲ دسمبر بروز پیر......۳ دسمبر بروز منگل.......۶ دسمبر بروز جمعہ

۷ دسمبر برو ز ہفتہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۹ دسمبر بروز پیر.........۱۰ دسمبر بروز منگل