دینی و اصلاحی سفر(کراچی)خانقاہ غرفۃ السالکین گلستانِ جوہر بلاک۱۲

لسانِ اختر، اخترِ ثانی،شیخ الحدیث، شیخ العلماء ،ترجمانِ اکابر،امیرِ محبت، قلندرِ وقت، عارف باللہ

حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم

----(بروز ہفتہ۳۰ نومبر تا  منگل۱۰ دسمبر ۲۰۱۹ء)----

.....(مسجد اخترپہلا بیان،خانقاہ گلشن حاضری وواپسی،عشاء بیان اورغرفہ مجلس).....

یکم دسمبر ۲۰۱۹ء بروز اتوار

(۶)چونکہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی نیند بہت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ضعف بہت ہوجاتا ہے، لہٰذا نیند کے لیے دوا لیتے ہیں جس کا اثر دوپہر تک رہتا ہے، اس لیے جب تک حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا قیام غرفۃ السالکین میں رہا روزانہ بعد فجر مختصر ناشتہ فرماکر ظہر تک آرام کرنے کا معمول رہا،اور  کل رات تو  پہلی مجلس بہت طویل  ہوگئی تھی، تقریباً ۴ بج گئے  لہٰذا نمازِ ظہر سے کچھ دیر پہلے بیدار ہوئے اور نمازِ ظہر ادا کرنے کے بعد مسجد اختر میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا اس سفر کا  پہلابیان مسجد اختر میں ہوا، نہایت دلنشیں درد بھرا بیان تھا، جس کی آڈیو مختصر تفصیل کے ساتھ منسلک ہے:

(۶)پہلا بیان مسجد اختر میں "حصول ولایت کے لیے پانچ باتیں"

بیان کے اہم مضامین

00:15) بیان کے شروع میں ہی حضرت دادا شیخ حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم پر گریہ طاری ہوگیا 03:16) آپ اللہ سے محبت کریں اور اللہ کو ہردم خوش رکھیِں! ان سے محبت کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اُن کی پسند کے کام کریں 04:00) اللہ تعالیٰ کی خوشی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے!جس سے اللہ کو راضی کرلیا اُس سے بڑھ کر کس کو بادشاہی حاصل ہے 04:37) گناہوں سے بچنے کےلیے ۱) ہمت ۲) اسباب گناہ سے بہت دور رہیں۔۔ بعض لوگ مخلص تو ہوتے ہیں لیکن اپنی ذات پر اعتماد رکھتے ہیں اس لیے اسباب گناہ سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتے اس لیے رفتہ رفتہ گناہوں پر رحجان بڑھتا رہتا ہےاور گناہ ہو جاتا ہے۔۔۔ 06:32) شیطان کی مکاریوں کا بیان۔۔ کس طرح آہستہ آہستہ غیر اللہ کی محبت گہری کردیتا ہے پھر اچانک اس کے دل میں گناہ کا خیال ڈال دیتا ہے، پھر  گناہ ہو ہی جاتا ہے۔۔۔ 08:26) حضرت تھانوی کا ملفوظ : کہ میں ایک ہی مجلس میں طالبین کو اللہ تک پہنچا دیتا ہوں مطلب اُن کو پہنچنے کے سامان دے دیتا ہوں تو گویا یہ اللہ تک پہنچادینا ہے 09:46) ہمارے حضرت والا کو اللہ تعالی نے سلوک کی راہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا تھا، مختصر مختصر نصیحت میں پورا تصوف ہوتا تھا، ایک ہی نصیحت میں ولایت کے سارے سامان جمع ہوتے تھے 10:48) وصول الی اللہ کے لیے یہ کام کریں:(۱) اللہ والے سے تعلق کریں اس پر حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ کسی اللہ والے پر بیعت ہوجانا اس سے ایک نسبت مجملہ عطا ہوجاتی ہے ، کسی اللہ والے سے تعلق ہونا یہ اللہ ہی سے تعلق ہونا ہے۔ (۲) گناہ چھوڑ دے (۳) اسباب گناہ سے بھی بچے۔ یہ تینوں باتیں اصل ہیں اسی کے ذریعے سے تعلق مع اللہ عطا ہوجاتا ہے۔ پھر اگے فرمایا (۴) ذکر اللہ مداومت (۵) اتباع سنت۔ 13:46) یاد الٰہی کیا ہے؟ جس کی روح کو یادِ الٰہی حاصل ہے، اُس کو جنت سے بڑھ کر مزہ آتاہے۔ روحِ اولیاء کی غذا ذکر اللہ ہے، قلب کے لیے مرہم ہے ذکر اللہ ! 16:07) یہ اللہ کا کرم ہے کہ اپنا نام لینے کی اجازت عطا فرمائی، بلکہ ترغیب فرمائی کہ ہمارا نام لو! ذکر میں ناغہ نہ ہو! مختصر ہی کرلو! حتی کہ میرے شیخ نے فرمایا ۔میرا تو ذوق یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ جس نے ایک بار بھی اللہ کا ذکر کرلیا تو اللہ پاک اس کو جہنم میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔ ایک تو یہ ہے روٹین! مثال جیسے بیوی سے تعلق ہوتا ہے تو ڈیوٹی ہوتی ہے کیا؟ محبت کا معاملہ ہے ایسا ہی حق تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ اُن سے سب سے زیادہ محبت کریں اور یہ حق تعالیٰ کا احسان ہے کہ اوروں سے بھی جائزمحبت کی اجازت عطا فرمائی لیکن فرمایا کہ میری یعنی اللہ کی محبت اشد ہونی چاہیے۔ 20:20) مولانا رومی رحمہ اللہ استاذِ محبت ہے! سارے عالم کو محبتِ الٰہیہ سِکھائی! 21:06) حدیث شریف کا مفہوم  کہ میں تو ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، کوئی نہیں تھا جو مجھ سے باخبر ہو تا پھر مجھے یہ اچھا لگا کہ کوئی میرا جاننے والا ہو! کیا مطلب ؟ کہ کوئی میرا دیوانہ ہو! اسی لیے اہل اللہ کو عارف کہتے ہیں۔ خالی معرفت کافی نہیں محبت بھی ہونی چاہیے پھر اتباع کی بھی توفیق ہوتی ہے، پھر جو محبوب ہوتا ہے تو اس کو اس کے ذکر کی توفیق ہوتی ہے، 24:19) مجنوں کی دنیاوی محبت سے اللہ کی محبت کی مثال بیان فرمائی! 25:04) حضرت والا کا فرماتے تھے! تو لے اللہ کا نام ۔۔۔۔ترا بنے کا سب کام 26:16) اللہ سے خاص محبت کا تعلق جب ہوگا جب قلب و جان اللہ پر فدا ہوں تو جو اُس کی زباں سے نکلے گا کلام موثر ہوگا! ۔۔۔۔ ساحرین کے سحر میں وہ اثر نہیں جو اہل اللہ کے بیان میں تاثیر ہوتی ہے۔ 27:58) اہل اللہ سے ملنا بھی بیان سے کم نہیں! بیان سننے کا مقصد تو اللہ کو پانا تھا، تو عشاق حق کو دیکھنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی انوار و تجلیات مل جائیں گی، کیونکہ ان کے چہروں پر انواراتِ الٰہیہ برستے رہتے ہیں۔ 30:00) حق تعالیٰ سے قریب ہوجانا یہی ملاقات ہے! تو جو اللہ کے دیوانے ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے دل چپکے ہوتے ہیں، اس لیے اُن کے پاس رہنے والوں پر اس کا اثر آتا ہے۔ 31:30) بہت گریہ سے فارسی شعر پڑھا جس کا مفہوم جو سچے طالبین ہوتے ہیں ان کو اہل اللہ کے نعمہ ٔ روح کی برکت سےحیات عطا ہوتی ہے، وہی تو لوگ زندہ ہیں تو زندہ حقیقی اللہ سے تعلق رکھتے ہیں، اہل اللہ کے قلب و جان میں اللہ کی محبت کی آگ لگی ہوتی ہے تو ان سے ملنے والوں کو بھی یہی آگ لگ جاتی ہے۔ 34:19) فارمولۂ عشق الٰہی، 35:20) اتباع سنت کی اہمیت، حضورﷺ کی اداؤں کی نقل اُتارو اِس سے مشابہت پیدا کرو! حضرت حکیم الامت فرماتے تھے اتباع سنت سے حق تعالیٰ بندے کو محبوب بنالیتے ہیں 36:31) حصول ولایت کے لیے پانچ باتیں ، عطائے نسب ، بقائے نسب، ارتقائے نسبت ان پانچ باتوں پر عمل سے حاصل ہوجائے گی 39:00) مجلس سے اٹھنے کی دعا کا خاص اہتمام کیا جائے ۔

(۷)حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا مسجد اختر میں پہلا بیان مختصر ۴۰ منٹ کا ہوا جس کے بعد بہت سے احباب سے حضرت نے مصافحہ فرمایا اور پھر غرفۃ السالکین میں حجرۂ مبارک میں تشریف لے گئے، جہاں کچھ دیر میں دوپہر کا کھانا تناول فرمایا جس کے بعد تقریباً پونے چار بجے دوپہر مجلس شروع ہوئی، جس کی آڈیو منسلک ہے:

(۷)دوپہر کھانے کے بعد مختصر مجلس میں مختلف موضوعات پر ملفوظات ارشات فرمائے "چاندی کے برتنوں کے استعمال کی ممانعت۔۔۔ جامعہ حکیم الامت کے لیے دعائیں۔۔۔چائے پر بسم اللہ پڑھنے کا اہتمام۔۔۔ مختلف احباب سے ملاقات۔۔۔ غرفۃ السالکین اور مسجد اختر کے انتظامات، تعمیرات کی تعریف اور دعائیں۔۔۔ حضرت والا ؒ کا اندازِ محبت و نازحضرت دادا شیخ کے ساتھ۔۔۔۔حضرت میر صاحب کے ذوق کے ساتھ خاص مناسبت کاذکر۔۔۔۔ مزاح"

(۸)مسجد اختر میں نماز عصر کی ادائیگی کے بعدحضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا ارادہ تھا کہ گلشن خانقاہ حاضرہوں گے ،چنانچہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بمع خاص خدام کے خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال حاضرہوئے، کچھ دیر قیام کے بعد مغرب واپسی ہوئی ، یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۸)خانقاہ امدادیہ اشرفیہ بعد عصر روانگی، خانقاہ حاضری، ملاقاتیں اور مختلف موضوعات پر ملفوظات۔۔۔ "خانقاہ پہنچ کر  معلوم ہوا کہ حضرت والاؒ کے پوتے مولانا ابراہیم صاحب مدظلہ بیمار ہیں ان کی بذریعہ فون تعزیت فرمائی۔۔۔ خانقاہ میں خدام سے باتیں۔۔۔ نماز مغرب کے بعد حضرت والا ؒ کے پوتے مولانا اسحٰق صاحب مدظلہ سے ملاقات محبت بھری باتیں۔۔۔ حضرت والاؒ سے ان کی والہانہ محبت کا تذکرہ۔۔۔ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے خدام کو حضرت داداشیخ دامت برکاتہم نے خانقاہ دِکھائی ساتھ ساتھ محبت بھری ڈانٹ بھی لگائی۔۔۔حضرت والا ؒ کے اندازِ تربیتِ کامل کا والہانہ تذکرہ فرمایا۔۔۔ چائے پر مختلف باتیں۔۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  کی اپنی ۳ برس نواسی اور ۴ برس  کے نواسے کے کچھ ایمان افروز واقعات بیان فرمائے، بچپن سے ہی تقویٰ والے انداز ہیں، ماشاءاللہ! ۔۔۔۔پھر حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے مزاجِ محبت کا ایک واقعہ بیان فرمایا۔۔۔ حضرت والاؒ کے قبر مبارک پر حاضری کا پرنور تذکرہ، مختصر حضرت مفتی ارشاد صاحب کا تذکرہ۔۔۔۔آخر میں روتے ہوئے درد بھری دُعا" ۔

(۹)مسجد اشرف میں نماز مغرب  کی ادائیگی اور خانقاہ گلشن میں ملاقات کے بعدغرفۃ السالکین  کی طرف واپسی میں کار میں پُرلطف گفتگو فرمائی اور حضرت شیخ نے حضرت دادا شیخ کو مزیدار واقعات سنائے اور حضرت دادا شیخ نے مولانا اسحٰق صاحب مدظلہ کی محبت کا تذکرہ فرمایا۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۹)بعد مغرب خانقاہ امدادیہ اشرفیہ سے واپسی غرفۃ السالکین آتے ہوئے کار میں پرلطف باتیں

(۱۰)عشاء کی نماز سے پہلے مختصر مجلس فرمائی، جس کے بعد عشاء کی نماز کی تیاری فرمائی، چونکہ عشاء بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا بیان بھی طے تھا، یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۱۰) نمازِعشاء  سے قبل غرفۃ السالکین حجرہ ٔ مبارک میں مختصر محبت بھری باتیں: اہل اللہ کے فیض سے کوئی محروم نہیں رہتا، طلب ہو، اصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو خوش رکھا جائے پھر جو وہ نعمت دینا چاہتے ہیں دے دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا شعبۂ معافی مستقلاً جاری ہے ورنہ ہم زندہ کیسے رہتے، حضرت مفتی نعیم صاحب کا محبت بھرا تذکرہ، حضرت دادا شیخ کی اپنی خانقاہ کا تذکرہ اور حضرت والا کے حکم کہ "یہیں رہ کر کام کرنا"  عجیب واقعہ بیان فرمایا۔ پھر یہاں کی اردو کے بارے میں فرمایا کہ یہاں عربی پر بھی اردو کا غلبہ ہے ، اس کی کئی پرلطف مثالیں بیان فرمائیں۔

(۱۱)عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مسجد اختر میں عشاء کی مجلس میں پہلا بیان فرمایا :

(۱۱) مسجد اختر عشاء مجلس میں بیان  "کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنا تزکیہ کرالیا"

بیان کے اہم مضامین

 04:04) بیان کے آغاز جناب مصطفی صاحب نے حضرت تائب صاحب دامت برکاتہم کے درج ذیل  اشعار شیخ کی محبت میں سنائے ۔۔۔: (۱) میری زندگی میں تم سا کوئی ہے۔۔۔۔!(۲)بتلائیں کیا ہوا ہے تجھے دیکھنے کے بعد(۳) جن کی پیری شباب جیسی ہے،(۴) اہل دل کو جو سرسری جانے(۵) عشاق کے جینے کے ڈھنگ اور طرح کے ہیں۔(۶) میرے دل پہلے جو تھا سو تھا بس ابھی بسا کوئی اور ہے۔(۷) غم کی تاثیر ہے اپنی اپنی (۸) تم اپنی قید میں لے لو کہ ہم آزاد ہوجائیں۔۔۔ 38:13) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مسجد اختر میں رونق افروز ہوئے 39:22) فرمایا:پانی پیے تو دونوں ہاتھ سے پیے! تھوڑا تھوڑا کرکے پانی پینا چاہیے، اسلام کی ہر ادا میں جمال ہی جمال ہے، کوئی کھانے کی چیز یا پینے کی چیز ہو تو بسم اللہ پڑھیں! محبوب پاک کا نام پاک لیتے رہو، کیا حسن ہے! 42:11) آپ ﷺ ادائیں سب اسلام کی ادائیں ہیں، جس میں دلکشی ہی دلکشی ہے۔ اسلام کتنا حسین و جمیل ہے! 44:07) جتنا آدمی گناہوں سے دور رہے گا! (گریہ سے روتے ہوئے فرمایا) جتنا اپنے اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی بنائے گا اُتنے ہی اسلام کے محاسن اس کے سامنے روشن ہوں گے، روحِ عارف تو محاسن اسلام سے مست رہتی ہے۔ 45:42) حضورﷺ کی طرح زندگی بناؤ تو کامیاب ہوجاؤ، میرے محبوبِ حسین کی طرح ادائیں دکھاؤ تو یجبکم اللہ کا مقام تمہیں عطا ہوجائے گا، اللہ تعالیٰ بندے کا حسین و جمال والا ہونا پسند فرماتے ہیں۔ 48:28) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک جمیل ہیں اور جمال کو پسند فرماتے ہیں، تمہارا حسین بن کر رہنا پسند فرماتے ہیں اور حسین اور جمال کون سا پسند ہے ؟ جمالِ محمدی ﷺہمیں پسند ہے، تم جمال محمدی ﷺ کے ذریعے سے اپنے کو جمیل بناؤ! 49:18) حضورﷺ کے ظاہری و باطنی میں درجہ کمال رکھتے تھے، حضورﷺ کی مسکراہٹ کے سامنے تمام حوروں کی مسکراہٹیں ماند پڑجاتی ہیں، اور آپﷺ مسکراہٹ لبوں پر رہتی تھی ، تبسم کا راز یہ تھا کہ آپ ﷺ  کاحق تعالیٰ کی ذات پاک سے غیر وسیع ناقابل تصور تعلق مع اللہ ہے جس کی برکت سے ہمیشہ ہونٹوں پر مسکراہٹ رہا کرتی تھی۔۔اور نمرود، فرعون کی ہنسی بھی  سراسر ظلمت ہوتی تھی۔ 53:30) حضرت پھولپوری ؒ  نفل نماز جگہ چھوڑ چھوڑ کر پڑتے تھے۔۔۔ حضرت والا ؒ کا فہم دین تھا کہ دور دور سے حضرت پھولپوری کی عبادت دیکھتے رہتے تھے، ایسے کہ حضرت پھولپوری کو معلوم نہ ہو۔۔ مولانا رومی ؒ فرماتے تھے کہ ، قرآن پاک کیا ہے آئینہ ہے حق تعالیٰ کے جمال کا۔۔ 57:26) جس کو توفیق توبہ ہوجاتی ہے یہ علامت ہے کہ رحمت الٰہیہ کا طوفان اس کی طرف متوجہ ہورہا ہے۔۔۔ توفیق توبہ علامت ہے رحمتِ حق کی۔۔۔۔59:23) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے حکم پر سید ثروت حسین صاحب نے جناب انیس الہ آبادی نعت شریف کے اشعار ’’ نبی کی نظر کا اثر دیکھ لیجیے‘‘ والہانہ انداز سے پڑھ کر سنائے، سب لوگ مست ہوگئے، 01:06:29) مال کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے، مسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی دعاؤں کی عظیم الشان عاشقانہ تشریح 01:10:13) دعاؤں اور اذکار میں تعلق مع اللہ کی روح ہے، ہمارے اکابر نے اس کو کھول کھول بیان کیا ہے۔۔۔ 01:14:42) دل اپنا پاک کرلو! اللہ تعالیٰ  کے تعلق کا تقاضا اورلحاظ یہ ہے کہ ہمیشہ دل کو پاک و صاف رکھیے، کسی حال میں گندگی میں ملوث نہ ہوں، گناہ اور اسبابِ گناہ گندی چیز ہے! 01:17:48) مومن کی شان یہ ہے کہ جہاں بھی رہے گا پاک صاف رہے گا! طہارت ہی طہارت ، آدھا معاملہ تو یہ ہے کہ پاک صاف رہیں اور دوسرا یہ ہے آراستہ رہیں، آراستہ ہونا کیا ہے اتباع سنت و شریعت۔ 01:20:14) آیت قد افلح من زکٰھا ۔۔۔۔الخ کی الہامی تشریح۔۔۔ مومن جہاں بھی جاتا ہے اُس کا مشغلہ حق تعالیٰ کو خوش کرنا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ مشغلہ اہل دل کا ہے اختر۔باغ دل کی پاسبانی ہے 01:23:05) خواجہ صاحب کی فداکاری جب حضرت تھانوی ؒ نے خانقاہ سے نکال دیا تھا، نظر شیخ ، عنایت کے مشاق تھے ، حق تعالیٰ کی ایک ایک نظر کےلیے عشاق کو بالکل تیار ہر لمحہ رہنا چاہیے، اہتمام کرنا چاہیے،تاکہ ہم آپ کو پسند آجائیں، اس اہتمام کا نام عملِ صالح ہے ، اول اہتمام ایمان ہے پھر تقویٰ ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اس کو اُن پر فدا کاری کی توفیق ہوتی رہتی ہے۔ 01:25:30) اللہ تعالیٰ کو اپنی انکساری اور کمزوری دکھاؤ، کہ یا اللہ ہم تو کمزور ہیں ۔۔کبھی اللہ پاک کی رحمت سےمایوس نہ ہوناچاہیے۔ اس لیے کسی گناہ گار کو حقیر نہ سمجھنا چاہیے، بادشاہ کے بیٹے کی مثال عجیب بیان فرمائی۔۔۔ گناہ گار کی روحِ ندامت کے اثر سے شیخ بھی متوجہ ہوجاتے ہیں، روحِ فیاضِ شیخ کی برکتوں سے پرانے سے پرانے مجرم اللہ والے بن جاتے ہیں کہ انہارِ ولایت ان کی روح میں جاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے جو ہمارے ہیں اُن کے ساتھ لگ جاؤ کونو مع الصادقین! سچوں کے ساتھ رہ پڑو! 01:32:18) حق تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ جیو ہمارے لیے ، مرو ہمارے لیے!۔۔۔عارفین فرماتے ہیں اس طرح جینا اور مرنا عشاق حق کی صحبتوں سے عطا ہوتا ہے۔ 01:33:22) جتنا آدمی گناہوں سے الگ ہوجائے گا اور اہل اللہ کے ساتھ تعلق بھی ہوجائے اور مشغلہ اللہ کے ساتھ بنائے گا پھر اس کو قرآن کے انوارات معلوم ہوجائیں گے۔ 01:35:50) حضور ﷺ کے وحی کے نزول کا عجیب حال بیان فرمایا۔۔۔ 01:39:02) کامیاب ہوچکا! کون ! جو پاک و صاف ہوجائے، اور یہ کہ محبوب پاک کی یاد کو اپنا مشغلہ بنائے، ہماری یاد کی تکمیل میں سب سے اونچا والا معاملہ  نماز ہے اس کا پوری زندگی اہتمام رکھیں گے، کیونکہ نماز میں ہم حق تعالیٰ سے بہت قریب ہوتے ہیں۔۔۔01:41:58) قرآن پاک کے ظاہری اور باطنی شان 01:44:06) آخر میں حضرت شیخ دامت برکاتہم نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے بیان کے بارے میں اپنے تاثرات اور کثیر تعداد میں متعلقین کے پیغامات کا خلاصہ پڑھ کر سنایا، آج کا بیان 20 ممالک میں 230 جگہ یہ عظیم الشان بیان سنا گیا 01:48:28) آخر میں مسجد اختر میں کثیر تعداد نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مصافحہ کیا، لوگ ایک طرف سے آتے اور مصافحہ کرکے انتظام کے ساتھ دوسری طرف سے نکل جاتے تھے، حضرت دادا شیخ باوجود ضعف کے کافی دیر تک مسجد اختر میں احباب سے نشت پر بیٹھے ہوئے مصافحہ فرماتے رہے۔ ماشاء اللہ!

(۱۲)مسجد اخترمیں مزید کچھ خاص احباب سے مصافحہ کے بعد غرفۃ السالکین  اپنے حجرہ ٔ مبارک کی طرف تشریف لے جاتے ہوئے ارشادات اور کچھ ملفوظات حجرۂ مبارک میں، آڈیو منسلک ہے:

(۱۲) نمازِعشاء  بیان کے بعد غرفۃ السالکین جاتے ہوئے ارشادات:  امرد لڑکوں سے مصافحہ پر حضرت والا کی نصیحت، مسجد سے نکلنے وقت کی مسنون دعاؤں کا اہتمام ، راستے میں چلنے ہوئے فرمایا کہ بیان میں علماء کرام کی وجہ سے بہت اطمینان رہتا ہے، مفتی نعیم صاحب مدظلہ کی تعریف  اور ان سے باتیں، مزاح، غرفۃ السالکین کے ہال میں کھڑے کھڑے مناسبت پر علم ِ عظیم،  جنت کے حسن و جمال ، اہل اللہ سے ساتھ جنت کا اور دیدارِ الٰہی پر حقیقی مزہ ، جنت آئینہ جمالِ حق تعالیٰ ہے! الہامی ارشادات

(۱۳) عشاء بیان کے بعد غرفہ حجرہ میں کھانا کی ترتیب تھی، کھانے پر مجلس شروع ہوچکی تھی، پھر کچھ دیر میں باقاعدہ مجلس حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ملفوظات ارشاد فرمانا شروع کیے، جو رات دو بجے تک جاری رہے۔آڈیو منسلک ہے:

(۱۳) نمازِعشاء  بیان کے غرفۃ السالکین میں کھانے کے بعد رات ۲ بجے تک مجلس میں دردِ بھرے ارشادات  مفہوم:  حضرت والا کے ہمراہ ایک ہی پلیٹ میں کھاناکھانے کا واقعہ ۔۔۔مفتی نعیم صاحب  سے باتیں تقویٰ کی مثال جیسے مچھلی کھانا ۔۔۔جنت میں دیدارِ الٰہی سے متعلق علمِ عظیم، دعا خوب مانگنے کی ترغیب، اللہ کے لیے تڑپنے والا دل بناؤ، اللہ کی معافی کو کھینچنے والا اندازِ عاجزی۔۔۔ایک نقل ملفوظات ہے اور ایک قلبِ ملفوظات ہے۔۔عنایاتِ شیخ پر شکرگذار ہو کر فدا ہوجانا چاہیے اورتقویٰ و ذکر اللہ کا اہتمام۔۔ اللہ کی شانِ کرم  کا کرشمہ کہ نالائقوں کو بھی نواز دیتے ہیں۔۔۔حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کو یاد آہ ! کہ شیخ کی ہم سے قدر نہ ہوسکی!۔۔ بس اب حق تعالیٰ سے رونا ہے کہ معاف فرمادیں ۔۔۔ جس  کو اللہ اپنا درباری ایک بار بنالیتے ہیں پھر اپنے دربار سے نہیں نکالتے۔۔ اہل اللہ کے تبرکات کی برکات۔۔۔اہل اللہ کا فیض مرنے کے بعد بھی جاری رہتاہے، امام محمد ؒ کا حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی قبر پر حاضری ہو کر وسیلے سے حق تعالیٰ سے دُعا ۔۔۔۔حضرت دادا شیخ سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی محبت کا ایک واقعہ اور دعا۔۔۔حضرت والا ؒ کا عجیب واقعہ کہ حضرت دادا شیخ مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم  اور ہمارے شیخ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم دونوں کو آپس میں ہاتھ ملوانا اور بشارت دینا۔۔۔اس واقعہ کا ذکر فرمایا اور پھر ہمارے شیخ دامت برکاتہم کا بذریعہ فون بیعت ہونے کا تذکرہ بہت محبت سے تفصیل سے فرمایا۔۔۔ بس اللہ کے لیے سب تعلقات رکھو۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو! ہمارے ساتھ خاص تعلق بناؤ!۔۔۔ دین کے کام کرنے والوں کو یہ مراقبہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم نالائقوں کو اپنے دین کےلیے استعمال فرمارہے ہیں یہ اُن کا کرم ہے۔۔۔اہل اللہ کو یہ فکر لگی رہتی ہے کہ کہیں کسی بات سے حق تعالیٰ ناراض نہ ہوجائیں ۔۔۔ جیسے ہم تلاوت میں تجوید کا خیال رکھتے ہیں ، اسی طرح دعاؤں  میں بھی تجوید کا الفاظ کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔

دوسرے دن کی تمام مجالس محفوظ کرنے لیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......۲ دسمبر برو ز پیر.......۳ دسمبر بروز منگل.......۴ دسمبر بروز بدھ........۵ دسمبر بروز جمعرات

۶ دسمبر بروز جمعہ.......۷ دسمبر برو ز ہفتہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۹ دسمبر بروز پیر.........۱۰ دسمبر بروز منگل