دینی و اصلاحی سفر(کراچی)خانقاہ غرفۃ السالکین گلستانِ جوہر بلاک۱۲

لسانِ اختر، اخترِ ثانی،شیخ الحدیث، شیخ العلماء ،ترجمانِ اکابر،امیرِ محبت، قلندرِ وقت، عارف باللہ

حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم

----(بروز ہفتہ۳۰ نومبر تا  منگل۱۰ دسمبر ۲۰۱۹ء)----

--(بعد ظہر مجلس، بعدعصر حضرت شیخ کے گھر آمد، بعد مغرب مسجد میں عظیم الشان بیان)--

۸ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز اتوار 

(۵۱) کل کا دن بہت مصروف گذرا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم دوپہر۴ بجے غرفۃ السالکین سے روانہ ہوئے ، جناب حافظ محمد احمد صاحب مدظلہ کی خانقاہ نارتھ کراچی میں بیان و مجلس فرمائی، پھر عشاء میں حضرت مولانا اثر صاحب دامت برکاتہم کے ادارے میں رونق افروز ہوئے، عشاء میں بیان اور مجلس کے بعد رات تقریباً ایک بجے غرفۃ السالکین واپسی ہوئی، فوراً ہی آرام فرمایا، آج فجر نماز کے بعد حسبِ معمول حضرت دادا شیخ مدظلہ نے آرام فرمایا،   آج چونکہ اتوار تھا اور صبح ساڑھے گیارہ بجے ہفتہ وار بیان کی ترتیب ہے ، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی اجازت سے ہمارے شیخ دامت برکاتہم نے مسجد اختر میں بیان فرمایا، ظہر نماز کے بعد  حضرت شیخ دامت برکاتہم کے ہمراہ  جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم ، حضرت مفتی محمد حسن امرتسری رحمہ اللہ کے پوتے  اور  ہمارے حضرت شیخ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کے خلیفہ مُجاز بیعت حضرت مولانا قاری ارشد عبید صاحب مدظلہ،حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر ہوئے، بہت محبت سے ملے کچھ دیر باتیں ہوئیں۔ دوپہر کھانے کے بعدمجلس چلتی رہی، آج  حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم کی طرف سے  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  کی  بعد عشاء  گلشن خانقاہ میں کھانے کی دعوت تھی، اور اس سے پہلے حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اپنے گھر پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی شام کی چائے پر تشریف آوری  کے لیے عرض پیش کی تھی جو حضرت نے  قبول فرمائی۔ دوپہر کھانے کے بعد مجلس میں  متفرق ارشادات ہوتے رہے،"مسجد میر"  کا تذکرہ آیا تو بہت خوشی کا اظہار فرمایا، پھر حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کے کچھ حالات و واقعات بیان فرمائے،اس ضمن میں ڈھاکہ کے ایک بزرگ مولانا اطہر علی صاحب  خلیفہ  حضرت  حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک کرامت کا تذکرہ فرمایا۔  اور کل صبح ۹ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے  حجرۂ خانقاہ غرفۃ السالکین میں بنگلہ زبان میں  کئی اشعار  موزوں  ہوگئے تھے اُس کا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے تذکرہ فرمایا۔مجلس کے آخر میں حضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھر کے  چھوٹے بچے حاضر خدمت ہوئے تو حضرت دادا شیخ نے ایک بچے سے پوچھا کہ آپ کو کیا بننا ہے؟ تو چھوٹے سے بچے نے  جواب دیا کہ عالم بننا ہے! حضرت دادا شیخ اس جواب پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ: یہ صحبتِ اہل اللہ کی برکات ہیں۔ اس پر ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اپنے گھر کے بچوں کے کھیل کا ذکر فرمایا کہ: کوئی حضرت میر صاحب بنتا ہے اور کوئی حضرت والا   بنتا ہے یہی کھیل کھیلتے ہیں! اس بات پر  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت مسرور ہوئےاورفرمایا: ماشاء اللہ! چونکہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بعد عصر ہمارے شیخ دامت برکاتہم کے گھر تشریف لے جانا تھا اس لیے فرمایا:  اب  کچھ دیر آرام کرنا چاہیے۔ لہٰذا  حجرہ کے پردے بند کردئیے گئے اور احباب آہستہ آہستہ کمرہ خالی کرنے لگے ، یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۵۱)بعد ظہر مختصر مجلس میں متفرق ارشادات

(۵۲) نمازِ عصر مسجد اختر میں ادا فرماکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  مع احباب ہمارے شیخ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کی درخواست پر  حضرت کے  گھر رونق افروز ہوئے،  غرفۃ السالکین سے بھی کثیر تعداد میں احباب ساتھ ساتھ تھے،  حضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھر میں عید کا سماں تھا، بڑوں سے لے کر چھوٹے بچے تک  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے منتظر تھے،  جیسے ہی حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی گاڑی حضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھرپر رُکی تو گھر کے بچوں نے سندھی زبان میں شور بچا  دیا نعرے لگائے  "حضرت والا اچی ویو" یعنی حضرت والا تشریف لے آئے۔ ماشاء اللہ!۔۔۔ اس درجے میں حضرت شیخ مدظلہ کا  تمام گھرانہ  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتا ہے جس کا اثر چھوٹے چھوٹے بچوں  میں بھی صاف  نظر آتا ہے۔ دروازے سے ہوتے ہوئے  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم، حضرت شیخ دامت برکاتہم کے والد حضرت بابا صاحب رحمہ اللہ کے کمرے میں جلوۂ افروز ہوئے، یہ وہی کمرہ ہے جس کو شیخ اول شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے شرفِ قیام بخشا تھا   پھر  شیخِ ثانی لاثانی صدیق زمانہ حضرت سید عشرت جمیل میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف لاچکے ہیں اور آج پیارے شیخ دامت برکاتہم کےشیخِ ثالث ہمارے دادا شیخ  قطبِ زمانہ ترجمانِ اکابر لسانِ اختر، اخترِ ثانی، امیرِمحبتِ الٰہیہ،رومی ٔ زمانہ حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم  کی تشریف آوری نے اس کمرے بالکل پورے گھر کو مزید انوار و برکات سے معمور و معطر فرمادیا۔۔۔۔۔۔  فالحمدللہ رب العالمین!  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو جب یہ بات حضرت شیخ دامت برکاتہم نے عرض کی تو حضرت دادا  شیخ دامت برکاتہم بہت خوش ہوئے فرمایا : سبحان اللہ!۔۔۔۔۔۔   احباب ماشاء اللہ خوب تھے کمرہ مکمل بھر گیا پھر ساتھ والے دونوں کمرے بھی بھر گئے۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  اور خدام کی چائے کی پُرتکلف دعوت تھی، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے کمرے میں حضرت شیخ دامت برکاتہم اور دیگر خاص احباب تشریف فرماتھے، حضرت شیخ اور حضرت کے سب بھائی وغیرہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اور خدام کی خدمت میں لگے ہوئے تھے، حضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھر سے بہت سے چیزیں خاص طور پر حضرت دادا شیخ کے لیے تیار کی گئیں تھی، جن کو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  بہت پسند فرمایا  اور باہر جو احباب  بیٹھے  تھے  اُن سب کو دسترخوان پر بیٹھا دیا گیا ۔ ماشاء اللہ! دوسو کے قریب احباب تھے، ان احباب کی خدمت میں حضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھرانے کے  سب بڑے اور چھوٹے   مگن  تھے۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت خوش تھے اور حضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھرانے کے متعلق ارشاد فرمایا اور دُعا دی کہ  " اللہ  تعالیٰ اس گھر کو انوار سے اور رحمتوں سے آباد فرمائے،سنت اور بندگی سے آباد فرمائے! رضا اور قرب کے انوار سے آباد فرمائے اور طلبِ محبوب ِ پاک سے آباد فرمائے! وہ گھر کتنا اچھا ہے جس میں سب لوگ حق تعالیٰ کی طلب میں مشغول ہیں، کوئی سجدے میں قدمِ محبوبِ پاک پر ہے!   اور کوئی رو رہا ہے اللہ کے لیے!  اور کسی کی زبان پر محبوب پاک کا نام ہے! کتنا مبارک ہے وہ  گھر!  ایک جنتی ماحول ہے اس میں! روزانہ یہاں مجلسیں ہوتی ہیں، حضرت والا رحمہ اللہ نے یہ طریقہ جاری فرمایا،  روزانہ حضرت والا کی کئی کئی مجلسیں ہوتی تھیں اور ہر ہر مجلس میں اللہ کے بندے  خوب شرکت کرتے تھے،  رات والی مجلس سب سے بڑی ہوتی تھی آہ! عجیب حال تھا، وہی طریقہ یہاں بھی جاری ہے، ہر روز اتنےلوگوں کا آنا، خاص  کر خواتین کا روزانہ آنا! ( حضرت شیخ سے دریافت فرمایا کہ ) اتوار والی مجلس مستقل ہوتی ہے؟ (حضرت شیخ نے تفصیل عرض کی کہ   تو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  ڈھاکہ میں احباب کے مجلسوں  میں آنے  میں مشکلات کا تذکرہ فرمایا کہ اتنا ٹریفک جام ہوجاتا ہے کہ پندرہ منٹ کا سفر تین چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے تو حضرت  شیخ دامت برکاتہم نے عرض کیا  کہ حضرت جو لوگ دور دور ہیں آنہیں سکتے  تو اگر  ایسا ہے تو اپنے اپنے مقامات پر حضرت کا بیان لائیو سنوانے کی ترتیب بن جائے ، اِس تجویز کو حضرت دادا شیخ نے بہت پسند فرمایا اور اپنے بیٹے حضرت مفتی حسن صاحب کو اِس سلسلے میں فرمایا کہ اِس کی ترتیب بنائیے! کہ مختلف جگہوں پر مجلسوں کی ترتیب بن جائے! کہ مختلف جگہوں پر جمع ہوں اور وہاں سے سنیں"۔ بعد ازیں حضرت شیخ دامت برکاتہم نے  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  کی اس  تشریف آوری پر  بہت گریہ کے ساتھ روتے ہوئے حضرت دادا شیخ کو  عرض کیا : " نوید  بھائی کہہ رہے ہیں کہ بڑے حضرت والا ؒ اور حضرت میر صاحب ؒ  کے بعد  ہمارے گھر میں رونق آئی ہے" حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اس بات پر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا:  الحمدللہ! ماشاء اللہ!۔  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے لیے چائے آگئی ،حضرت دادا شیخ چائے  سےمتعلق بہت اعلیٰ ذوق رکھتے  ہیں، چائے نوش فرمائی تو فوراً فرمایا: ماشاء  اللہ! چائے کے تمام ارکان و شرائط صحیح ہیں، (حضرت شیخ کو مخاطب کرکے فرمایا) چائے بہت اچھی بنی ہے!۔ان ارشادات کے بعد  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے اپنے بیٹے مفتی حسن صاحب  کا تذکرہ فرمایا   حضرت دادا شیخ پہلے  اِن کو "حَسن " کہتے تھے کبھی "مولانا حسن" کہہ دیا  لیکن  پھرایک بار اِن کے استاذ بہت ہی قابل اور بڑے  مفتی انہوں نے ان کے نام کا اعلان "مفتی حسن" سے کیا تو ہیں سے یہ مفتی حسن مشہور ہوئے کہ استاذ نے کہہ تب سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بھی مفتی حسن صاحب کہنے لگے۔ ( حضرت مفتی نعیم صاحب دامت برکاتہم کامخاطب کرکے فرمایا کہ)  آپ نے حدیث کی سند طلبہ کو دینے کے حوال سے فرمایا تھا کہ اس کے لیے کوئی وقت نکال کر چند منٹ کےلیے بیٹھ جاتے ہیں،  تمام کتابوں کی سند تو اِس وقت مجھے یاد نہیں ، صرف بخاری شریف اور ترمذی شریف کی سند ، ان شاء اللہ تعالیٰ سنا دیں گے! ترمذی شریف جن طلبہ نے ہم سےٍپڑھی ہے اُن میں سے ایک طالب علم اب ہمارے جامعہ حکیم الامت کے ناظم تعلیمات بھی ہیں اور آج  کل ترمذی جلد اول وہی پڑھاتے ہیں، الحمدللہ! میری ہی سب تقریرات اُن کے پاس موجود ہیں، اُسی سے وہ مطالعہ کرتے ہیں اور وہی سناتے ہیں۔ ( یہ سن کر  حضرت مفتی نعیم صاحب نے  عرض کیا ) "حضرت اب دل میں بہت شوق پیدا ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو طاقت و قوت عطا فرمائے ایک دورۂ تفسیر  پورے قرآن پاک کا ہوجائے، جو مروجہ دورے ہوتے ہیں اُن میں زیادہ تر  لفظی تحقیق لغوی ہوتی ہے لیکن روحِ قرآن کی بہت ضرورت ہے حضرت! یہ اگر ہوجائے  تو بہت بڑی پیاس، طلب ہے اور ایک خلا پُر ہوجائے گا! ان شاء اللہ تعالیٰ ( اس پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا) "ان شاء اللہ ! صحیح ہے! یہاں صرف کچھ ترجمہ پڑھایا جاتا ہے کچھ تفصیلی تحقیقات سُنادیتے ہیں!  روح قرآن! قرآن پاک کی  تذکیر اِس کی بہت ضرورت ہے!" (مفتی نعیم صاحب نے عرض کیا ) حضرت ! اللہ سبحانہ تعالیٰ  کی رحمت سے اُمید ہے کہ آپ پڑھائیں گے تو   تخلطہٗ بلحمی و دمی وسمعی و بصری یہ مصداق ہوجائیں گے۔ ( یہ سن کر حضرت دادا شیخ بہت مسرور ہوئے اور  خوشی سے فرمایا) آمین ! آمین! آمین!۔۔۔(پھر حضرت  ہمارے شیخ دامت برکاتہم کو مخاطب کرکے فرمایا ) یہاں الحمدللہ بہت مزہ آیا! چائے تو آج سب سے عمدہ تھی!  اِن دنوں میں سب سے اچھی چائے آج پی! ۔۔۔ (اس دوران حضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھرانے کے بہت سے بچے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ملنے احباب کو پیچھے ہٹاتے ہوئے آگے بڑھے، حضرت  دادا شیخ نے منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے) مغرب کی اذانیں ہونے لگیں تھیں، نماز مسجد اختر میں ادا کرنے کا ارادہ تھا، لہٰذا اب واپسی کی ترتیب تھی،رخصت ہوتے وقت حضرت دادا شیخ نے  گھر کےافراد سے بہت محبت سے فرمایا ) "بہت خوشی ہوئی، بہت عمدہ ، بہت لطف معلوم ہوا!"۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۵۲)عصر تا مغرب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی ہمارےحضرت شیخ دامت برکاتہم کے گھر تشریف آوری، ارشادات

(۵۳)  چونکہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی نمازِ عشاء کے بعد گلشن خانقاہ حاضری کی ترتیب تھی، لہٰذا حضرت داداشیخ دامت برکاتہم نے فرمایا تھا کہ روزانہ عشاء والا بیان صرف آج بعد مغرب ہوگا، لہٰذا نمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد حضرت کا عاشقانہ والہانہ عارفانہ بیان ہوا، باوجود اس کے کہ یہ مغرب  بعد بیان کی ترتیب بہت جلدی میں بنی تھی،  اس کے باوجود کثیر تعداد میں عشاقِ حق حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے بیان کےلیے  مسجد اختر میں حاضر تھے، تقریباً سوا گھنٹہ کا عظیم الشان بیان ہوا جس کی تفصیل ضروری مضامین کے ساتھ منسلک ہے:

(۵۳) بعد مغرب مسجد اختر میں عظیم الشان الہامی بیان: " دنیا کی جنت اللہ تعالیٰ کا قرب ِ خاص ہے"

خاص مضامین کا خلاصہ

 00:10) جناب سید ثروت حسین صاحب نے مولانا منصور الحق صاحب دامت برکاتہم کے اشعار پڑھے 12:47) مصطفیٰ صاحب نے حضرت تائب صاحب کے اشعار ’’ اُن کی پیری شباب جیسی ہے‘‘ 17:33) مولانا کریم صاحب نے اشعار ’’ کل خون شہادت میں لتھڑا یہ جسم انہیں دِکھائیں گے‘‘ 27:10) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھ کر بیان شروع کیا! 28:29) شروع میں دعا فرمائی! اللہ پاک ہمیں گناہوں اور غیر اللہ سے نجات عطا فرمائے 28:53) گناہوں میں کوئی مزہ نہیں ہے! لعنتی مزہ ہے! اللہ کی یاد میں جو مزے ہیں، اُن کو خوش کرنے میں جو مزے ہیں،۔۔۔ خدا کی قسم اُس میں تو لطف جنت دنیا میں ہی حاصل ہوجاتا ہے۔ 30:20) عاشقِ حق سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں ہے، کوئی ان سے بڑھ کر بادشاہ نہیں ہے! جو اللہ کے دیوانے ہوتے ہیں اُن کے سینے میں قرب الٰہی کا سمندر ہوتا ہے! 30:58) مولانا اسعد اللہ صاحب کا شعر سنایا! 31:23) عشقِ مجاز عشق نہیں فسق ہے، جو لوگ امرد پرستی، عورت پرستی کو عشق کا نام دے رہے ہیں یہ نام عشق کی توہین کررہے ہیں، جو خدا کا شریف بندہ ہوتا ہے وہ جس کی نعمت کھارہا ہے اس محسن کا مطیع رہتا ہے! 32:47) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب تم مجھے یاد کروگے اطاعت کے ساتھ میں تمہیں یاد کروں گا مہربانی کے ساتھ! 33:26) ایک ایک بندے پر اللہ کی نعمتوں کا شمار نہیں ہوسکتا! اس لیے ناشکری نہ کرو! 34:09) اللہ تعالیٰ کی شکرگذاری کیا ہے! قلب و جان سے اُن پر فدا ہوتے رہنا! یہ ہی شکر ہے! 34:55) دنیا میں کشش ہے ! اللہ کی ذات میں بھی کشش ہے,! کس کشش کو تم ترجیح دیتے ہو؟ جن کا نصیب اچھا ہوتا ہے وہ نفس کی حرام خواہشات سے لڑتے رہتے ہیں! 35:48) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سب غیر سے بھاگ کر میری طرف آجاؤ! 36:20) جو اپنی حرام خواہشات کا خون کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے زیادہ مقام اُسے عطا فرماتے ہیں! دونوں راستے کھلے ہوئے ہیں اچھا راستہ، گندا راستہ ۔ امتحان کےلیے دیکھتے ہیں میرا بندہ کس راستے پر جاتا ہے! 38:39) اونچے لوگ اللہ والے ہیں! زیادہ پیسوں سے بڑے لوگ نہیں بنتے ! ، سب سے بڑے اللہ تعالیٰ ، اور اُس بڑے کے ساتھ جس کو تعلق ہو وہ سب سے بڑے ہیں! حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ  کا واقعہ سنایا ۔۔۔   کہ انہوں نے مغل بادشاہوں کو للکارا ! 40:04) دنیا کی دولت تو نمرود کے پاس بھی ہوسکتی ہے اُس کی کیا حیثیت ہے! اللہ والوں کی امتیازی دولت یہی عشق الٰہی ہے! 40:39) عشق الٰہی کی دولت اہل اللہ سے ملتی ہے۔۔۔ 41:08) حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ  کا ملفوظ: اللہ تعالیٰ نے اپنے عشاق کے دل میں ایسی برکت دیکھی ہے کہ اللہ والوں کے دل جن کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی از راہ کرم متوجہ ہو ہی جاتے ہیں! 42:01) شرابوں میں کیا خوشیاں ہیں اس پر تو قہر الٰہی ہے! ہاں ایک آدمی اللہ کو یاد کررہا ہے، اطاعتِ الٰہی کرتا ہے! قسم بخدا! اس کو دنیا میں ہی جنت کا مزہ آتا ہے! 42:52) دنیا کی جنت اللہ تعالیٰ کا قرب خاص ہے! بڑے بڑے بادشاہ، اللہ والوں کے غلام ہوتے ہیں! اہل اللہ کا رتبہ ایسا عظیم الشان ہوتا ہے، ہر زمانے میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ دنیا کے لوگ اللہ والوں کی خدمت میں آتے ہیں! 44:08) تعلق مع اللہ دولتِ عظیم ہے اور طریق اس کے حصول کا دوام طاعت اور کثرت ذکر ہے! 44:33) اللہ سے تعلق ہر مسلمان کو ہے لیکن یہ ابتدائی درجہ ہے۔ جب تک اللہ کے ساتھ تعلق گہرا نہ ہو وہ تعلق مع اللہ نہیں ہے! 46:15) مولانا فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی کا عاشقانہ تذکرہ! اُن کی خدمت میں نواب رام پور نے اپنا قاصد بھیجا اور اپنے پاس بلانے کےلیے کہ اگر  تشریف لائیں تو ایک لاکھ روپیہ ہدیا دیں گے! تفصیلی واقعہ بیان فرمایا۔۔۔لاکھ پر ڈالو راکھ اور پھر یہ شعر فرمایا شعر: جو دل پر اُن کا کرم دیکھتے ہیں۔۔۔ تو دل کو باازجام و جم دیکھتے ہیں 52:24) مسلم بادشاہوں کے عیوب کا چرچا کرنا ناجائز ہے! مسلم بادشاہوں کو بدنام کرنا ایک سارش ہے! 54:46) وہ بندہ کتنا مبارک ہے جو اللہ کے بے چین رہتا ہے! 55:44) حق تعالیٰ اپنے عشاق کو یہ نعمت عطا فرماتے ہیں کہ دنیا میں جنت کا مزہ آنے لگتا ہے۔ 56:08) ایک عارف بزرگ کا واقعہ بیان فرمایا کہ مرتے وقت اُن کو جنت دِکھا دی گئی خوش ہونے کے بجائے وہ رونے لگے، عاشقِ ذاتِ محبوبِ پاک تھے اس لیے کہنے لگے: اے اللہ میں تو آپ پر مرتا تھا آپ کا طالب تھا! لیکن آپ یہ جنت دکھارہے ہیں کیا میں جنت کےلیے عبادت کرتا تھا! میں تو صرف آپ کے لیے جان دیتا تھا! اگر اس کی قیمت یہی ہے  پھر تو میں نے یہ زندگی ضائع کردی! اُن اس طلب پر اللہ تعالیٰ نے خاص تجلی دکھائی پھر اسی میں جان نکلی۔ سبحان اللہ! 59:26) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے سب احباب سے عہد لیا کہ ہم سب گناہ چھوڑ دیں گے!( سب نے ہاتھ اُٹھا کر عہد کیا)۔۔ آنکھوں کی حفاظت کی برکت سے اللہ تعالیٰ دل میں زبردست نور عطا فرماتے ہیں۔ حدیث قدسی کا بیان۔۔۔۔ 01:00:45) حق تعالیٰ جس کو ایمان کی حلاوت سے نوازتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس سے چھینتے نہیں ہیں! اس مطلب ہے یہ ایمان پر خاتمہ ہوگا! 01:02:14) جو بندہ دنیا سے جاتے ہوئے لاالہ الا اللہ کہتا ہے وہ ضرور بالضرور جنت میں جائے گا۔!۔۔۔ ایمان پر استقامت کے لیے اور ایک طریقہ نگاہوں سے حفاظت کی جائے,! 01:03:00) حضرت والا کا 70 سال کا تجربہ تھا کہ جس نے بھی نگاہوں کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ اس کو اولیاء صدیقین کا مقام عطا فرمائیں گے۔ 01:03:56) بڑی بڑی پوسٹوں اور عہدوں سے بڑھ کر اللہ والا بننا بڑا عہدہ ہے! اللہ کے راستے کا غم بہت قیمتی ہے! 01:05:03) حضرت والا فرماتے تھے کہ ہر لمحہ اپنے دل کی نگرانی رکھو! 01:05:54) دنیا والے دنیا میں مست ہوتے ہیں! اور اہل اللہ دنیا میں ہی رہ کر محبوب پاک کے جلوؤں میں مست رہتے ہیں! ارے میاں جن کو دنیا ملی اُن کو کیا ملا؟ میرے شیخ کیا فرماگئے شعر : دشمنوں کو عیش آب و گِل دیا۔۔۔دوستو کو اپنا دردِ دل دیا۔۔۔۔ اُن کو ساحل پر بھی تغیانی ملی۔۔ مجھ کو طوفانوں میں بھی ساحل دیا 01:08:03) دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے! کیا مطلب قید خانے سے؟ کہ وہ نکلنا چاہتا ہے، عشاق حق کو ایک بے چینی اور غم ہوتا ہے کہ کب محبوب پاک کے پاس پہنچیں گے! 01:09:13) ہم دنیا میں مسافر ہیں اور ہمارا گھر کہاں ہے؟ محبوب پاک کے قدموں میں! 01:09:54) حضرت مولانا ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ: دنیا کی مثال، اسٹیشن کی چائے جیسی ہے کہ جیسی  بھی ہو اچھی ہے!گذارا کرلو!۔۔۔ جتنا مال اللہ دے دیں اُس پر خوش رہو تو تم سب سے بڑے مال دار ہو! 01:11:06) ہر لذت کو چُور چُور کرنے والی چیز موت ہے! 01:11:52) دنیا میں ہر کسی کا کسی سے دل لگانے کا دل چاہتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ نے یہ مزاج بنایا ہے کہ دل تو تم کو لگانا ہے تو اللہ سے دل لگاؤ! 01:13:50) بیان کے آخر میں حضرت شیخ دامت برکاتہم نے  آج کا بیان بذریعہ انٹرنیٹ اور فون مختلف ممالک اور کئی  مقامات پر سنے جانے کی  تفصیل بیان فرمائی۔

(۵۴)  مسجد اختر میں بعد مغرب عظیم الشان الہامی بیان فرماکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم واپس حجرۂ مبارک کی روانہ ہوئے ، واپسی کے راستے میں لوگ ہی لوگ تھے، کئی احباب اپنے ساتھ اپنے بچے بھی لائے ، بچے بھی خوب شوق سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی زیارت اور سلام و دعا کے لیے بے چین تھے، راستے میں حضرت  دادا شیخ دامت برکاتہم نے کئی احباب سے ملاقات فرمائی ،بچوں اور بڑوں سب کو خوب دعاؤں سے سرشار فرمایا، یہاں تک غرفۃ السالکین کے ہال میں داخل ہوئے، غرفۃ السالکین  کا ہال مکمل روشن تھا، ظاہری نور کے ساتھ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  کے باطنی انوار سے ماحول میں نور ہی نور تھا، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے ہال میں لگی برقی لائٹوں کی بھی تعریف فرمائی کہ لائٹوں کی ترتیب بھی بہت خوبصورت ہے! (حضرت شیخ سے دریافت فرمایا کہ مصباح صاحب نے سب کیا ہے؟ حضرت شیخ نے فرمایا جی حضرت! اس پر   مسجد اختر اور خانقاہ غرفۃ السالکین کی تعمیرات کی نگرانی کرنے والے بھائی  انجینئر مصباح صاحب کی تعریف فرمائی اور کچھ پر لطف باتیں بھی فرمائیں،  ماشاء اللہ غرفہ کے ہال میں  چھوٹے بچوں کا ایک جلوس سا تھا، سب حضرت سے دعا لینے کے لیے منتظر تھے حضرت نے سب کو یوں دعا دی: اللہ آپ سب کو ولی اللہ بنادے، بڑا عالمِ دین اور فقیہ دین بنادے!۔۔۔۔۔۔ پھر حضرت  دادا شیخ دامت برکاتہم حجرۂ مبارک میں داخل ہوئے وہاں حضرت شیخ دامت برکاتہم کے بھائیوں اور رشتہ داروں اور کچھ احباب سے ملاقات ہوئی سب سے فرداً فرداً نام پوچھا ۔ حجرہ میں حافظ محمد احمد صاحب مدظلہ  بھی حاضر تھے، اُن سے مخاطب ہوکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا : "وہاں کل جو منظر دیکھا بہت دل خوش ہوا، بہت بڑا مجمع جمع ہوگیا تھا، خوب آپ نے انتظام بھی کیا تھا۔ حافظ صاحب نے عرض کیا: حضرت! بہت لوگوں کو فائدہ ہوا، گھر والوں بہت خوش تھے، ہمارے بہنوئی کبھی کسی سے بیعت نہیں ہوئے وہ آپ سے بیعت ہوگئے،بہن بہت دعائیں دے رہی تھی، کافی عرصے سے رو رو کر دعائیں کرتی تھی کہ نمازی بن جائیں، دعا کا بھی حضرت سے کہتی تھیں، اب جب بہنوئی حضرت سے بیعت ہوگئے تو کہنے لگے اب سب فنکاریاں چھوڑ دوں ! (اس پر حضرت دادا شیخ اور سب احباب خوب ہنسنے لگے) فرمایا : ماشاء اللہ!۔ کئی احباب نے اپنے لیے اور اپنے متعلقین کی طرف سے دعاؤں کا عرض کیا سب کو دعاؤں سے نوازا۔ عشاء کی اذان ہوچکی تھی ۔ حضرت  دادا شیخ نے  حضرت شیخ دامت برکاتہم کو مخاطب ہو فرمایا کہ : "آج آپ کے گھر جاکے بہت زیادہ مزہ آیا" حضرت شیخ نے عرض کیا کہ: گھر میں سے پرچہ لکھ کر بھیجا ہے حضرت کی خدمت میں دوں گا ،   خوشی سے رو رہیں تھیں،  پورے گھر میں ہر جگہ نور ہی نور نظر آرہا تھا، کہہ رہے تھے کہ  حضرت والا ؒ کے بعد  ہمیں کبھی ایسی خوشی نہیں ملی"۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  نے فرمایا : ماشاء اللہ!۔۔۔۔ آہستہ آہستہ خادم  کے ہاتھ کو پکڑ کر  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم غرفۃ السالکین کے ہال  سے ہوتے مسجد کے محراب کی طرف والی سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے مسنون اعمال کے ساتھ مسجدِ اختر میں داخل ہوگئے۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۵۴)  مغرب بعد بیان کے بعد غرفۃ السالکین میں مختصر ارشادات, احباب کے تاثرات،  ملاقاتیں اور دعائیں

(۵۵) نمازِ عشاء مسجد اختر میں ادا فرمانے کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم چندخدام کے ساتھ خانقاہ گلشن اقبال حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم کی کھانے کی دعوت پر تشریف لے گئے! وہاں سے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے واپسی ہوئی، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا ارادہ جلد آرام کرنے کا تھا، ضعف ہوگیا تھا  لہٰذاسب حجرہ ٔ مبارک سے باہر چلے گئے، چند خاص احباب رہ گئے ، تو جامعہ حکیم الامت کے طالب علموں کی حضرت سے عقیدت و محبت کا ایک واقعہ بیان فرمایا، پھر اپنی طالب علمی کے زمانے کے کچھ حالات بیان فرمائے اورحضرت والارحمۃ اللہ علیہ سے ۱۹۸۰ء کے شروع میں تعلق  کے واقعات بیان ہوئے۔ تقریباً ۱۵ منٹ کے بعد حضرت دادات شیخ دامت برکاتہم نے آرام فرمایا۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۵۵)  رات سونے سے پہلے حجرۂ مبارک میں مختصر ارشادات

نویں دن کی تمام آڈیوز کو محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......یکم دسمبر برو ز اتوار.......۲ دسمبر بروز پیر......۳ دسمبر بروز منگل.......۴ دسمبر بروز بدھ

۵ دسمبربروز جمعرات ......۶ دسمبر برو ز جمعہ.........۷ دسمبر بروز ہفتہ.........۹ دسمبر بروز پیر.........۱۰ دسمبر بروز منگل