--(بعد ظہر ،عصر ،مغرب زبردست مجالس، بعد عشاء  مسجد میں عظیم الشان بیان)--

۹ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز پیر 

(۵۶: خلاصہ) فجر  کی نماز کی ادائیگی کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے آرام فرمایا ،چونکہ گذشتہ  رات گلشن خانقاہ سے واپسی دیر سے ہوئی ۔ ظہر تک آرام فرمانے کے بعد  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بیدار ہوئے،  ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم حاضر ہوئے تو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے کل حضرت کے گھر آمد ، سب گھروالوں کی فدا کاری اور خدمت پر انتہائی مسرت کا اظہار فرمایا، حضرت شیخ مدظلہ نے بھی حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں اپنے  گھرانے کے تاثرات کا ذکر کیا کہ سب حضرت کی آمد پر کس قدر  مسرور ہیں! حضرت دادا شیخ بہت خوش ہوئے اور خوب دعائیں دیں،حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اپنے لیے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے خاص دعاؤں کا عرض کیا کہ : "حضرت کی واپسی سے دل گھبرا رہا ہے، اور یہ کہ  حضرت کی قدر نہیں کرسکے، خدمت بھی نہیں کرسکے، آپ معاف فرمادیں اور اللہ سے معافی کروادیں"۔ اس پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا کہ "آپ سب نے بہت زیادہ خدمت ، بہت زیادہ دل خوش کیا، یہاں بہت لطف آیا،  دل میں اتنا خوش ہے کہ  مجھے بہت سے بندوں کی دعائیں ملیں"۔ حضرت شیخ نے عرض کیا: "دوسرے شہروں اور باہر ملک سے بھی فون اور پیغامات آرہے ہیں کہ ہم حضرت کے تمام بیانات و مجالس  سن رہے ہیں" حضرت دادا شیخ بہت خوش ہوئے۔  چونکہ   طبیعت ناسازی کی وجہ سے حجرۂ مبارک میں نمازِ ظہر جماعت سے ادا کرنی تھی لہٰذا اس کی تیاری فرمائی، نمازِ ظہر کے بعد  کھانے سے پہلے کچھ دیر مزید ارشادات ہوئے۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  سفر عمرہ اور حج میں خدمت کرنے والے ہمارے شیخ دامت برکاتہم کے خدام  کا تذکرہ بہت محبت سے فرمایا، پھر کل رات خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال حاضر ہونے کا تذکرہ فرمایا کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے مولانا اسماعیل صاحب مدظلہ خود آکر لے گئے حالانکہ حضرت دادا شیخ نے  کہا تھا کہ خود حاضر ہوجاؤں گا، لیکن ماشاء اللہ مولانا اسماعیل  صاحب مدظلہ  خود گاڑی چلا کر غرفۃ السالکین تشریف لائے اور حضرت دادا شیخ کو گلشن خانقاہ  اپنے ساتھ لے گئے، یہ وہی کار تھی جس میں بڑے حضرت والا شیخ العرب والعجم رحمۃ اللہ علیہ   پورے پاکستان کا سفر فرماتے تھے۔جب مولانا اسماعیل صاحب تقریباً ۹ بجے لینے آئے   تو حضرت حافظ ضیاء الرحمٰن صاحب سے حضرت دادا شیخ کے متعلق فرمایا کہ" حضرت کو خود آکر لے جانا یہ تو ہماری سعادت ہے، آپ نے حضرت کو پہچانا ہی نہیں ہے! حضرت اتنے بڑے درجے کے ولی اوراتنے بڑے عالم ہیں،ہمیں ہی خود آنا چاہیے"۔ یہ بات ہمارے شیخ  دامت برکاتہم نے سنائی تو اس پر حضرت دادا شیخ نے فرمایا کہ "یہ حضرات بڑے ہیں!حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں اور صحبت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اِن کو بہت نوازا ہے!شیخ کی اولاد ہوکر خود آتے ہیں لینے اور خود بتلایا کہ یہ وہی کار ہے جس میں حضرت والا ؒ پورے ملک میں سفر فرماتے تھے"۔۔۔۔جناب سید ثروت  صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت شعر سنانا چاہتا ہوں، اجازت ملنے پر  مولانا منصور الحق ناصرؔ صاحب کے اشعار پیش کیے،" تاج جھرتے ہیں مرے شیخ تری پلکوں سے"۔۔۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۵۶: آڈیو)  ظہر میں مختصر مجلس میں باتیں

(۵۷: خلاصہنمازِ عصر  کے بعد حضرت مفتی نعیم صاحب کی درخواست  پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  نے  مرکزالافتاء والارشاد کے طلبہ کرام کو اجازت عنایت فرمانی  تھی،اس کے علاوہ جامعہ اشرف المدارس کے فارغ التحصیل طلبہ بھی اطلاع سن کر حاضر ہوگئے تھے، خوب مجمع ہوگیا تھا، حدیث شریف کی سند بیان فرماکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے اجازتِ حدیث عطا فرمائی اورحدیث ((انما الاعمال بالنیات))  پر  مختصر بیان بھی فرمایا، دعا بھی فرمائی،  بیان کے بعد  معلوم ہوا کہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب مفتی اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ  حضرت مفتی عبد المنان صاحب دامت برکاتہم ملاقات کے لیے آئے ہیں تو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت خوش ہوئے، خوب محبت سے ملاقات فرمائی،  چونکہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا ارادہ ہورہا تھا کہ دارالعلوم کراچی تشریف لے جائیں گے لیکن ناسازی ٔ طبیعت کی وجہ سے ارادہ ملتوی ہوا لیکن حضرت کے صاحبزادے اور دیگر خدام دارالعلوم کراچی حاضر ہوآئے تھے۔ حضرت مفتی عبد المنان صاحب دامت برکاتہم سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم باتیں فرماتے رہے۔یہاں تک کہ مغرب کی اذان ہوئی، یہاں  تک کی آڈیو منسلک ہے: 

(۵۷: آڈیو)  بعد عصر اجازتِ حدیث، مختصر علمی مجلس  میں ارشادات

(۵۸: خلاصہنمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں چند صاحبِ قلم علماء کرام حاضر ہوئے جنہوں نے  مختلف دینی موضوعات پر اپنی تصنیفات حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں پیش کی، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت خوش ہوئے، اِن کی بہت حوصلہ افزائی فرمائی  اور حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بھی چند اہم موضوعات پر اِن حضرات کو قلم اُٹھانے کی طرف متوجہ فرمایا  جن میں مسائل و احکامِ دعوت وتبلیغ اور اس کی حدود۔ اس  کے ضمن میں مبلغین حضرات کو  بہت  اہم اور قیمتی ارشادات و نصائح ارشاد  فرمائیں،جو ابِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ بعد ازیں اردو زبان کے حوالے سے بہت دلچسپ باتیں ارشاد فرمائیں،پھر موضوعِ سخن حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی شاعری کی طرف ہوگیا تو احباب سے فرمایا کہ بنگلہ زبان میں ہمارے ہزاروں اشعار اور نظمیں ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں کی برکات ہیں۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے  جناب مصطفٰی صاحب کو حکم دیا تو انہوں نے بنگلہ زبان میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے نعتیہ اشعار سنائے،  حضرت دادا شیخ اور تمام سامعین بہت محظوظ ہوئے اور بہت داد دی،  عشاء کا وقت قریب ہوگیا تھا لہٰذا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے حکم پر مجلس اختتام کو پہنچی اور سب نمازِعشاء کی تیاریوں میں لگ گئے۔

(۵۸: آڈیو)  بعد مغرب صاحبِ قلم علماء کرام کی حاضری پر بہت قیمتی  ارشادات

(۵۹: خلاصہنمازِ عشاء کے بعد مسجد اختر میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے بیان کی ترتیب تھی،عشاقِ حق کا بڑی تعدا میں مجمع بیان کے لیے اکٹھا تھا، مسجد اختر کی منزلیں بھر گئیں تھی، ماشاء اللہ لوگ ہی لوگ تھے، ہر دن کے گذرنے کے ساتھ عشاء  کے بیان میں احباب کی تعداد بڑھتی جارہی تھی، اب چونکہ حضرت دادا شیخ کی وطن واپسی بہت قریب آچکی تھی، اللہ کے عاشق  بقدرِ ظرف دولتِ عشقِ الٰہی سمیٹ رہے تھے اور شرابِ عشقِ  مولیٰ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے  پی رہے تھے، جس کے نصیب میں جو آیا وہی جانتا ہے، خالقِ جنت کے تذکروں سے جنت سے بڑھ کر مزہ احباب محسوس کررہے تھے، حق تعالیٰ  کی محبت کے مزے سن کر گنہگار سے گنہگار بھی رحمتِ حق کی آغوشِ محبت میں  اپنے کو محسوس کرتا تھا اور آنکھوں سے آنسو بہانے پر مجبور ہوہو جاتا تھا،  بیان میں کئی لوگ زارو قطار رورہے تھے،اللہ کی محبت کے نشے میں مدہوش لیکن ہزاروں ہوش مندوں سے بڑھ کر لگ رہے تھے، چاروں طرف  توبہ،معافی، اللہ کی رحمت کے سینکڑوں آفتاب طلوع ہوتے دِکھائی دیتے تھے، مایوسی کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی تھی کہ جب آفتاب طلوع ہوجاتا ہے تو اندھیرے خود ہی بھاگ جاتے ہیں۔ بیان میں شریک احباب  قلب و جان میں مقامِ احسان کی کیفیت  کو محسوس کرتے تھے جو دراصل حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے نہایت قوی تعلق مع اللہ کے اثرات تھے جو حضرت کے زبانِ مبارک سے  ظاہر ہوکر احباب کے دلوں تک پہنچ رہے تھے،تقریبا ً دو گھنٹے تک یہ بیان رہا، جس کی آڈیو  اہم مضامین کے اندراج کے ساتھ ذیل میں  منسلک ہے :

(۵۹: آڈیو)  بعد عشاء مسجد اختر بیان:  "تعلق مع اللہ دولتِ عظیم ہے"

خاص مضامین کا خلاصہ 

00:10) مفتی انوار صاحب نےکتاب’’ اسوۂ رسولﷺ‘‘ سے حضورﷺ کے انکساری کے واقعات سے پڑھ کر سنایا 02:59) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے حکم سے جناب مولانا شاہین اقبال اثر صاحب دامت برکاتہم کے اپنا کلام پیش کیا۔ 12:30) جناب مصطفیٰ صاحب نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار ’’ سنا ہے خانقاہوں میں محبت کے ہیں مے خانے‘‘ پڑھے 19:14) جناب سید ثروت حسین صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے حکم پر حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار’’ خالق شمس و قمر جس دل میں بھی آجائے ہے‘‘  بہت درد سے پڑھ کر سنائے۔ 28:37) حضرت مفتی عبد المنان صاحب دارالعلوم کراچی کے نائب مفتی صاحب نے حضرت والاؒ کے نعتیہ اشعار ’’یہ صبح مدینہ یہ شام مدینہ‘‘ پڑھ کر سنائے! 33:51) اشعار کے بعد حضرت شیخ دامت برکاتہم نے مختصر حضرت مولانا  مفتی عبد المنان صاحب کا تعارف کروایا! 34:54) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے عربی خطبہ پڑھ کر بیان شروع فرمایا! 36:26) شروع میں دعا فرمائی! 36:34) ہر مسلمان کو اللہ سے محبت ہے! ہر مومن چاہے جتنا ہی فاسق و فاجر ہو اس کے دل میں اللہ کی محبت ہوتی ہے، لیکن ہم دنیا کی محبت میں پھنس کر اللہ کی محبت کے حقوق میں کمی کرتے ہیں۔ 38:08) کامیابی اچھے کاموں کو کرنے سے ہوگی 38:52) حضرت میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا عظیم الشان شعر کی تشریح۔ اللہ کی محبت میں عجیب مستی ہے! 39:35) اللہ تعالیٰ کی محبت میں جو اپنی خواہشات کو برباد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دونوں جہاں آباد فرمادیتے ہیں! اللہ تعالیٰ ذوق معرفت، ذوق اولیاء صدیقین ہم سب کو عطا فرمادے! 41:26) اللہ والوں کا ظاہری تعلق تو دنیا سے ہوتا ہے لیکن دل کا تعلق اللہ سے ہوتا ہے! 42:49) اللہ ہمیں اپنی محبت کا نشہ اس طرح عطا فرمادے کہ اللہ کی محبت میں سب کچھ کرلیں 43:35) حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا عجیب شعر پڑھا، حضرت حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ نے نفس کے جامع معنی بیان کیے ہیں۔ 45:06) ہر غیر اللہ کو دل سے نکال دو، ۔۔۔اسی ظالم نفس کی وجہ سے ہم اللہ سے محروم ہیں، 47:07) حضرت والا کی دعوتِ محبتِ الٰہیہ 47:32) ہر درجہ کے جنتی کو  حق تعالیٰ کا دیدار ہوگا! لیکن دنیا میں رہ کر اعمال حسنہ سے جتنی صلاحیت پیدا کی اسی درجہ میں اُس کو اللہ کا دیدار نصیب ہوگا، جب خوب دیدار چاہتے ہیں تو تیاری بھی خوب چاہیے! یعنی اعمال صالحہ کرنے ہیں! 49:19) اللہ تعالیٰ ہمیں علم دین کے حقوق پہچاننے کی توفیق عطا فرمادے۔ مزاج محبت ہمیں عطا فرمادے، مزاج اطاعت ہمیں عطا فرمادے۔۔۔ عشق الٰہی کے ذریعے علم کے گھمنڈ جلا دو! عشق الٰہی حاصل کرو! 51:20) محبت جب آتی یہی شان ہوتی ہے! عشق وہ آگ ہے سینے میں محبوب پاک کے علاوہ سب کو جلا کر خاک کردیتی ہے! اللہ ہمیں یہ عشق عطا فرمادے۔۔۔۔ 52:00) سارا دین تو تعلق مع اللہ ہے! اور حقیقی دین دار جب ہے جب تعلق مع اللہ نصیب ہوجائے! 53:17) جس کو اللہ کی محبت عطا ہوتی ہے وہ دل کے کنجوس نہیں ہوتے اس پر حضرت والا رحمہ اللہ کا واقعہ سنایا! 54:17) جس کے سینے کو حق تعالیٰ نور عطا ہوتا ہے اُس نور کی برکت سے اُس کا دل بہت بڑا ہوجاتا ہے! مولانا رومیؒ کا شعر مومن کا قلب کتنا وسیع ہوتا ہے، جس کے دل میں اللہ تعالیٰ آتے ہیں اس کا سینہ بہت بڑا ہوجاتا ہے! 56:26) مولانا شاہ محمد احمد صاحب کا درد بھرا شعر، دردِ دل مستقل ہو تو دل جب دل ہے!۔۔ 56:49) تعلق مع اللہ دولتِ عظیم ہے! سب سے بڑھ کر یہ دولت ہے! 57:26) قرآن پاک کا طریق تعلیم! قرآن کو محبت سے پڑھنے کو تلاوت کہتے ہیں! صحابہ کرامؓ کی تلاوت کی شان بیان فرمائی! 59:57) جب صحابہؓ کو تزکیہ کی ضرورت تھی تو کیا ہمیں نہیں ہوگی! ایک صاحب حکیم الامتؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اشکال کیا کہ تزکیہ کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا عجیب جواب ارشاد فرمایا۔! 01:01:27) مولانا زکریا صاحبؒ کا واقعہ ایک عالم حضرت کی خدمت میں آئے اور اشکال کیا کہ تصوف کی حقیقت کیا ہے ، اس کا جواب: تصوف کا پہلا سبق اخلاص ہے، اور آخری سبق احسان۔ اخلاص یہ ہے کہ  اعمال کو صرف اللہ کے لیے کرنا!اور احسان کیا ہے کہ اس طرح عبادت کرنا کہ گویا کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو! 01:03:17) آپ ﷺ نے خوشخبری سنائی! کہ تم ضرور اپنے کو اللہ دیکھ لوں گے! جیسے چاند کو دیکھتے ہو! 01:04:20)  حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ موت ایک پل ہے اس سے گذر کر محبوب پاک سے ملاقات ہوجائے گی! 01:04:54) نفس کی مثال بچھو کی سی ہے! خدا کی قسم نفس سے ڈرنا چاہیے! اس نگرانی کرنی چاہیے!۔ جیسے گناہوں سے بچنا ضروری ہے اور غفلت سے بچنا بھی ضروری ہے 01:06:33) حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کے حالاتِ رفیعہ بیان فرمائے!۔۔ عشق جس کا امام ہوتا اُس کا اونچا مقام ہوتا ہے۔ عشق کی برکت سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے! جب تک بندہ نفس کی غلامی میں رہتا ہے مشکلات ہی مشکلات آتی ہیں! بندہ جب قدم اُٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی آسانیاں پیدا فرمادیتے ہیں! 01:08:18) اگر ولی بننا چاہتے ہو تو راستہ یہ ہے کہ خود ہمت کرو اور ہمت کی دعا بھی کرو! دل لگا کر خوب دعا مانگو اے اللہ آسان فرمادیجیے! ہمت عطا فرمادیجیے! اور خاصانِ خدا سے ہمت کےلیے دعا کا عرض کرو! ہمت کے بارے میں جس نے یہ تین کام کیے ضرور بالضرور یہ سب کام آسان ہوجاتے ہیں ۔ 01:10:03) حضورﷺ نے خود ہی صاحبِ نور اللہ والے کے سینے میں نور اور کشادہ ہونے کی علامات کا تذکرہ فرمایا کہ (۱) دھوکے کے گھر سے دل کا اُچاٹ ہوجانا ہر وقت اُس کو آخرت کی فکر رہے، آخرت کے اعمال آسان ہوجاتے ہیں! آخرت کو ترجیح دے! جو ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ سے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائیں ہر وقت ڈرتا رہتا ہے اور نفس کی خواہشات کو توڑتا رہتا ہے تو جنت اس کا ٹھکانہ ہے! 01:13:04) حضرت والا کی جامع مختصر نصیحت جس دنیا سے ہمیشہ کو جانا ۔۔۔ اور لوٹ کر کبھی نہ آنا۔۔ اُس دنیا سے دل کا کیا لگانا! 01:13:54) دوسری نشانی: ہر وقت آخرت کی فکر ہو، یادِ الٰہی کے ذریعے یہ دل آباد ہوجائے! 01:14:32) تعلق مع اللہ کیسے حاصل ہوگا؟ دوامِ اطاعت ، اطاعت سے مراد یعنی گناہوں سے بچنے کا اہتمام ہو یہی اطاعت الٰہیہ ہے! ترک گناہ ہی تقویٰ اور اطاعت ہے۔ 01:15:57) جب اندر سے دل چاہتا ہے کہ اللہ والا ہوجائیں تو آؤ ہم ایسے ہی ہوجائیں نا! اس پر حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب گنج مراد آبادی کا واقعہ بیان فرمایا جس پر مومن کی شان بیان فرمائی۔ ہر کوئی اندر کے جی سے  اللہ کا دیوانہ ہونا چاہتا ہے! تو آؤ تو ایسا ہی بن جاؤ! 01:18:22) صدقِ دل سے جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں جائے گا! صدق دل سے کلمہ پڑھنے کا مطلب بیان فرمایا! جب نفاق نہیں ہے تو پھر صدق دل ہی ہے 01:20:24) لاالہ الا اللہ کے حقوق! دنیا کی جنت اور آخرت کی جنت۔ جنتِ قربِ الٰہی دنیا میں ہی ملتی ہے! 01:21:04) راہ تقویٰ آسان ہوجاتی ہے جب کوئی دیوانہ اللہ کا مل جاتا ہے! اہل اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے کی توفیق ہو جاتی ہے اور کسی اللہ والے کے ساتھ تعلق ہوجاتا ہے تو اللہ کا راستہ مزیدار ہوجاتا ہے! 01:22:28) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے احباب سے عہد کروایا کہ ہم سب گناہ چھوڑ دیں گے!( بڑی تعداد میں مجمع نے ہاتھ اُٹھا کر حضرت کے سامنے عہد کیا، اس پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا کہ) توبہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ 01:23:20) اللہ تعالیٰ کا اندازِ محبت اپنے بندوں سے کہ آؤ توبہ کرلو میرے چاہنے والو! کیا دعوتِ توبہ ہے! آؤ شرمندہ ہوجاؤ! ہم معاف کردیں گے اور صرف معاف نہیں کرتے محبوب بھی بنا لیتے ہیں اور جنت عطا فرمادیتے ہیں! 01:25:07) اہل اللہ کی صحبت اٹھانے والے والوں کے انعامات 01:26:27) اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت و مغفرت  بیان فرمائی!۔۔ کوئی بھی غلطی ہوجائے تیزی سے معافی مانگ لیں قسم بخدا! پھر جنت کا راستہ بالکل صاف ہے! 01:27:44) بندہ گناہوں سے ذلیل ہوکر اللہ کے در پر آگیا! اب رو رو کر اُن کو مناؤ! 01:29:02) اللہ کی محبت کا آسان فرمادیا! اور دیوانوں کی برکت سے راستہ آسان ہی نہیں مزیدار ہوجاتے ہیں! 01:30:03) اللہ کے محبت کے راستے میں کوئی پارٹی بازی گروہ بندی نہیں ہے! جو بھی اللہ کا ہے وہ میرا ہے! جو بھی میرے اللہ کو چاہتا ہے وہ میرا دوست ہے! آپ ﷺ نے مومنین کی مثال عمارت سے بیان فرمائی! 01:31:23) جو خدا کے سچے دیوانے ہیں اُن کا دل بہت بڑا ہوتا ہے! دل کا رُخ جب اللہ کی طرف ہوتا ہے تو وہ کنجوس ہوتا ہے! 01:32:26) جس کو اللہ کے ساتھ خاص تعلق ہوتا ہے اُس کے اندر یہ علامات ظاہر ہوتے ہیں ۔ (۱) دنیائے غفلت میں ملوث نہیں ہوتے، (۲) موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرتے ہیں! اس کے معنی بیان فرمائے سبحان اللہ! 01:36:06) اسلام پیار ہی پیار ہے! 01:36:52) سنتیں آپ ﷺ کی ادائیں ہیں !اس کا بہت اہتمام رکھیں! اور اس بات کا خاص خیال رکھیں کسی کو تکلیف نہ دینا، قلب غیر اللہ میں مت پھنسانا! اسی لیے غیبت اور حسد حرام ہے! 01:39:13) حدیثِ احسان کا تذکرہ! اللہ کا اس طرح سے خیال رکھنا گویا کہ وہ ہمارے سامنے ہے! بعض لوگ صرف نماز میں ایسا کرنا سمجھتے ہیں بلکہ یہ ہر جگہ ہے! اس پر  حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بیان فرمایا کہ  اُن کو ایک نوجوان کہتا ہے کہ مجھے مقامِ احسان حاصل ہے! حضرت نے اُس سے پوچھا کہ مقامِ احسان ہے کیا؟ مقام احسان صرف اس کا نام نہیں کہ نماز میں ایسا ہو بلکہ ہر حالت میں اس طرح سے جینا، رہنا ، چلنا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہے ہیں! اس کا نام ہے مقام احسان!۔۔۔ 01:43:08) مقام احسان حاصل کرنے کا طریقہ! حضرت حاجی صاحب ؒ فرماتے تھے پہلے ریا ہوگی، پھر عادت ہوگی، پھر عبادت ہوجائے گی 01:44:06) جتنے بندے ہوتے ہیں اُتنے ہی تربیت کے طریقے ہوتے ہیں! حکیم الامت کی شانِ تربیت! جسم بالغ ہوتا تو پتہ چل جاتا ہے تو جب روح بالغ ہوتی ہے تو سالک کو پتہ چل جاتا ہے! 01:46:48) خود سے دھیان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں! 01:48:04)  بیان کے اختتام پر درد بھری دعا فرمائی! 01:49:31) حضرت شیخ دامت برکاتہم نے بیان کی تفصیل فرمائی اور حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے ادارے جامعہ حکیم الامت ؒ کا مختصر ذکر بھی فرمایا۔ 

(۶۰: خلاصہمسجد اختر میں نمازِ عشاء کے بعد عظیم الشان الہامی بیان فرمانے کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  مسجد اختر سے واپس غرفۃ السالکین خانقاہ کی طرف واپس تشریف لانے لگے، راستے میں بہت سے احباب اپنے بچوں کے ہمراہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی دعاؤں اور نظر شفقت کے منتظر تھے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اس منظر سے بہت خوش ہوتے ہیں اور حسبِ معمول سب کو خوب دعاؤں سے نوازتے ہیں،  راستے میں بہت سے احباب کو  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے ملاقات کا شرف ملا۔۔۔۔ غرفۃ السالکین کے ہال میں داخل ہوئے تو جناب سید ثروت حسین صاحب نے حسب ِ معمول حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی محبت میں اشعار سنائے "تاج جھڑتے ہیں مرے شیخ تیری پلکوں سے"   غرفۃالسالکین کا ہال احباب سے پُر تھا، ثروت صاحب کے ساتھ  سب شیخ کی محبت میں ڈوبے مولانا منصور الحق ناصر ؔصاحب کے اشعار پڑھ رہے تھے، بہت ہی پرنور منظر تھا، اشعار کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اپنے حجرہ ٔ مبارک میں داخل ہوئے، حجرہ میں حاضر احباب نے آج کے بیان کے عظیم الشان نفع کا حضرت کی خدمت میں عرض کیا تو حضرت نے فرمایا کہ "یہ سب حضرت والا رحمہ اللہ کی توجہات کی برکات ہیں۔ الحمدللہ الذی بنعمتہٖ تتم الصالحات"۔ حجرہ میں کچھ خاص احباب حاضرِ خدمت تھے اُن کے ساتھ کچھ بچے بھی تھے، ایک ڈھائی برس کے بچے نے بہت پیارے انداز میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے دعاؤں کا عرض کیا کہ میں اللہ والا بن جاؤں ، اس درخواست ِ دعا پر حضرت اور سب بہت خوش ہوئے! حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے اس بچے کو خوب دعاؤں سے نوازا، پھر ہمارے شیخ دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی ندیم صاحب کے بیٹے  بھی حاضر خدمت ہوئے اور ان کو بھی دعاؤں سے نوازا۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۶۰: آڈیو)  مسجد اختر میں عشاء بیان فرمانے کے بعد غرفۃالسالکین واپس تشریف لاتے ہوئےمجلس

(۶۱: خلاصہعشاء بیان کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اور حضرت کے خاص احباب نے حجرۂ مبارک میں  کھانا تناول فرمایا اور باہر دیگر احباب کی ترتیب تھی،  بعد فراغت  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی مجلس شروع ہوئی،  عشاقِ حق سے کمرہ بھرا ہوا تھا، چھوٹے بچے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جن کا ذکر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا  اور بہت مسرور ہوئے،  متفرق باتیں ہوتی رہیں ،حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں ہمارے شیخ دامت برکاتہم نے دو خدام دن رات لگے رہتے ہیں اُن کی فداکاری کا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بہت محبت سے ذکر فرمایا۔ پھر حضرت مفتی عبد المنان صاحب نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی  سے کچھ باتیں فرمائیں، کچھ دیر میں مفتی صاحب مدظلہ رخصت ہوگئے۔ چونکہ کل حضرت  کا ڈھاکہ واپسی کا سفر  ہے، سفر کی تیاری بھی کرنی تھی اور جلد آرام کرنے کا ارادہ بھی  تھا اس لیے حجرہ خالی کرنے کا  اعلان کردیا تھا، عشاقِ حق بادلِ نخواستہ رخصت ہونے لگے،  کچھ احباب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ پیش کیا، قبول ہونے پر خوشیوں سے سرشار ہوئے۔ اگرچہ حضرت دادا شیخ  دامت برکاتہم کو جلد آرام کرنا تھا۔۔۔لیکن اللہ والے تو ہر لمحۂ حیات اپنی جان کو اللہ کےلیے فدا کرتے رہتے ہیں، کچھ احباب نے بیعت ہونا تھا اُن کو بیعت فرمایا اور پھر بیعت کی حقیقت، نفع اور شیخ سے استفادہ کے حوالے سے مفید باتیں  ارشاد فرمائیں جس سے دوبارہ مجلس کا سلسلہ شروع ہوگیا، کچھ ذاتی حالات، بچپن میں  دادا دادی کی محبت و شفقت کا تذکرہ فرمایا،  موضوعِ سخن کراچی کا آیا تو یہاں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے فیض خوب جاری ہونے پر بہت خوشیوں کا اظہار فرمایا کہ یہاں عجیب رنگ اور رونق ہے کہ بار بار آنے کو جی چاہتا ہے، جگہ جگہ خوب کام ہورہا ہے،حضرت والا ؒ کے مجازین سے حق تعالیٰ خوب کام لے رہے ہیں۔ اس موقع پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ڈھاکہ میں اپنی خانقاہ کا تذکرہ فرمایا کہ حضرت والا رحمہ اللہ کی دعاؤں  کی برکتوں سے چھوٹی سی خانقاہ سے پورے ملک میں کام ہورہا ہے الحمدللہ! مجلس میں موجود احباب نے حضرت دادا شیخ کے کراچی آمد پرہونے والے عظیم الشان نفع کا ذکر کیا۔کچھ پرلطف باتیں بھی ہوتی رہیں۔ رات کے سوا ایک بج چکے تھے، حضرت دادشیخ دامت برکاتہم کو آرام کرنا تھا، لہٰذامجلس ختم  ہوئی ، یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۶۱: آڈیو)  رات کھانے کے بعد  مجلس  میں متفرق ارشادات

دسویں دن کی تمام آڈیوز کو محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......یکم دسمبر برو ز اتوار.......۲ دسمبر بروز پیر......۳ دسمبر بروز منگل.......۴ دسمبر بروز بدھ

۵ دسمبربروز جمعرات ......۶ دسمبر برو ز جمعہ.........۷ دسمبر بروز ہفتہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۱۰ دسمبر بروز منگل