دینی و اصلاحی سفر(کراچی)خانقاہ غرفۃ السالکین گلستانِ جوہر بلاک۱۲

لسانِ اختر، اخترِ ثانی،شیخ الحدیث، شیخ العلماء ،ترجمانِ اکابر،امیرِ محبت، قلندرِ وقت، عارف باللہ

حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم

----(بروز ہفتہ۳۰ نومبر تا  منگل۱۰ دسمبر ۲۰۱۹ء)----

--( جمعہ بیان،حجرۃ الطالبین آمد، عشاءبیان مسجداختر ،رات۱۱ بجے غرفہ میں الہامی مجلس)--

۶ دسمبر ۲۰۱۹ء بروزجمعۃ المبارک 

(۳۹)آج جمعۃ المبارک تھا، حضرت شیخ دامت برکاتہم نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے درخواست کی تھی کہ  مسجد اختر میں جمعۃ المبارک کا بیان فرمائیں، حضرت دادا شیخ نے منظور فرمایا تھا ، لہٰذا فجر کی نماز کے بعد آرام فرما کر جمعہ سے پہلے بیدار ہوئے اور جمعہ کی تیاری فرمانے لگے اس دوران حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی اجازت سے حضرت شیخ دامت برکاتہم نے مسجد اختر میں بیان شروع فرمایا، تقریباً آدھے گھنٹے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مسجد اختر میں رونق افروز ہوئے، اور ایک گھنٹہ تک عظیم الشان  بیان فرمایاجس کی آڈیو اہم مضامین کی تفصیل کے ساتھ منسلک ہے:

(۳۹)مسجد اختر جمعۃ المبارک بیان  : " سارا دین تو تعلق مع اللہ ہے"

بیان کے اہم مضامین 

 01:18)  حضرت دادا شیخ  عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبدالمتین صاحب دامت برکاتہم کی آمد میں کچھ تاخیر تھی لہٰذا ہمارے حضرت شیخ شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھ کر بیان شروع فرمائی!آیت: کونو مع الصادقین! 02:16) جعلی لوگوں کی نشانیاں! ایسے لوگوں کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ سچے لوگ نہیں ہے! بس بھئی اب گھر اور مسجد میں ہی جاؤ! حالانکہ اللہ تعالیٰ سچوں کے ساتھ رہنے کو فرض فرمارہے ہیں! حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی اس پر دودھ کی بوتل کی مثال! 03:48) شیطان تکبر کی وجہ سے برباد ہوا! جس کی وجہ حسد اور بدگمانی ہے! اور شیطان نے دیکھا کہ اللہ سے دورکرنے کا آسان راستہ تکبر ہے، اس لیے یہ قیامت تک اپنا نسخہ آزماتا رہے گا! 05:00) شیخ پر اعتراض کرنے والوں کو حضرت مولانا شبیر علی تھانویؒ کا جواب کہ ہم نے شیخ کو معصوم نہیں جانا! اُن کی نیکیاں بھی تو دیکھو! جس کا دل اللہ والوں کی محبت سے خالی ہوگا وہی اعتراض کرے گا! 06:58) اللہ والوں کی شانِ استغناء! اللہ والوں کی بادشاہت دل پر ہوتی ہے! اللہ تعالیٰ ہر  ولی کو چُھپا کر اپنا قرب دیتے ہیں! اس پر بچے کی مثال فرمائی کہ ماں بچے کو دودھ کپڑے سے چُھپا کر دیتی ہے کہ میرے بچےکو دوسرے بچوں کی نظر نہ لگ جائے! 07:52) حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اپنا واقعہ بیان فرمایا کہ کئی جگہ دھوکے کھائے اور پھر دل میں آیا کہ اب کوئی اللہ والا نہیں ہےاس پر حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی عجیب بات بتائی کہ منگنی میں کتنے دھوکے کھاتے ہو، کاروبار میں  بھی کتنے دھوکے ہوجاتے ہیں، توپھر کیا کوشش نہیں کرتے۔۔۔ تاروں کے بیج میں سورج تو ایک ہی ہوتا ہے، اللہ والے کم ہیں، لیکن اللہ والے قیامت تک رہیں گے۔۔ ہمارا فرض ہے تلاش کرنا! اس پر مثال فرمائی کہ اگر کوئی دوائی لینی ہو تو ڈھونڈتے ہو اچھا میڈیکل اسٹور! 12:28) قرآن پاک میں اللہ والوں کی نشانیاں بیان فرمائی! اگر دل میں بدگمانی لاؤ گے تو پھر کیا ملے گا؟ 14:01) ماشاء اللہ !میرے شیخ  کی زیارت کے لیے کئی شہروں سے سینکڑوں احباب آگئے! اس پر حضرت مفتی احمد ممتاز صاحب کا واقعہ بیان فرمایا کہ ماڑی پور اتنی دور سے حضرت والا رحمہ اللہ سے ملاقات کےلیے گلشن خانقاہ آتے تھے ! فرماتے تھے ہر لمحہ شکر ادا کرتا ہوں کہ خانقاہ کے دروازے تک پہنچ گیا، پھر شکر ادا کرتا ہوں کہ خانقاہ کے اندر چلا گیا ، پھر شکر ادا کرتا ہوں کہ حضرت والا سے ملاقات ہوگئی! 15:00) میرے شیخ  کا ایک ایک جملہ بتاتا ہے کہ آسمانی علوم عطا ہورہے ہیں! عجیب الہامی بیانات ہورہےہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے عاشقوں کو نئی نئی تجلی عطا فرماتے رہتے ہیں!۔۔۔ گھر سے اللہ  کے لیے نکلنے والے کے لیے 70 ہزار فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ 18:00) اللہ والے کی راحت کا بہت بہت خیال رکھنا ہے! اللہ والوں کو دیکھنا بھی عبادت ہے ! اس لیے مصافحہ سے حضرت کو تعب ہوگا! 18:25) ایک صاحب کو جذب ہوا صرف حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے! اس کا واقعہ بیان فرمایا! اللہ والوں کو دیکھنا بھی عبادت ہے! پارس پتھر کی مثال بیان فرمائی!۔۔ کونو مع الصادقین میں کیا ملتا ہے خود اپنے دل میں محسوس کرلیں!۔۔ اللہ والے کی ہم سب پر نظر پڑ جائے یہ ناممکن ہے! بس ہم زیارت کرلیں! اس لیے محروم کوئی نہیں جاتا ہے !۔۔۔ نیاگرا آبشار کی چھینٹوں کی مثال بیان فرمائی!۔۔جس اللہ والے پر اللہ کی رحمت کی بارش برس رہی ہے تو پھر ہم کیسے محروم رہ سکتے ہیں! اس دوران خبر آئی کہ حضرت دادا شیخ عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم مسجد اختر آرہے ہیں تو حضرت شیخ دامت برکاتہم نے بیان روک دیا اور 24:27) حضرت دادا شیخ حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم مسجد اخترمیں رونق افروز ہوئے! الحمدللہ 26:43) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھ کر بیان شروع فرمایا! 28:25) بیان کے شروع میں ہی دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف فرمادے! گناہوں اور غیر اللہ سے پوری حفاظت فرمائے! 28:58) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں قرآن اے ایمان والو! مجھ سے رشتہ جوڑنے والوں مجھ سے تعلق رکھنے والو! تم تو اپنے مالک پاک کا خوب لحاظ رکھنا 29:56) ایمان قلب کے ذریعے سے تصدیق کا نام ہے! اور اسلام ظاہر میں عمل کا نام ہے، آپ ﷺ کے طریقہ حیات کو اپنی زندگی میں اپنائیں گے تو اس کو اسلام کہتے ہیں! 31:10) اللہ پر فدا ہونے کا طریقہ کیا ہے؟ کس طرح آپ ﷺ کی فدائیت کے طریق پر فدا ہونا ہے؟ اسلام کی جامعیت کا ذکر! اللہ بھی محبوب ہیں اور آپ ﷺ بھی محبوب ہیں ! اس سے اللہ تعالی کو خوشی ہوتی ہے کہ بندہ آپ ﷺ کو چاہتا ہے! 32:19) حدیث شریف میں ہے تین باتیں، تین اخلاق، تین اوصاف جس سے اندر ہوں تو ان تین باتوں کی برکت سے ایمان کی حلاوت اس کو ضرور ملے گی ۔ ایمان سےتصدیق قلبی اور اسلام سے اعمالِ دین مراد ہے۔ ایمان اور اسلام میں فرق بیان فرمایا! حدیث شریف میں ہے تین باتیں جس سے اندر ہوں تو ایمان کی حلاوت اس کو ضرور ملے گی، اگر یہ اوصاف جس کے اندر ہوں گے تو اس کے لیے ز بھی آسمان ہوتا ہے! آسمان کیا جانے سجدہ کا کیا مقام ہے! سجدہ میں ایسا قرب عطا ہوتا ہے کہ لگتا ہے کہ ہزاروں جنتیں اُس کو عطا ہوگئیں شرط یہ کہ گناہوں سے بچیں اور اللہ والوں کی صحبت اٹھائیں تو اسلام کی ایک ایک بات لذیذ لگے گی ۔ 36:40) جنت کا راستہ کیا ہے؟ جنت کا راستہ اعمال کا راستہ ہے، اطاعت کا راستہ ہے! جنت کا راستہ ذکر اللہ کا ہے، اللہ والوں کی صحبت کی برکت سے دین آسان اور لذیذ ہوجائے گا! 37:53) مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئی ؒ فرماتے تھے کہ دل میں نور آتا ہے ضرور بالضرور سَرور لاتا ہے! قرآن میں دل میں نور آنے کو کئی جگہ بیان کیا گیا! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون حاصل ہوگا! 39:23) اللہ ہی ہمارے سب ہیں ! ارادہ کرلو ہم دیوانوں کے مقام سے اللہ سے محبت کریں گے! مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے شعر کی تشریح ۔ نعرہ مستانہ خوش می آئے دم ۔۔۔ 41:25) مولانا وصی اللہ صاحب ؒ کا تذکرہ ! مولانا وصی اللہ صاحب ؒ کا اندازِ بیان ایسا تھا کہ جیسے شیخ حضرت حکیم الامت تھانوی ؒ بیان فرمارہےہیں ! ایسی شدید نسبت اتحادی حاصل تھی، مولانا وصی اللہ صاحب کی خاموش مجلس کا عجیب تذکرہ! 43:04) اہل اللہ خاموشی کی مجلسوں میں حلاوت ہوتی ہے! یادِ الٰہی کیا چیز ہے؟ 45:36) آیت :الا بذکر الله تطمئن القلوب کی الہامی تشریح فرمائی! 46:15) حضرت خواجہ صاحب کا شعر:میں رہتا ہوں دن رات جنت میں گویا۔۔۔میرے باغ دل میں گُلگاریاں ہیں۔ اس کی تشریح: اللہ والوں کو اطاعت کی وجہ سے دنیا میں ہی جنتِ سکون، جنتِ ایمان ، جنتِ حلاوتِ ایمانی ملتی ہے۔ 47:09) اللہ کی اطاعت سے جو سکون اور اطمینان عطا ہوتا ہے وہ جانِ جنت ہے ! اور روحِ جنت دیدارِ الٰہی ہے! 49:00) مولانا رومی کا شعر اور تشریح: دریائے حلاوت اہل اللہ کو عطا ہوتا ہے جب وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں!۔۔۔ روح کے ذرے ذرے اور جسم کے ذرے میں ایک دریائے شہد محسوس ہوتا ہے! یہ مولانا رومیؒ نے حلاوتِ ایمانی کی تعبیر کی ہے! مولانا رومی کی دعا کہ پوری زندگی ایسی زندگی چاہتا ہوں۔۔ 50:25) جو گناہوں سے بچتا ہے اس کو اللہ تعالی حلاوتِ ایمان عطا فرما ہی دیتے ہیں! 51:25) اللہ سے تعارف کروایا آپ ﷺ نے! 52:09) حدیث شریف میں ہے تین باتیں جس سے اندر ہوں تو ایمان کی حلاوت اس کو ضرور ملے گی، (۱) اللہ و رسول سب ماسوا سے زیادہ اُن کو محبوب ہوں! پھر اس کی تشریح فرمائی!۔۔۔ اگر اللہ کی محبت سینے میں ہے تو حضورﷺ کی محبت بھی ہے، اور اگر حضورﷺ کی محبت سینے میں ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت بھی یقیناً موجود ہے ! کسی ایک کا بعض دفعہ غلبہ ہوجاتا ہے! اس کی بہت والہانہ مثالیں فرمائیں ۔ بیک وقت اللہ بھی ہمارے محبوب ہیں اور حضورﷺ بھی ہمارے محبوب ہیں!حضرت والا ؒ کی اللہ اور رسول ﷺ کی محبت کا تذکرہ میں ایک واقعہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بیان فرمایا! (۲) اللہ کےلیے کسی سے محبت کرنے پر حلاوت عطا ہوتی ہے! اسی لیے لوگ اپنے شیخ سے محبت کرکے کیسا نور محسوس کرتے ہیں! (۳) جس کو کفر اور گناہ کی طرف لوٹنا ایسا دشوار ہو جسے انگارے پر جلنا۔ ایسے تین اوصاف والوں کو حلاوت ایمان عطا ہوتی ہے! 59:13) ایمان نام ہے محبت کا! لاالہ کی تلوار سے غیر اللہ ختم ہوجاتے ہیں، جب بندہ لاالہ الا اللہ کہتا ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا! اس پر کچھ شعر فرمائے! 01:01:27) حضرت حکیم الامتؒ کا قول : سارا دین تو تعلق مع اللہ ہے، ایمان تو پرائمری اسٹیج ہے! اللہ سے تعلق کو بڑھاؤ! گہرا کرو! جب تک کہ تعلق اللہ سے گہرا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے اولیاء اللہ فرمائیں گے! 01:04:17) اس کو تعلق مع اللہ حاصل نہیں ہے جو عہد و پیمان کا لحاظ نہیں رکھتااور حق تعالیٰ کا کامل بندہ وہ ہے تو اپنے ہاتھ، زبان کی حفاظت کرے، اللہ کی کسی مخلوق کو ستانے والے کو حق تعالیٰ سے خاص تعلق نہیں ہوسکتا! 01:05:58) اگر تعلق مع اللہ حاصل ہو تو زندگی کے ہر شعبے میں اس کا اثر آتا ہے! اس پر حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے، (۱) اخلاق رزیلہ جاتے رہیں (۲) اخلاق حمیدہ پیدا ہوجائیں (۳) معاصی چھوٹ جائیں (۴) غفلت من اللہ جاتی رہے، توجہ الی اللہ پیدا ہوجائے۔ حضرت ہردوئی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک گناہ کبیرہ کی عادت ہو تو وہ ولی اللہ نہیں ہے! اگر احیاناً ہوجائے تو توبہ کر لیتا ہے! عادت نہیں ہے۔حضرت تھانویؒ کا قول :متقی رہنا اتنا ہی آسان ہے جتنا باوضو رہنا! 01:10:05) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابن آدم تم کثرت خطا کرنے والے ہو تو کثرت ِ توبہ سے اس کی تلافی کرکے اچھے بندوں میں شامل رہو۔ یعنی کثرتِ خطا اگر ہے تو کثرت توبہ سے اس کی تلافی کرتے رہو۔ 01:12:05) آج کل دورِ گناہ ہے ہر طرف گناہ ہیں! لیکن اسی ماحول میں ہمیں اللہ کو راضی رکھنا ہے اللہ سے گہرا تعلق بنانا ہے! ہم جو گناہوں سے بچنے کی تکلیف اٹھائیں گے حق تعالیٰ کو اس پر بہت خوشی ہوتی ہے! ہمارا تڑپنامحبوب پاک کو پسند ہے ! میرے شیخ کا شعر ہے ؎ یہ تڑپ تڑپ کے جینا لہو آرزو کا پینا۔۔ ہمارا کام ہی ہے تڑپنا! ((والذین جاھدوا فینا)) کا نام ہے تڑپنا!۔۔۔ اگر اللہ سے محبت ہے تو تڑپنا پڑے گا۔۔ اللہ کےلیے تڑپنے میں لطف جنت ہے! مولانا شاہ محمد احمد صاحبؒ کا شعر لطف جنت کا تڑپنے میں جسے ملتا نہ ہو۔۔۔ 01:15:24) کسی بھی گناہ سے تعلق نہ ہو! اللہ کو ہم کیسے ناراض کرتے ہیں! بقسم بخدا جو اللہ کا ہوتا ہے وہ غیبت سے بہت ڈرتا رہتا ہے 01:16:16) حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کےحاسدین کا تذکرہ!۔۔۔ واقعہ بیان فرمایا کہ حضرت والا نے اپنے حاسد کی غیبت کرنے سے اپنے احباب سے روک دیا تھا! 01:17:56) حضرت خواجہ صاحب نے اپنے پیر بھائیوں کو ہنسایا پھر پوچھا کس کا دل اللہ سے غافل تھا! لبوں پر ہے گو ہنسی بھی ہر دم اور آنکھ بھی میری تر نہیں ہے۔۔مگر جو دل رو رہا ہے پیہم کسی کو اس کی خبر نہیں ہے!۔۔ ہر وقت قلب اللہ کی طرف متوجہ رہے! 01:19:32) مزاح کرنے میں بہت زیادہ قلب کی نگرانی بہت ضروری ہے! مزاح کی حدود اور  شرائط بیان فرمائیں! 01:20:28) حضرت ہردوئی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ  حضرت حکیم الامت تھانوی  نے اس ملفوظ میں ابتداء سے انتہاء  تمام سلوک و تصوف کو بیان فرمادیا کہ (۱) اخلاق رزیلہ(برے اخلاق) جاتے رہیں (۲) اخلاق حمیدہ(اچھے اخلاق) پیدا ہوجائیں (۳) معاصی(گناہ) چھوٹ جائیں (۴) غفلت من اللہ( اللہ  سے غفلت) جاتی رہے، توجہ الی اللہ ( اللہ کا دھیان) پیدا ہوجائے۔ 01:22:06) جب بندہ حق تعالیٰ کے لیے قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے خود ہی آسانیاں پیدا فرمادیتے ہیں 01:22:22) درد بھری جامع دعا جس میں  مسجد اختر اور خانقاہ غرفۃ السالکین کے لیے بھی دعا فرمائی!

(۴۰)بیان کے بعد  جمعہ کی  اذان ہوئی اور سنتوں کی ادائیگی کے بعد حضرت مفتی نعیم صاحب دامت برکاتہم نے جمعہ کا خطبہ پڑھا اور اپنی پُرسوز آواز میں جمعۃ المبارک کی نماز بھی پڑھائی، حضرت مفتی صاحب کی اقتداء میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم، حضرت شیخ دامت برکاتہم اور کثیر تعداد میں احباب نے نمازِ جمعہ ادا کی، یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۴۰)مسجد اختر میں جمعۃ المبارک کا خطبہ و نماز: حضرت مفتی نعیم صاحب دامت برکاتہم

(۴۱) جمعہ نماز کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مسجد اختر کے منبر کے  حوالے سے حضرت شیخ دامت برکاتہم کو کچھ نصائح  فرمائی ، پھر غرفۃ السالکین حجرۂ مبارک میں تشریف لائے یہاں دوپہر کھانے کا نظم تھا، کھانے کے دوران بھی دین کی باتیں فرماتے رہے: "بات بالکل صاف اور واضح کرنے پر نصیحت" ، "حج و عمرہ بہت آسان ہے" ، "دین بہت آسان  ہے" ، "سنتِ رسولﷺ پر عمل سے شانِ محبوبیت پیدا ہوتی ہے" ، "مزاح کی حدود و شرائط" جیسے مضامین پر عظیم الشان ملفوظات ارشاد فرمائے، کچھ ملاقاتیں بھی ہوئیں پھر  نمازِ عصر کی تیاری فرمائی، مسجد اختر میں نمازِ عصر ادا فرماکرحضرت صوفی ممتاز صاحب دامت برکاتہم  کی خانقاہ "حجرۃ الطالبین" واقع اے ۱۹ سندھ بلوچ سوسائٹی؛ کی طرف روانگی ہوئی ،احباب موٹر سائیکل اور گاڑیوں پر ہمراہ تھے کچھ ہی دیر میں  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مع خدام حجرۃ الطالبین  پہنچ گئے ،یہاں تک کی ریکارڈنگ منسلک ہے:

(۴۱)بعد جمعہ ۳ بجے مجلس میں عظیم الشان ارشادات:  مسجد کے منبر و محراب کی  ترتیب اور صفائی کے حوالےسے نصائح کہ محراب مسجد کے ذریعے سے  حُسن اسلام ، رونق اسلام  خوب ظاہر ہوتی ہے۔ حجرہ ٔ مبارک میں تشریف فرماہوکر ملفوظات فرمائے:  مسائل دین معتمد علماء اور مفتیان  کرام سے پوچھ پوچھ کر عمل کرنا چاہیے ، راہِ اعتدال کو اختیار کرنا چاہیے۔۔۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے درسِ حدیث کے حوالے سے اپنے معمولات کا ذکر فرمایا۔۔آدابِ معاشرت کا اہم ادب  بیان فرمایا کہ " بات واضح اور صاف کرنی چاہیے"، اس ضمن میں مفتی نعیم صاحب کی تعریف فرمائی کہ ماشاء اللہ پورے بات واضح اور صاف کردیتے ہیں ۔۔۔۔ حج  و عمرہ کے مسائل  بہت آسان ہے، بعض اِس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ لگتا ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے،  حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے اپنے ایک رسالے کا ذکر فرمایا کہ جس کی وجہ سے  اعمال حج  کو ترتیب وار ذکر کیا گیا ہے، اور مسائل کے لیے علماء و مفتیان کرام سے پوچھنے کا کہا گیا ہے،   اس ضمن میں احباب کے نفع کا ذکرفرمایاکہ پڑھ کر حج بالکل آسان ہوگیا ، علماء سے لوگ پوچھتے نہیں ہیں ، بازاروں  میں جاکر پتہ نہیں کس کی کتاب خرید لیتے ہیں،  پریشان ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حج اتنا مشکل ہے تو ڈر جاتے ہیں۔۔۔حالانکہ بالکل آسان ہے!۔۔ معلم ِ دین کو چاہیے کہ آسانی کا طریقہ ہمیشہ ملحوظ رکھے کہ لوگ اس میں آسانی محسوس کریں ورنہ احکام ِ شریعت یا اعمال و عبادات کے بارے میں ایسا گمان آیا کہ شریعت نے کتنا سخت کردیا!  تو یہ طریقہ کیسے صحیح ہے؟اللہ تعالیٰ نے تودین کو آسان فرمایا ہے۔۔  بیماری میں وضو کی جگہ  تیمم کرنے میں اور نماز شرعی عذر میں اشاروں سےپڑھنی پڑھے تو اس رخصت کے عمل  میں حق تعالیٰ کی  بندوں پر بے مثال شفقت اور محبت اور خود اس عمل میں عظیم الشان نور کا والہانہ ذکر  فرمایا، سب احباب یہ علوم و معارف سن کر ماشاء اللہ! ماشاء اللہ! کے نعرے بےساختہ لگا رہے تھے۔۔۔پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب شان ہے کہ آپ ﷺ کی سنتوں کے اتباع کے لیے ہمیں حکم فرما کردین کو آسان ہی نہیں زبردست لذیذ اور شیریں فرمادیا۔۔۔ اس پر برش سے دانت صاف کرنے اور مسواک سے کرنے میں فرقِ عظیم کو نہایت درد بھرے انداز سے واضح فرمایا کہ مسواک ادائے محبوبِ پاک ﷺ ہے ، ادائے محبوب ﷺ حق تعالیٰ کو خوب بھاتیں ہیں کہ یہی ادائیں مجھے پسند ہیں یہی کرکے دکھاؤ۔۔۔۔لوگ چاہتے ہیں کہ لوگ مجھ سے محبت کریں چاہنے سے کیا ہوتا ہے! اگر ہم حق تعالیٰ کو خوش رکھیں کہ آپ ﷺ کے طریقے پر چلیں گے تو لازم ہے کہ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوجائے  گی! حق تعالیٰ نے خود ہی فرمادیا کہ اے محبوب ﷺ آپ اُن سے کہہ دیا کریں کہ "اگر تم اللہ کو چاہتے ہو تو ہماری چال چلو" ((فاتبعونی)) ۔۔۔۔ اس مضمون کے بعد مزاح کی حدود و شرائط کے حوالے سے طویل نصائح فرمائیں کہ اس میں شریعتِ پاک کی نگاہ میں جتنی گنجائش ہے بشرط عدم غفلت! پھر ایسے مزاح میں بعض اوقات بچے بھی بیٹھتے ہیں اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے اس میں حفاظتِ دین ہے، حفاظتِ حیاء ہے، آپ ﷺ نے فرمایا   جس کا مفہوم یہ ہےکہ حیاء ایمان کی بہت ہی پر عظمت شاخ ہے ، شریعت ِ پاک کی نگاہ میں حیاء اور اُمور حیا کی حفاظت بہت زیادہ مطلوب ہے۔  حیاء کے ہر ہر جز میں خیر ہی خیر ہے! ۔۔۔اس لیے اندازِ تعبیرِ دین اس طرح ہونی چاہیے کہ شرم و حیاءکا معاملہ بالکل محفوظ رہے اُس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔۔۔یہ عظیم الشان ملفوظات ارشاد فرماکر ایک صاحب کی درخواست پر اس میں تحریراً نصیحت لکھ کر دی: "ہمہ وقت اور ہمہ حالت میں رضائے الٰہی کا اہتمام و التزام  اور کثرتِ یاد محبوب جل جلالہ کا اہتمام اور آپ ﷺ کی اداؤں پر جینا اور مرنا! پھر بندہ بالکل کامیاب ہے!۔۔۔ کچھ احباب کوٹ ادو سے سفر کرکے صرف حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  سے  ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تھے، اُن سے بہت محبت سے ملاقات فرمائی  پھر نمازِ عصر کے لیے مسجد اختر کے لیے روانہ ہوئے اور نمازِ عصر کے بعد حضرت صوفی ممتاز صاحب کی خانقاہ میں بیان کی ترتیب تھی ، لہٰذا نماز کے بعد گاڑی میں تشریف فرماہو کر "حجرۃ الطالبین" واقع سندھ بلوچ سوسائٹی کی طرف روانگی ہوئی ، حضرت صوفی ممتاز صاحب دامت برکاتہم حضرت والا شیخ العرب والعجم مجدد زمانہ  عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خادم وخلیفہ ٔ مجاز بیعت ہیں اور صدیقِ زمانہ حضرت والا میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کے خادمِ خاص رہے اور اب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے متعلق ہیں۔ حجرۃ الطالبین کے دروازے پرکثیر تعداد میں حضرت صوفی ممتاز صاحب دامت برکاتہم اور ہمارے شیخ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کے احباب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا استقبال فرمایا ۔

۴۲) حجرۃالطالبین میں  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مع احباب داخل ہوئے، وہاں تو خوشیوں کا سماں تھا، دروازے پر ہی ایک پیر بھائی کی چھ برس کی بیٹی نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا استقبال اس دعا کے ساتھ کیا:’’اللہ پاک یہ دم سلامت رکھے مولائے کریم‘‘ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت خوش ہوئے ماشاء اللہ! دروازے سے داخل ہوکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے خانقاہ کا جائزہ لیا اور کچھ ملفوظات ارشادفرمائے حضرت ممتاز صاحب کے صاحبزادے حافظ مولانا احسن صاحب جو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے مُجاز بھی ہیں ،  انہوں نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو خانقاہ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا، پھر  حضرت نے خانقاہ کی دیوار پرخوبصورت الماری میں سجے شیخ العرب والعجم رحمہ اللہ  کے مواعظ کو بہت محبت سے ملاحظہ فرمایا،  پھر حافظ صاحب نے   حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  کی ایک نصیحت جو  حضرت نے ایک طالب کو اُن کی درخواست پر تحریر کرکے عنایت فرمائی تھی ، پھر حضرت کے عشاق نے اِس کوڈیزائن کرکے بذریعہ انٹرنیٹ پھیلادیا تھا، حضرت دادا شیخ نے تعلق والے کئی احباب نے اس جامع نصیحت کو فریم کرواکر اپنے گھروں آویزاں کردیا ہے ،  حضرت ممتاز صاحب کی خانقاہ میں بھی خوبصورت فریم میں یہ نصیحت موجود تھی(جامع نصیحت محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے)  جوحافظ احسن صاحب نے دیوار سے اُتار کر حضرت دادا شیخ کی خدمت میں پیش کی ،حضرت بہت خوش ہوئے! یہ فرمایا کہ ’’ایک صاحب کو اُن کی درخواست پر  لکھ کر دی تو دیکھا کہ ایک گھنٹے کے اندر ہی یہ تحریر پاکستان سے میرے موبائل میں آگئی، یہ بہت محبت کی بات ہے!‘‘حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم صوفے پر تشریف فرما ہوئے،  مغرب میں صرف دس منٹ باقی تھے ، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  حدیث شریف کی دُعا: ’’اللھم انی اسئلک حبک و حب من یحبک... الخ‘‘ پر مختصر مگر نہایت جامع بیان فرمایا، بیان کے بعد  حضرت ممتاز صاحب سے کچھ باتیں فرمائیں،  حجرۃ الطالبین سے روانگی کے وقت چلتے چلتے حضرت ممتاز صاحب سے محبت بھری باتیں فرماتے رہے۔ راستے میں کچھ احباب سے ملاقاتیں فرمائیں اور دعائیں عنایت فرمائیں، قریب ہی  حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی  مسجد اشرف میں مغرب کی نماز ادا فرمائی ، نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  مع  خدام   نمازِ اشرف میں حاضر رہے، بعد ازیں مسجد اشرف جو کہ نئی تعمیر ہورہی ہے، اس کے بارے میں حضرت شیخ دامت برکاتہم سے دریافت فرمایا اور تفصیلات  جان کر  بہت خوشی کا اظہار فرمایا، جامعہ اشرف المدارس سے اساتذہ کرام  اور موذن صاحب حاضرِ خدمت ہوئے اُن سے ملاقات فرمائی۔پھر جامعہ اشرف المدارس کے ناظمِ تعلیمات، استاذ الحدیث، حضرت والا ؒ کے محبوب خلیفہ حضرت مفتی ارشاد اعظم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ضعیف والد صاحب حاضر ہوئے، حضرت مفتی صاحب کا کچھ عرصے پہلے  کینسر کے عارضے میں جوانی میں انتقال ہوا تھا، جس کا اُن کے والد صاحب پر بہت  اثر ہے۔۔۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  نےحضرت مفتی صاحب مرحوم  کے لیے لواحقین کے صبر جمیل کے لیے خوب دعائیں اور خوب تسلی دی۔ بعد ازیں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مسجد اشرف سے جامعہ اشرف المدارس تشریف لے گئے ، حضرت دادا شیخ کے ساتھ صرف چند خدام تھے، باقی سب احباب سے کہا گیا کہ وہ غرفۃ السالکین چلے جائیں یہاں رش نہ لگائیں! جامعہ اشرف المدارس کا مختصر دورہ فرماکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم عشاء نماز سے پہلے واپس  تشریف لے آئے،  نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد بیان کی ترتیب تھی، مسجد میں بیان کے لیے جاتے ہوئے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم حضرت مفتی نعیم صاحب سے محبت بھری باتیں فرماتے رہے، ہمارے حضرت شیخ شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاب دامت برکاتہم حضرت مفتی صاحب کی فنائیت کے بارے میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو عرض کرتے رہے حضرت دادا شیخ خوش ہوتے رہے۔ یہاں تک آڈیو منسلک ہے:

(۴۲)حجرۃ الطالبین میں تشریف آوری،  مختصر بیان ، مسجد اشرف میں نمازِ مغرب، عشاء سے قبل واپسی

۴۳) بعد عشاء حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مسجد اختر میں بہت زبردست  محبت بھرا بیان فرمایا  جس میں مختصر  مسنون اعمال پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان انعامات کاتذکرہ فرمایا، اس بیان کی آڈیو بیان کے اہم مضامین کے ساتھ منسلک ہے:

(۴۳)مسجد اختر بعد عشاء بیان :" مختصر اعمال پر عظیم الشان انعامات"

بیان کے اہم مضامین 

 00:06)  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مسجد اختر میں رونق افروزتھے ، حضرت مفتی انوار صاحب نے "اسوۂ رسولﷺ" کتاب سے حضورﷺ کا رحم اور ترحم کے بارے میں پڑھ کر سنایا جس کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھ کر بیان شروع فرمایا 03:50) قرآن پاک سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کو اپنا نام لینا بہت پسند آتا ہے۔۔۔ میرے شیخ ؒ کا مزاج مبارک محبت سے بھرا ہوا تھا کہ ہر جرم معاف لیکن اگر محبت کے معاملے میں اگرکمی نظر آئی تو حضرت والا سخت گرفت فرماتے تھے کہ ظالم تونے محبت کے حقوق میں ایسی کوتاہی کی ہے۔ 02:16) بیان میں شیخ کے نام لینے کی نصیحت۔۔۔۔۔اس پر ایک واقعہ بھی بیان فرمایا کہ باوجود بہت علم  ہونے کے  اہل اللہ کی صحبت اگر  آدمی نہیں اُٹھاتا تو اُس کو راستہ نظر نہیں آتا۔۔اندھیرے میں بات کرتا ہے اور حفظ سے بیان کرتا ہے۔۔جیسے سات سال کا بچہ قرآن سناتا تو ہے لیکن سمجھتا کچھ بھی  نہیں ہے۔۔ عالم ہونے کے باوجود اگراہل اللہ سے گہرا تعلق نہ ہو تو دین کا نورِ فہم عطا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔قرآن و حدیث کی باتیں یاد کرکے سناتا تو ہے لیکن خود اُس کوانشراح قلب نہیں ہوتا۔۔۔ بقول حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے" نورِ فہم بہت کسی فانی فی اللہ، باقی باللہ کی صحبت کے بدون حاصل نہیں ہوتا" صحبتِ اہل اللہ کے بغیر  علم ایسا ہے جیسا کہ طوطے کو قرآن پاک یاد کروادیں یا فارسی کی عبارتیں یاد کروادیں، لیکن کچھ سمجھتا۔ 07:35) حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں کہ  جب تک کہ آدمی تقویٰ سے نہیں رہتا اور اہل اللہ کی صحبت نہیں اُٹھاتا لاکھ اُس کو علوم حاصل ہوں لیکن اُس کا فہم اُس کو حاصل نہیں ہوتا، وہ فہم نہیں حاصل ہوتا تو نور کے ساتھ ہو اور نور کے ساتھ اگر فہم نہیں تو وہ علم ہی نہیں! ۔۔سب معلومات ہیں!  معلومات  کسی جاہل کو بھی حاصل ہوسکتی ہیں، دینی معلومات کسی کافر کو بھی حاصل ہوسکتی ہیں، لیکن وہ علم نہیں ہے ، علم اُس وقت ہے جب اُس کے ساتھ نور بھی شامل ہو! اللہ تعالیٰ وہی علم ہم سب کو عطا فرمادے! 08:25) دل کودل بنانا ضروری ہے، زندگی کو زندگی بنانا ضروری ہے، اس قلب کو اللہ والا بنانا ضروری ہے اس کے لیے دونوں باتیں ضروری ہے یعنی تقویٰ بھی ہو اور صحبت ِ اہل اللہ بھی ہو ! صحبت اہل اللہ برائے نام نہ ہو کہ مجلس میں آنا جانا تو ہے، جیسا بچہ اسکول میں حاضری دے کر بھاگ جاتا ہے تو اس کا کیا فائدہ! تو وہ علم حاصل ہوگا؟ صرف نام ہی نام ہوگا تو صحبت برائے نام نہ ہو، محبت کے ساتھ شیخ سے تعلق ہو۔ شیخ کو اُس پر پورا اعتماد ہو کہ یہ تو میرا ہے!۔۔۔۔اللہ کے کسی پیارے کے دل میں جگہ بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ بھی فضل فرمادیں گے 10:10) دل وہی دل ہے جو اللہ پر فدا ہے، سینے میں دل اُس وقت ثابت ہوگا کہ جب تم نے  دل دل دینے والے کو دے دیا!کہ اے اللہ یہ دل آپ نے مجھے دیا یہ دل میں آپ کو دے دیتا ہوں۔۔۔۔حضرت والا کا یہ فارسی شعر جو سونے کی حالت میں حق تعالیٰ کی طرف حضرت کو عطا ہوا تھا: "اہل دل انکس  کہ حق را دل دہد۔۔۔ دل دہداوراکہ دل رامی دہد"۔۔۔ وہ بندہ سو فیصد اپنے دل  کو محبوب پاک پر فدا کردیتا ہے وہی صاحبِ دل ہے، وہی اہلِ دل ہے۔  11:26) حضرت دادا شیخ نے اپنا واقعہ بیان فرمایا تھا کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے اپنے اشعارِ اردو اور فارسی جب حضرت کو پیش کیے  تو  اس پر حضرت والا نے فرمایا تھا کہ "بنگلہ میں کیوں نہیں ہوتے" یہ حضرت کی دُعا تھی پھر اب الحمدللہ! ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ زبان میں اللہ  کی محبت کے  اشعار ہیں، عنقریب وہ چھپ کے آجائیں گے اورفرمایا کہ بارہا ایسا ہوا کہ نیند  کی  کیفیت میں اشعار قلب پر وارد ہوئے، ۔ میں نے فوراً اس کو نوٹ کرلیا ۔ یہ سب مرے مرشد رحمہ اللہ کی برکت سے ہوئے 13:17) خدا کی قسم! جو دل اللہ پر فدا ہوتا ہے اُس دل کی کیا شان ہے کہ وہ مُوردِ تجلیاتِ الٰہیہ ہوجاتا ہے۔  اس لیے ہم غم اُٹھائیں گناہوں کو چھوڑنے کے راستے میں۔۔۔اور کسی اللہ والے سے تعلق رکھنے کے راستے میں۔۔۔ہم مجاہدات اختیار کریں تو ان شاء اللہ تعالیٰ پھر دیکھیں کہ دل کی کیا شان ہوتی ہے!۔۔ حضرت والا کا شعر: جو دل جو تری خاطر فریاد کررہا ہے۔۔۔اُجڑے ہوئے دلوں کو آباد کررہا ہے۔۔  14:05) جو دل اللہ والا بنتا ہے تو لاکھوں دل اُس کی برکت سے اللہ والے بن جاتے ہیں،  اس پر حضرت ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا مغل بادشاہوں کو خطاب کا حال بیان فرمایا۔۔۔کہ اپنے سینے میں ولی اللہ وہ دل رکھتا ہے جو اللہ کی محبت کے جوہرات سے بالکل بھرا ہوا ہے، بتاؤ! زمین کے اوپر اور زمین کے نیچے مجھ سے بڑھ کر مالدار کون ہے؟ اتنی بڑی سلطنت کس کو حاصل ہے" سارے سلاطین مغلیہ سر جھکاتے تھے کہ یہ دولت ہمارے پاس کہاں ہے!۔ ایسا دل اللہ پاک ہم سب کو عطا فرمادے۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا والے پھولوں کے عاشق ہوتے ہیں اور میں خالقِ پھول کا عاشق ہوں!  15:30) حضرت والا رحمہ اللہ کا زبردست شعر اور تشریح: داغ حسرت سے دل سجائے ہیں۔۔ تب کہیں جاکے اُن کو پائے ہیں! اِن حسینوں سے دل بچانے میں ۔۔ ہم نے غم بھی بہت اُٹھائے ہیں۔۔۔ جس کو عشق الٰہی حاصل ہوتا ہے اس کو چوٹ لگتی رہتی ہے اور ہر چوٹ پر عنایاتِ حق برستی ہی رہتی ہیں۔ اس پر واقعہ سنایا 17:00) حضرت والا رحمہ اللہ کا  مدینہ منورہ حضور ﷺ کے روضہ اطہر پر حاضری کا عاشقانہ  منظر بیان فرمایا  کہ وہاں دھکے لگ رہے تھے تو حضرت دادا شیخ نے فرمایا کہ میں اس کوشش میں تھا کہ حضرت والا کو دھکا نہ لگ جائے، حضرت نے فرمایا کہ ہٹ جاؤ! یہاں مزہ تو دھکا کھانے میں ہے۔ اس لیے دوستو! مزہ تو  اللہ کے راستے میں چوٹ کھانے میں ہے۔ فرشتوں کو اللہ کے راستے میں چوٹ کھانے کے مزے کی خبر نہیں! نیکی اور گناہوں کا میلان دونوں بندوں میں رکھا گیا ہے! پھر اعلان بھی فرمادیا کہ ہم امتحان کریں گے کہ تم ہماری محبت میں زندگی اچھی بناتے ہوکہ نہیں! آیت  لیبلوکم ایاکم احسن عملا۔۔۔ الخ 19:20) عقل مند ہونے کی دلیل! گناہوں سے بھاگنے والا، اطاعت کی طرف ڈورنے والے ہی پکا عقل مند ہے!۔۔۔۔دنیاوی عزت میں بھی عزت ہے ۔۔لیکن اللہ والا بننا خدا کی قسم! یہ لاکھوں گنا  بڑی عزت ہے! وہ دنیاوی عزت ہے  اور یہ ایسی عزت ہے جس سے اللہ ملتا ہے۔ 20:40) خواجہ صاحب کا شعر: خدا کی یاد میں  بیٹھے جو سب سے بےغرض ہوکر۔ تو اپنا بوریہ پھر ہمیں تختِ سلیماں تھا۔۔۔۔  اور بزرگ خاقانی ؒ  کا فارسی شعر ترجمہ ایک بار اللہ کا نام لینا  ملکِ سلیمانی،تخت و تاج سلیمانی سے بڑھ کر ہے، اللہ کا نام ایسا نام ہے! 21:20) قرآن پاک سے یوں لگتا ہے حق تعالیٰ کو اپنا نام لینا بہت پسند ہے! مجھ سے تعلق رکھنے والوں خوب خوب مجھے یاد کرنا، صبح و شام یاد رکھنا بلکہ ہر وقت یاد رکھنا۔ کلام الٰہی کی شان۔ 23:00) جوانی جو خدا پر فدا ہوگئی وہ کیسی مبارک جوانی ہے 23:40) پانچ چیزوں کی قدر کرلو یعنی ان چیزوں کی قدر کرکے اللہ کو پا جاؤ (۱) بیمار ہونے سے پہلے صحت (۲) بوڑھا اور بیکار ہونے سے پہلے جوانی کی قدر کرلو، اللہ پر فدا کرلو! سات قسم سے لوگوں میں سے ایک وہ جوان جو جوانی حق تعالیٰ پر فداکردی ، اور جس کو بھی سایہ عرش عطا ہو(۳) مال کی فقر سے پہلے (۴) فراغت کی قدر کرلو مشغول ہونے سے پہلے۔ 26:00) مختصر اعمال پر عظیم الشان انعامات کا تذکرہ فرمایا،(۱)سنت کے مطابق وضو کرنے کے بعد آسمان کے بعد دیکھ کر دعا پڑھنے سے اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے ۔ (۲) صبح و شام دس دس دفعہ سے درود شریف پڑھنے سے حضورﷺ کی شفاعت ملتی ہے۔حضور ﷺ کی قیامت کے دن شانِ شفاعت اس کا تذکرہ فرمایا (۳) ایک تسبیح کلمہ شریف کی پڑھنے سے قیامت کے دن چہرہ چاند کی طرح روشن ہوگا۔ اور حدیث شریف کا مفہوم : دو کام ہیں جو مسلمان یہ کام کرلے تو جنت میں داخل ہوگا (۱) پانچوں وقت کی نماز کے دس دس مرتبہ سبحان اللہ، الحمدللہ ، اکبر کہے (۲)سونے سے پہلے 33 دفعہ سبحان اللہ، 33 دفعہ الحمدللہ، 34 دفعہ اللہ اکبر کہنے سے بشارت کہ جنت میں داخل ہوگا۔ 33:15) جہاں رہیں محبوب پاک کی یاد میں مست رہیں، حضرت خواجہ صاحب کا شعر دل میرا ہوجائے اک میدان ھو۔۔۔ حضرت والا فرماتے تھے کہ اولیاء اللہ کا ایک گروہ تھا جن کا ذکر ’’ھُو ھُو‘‘ تھا!( پھر حضرت دادا شیخ نے چند بار سب سے یہ ذکر خاص بھی کروایا دل مست ہوگیا سبحان اللہ!) 34:30) حضرت والا کے چند درد بھرے اشعار پڑھے ۔۔ اور درد بھری دعا فرمائی: اللہ پاک اپنے کرم سے ہم سب کو قبول فرمائے، عشاقِ حق کے زمرے میں ہم کو قبول فرمائے، اولیاء صدیقین کے زمرے میں ہم کو قبول فرمائے، (گریہ سے فرمایا) ہمارے گھروالوں کو قبول فرمائے،ہماری اولاد کو ، ہمارے بچوں کو، ہمارے رشتہ داروں کو، حالاً مستقبلاً ہماری ذریّات کو قبول فرمائے،  حالاً و مستقبلاً ہمارے دوستو کو، ہمارے دوستو کے دوستو کو قبول فرمائے، عشاق حق میں اللہ ہم کو زندہ رکھے اور عشاق حق والی موت ہمیں نصیب فرمائے اور میدانِ قیامت میں حق تعالیٰ عشاقِ حق کے زمرے میں ہمیں اُٹھائے، اللھم تقبل منا۔۔۔۔۔ 37:25) حضرت والا کی عجیب شان تھی محبتِ الٰہیہ میں تڑپتے رہتے تھے کبھی کبھی اس کا ظہور بھی ہوجاتا تھا تو میں نے دیکھا کہ تنہائی میں حضرت والا تڑپ رہے ہیں یہ اشعار گنگنا رہے تھے:"دل کی گہرائی سے اُن کا نام جب  لیتا ہوں میں۔۔۔۔چومتی ہے میرے قدموں کو بہارِ کائنات" سبحان اللہ کیا شعر ہے! 36:30) جناب مصطفیٰ صاحب نے  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے نعت شریف کے اشعار بنگلہ زبان میں بہت زبردست انداز میں پڑھنا شروع کیے، حضرت دادا شیخ بہت حیران ہوئے اور بے ساختہ مصطفیٰ بھائی کو شاباش دی!۔ اور فرمایا کہ "دیکھو! اِن کی زبان تو اردو ہے لیکن اللہ کی محبت میں انہوں نے بنگلہ زبان کے اشعار یاد کرلیے، بنگلہ دیش سے کوئی سنے گا تو سمجھے گا کہ شاید کوئی بنگالی پڑھ رہا ہے"  پوری نعت میں  حضرت دادا شیخ بہت خوش ہوتے رہے اور مصطفیٰ  بھائی کو بہت داد اور دعائیں دیتے رہے اور پہلے شعر کا ترجمہ بھی فرمایا کہ: میں مدینے میں جانا چاہتا ہوں، مجھے مدینہ جانے دو!۔۔۔ پھر اس نعت شریف کے اختتام پر جناب مصطفیٰ بھائی نے بنگلہ زبان میں ایک اور  شعر بہت خوب صورت انداز میں پیش فرمایا۔۔ حضرت دادا شیخ نے خوب دعائیں دیں اور فرمایا کہ "واہ بھئی انہوں نے تو مست کردیا ماشاء اللہ! ( یہ کہتے ہوئے حضرت دادا شیخ گریہ کے ساتھ زارو قطار رونے لگے) فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ آپﷺ کی محبت سے ہمارے قلوب کو سرشار فرمادے! ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ! اللہ اِن کو بہت خوش رکھے! بہت مزہ آیا!واہ واہ ماشاءاللہ! بہت درد سے پڑھا ! ماشاء اللہ! " جناب اثر صاحب نے عرض کیا اگر ایک سال یہ بنگلہ دیش چلے جائیں تو پوری زبان سیکھ جائیں گے۔اس پر حضرت دادا شیخ نے فرمایا : نہیں! جیسی اِن کی صلاحیت ہے،  ایک ہی مہینے  میں کافی سیکھ لیں گے بلکہ پندرہ دن میں بھی  خوب سیکھ جائیں! ان شاء اللہ! بعض لوگوں کو صلاحیت ہوتی ہے منجانب اللہ! بہت اچھا پڑھا ماشاء اللہ! پھر ایک شعر کا ترجمہ فرمایا کہ  مدینہ ہماری آنکھوں میں ! مدینہ ہمارے سینے میں ! مدینہ ہمارے دل میں! واہ واہ سبحان اللہ! 48:40) جناب سید ثروت صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے حکم سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار "میرے خون کا سمندر ذرا دیکھنا سنبھل کر" بہت درد سے اشعار سنائے! 01:01:05) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مختصر دعا فرمائی!

۴۴) بعد عشاء زبردست بیان فرمانے کے بعد مسجد اختر سے متصل خانقاہ غرفۃ السالکین کی طرف روانہ ہوئے، مسجد اختر میں بہت بڑی تعداد میں احباب تھے، محراب کے ساتھ والے دروازے سے حضرت دادا شیخ مسنون اعمال فرماتے ہوئے مسجد سے باہر تشریف لائے اور مسجد اختر کی سیڑھیاں اُترنے لگے ، احباب مسجد کی کھڑکیوں سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی زیارت کررہے تھےاور بہت سے احباب سیڑھیوں سے نیچے صحن میں منتظر تھے، راستے میں کئی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں ، کچھ احباب اپنے ہمراہ بچوں کو لائے تھے، جن میں حضرت والا رحمہ اللہ کے خلیفہ اور حضرت والا میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے آخری سانس تک خدمت کرنے والے  غلام جیلانی بھائی مع دونوں صاحبزادوں حاضر تھے، اُن سے ملاقات فرمائی اور  خوب دعاؤں سے  سرشار فرمایا۔راستے میں بہت سے اور بچے بھی منتظر تھے اُن سب کو دعاؤں سے کہ نوازا کہ اللہ آپ سب کو ولی اللہ عالم بنائے!۔ غرفۃ السالکین کے ہال میں جناب سید ثروت صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں حضرت اثر صاحب کے اشعار پیش کیے"میری منزلیں بھی عجیب ہیں میرا راستہ بھی عجیب ہے۔۔۔۔میرا رہنمابھی ہے منفرد میرا قافلہ بھی عجیب ہے" خوب حضرت دادا شیخ نے ثروت صاحب کو دعاؤں سے نوازا! حجرے میں داخل  ہوتے ہوئے حضرت مولانا سہیل صاحب کو بھی  خوب دعاؤں سے نوازا اور دیر تک اُن کی تعریف فرماتے تھے اور پھر یہاں غرفہ میں مولانا کے قیام و انتظام پر بہت مسرت کا اظہار کیااور فرمایا کہ  "یہاں تو بالکل حضرت والا رحمہ اللہ کا ذوق و مزاج اور وہی رنگ ہے اور یہاں آنے کے بعد میرا بھی یہی حال ہے کہ اور کہیں جانے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ایسا سکون محسوس ہوتا ہے،  یہاں حضرت والا رحمہ اللہ  کی ہمہ وقت  خوشبو آتی ہے"۔ حافظ ضیاء الرحمٰن صاحب نے حضرت دادا شیخ کے بارے میں  مولانا سہیل صاحب کا جملہ نقل کیا کہ  "ایسا لگ رہا ہے کہ حضرت والا رحمہ اللہ تشریف فرما ہیں، وہی رنگ ہے! وہی لوگ ہیں! وہی مزہ یہاں آرہا ہے!" حضرت دادا شیخ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی محبت اور نیک گمان کے مطابق ہمیں بھی اپنے کرم سے قبول فرمائے، آپ حضرات کو بھی حق تعالیٰ اس کا اجر ِ اعظم اور قربِ اعظم اس محبت کی برکت سے عطا فرمائے،اس محبت کو جانبین کی ترقی ظاہری و باطنی اور قربِ اعظم کے لیے ذریعہ بنائے، اب تو ان شاء اللہ یہاں سفر ہوتا رہے گا۔(بہت گریہ سے فرمایا) کہ اس بات کا غم تھا کہ حضرت والا ؒ کا وہ رنگ کہاں نصیب ہوگا! وہ منظر پھر کہاں دیکھوں گا! اب یہاں آکر بہت زیادہ تسکینِ قلب ہوئی ہے!"  یہاں  تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۴۴) بعد عشاء مسجد اختر میں بیان کے بعد غرفۃ السالکین واپس آتے ہوئے  ارشادات

۴۵) مسجد اختر میں عشاء کا بیان کے بعد تقریباً دس بج چکے تھے ، رات کھانے کی ترتیب تھی، حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے محبوب خلیفہ حاجی نثار احمد صدیقی صاحب دامت برکاتہم  ملاقات کے لیے آئے ہوئے تھے، اُن سے ملاقات فرمائی اور اُن کو ساتھ کھانے کی دعوت بھی دی ، کھانے کے دوران حاجی صاحب سے پرانی پُر لطف باتیں فرماکر خوب ہنستے رہے۔۔۔ دوران گفتگو حاجی نثار صاحب سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مصطفیٰ بھائی کے بنگلہ زبان میں اشعار پڑھنے کی خوب تعریف فرمائی۔۔۔ بعد ازیں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  کھانے کے بعد کی سنت دعا پڑھی اوراس کی تشریح فرمائی ،  پرلطف باتیں ہوتی رہیں،  درمیان درمیان بار بار حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ ٔ مبارک فرماتے جاتے تھے، اس دوران  حجرۂ مبارک کے پردے کھول دئیے گئے ، باہر پورے ہال میں احباب اس موقع کے منتظر تھے، سب کے چہرے کھل اُٹھے، اور حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بھی احباب کی اس دینی پیاس طلب اور تڑپ کی خوب تعریف فرمائی اور چھوٹے چھوٹے بچوں پر بزرگوں کے لباس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کچھ مزیدار واقعات بھی سنائے۔ حضرت والا رحمہ اللہ کی عظمت و رعب کے کچھ  واقعات سنائے کہ لوگ کیسے بات مان لیا کرتے تھے،   لیکن اس باب میں ہر ایک کو نقل نہیں کرنی چاہیے۔ ۔ ۔ اس ضمن میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  قیمتی ملفوظات ارشاد فرمائے کہ بزرگوں کی خاص شان ہوتی ہے،   بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا الیاس صاحب کا واقعہ سنایا کہ ایک بغیر داڑھی کے نوجوان حضرت  کی خدمت میں آتے تھے،ایک دن اُس کو ڈارھی رکھنے کا کہہ دیا  تو پھر وہ نہ آیا، تو مولانا نے رجوع کیا کہ ابھی دل تیار نہیں ہے توے کے گرم ہونے سے پہلے روٹی کیوں ڈال دی!۔۔۔ اس لیے بزرگوں کی ہر بات کی نقل نہیں کرنی چاہیے۔۔۔  اس موقع  پر مزاح کی حدود و شرائط پر اہم نصائح خوب تفصیل سے بیان فرمائیں! نصیحت کے دوران ہی  ہمارے شیخ دامت برکاتہم کو بہت ہی پیارے انداز میں تنبیہ فرمائی ، ملفوظ کے اختتام ہمارے پیارے شیخ دامت برکاتہم نے کثیر مجمع کے سامنے کھڑے ہوکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے معافی مانگی  جس پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت خوش ہوئے اور  ہمارے شیخ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کی خوب تعریف فرمائی اور اس ضمن میں غرفۃ السالکین خانقاہ سے ہونے والے کاموں کی بھی خوب تعریف فرمائی کہ اللہ پاک ان سے خوب کام لے رہے ہیں ۔ حضرت شیخ کی فنائیت، اخلاص، تواضع اور فدائیت کی بھی خوب تعریف فرماتے رہے۔  مجلس کے اختتام پر پردے دوبارہ ڈال دئیے تو  کچھ مزید ساتھیوں نے بھی حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے اپنی بے اصولی پر معافی مانگی ، حضرت دادا شیخ نے بہت خوشی سے معاف فرمادیا اور خوب خوش بھی ہوگئے الحمدللہ!۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اس بات پر بہت مسرور تھے  کہ یہاں سب پرانے ساتھیوں سے ملاقات ہوگئی۔۔۔ حضرت اثر صاحب دامت برکاتہم کو حضرت دادا شیخ نے فرمایا کہ کچھ سنائیے تو انہوں نے عرض کیا حضرت دوبارہ پردے کھول دیں تو حضرت بہت خوش ہوئے اور اجازت عنایت فرمائی تو  باہر منتظر احباب بہت خوش ہوگئے، اثر صاحب نے اشعار پیش کیے، پھر جناب فیصل صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی شان میں اپنے تازہ اشعار پیش کیے۔۔۔ اچانک حضرت داداشیخ دامت برکاتہم نے دیکھا کہ سامنے ہال میں لوگ ہی لوگ ہیں، تو حضرت بہت خوشی کے ساتھ حیران ہوئے اور فرمایا  اتنی محبت سے لوگ آئے ہوئے ان کو کچھ عرض کردیا جائے پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے کمالِ شفقت نے  تقریباً دس منٹ مزید مختصر لیکن جامع نصیحتیں فرمائیں کہ دل مست کردیا ماشاء اللہ! ۔۔۔رات کے بارہ بج چکے تھے، یہ پرنور مجلس اختتام پذیر ہوئی ، احباب آہستہ آہستہ حجرہ سے نکلنے لگے۔ یہاں تک کی آڈیو ضروری مضامین کی تفصیل کے ساتھ منسلک ہے:

(۴۵) رات کھانے کے بعد غرفۃ السالکین میں عظیم الشان مجلس میں ارشادات:" کھانے کے بعد کی دعا پڑھی  : الحمدللہ الذی اطمعنا و جعلنا من المسلمین" اور فرمایا اس میں مشہور "من المسلمین" ہے، اصل میں یہ "وجعلنا  مسلمین" ہے، لیکن ایک نسخہ میں "من المسلمین" بھی ہے، ہمارے اکابر جو کچھ فرماتے ہیں اُس کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے، ہمیں اُس کی خبر نہیں ہوتی"۔۔۔۔ چائے پر کچھ پرلطف باتیں ارشاد فرمائیں۔۔۔ حضرت والا ؒ کا والہانہ تذکرہ: محبت الٰہیہ  کے ایسے عجیب مضامین اور حکیم الامت کے مضامین حضرت والا رحمہ اللہ سے ہی سنے تھے،  حضرت والا ؒ کو اللہ تعالیٰ نے بہت ہی زیادہ نوازا تھا، اُن کے روح مبارک سے اُن اکابر کی خوشبو آتی تھی۔۔۔سو جان سے اکابر ثلاثہ پر فدا تھے۔۔۔ اور حضرت والا نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ ان اکابرِ ثلاثہ ٔ ہند کی تعلیمات پر زندگی گذارنا اور اُن کے علوم و معارف کی نشرو اشاعت کرنا اور اُس کے لیے اسفارِ دینیہ جاری رکھنا اور اُس کے لیے تالیف و تصنیف بھی کرنا۔مجھے جو اجازت نامہ حضرت والا نے عنایت فرمایا اُس میں یہ سب باتیں حضرت والا کی تحریر کردہ ہیں۔ اللہ پاک اپنے کرم سے وہ کام لے لے۔۔۔۔( اس موقع  حجرہ ٔ مبارک کے پردے کھول دئیے گئے تو فرمایا) ماشاء اللہ! یہاں اللہ کے بندوں میں بہت پیاس ہے! یہ حضرت والا کی محنتوں کے ثمرات و برکات ہیں، (بہت سے احباب اپنے ہمراہ چھوٹے بچوں کو بھی لائے تھے جو لمبے کرتے اور خانقاہی ٹوپی میں تھے اس پر فرمایا) ماشاء اللہ! بچوں کو بھی لاتے ہیں جو بھی آتا ہے، بچوں کو پورا "تھانوی" بناکے لاتے ہیں۔۔ اس پر حضرت دادا شیخ نے بہت لطف سے ایک واقعہ بھی سنایا۔۔۔اور پھر فرمایا: یہ بھی حضرت والا رحمہ اللہ کی تعلیمات کی خصوصیات میں سے ہے، اُسی کی برکاتِ خاصہ ہیں کہ بچوں کو بچپن ہی سے دین دار بناؤ اپنے بزرگوں کے لباس میں رکھو! واہ ! کیا عجیب حضرت والا کی تعلیم ہے!۔۔۔۔ اس پر گلشن خانقاہ میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ پر احباب کی فدا کاری کا ذکر بہت لطف سے سنایا کہ حضرت والا کے حکم پر سب ہر وقت تیار رہتے تھے،جو کوئی بڑی مونچھیں لیے آتا اور حضرت والا ؒ اُس کو کہتے مونچھیں صحیح کرواؤ تو سب ساتھی تیار رہتے  تھے، اُس کو لے جاتے تھے،مشین سے مونچھیں سنت کے مطابق کرکے لے آتے تھے پھر خانقاہی ٹوپی پہنا کر حضرت والا اُس سے پوچھتے بھی تھے کہ کیسے لگ رہے ہو، وہ شخص بہت خوش ہوکر کہتا حضرت بہت اچھا!  لیکن بزرگوں کی ایسی باتوں کی نقل نہیں ہوسکتی!  یہ اُس قلب ِ مبارک  کا خاص معاملہ ہے" اس پر حضرت شیخ دامت برکاتہم  کا اپنا واقعہ بیان فرمایا  کہ میں نے بھی ایسا کیا تھا اس معاملہ میں حضرت والا میر صاحب  ؒ  کی ڈانٹ پڑنے کا واقعہ بیان فرمایا۔ حضرت دادا شیخ نے فرمایا  کہ  حضرت میر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ حضرت والا ؒ کی ان معاملات میں نقل اُتارنا کہاں زیبا ہے!۔ دل تیار ہو!توے کے گرم ہونے سے پہلے روٹی تیار کرنا کہاں زیبا ہے ، اس پر حضرت والا کی قوی نسبت مع اللہ کا ذکر فرمایا کہ حضرت فرماتے تھے کہ میرے مثال پریشر ککر کی ہے تیزی سے سب کام ہوجاتا ہے، یہ حضرت والا کے ساتھ خاص تھا اب ہم لوگوں میں یہ بات کہاں ہے! اس  بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس صاحبؒ کا واقعہ بیان فرمایا کہ ایک نوجوان حضرت مولانا الیاس صاحب کی خدمت میں آیا کرتے تھے، بہت دن کے بعد حضرت نے اُن کو داڑھی رکھنے کا کہہ دیا پھر انہوں نے اس وجہ سے آنا چھوڑ دیا کہ اب تک  مجھے ہمت نہیں ہے، جب تک داڑھی کی ہمت مجھ میں پیدا نہ ہوگی میں سامنے نہیں آؤں گا! حضرت مولانا متنبہ ہوئے اور رجوع کیا کہ مجھ سے غلطی ہوئی کہ توے کے گرم ہونے سے پہلے روٹی ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔۔ اس لیے بزرگوں کی ہر بات کی نقل اُتارنا صحیح نہیں ہے!  یہی بات مزاحات کے بارے میں بھی ہے ۔۔۔پھر طویل ملفوظات ارشادات فرمائے   مزاح کی حدود اور شرائط پر کہ ہمارے اکابر انوار کے سمندر  میں ڈوبے رہتے ہیں اس لیے اُن کے قلب پر  مزاح کا اثر نہیں ہوتا۔۔۔( کمالِ فنائیت سے فرمایا) ہم لوگ ہیں کہ ہمارے پاس انوار ہی کیا ہے؟" پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مزاح کی شرعی حدود، حیاء کے تحفظ ، مزاح کی کثرت اگر ہونے لگے اس  پر سخت تنبیہ فرمائی کہ کوئی بھی ایسا مزاح نہیں کرنا چاہیے جس کی صورت حیاء سوز ہو!۔۔۔ ہمیں تو اپنے اللہ کو راضی کرنا ہے۔۔ اللہ سے اپنے تعلق کو قائم کرنا ہے قائم رکھنا ہے! اس پر حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ  کا بیان کردہ ایک مینڈک کا واقعہ سنایا جس سے  شاہی ہاتھی کو جوش میں آکر مارا تھا اور دوسرا واقعہ کہ ہاتھی کے سر پر ایک مکھی بیٹھ گئی اور پھر لگی معافی مانگنے!  یہ واقعہ بیان فرماکر سبق ارشاد فرمایا کہ  ہمارے اکابرِ دین اولیاء امت اُن کے سینے میں اتنا نور کا سمندر ہوتا ہے کہ کون کیا کررہا ہے اُن کو پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔ اُن حضرات کو اپنے کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے، اب یہ کہ کسی کے ٹینشن اور ڈپریشن کو اُتارنے کے لیے کیا ہم سنت کے طریقے کا لحاظ نہ رکھیں؟ اتباع شریعت کے حدود کا لحاظ نہ رکھیں؟  لہٰذا حدود کی رعایت ضروری ہے! ٹیشن اور ڈپریشن اُتارنے کے لیے مستقل مشغلہ ، اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے!  ہاں تھوڑا سا دوست لوگ خوش ہوجاتے ہیں اور اُس سے فائدہ ہوجاتا ہے، اعلی التعین  اگر پتہ چلا کہ کسی کو ٹینشن ہے ڈپریشن ہے تو اُس کے لیے انتظام الگ سے کردیا جائے!  اب اِسی کو خانۂ کعبہ کے سامنے آپ لوگ کرسکتے ہیں؟۔۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس میں وہ بات نہیں ہے جو خالص دین میں ہے!۔۔۔ حضرت والا رحمہ اللہ پر اس قدر انوارِ الٰہیہ کا غلبہ ہوتا تھا کہ بڑے بڑے انوار والے وہاں آکر سر جھکا لیتے تھے، یہاں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  اور ایک بزرگ کا پر لطف واقعہ بیان فرمایا ۔۔۔ پھر فرمایاکہ  ہر بات میں اپنے بزرگوں کی نقل نہیں اُتارنی چاہیے ہاں تقویٰ میں نقل اتارے! ذکر اللہ میں نقل اُتارے!اتباع شریعت و سنت میں نقل اُتارے ! اور یہی اصل چیز ہے! اور مزاح کے بارے کچھ شرائط بیان فرمائیں کہ(۱) کثرت نہ ہوقلت ہو! تھوڑا سا ہو! (۲) کسی کو اُس سے اذیت نہ پہنچے، رسوائی نہ ہو۔(۳) اور دلوں کو اللہ تعالیٰ سے غفلت نہ ہو۔ اس پر حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ سنایا کہ انہوں نے سب کو ہنسایا اور فرمایا کہ ہنسانے کی حالت میں بھی میرا دل اللہ سے غافل نہ تھا۔۔ یہ واقعہ سنا کر فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ مزاحات میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ قلب کی مشغولیت کا استحضار ضروری ہے! ورنہ اگر حدود کی رعایت نہ رکھی اور قلب کے انوار نکل گئے یا کم ہوگئے تو ہم تو اپنا نقصان کیا!۔۔۔ اور مزاح کی ایسی مجلسوں میں بچوں کی موجودگی اور اُن پر اِس کے اثرات کے بارے میں اہم نصائح فرمائیں کہ بچوں کے سامنے جوکام کیا جاتا ہے وہ اُن کے دل میں ایک دم نقش ہوجاتا ہے۔۔۔۔ زندگی بھر اُس کا اثر دل پر ہوتا ہے تو متقی بنانے کا کیا یہی طریقہ ہوگا؟ لہٰذا اِن چیزوں کی طرف توجہ مطلوب ہے! ۔۔۔۔ (پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے غرفۃ السالکین کے انتظام اور ہمارے شیخ دامت برکاتہم کی محنتوں کے بارے میں ارشادفرمایا) ’’دل سے کہتا ہوں کہ میرے شیخ رحمہ اللہ کی مجلسوں میں  جو رنگ اور ذوق دیکھتا تھا الحمدللہ وہی رنگ و ذوق یہاں ہے، الحمدللہ یہاں آکر اتنا دل خوش ہوا کہ کہیں بھی جانے کا میرے دل میں کچھ خیال نہیں ہے کہ وہاں جانا چاہیے! کیونکہ اصل  میں ہمارے لیے جو محبوب نقش ہے وہ تو الحمدللہ ہم کو یہاں مل گیا! اب جس کو دیکھو! ہر ایک پر حضرت والا ؒ کی فیوض و برکات کے اثرات نظرآتے ہیں ہر ایک کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ’’اپنا سا لگے ہے‘‘ الحمدللہ ! یہاں سے جو کام ہورہا ہے ان شاء اللہ ہوگا اور ہوتا  رہے گا، یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ حاجی صاحب (حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب ) عالم بھی نہیں پھر بھی اتنا بڑا کام ہونا کہ اس میں بڑے بڑے علماء آرہے ہیں، شیخ الحدیث آرہے ہیں، پورے ملک سے معتمد  مفتیانِ کرام آرہے ہیں تو یہ یہی ہے کہ منجانب اللہ یہ کام لیا جارہا ہے!اس لیے اتنی برکتیں نظر آتی ہیں! اب ایسی کوئی کچھ غلطی ہوجائے تو  کہاں نہیں ہوتیں!مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ پھسلتا وہی ہے جو چلتا ہے، جو چلتا ہی نہیں وہ پھسلے گا کیا! اس لیے کسی بھی قسم کی کچھ غلطی ہوسکتی ہے!‘‘۔ اس پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی فنائیت اور ہر بات شیخ کے سامنے کھول کر اصلاح کے لیے پیش کرنے پر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ حضرت والا نے اپنے اشعار’’جادوئے بنگال‘‘ کو ڈھاکہ میں ہوئے تھے اس کی بھی اپنے شیخ حضرت ہردوئیؒ سے اصلاح کروائی! اور ایک شعر میں حضرت ہردوئی کے حکم پر تبدیلی فرمائی۔۔۔اور حضرت والاؒ کی شان دیکھیے،عمل دیکھئے۔۔۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا: ’’دیکھیے!  دین داری کس کو کہتے ہیں، ہمارے اکابرِدین کا اخلاص، دیانت داری ، امانت داری کس کو کہتے ہیں! حیرت ہے کہ حضرت والا  نے ڈھاکہ میں  ہم لوگوں کو خط بھیجا اور فرمایا کہ وہ اشعار جو ہم نے وہاں پڑھے تھے اُس میں فلاں مصرع ہے اِس کو کاٹ دو، میرے شیخ نے اِس کو منع فرمایا ہے۔ دیکھا آپ نے! یہ ہے دین ہمارے اکابرِ دین کا!۔حکیم الامت نور اللہ مرقدہ نے فرمایا ہے کہ شیخ کامل کے جو اوصاف ہوتے ہیں اُس میں اول یہ ہےکہ دین ہو انبیاء کا سا!دیکھا ہے آپ نے دین ہمارے اکابر کا! خالص بس دین ہی دین! لہٰذا  جن پر حق تعالیٰ خود کرم فرماتے ہیں، افضال سماویہ و الٰہیہ کے ساتھ جن بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں چاہتے ہیں کہ اِن سے کام لیں گے تو حق تعالیٰ اُن کی اصلاح کےلیے  اور صراط مستقیم پر چلنے کےلیے غیب سے خود ہی انتظام فرماتے رہتے ہیں! حسن کا انتظام  ہوتا ہے ۔۔۔ عشق کا یونہی نام ہوتا ہے۔۔۔سن رہے ہیں مرے دوستو!(عشاق و محبین کے مجمع کی تعریف فرمائی) کہ عجیب معاملہ ہےکہ آپ لوگوں کی نگاہوں میں ایسی ساحرانہ تاثیر دیکھتا ہوں کہ میں چائے بھول جاتا ہوں!۔(اس موقع پر پیارے محبوب مرشد حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کھڑے ہوئے اور کثیر احباب کے مجمع کے سامنے اپنے شیخ دامت برکاتہم سے معافی مانگی، اس اعترافِ قصور و ندامت، قبولِ حق پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو ایسا پیار آیا کہ دیر تک حضرت شیخ دامت برکاتہم کی فنائیت، قبولِ حق  کی عظیم الشان صلاحیت کی تعریف فرماتے رہے فرمایا:) کہ ہمیں آپ پر پورا اعتماد ہے ، مفتی نعیم صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ اِن کو اللہ تعالیٰ نے بہت نوازا ہے قبولِ حق کی عظیم  الشان صلاحیت اِن کے اندر ہے، یہ کہتے ہوئے مفتی صاحب بہت ہی خوش ہورہےہیں۔اور کسی کو کہنے کی کیا ضرورت باقی رہ گئی جب کہ میرے شیخ رحمہ اللہ کے آپ پر اعتماد فرمایا! خانقاہ میں حضرت والا جلوہ افروز ہوتے تھے اور ہرروز مستقلاً اِن کو بیان کے لیے مقرر کیا تھا  اور اِن کے بیان کو سننے کےلیے کسی کو مقرر نہیں کیا تھا کہ جاؤ دیکھو کیا بیان کرتے ہیں پھر مجھے بتاؤ کروں ایسا تو نہیں تھا! پھر جب شیخ نے اعتماد فرمایا تو اللہ تعالیٰ شیخ کے اعتماد کی ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور لاج رکھیں گے!حق تعالیٰ ایسا ہی فرمائیں اور ہم سب کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمائیں!آمین!( پھر حضرت دادا شیخ نے مسجد اختر میں اذان ، اقامت اور نماز پڑھنے والے موذن اور امام صاحبان کی تعریف فرمائی) ’’یہ اقامت دیتے ہیں تو بہت زیادہ نور معلوم ہوتا ہےبار بار اقامت سننے کو جی چاہتا ہے، اب ایک تو یہ ہوتا ہے  کہ ملازم کی حیثیت سے اذان و اقامت دینا، یہ کوئی طریقہ ہے! اذان دو عشقِ الٰہی میں جوشِ توحید میں ڈوب کر، تو پھر مزہ آئے گا‘‘ (حضرت شیخ دامت برکاتہم نے عرض کیا کہ حضرت یہاں غرفہ میں نماز، اقامت، اذان سکھائی بھی جاتی ہے، حضرت سن کر بہت خوش ہوئے، پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم کی سب کے سامنے معافی، فنائیت اور اعترافِ قصور پر  اکابربزرگانِ دین  کی دین کی خاطر ظاہری رسوائی پر حق تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان دینی و دنیاوی رفعتوں،بلندی ٔ مراتب پر بہت جامع ملفوظات ارشاد فرمائے اور اس ضمن کئی اکابر کے واقعات سنائے ) ہمارے بزرگوں  کے ہاں ایسا اخلاص ہوتا ہے ، ایسا خالص دین ہوتا ہے کہ اگر  دین کی خاطر ظاہری رسوائی بھی ہوجاتی ہے تو عزت ہی عزت کا سبب بنتی ہے۔۔۔عشق کی ذلت بھی عزت ہوگئی ۔۔۔لی فقیری بادشاہت ہوگئی۔۔۔اللہ کے لیے طالبین ذلت بھی اختیار کرتے ہیں، یعنی جو ذلت آجاتی ہے اُس کو قبول کرلیتے ہیں، برا نہیں مانتے تو پھر  حق تعالیٰ اِس کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے اُن کو معزز بنادیتے ہیں! (یہاں پر حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب  ؒ کی اپنے شیخ حضرت حکیم الامتؒ  کی ڈانٹ کھانے، ناز اُٹھانے، فنائیت اور فداکاری  کے  کچھ واقعات بیان فرمائے کہ جب  خواجہ صاحب کو ڈانٹ پڑتی  ظاہری ذلت تو ہوتی لیکن  اس اللہ کے لیے مٹنے پر ہر طرف عزت ہی نہیں محبوبیت بھی بڑھتی جاتی اور  پھر اس پر صدیق زمانہ حضرت والا میر صاحب ؒ  کی حضرت والا ؒ پر فدائیت  کے واقعات بھی بیان فرمائے  کہ) حضرت میر صاحب کو حضرت والاؒ اسی لیے ڈانٹتے تھے کہ اُن کا وہ مقام محبت تھا  کہ خود جن کو حضرت والانےفرمایا کہ ’’یہ میرا خسرو ہے‘‘ امیر خسرو کا لقب خود حضرت والانے دیا تھا ، واقعی وہ وہی مقام رکھتے تھےاس میں کیا شبہ ہے!اللہ تعالیٰ نے اُن کو بہت ہی زیادہ نوازا تھا، آہ! ہم لوگوں سے نہ اپنے شیخ کی قدر ہوئی اور نہ امین علومِ معارفِ شیخ کی قدر ہوئی، دونوں باتوں میں ہم نے کوتاہیاں ہوئیں ہیں  اللہ تعالیٰ ہمیں  معاف فرمادے! ہمارے سلسلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت رکھی ہے کہ الحمدللہ! مخلصین آتے ہیں، اللہ کے  لیے آتے ہیں لہٰذا  اگر اُن کو ظاہری ذلت ہوبھی جاتی ہے لیکن قسم بخدا اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے عزت ہی عزت عطا فرمادیتے ہیں(اس پر دو اکابر بزرگوں کے واقعات بیان فرمائے کہ کس طرح انہوں نے حضرت والا رحمہ اللہ کے سامنے اپنے کو مٹایا، پھر ملفوظ کے اختتام پر دوبارہ  مزاح کے حدود و شرائط بیان فرمائیں) (۱) قلت ہو کثرت نہ ہو(۲) کسی کی ذلت اور رسوائی نہ ہو (۳) قلوب کو حق تعالیٰ سے غفلت نہ ہو (۴) سننے والوں کے دین کو نقصان نہ پہنچے۔  ان باتوں کا خیال رکھا جائے۔ اللہ مجھے بھی، آپ سب  کو بھی، تمام مسلمانوں کو خاص کر تمام خدامِ دین کو توفیقات سے نوازے! ( اس موقع پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  فرمایا کہ اب حجرہ کے دروازے پر پردہ ڈال دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے، جیسے ہی پردہ کیا جاتا ہے تو باہر سب لوگ اُداس ہوجاتے ہیں ، اس کیفیتِ محبت کا ذکر حضرت مفتی نعیم صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے کیا تو حضرت کا دل بہت نرم ہوا  لیکن آرام بھی کرنا تھا اس لیے دل پر جبر کرکے صبر فرمایا اس  موقع کچھ مزید احباب نے حضرت دادا شیخ سے معافی مانگی ،حضرت دادا شیخ بہت خوش ہوئے، بہت مسرور ہوکر معاف فرمایا اور اس موقع پر پرلطف مزاح بھی فرمایا، چائے پینی شروع فرمائی تو فرمایا کہ) حضرت ہردوئی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ جب چائے پینے لگے تو بسم اللہ آوازسے پڑھے تاکہ اوروں کو خیال رہے کہ چائے، کافی  وغیرہ پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔۔۔اور اِسی طریقے سے جب کھانے سے فارغ ہوں تو جو سنت دعا پڑھی جاتی ہے  وہ کچھ آواز سے ہو تاکہ دوسروں کو بھی خیال ہو بعضوں کو ذہول ہوجاتا ہے۔( کچھ دیر پرلطف باتیں فرماتے رہے اور حضرت اثر صاحب کو کچھ دیر اشعار سنانے کو فرمایا ، اثر صاحب نے عرض کیا اگر پردے کھول دئیے جائیں چنانچہ حجرہ کے پردے دوبارہ کھول دئیے گئے، پھر ماشاء اللہ! باہر احباب جمع تھے، حضرت اثر صاحب نے عرض کیا  حضرت آپ نے ہم کو سنایا تھا کہ بنگلہ دیش میں لوگ حضرت والا رحمہ اللہ کی زیارت کے لیے رات ایک بجے تک جاگتے تھے، آج یہی آپ کے ساتھ ہے ماشاء اللہ! پھر اشعار شروع ہوئے، خوب ماشاء اللہ کے نعرے لگے، سب احباب محبت بھرے اشعار سے خوب مست ہورہے تھے، اثر صاحب کے بعد ایک اور صاحب نے بھی اشعار حضرت دادا شیخ کی شان میں پیش فرمائے جس پر حضرت دادا شیخ نے فرمایا) اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں کے نیک گمان کے برکات سے ہمیں نوازے! بدگمانی حرام ہے اور نیک گمان تو موجب اجر و ثواب ہے،اپنے شیخ کے بارے میں حق تعالیٰ متوسلین کے قلب میں نیک گمان بھی عطا فرمادیتے ہیں جس سے اُن کو روحانی ترقی عطا ہوتی رہتی ہے تو جو کچھ نیک گمان دوستو کا ہے اللہ تعالیٰ اُن کے نیک گمان کے انوار و برکات سے ہمیں نوازے اور ان کے نیک گمان پر اجرِ عظیم  اور نیک گمان پر قربِ عظیم حق تعالیٰ اُن کو عطا فرمائے!  اور یہ جو کچھ دوستو کا نیک گمان ہے یہ حق تعالیٰ کا فضل ہے  اپنے مرشدرحمہ اللہ کی برکت سے۔ (احباب کی دینی تڑپ پر حضرت دادا شیخ بہت خوش ہوئے اور فرمایا ماشاء اللہ بہت پیاس ہے، جس حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے باہر موجود احباب کی تڑپ کو دیکھتے ہوئے تقریباً آٹھ منٹ مزید نصیحتیں فرمائیں جس کا خلاصہ یہ ہے فرمایا کہ) میرے دوستو! خدا کے ملنے کا یہی طریقہ ہے کہ خدا کے ناپسندیدہ باتوں کو ہم چھوڑ دیں! جب  ہم اپنے مالک کو چاہتے ہیں تو پھر کیوں اپنے مالک کو ناراض کریں! یہ نفس و  شیطان کا دھوکہ ہے کہ ہم اپنے مالک کو ناراض کرنے والی باتوں میں پھنس جاتے ہیں ، سر سے لے کر پاؤں تک قسم بخدا ہم پر مالک تعالیٰ کا حق ہے کہ تمام اعضاء و جوارح کے ذریعے سے اپنے محبوبِ پاک کی خوشیوں کی تلاش ہو!۔۔ہمہ تن ہستی ٔ خوابیدہ مری جاگ اُٹھی۔۔ہر بنِ مو سے مرے اُس سے پکارا مجھ کو۔۔آہ! اپنے جان و جسم کے ذرے ذرے سے ہم اپنے مالک تعالیٰ پر فدا ہوتے رہیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ! جان دے دیں لیکن پھر بھی کسی طرح  ایک گناہ بھی نہیں کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ ، نگاہ کی حفاظت کریں گے، زبان کی بھی حفاظت کریں گے، کانوں کی بھی حفاظت کریں گے اور تمام اعضاء و جوارح کی حفاظت کریں گے۔۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے مالک کو ہر گز ناراض نہیں کریں گے!ان شاء اللہ تعالیٰ! سب کو پکا عزم ہے ( سب احباب نے ہاتھ اُٹھا کر عہد کیا)  اللہ تعالیٰ ہم سب کو قبول فرمائے۔ ایک بات تو ہوئی دوسری بات یہ ہے کہ اہل اللہ صحبت میں اُٹھنا بیٹھنا قسم بخدا گناہوں سے بچنے کےلیے بے حد مفید ہے اور اُس کا سبب یہ ہے کہ جہاں اللہ والے ہوتے ہیں وہاں منجانب اللہ انوارات برستے رہتے ہیں۔۔ (حضرت دادا شیخ نے تیز بارش سے گذرے پر کپڑے گیلے ہونے کی مثال سے سمجھایا۔۔اور پھر سو قتل کے مجرم کی معافی کا قصہ بیان فرمایا کہ اہل اللہ کی بستی کی طرف صرف چلا تھا کہ انتقال ہوگیا اللہ کی رحمت سے اس کوشش پر مغفرت ہوگئی، فرمایا)۔۔ اتنا بڑا ظالم اتنا بڑا مجرم صرف اِس بات پر اُس کی بخشش ہوگئی اِسی سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اللہ والوں کی کتنی قدر ہے ،کتنی عزت ہے ، کتنی محبوبیت ہے! ( زندگی بنانے کا نسخۂ عظیم عطا فرمایا) اس لیے میرے دوستو زندگی بنانے کےلیے ایک تو یہ ہے کہ گناہوں کو بالکل چھوڑ دینا، اُس کی کوشش میں لگے رہنا، کتنی بھی مشقت ہو پھر بھی ہم گناہ نہیں کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ! جان جائے تو جائے! جان دے دی میں نے اُن کے نام پر عشق نے سوچا نہ کچھ انجام پر۔۔ تو اہل اللہ سے تعلق کرنا  کہ ان کی جان ہر وقت جستجوئے محبوب پاک میں ہوتی ہے اور اللہ والے ہونے  دو دلیلیں دو نشانیاں ہیں (۱) باشرع متبع شریعت و سنت  ہوں (۲) دورِ حاضر کے علمائے حق اِس کی تصدیق کرتے ہوں کہ ہاں بھئی یہ اللہ والے ہیں۔ تو دوستو! دو باتیں ہوگئیں! تیسری بات بہت زیادہ فائدے کی بات ہے، بہت ہی کام کی چیز ہےوہ یہ ہے کہ اکابرِ دین کے نزدیک  جو اہل اللہ ہیں اُن کے مواعظ ملفوظات کا مطالعہ ، حضرت حکیم الامتؒ فرماتے تھے کہ یہ ہمارے بزرگوں کی صحبت کا بدل ہے، اب دیکھو! لاکھ ہم کوشش کریں ہمیں کیسے حضرت حکیم الامت ؒ کی صحبت حاصل ہوگی، حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، حضرت گنگوہیؒ اور حضرت حاجی صاحب ؒ کی صحبت کیسے حاصل ہوسکتی ہے! اس لیے اِن  کے ملفوظات ، سوانح کا مطالعہ کیا جائے تو گویا کہ اُن کی صحبت مل گئی! اتنا عظیم الشان نفع ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ!۔۔۔ کتنی باتیں ہوگئیں چوتھی بات کہوں یا خاموش ہوجاؤں ( سب نے کہا ضرورضرور فرمائیں) خدا کی قسم !خدا کی قسم! خدا کی قسم!  مایوس ہونا ، نااُمید ہوجانا حرام ہی نہیں ! کفر ہے! کفر ہے! کفر ہے! حق تعالیٰ نے اِس کو حرام ہی نہیں بلکہ کفر فرمادیا کہ تُو مجھ سے نااُمید ہوجاتا ہے مجھ سے نااُمید تو شیطان ہوتا ہے! تُو کیسے مجھ سے نااُمید ہوجاتا ہے جب کہ بار بار کہہ رہا ہوں استغفروا ربکم انہ کان غفارا۔ اور  میں نے خود کہا کہ  لاتقنطوا من رحمۃ اللہ۔  پھر بھی تجھ کو نہ مجھ پر اعتماد ہوا! پھر  تُو پکا کافر ہے! تُو میرا نہیں ہے اور کسی کا ہے، ہٹ یہاں سے جا! اس لیے نااُمید ہوجانا بالکل کفر ہے!۔۔۔ اس لیے جب نااُمید ہونا اور مایوس ہونا حرام ہے تو اُمید لگانا فرضِ عین ہے! ( اِس پر سب احباب نے جوش میں سبحان اللہ! ماشاء اللہ! کے نعرے بلند کیے ) تو حاصل کیا ہوا کہ لاکھ تمہارے حالات بگڑے ہوئے ہوں اُمید رکھو! اُمید رکھو! میرا بھی کام بن جائے گا ایسے ارحم الراحمین کے ہاں! صرف یہ ہے کہ میں اِس دروازے پر پڑا رہوں!  بات سمجھ میں آگئی کہ نہیں! اللہ تعالیٰ ہمیں فہم عطا فرمائے!قبول فرمائے! توفیقات سے نوازے! اللہ تعالیٰ ہمیں مردود نہ فرمائے! بس آخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین! صلی اللہ علی النبی الکریم۔۔۔ آپ حضرات کی طلب و پیاس دیکھ کر چند باتیں عرض کرنے کی توفیق ہوئی الحمدللہ! اللہ تعالیٰ اس کو میرے لیے ، آپ کے لیے ، ہم سب حضرات کے لیے! حاضر و غائب سب محبین کے لیے! تمام مسلمانوں کے لیے اس کو نفع عظیم کے ساتھ مفید بنادے! (یوں یہ عظیم الشان مجلس اختتام پذیر ہوئی ، حضرت حاجی نثار صاحب آخر تک موجود رہے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  انہیں بہت محبت اور دعاؤں کے ساتھ رخصت فرمایا ،  کل چونکہ حضرت اثر صاحب اور حافظ محمد احمد صاحب کی خانقاہ میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے تشریف لے جانے کی ترتیب تھی، اس لیے اب آرام کرنا تھا، رات بارہ بجے سے زیادہ وقت ہوچکا تھا، طویل مجلس میں سب احباب خوب جم کر بیٹھے، بعد میں اپنے نفع کا ذکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے بھی کیا)

ساتویں دن کی تمام آڈیوز کو محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......یکم دسمبر برو ز اتوار.......۲ دسمبر بروز پیر......۳ دسمبر بروز منگل.......۴ دسمبر بروز بدھ

۵ دسمبربروز جمعرات ......۷ دسمبر برو ز ہفتہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۹ دسمبر بروز پیر.........۱۰ دسمبر بروز منگل