--(حافظ محمد احمد صاحب کی خانقاہ اور مولانا اثر صاحب کے ادارے میں بیانات و مجالس  )--

۷ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ 

(۴۶: خلاصہآج حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  کو حضرت مولانا شاہین اقبال اثرؔ صاحب کے ادارےسرجانی ٹاؤن اور جناب حافظ محمد احمد صاحب دامت برکاتہم کی خانقاہ  سیکٹر۱۰ نارتھ کراچی تشریف لے جانا تھا،  دوپہر کھانے کے بعد روانگی تھی، کیونکہ عصر کی نماز جناب حافظ محمد احمد صاحب دامت برکاتہم کے قریب مسجد میں ادا کرنی تھی، صبح فجر کی نماز کے بعد آرام فرمایا اور ظہر سے پہلے بیدار ہوئے ، نمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد تقریباً ۳ بجے  دوپہر کھانا تناول فرماکر  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مع احباب   تقریباً چار بجے  راوانہ ہوئے،حضرت دادا شیخ کی گاڑی کے ساتھ تقریباً دس سے زائد گاڑیوں، موٹرسائیکلوں کا قافلہ  تھا،  آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرکے ساڑھے چار بجے حافظ محمد احمد صاحب کی  خانقاہ کے قریب مسجد پہنچ گئے، حضرت حافظ محمد احمد صاحب دامت برکاتہم حضرت والا رحمہ اللہ کے محبوب خلیفہ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے حضرت والا ؒ کی تعلیمات کے نشر کا خوب کام لے رہےہیں، خلقِ کثیر حافظ جی  سے مستفید ہورہی ہے ماشاء اللہ!، حضرت والا ؒ کے انتقال کے بعد صدیقِ زمانہ قلندرِ وقت حضرت والا میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت  ہوئے اور بہت عقیدت اور محبت سے حضرت والا میرصاحب رحمہ اللہ کی مجلس میں باقاعدہ حاضر ہوا کرتے تھے، حضرت کے انتقال کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے بیعت ہیں اور خوب مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی گاڑی مسجد کے مرکزی دروازے پر رکی،  باہر کثیر تعداد میں احباب منتظر تھے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم گاڑی سے باہر رونق افروز ہوئے،حضرت کے ساتھ ہمارے شیخ و مرشد حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم اور حضرت کے پیر بھائی حضرت عامر کمال صاحب بھی تھے، حافظ محمد احمد صاحب اپنے احباب کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھے اور حضرت کا استقبال کیا اور ہاتھ تھام لیا،  خوشیوں ،محبتوں اور مسرتوں سے جھوم رہے تھے کہ کتنے ہی عرصے کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی کہ شیخ تشریف لے آئے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  جناب حافظ صاحب کا ہاتھ تھامے  مسجد کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، کچھ احباب وضو بنانے لگےاورکثیر تعداد منظم طریقے سے مسجد کی صفوں میں بیٹھ  گئی،حضرت دادا شیخ مع احباب  پہلی صف میں حاضر ہوگئے،  نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد مولانا شاہین اقبال صاحب نے مائیک پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی تشریف آوری کا اعلان کیا اور مسجد کے ساتھ والی گلی میں حافظ صاحب کی خانقاہ  میں حضرت دادا شیخ کی  مجلس کی ترتیب سے مسجد کے احباب مطلع فرمایا کہ وقت کو قیمتی بنائیں، بقول مولانا رومی ؒ  یک زمانہ صحبتِ با اولیاء۔۔۔ بہتر از صدسالہ طاعت بے ریا۔۔ اعلان کے بعد  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مع احباب حافظ صاحب کی خانقاہ کی طرف تشریف لے جانے لگے، خانقاہ  کے باہر گلی میں ماشاء اللہ بہت منظم طریقے سےانتظام کیا  گیا تھا، جناب حافظ صاحب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو اپنے گھر اور  خانقاہ کی تفصیلات سے آگاہ کررہے تھے اور پھر  خانقاہ سے متصل  پلاٹ جو خانقاہ کو وسیع کرنے کےلیے لیے گئے تھے، وہاں بھی حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم تشریف لے گئے، انتظام دیکھ کر بہت خوش ہوئے، حافظ صاحب کی درخواست پر برکت کی دعا بھی بہت درد سے فرمائی کہ"اے اللہ قبول فرمالیجیے اپنے دین کا عظیم الشان  لیجیے شرفِ قبولیت کے ساتھ، مرکزِ دردِ محبت ، مرکزِ  دردِ دل بنادیجیے! بے شمار مخلوق کو یہاں رجوع ہونے کی توفیقات سے نوازش فرمائیے!" دعا کے بعد  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  جناب حافظ صاحب مدظلہ کی خانقاہ میں رونق افروز ہوئے!  کثیر تعداد میں احباب تھے، جن میں بڑی تعداد میں علاقے کے علماء کرام اور ائمہ مساجد بھی حضرت دادا شیخ  دامت برکاتہم کی تشریف آوری کا سن کر حاضر ہوئے تھے اور غرفۃ السالکین سے بھی بڑی تعداد سے بھی احباب حاضر تھے،  یہاں تک کہ حضرت حافظ صاحب کی خانقاہ مکمل بھر گئی اور باہر گلی میں کافی  احباب  بیٹھے تھے جن کی نشست کا بہت عمدہ انتظام کیا گیا تھا۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  خانقاہ میں داخل ہوئے بلند آواز سے سب احباب کو سلام فرمایا، حافظ صاحب خانقاہ کا اندرونی حصہ حضرت کو دِکھاتے جارہے ہیں،  شام کے پانچ بج چکے تھے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم آرام دہ نشست پر تشریف فرماہوئے، حافظ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت! اشعار پڑھوا لیں، حضرت دادا شیخ نے منظور فرمایا تو ایک صاحب کو حافظ صاحب نے اشعار پڑھنے کا اشارہ کیا اُن صاحب کو حضرت دادا شیخ نے داڑھی کو مزین رکھنے پر نصیحت فرمائی ، جمال و صفائی  کے ساتھ رہنا سنت کا،  اسلام کا طریقہ ہے اس  پر قیمتی ملفوظات ارشاد فرمائے۔ ماشاء اللہ! اُن صاحب نے فوراً اپنی داڑھی کنگھی سے درست کی جس پر حضرت دادا شیخ خوش ہوگئے، پھر انہوں نے بہت درد سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار "ہوش کے میرے پُرزے اُڑا دے" سنائے،بعد ازیں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے آدھا گھنٹہ بہت ہی زبردست مختصر بیان فرمایا۔ بیان کے بعد اشعار سنانے والے ساتھی جن کا نام "فیصل" ہے ان کی خوب تعریف فرمائی کہ اشعار خوب سنائے۔ پھر مجلس کے اختتام پر درد بھری دُعا  بھی فرمائی۔   نمازِ مغرب کا وقت قریب تھا۔ نماز کے بعد چونکہ جناب شاہین اقبال اثر صاحب دامت برکاتہم کے ادارے و خانقاہ میں  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو تشریف لے جانا تھا لہٰذا اب مغرب کی نماز کی تیاری ہونے لگی ، سب احباب مسجد کی طرف روانہ  ہوئے۔ یہاں تک کی آڈیو بمع تفصیل منسلک ہے:

(۴۶: آڈیو)غرفۃ السالکین سے حافظ محمد  احمد صاحب مدظلہ کی خانقاہ میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی تشریف آوری، مجلس  میں ارشادات: اشعار سنانے  والے ایک صاحب کو داڑھی میں کنگھا نہ کرنے پر تنبیہ فرمائی: آپﷺ کا معمول تھا سفر میں ہوتے حَضر میں ہوتے گنگھا ساتھ ہوتا تھا، کنگھا کرتے تھے جمال کے ساتھ رہتے تھے،  بعض مسلمانوں کو غلط فہمی ہوتی ہے کہ خلاف سنت اپنی من مانی کرنے کو سادگی سمجھتے ہیں،  یہ کیا طریقہ ہے! نفاست کے رہیں، آراستگی کے ساتھ رہیں! اب داڑھی  ایسی بے ترتیب رکھتے ہیں اس کو کنگھا بھی کرے تاکہ دیکھنے والے اس کو دیکھ کر خوش ہوں کہ واہ واہ!  مسلمان کیسے اچھے لگتے ہیں! اب یہ ہے کہ داڑھی میں چھ مہینے سے کنگھا نہیں کررہے،  ایسی حالت ہوتی ہے کہ بیوی کو دیکھ کر بھی پریشانی معلوم ہوتی ہے! اسلام نے یہ نہیں سِکھایا ہے یہ غلطی ہے !فہم ِ دین میں غلطی ہے! ایسا سادہ ہونا اسلام نے نہیں سِکھایا ، یہ سادہ ہونا نہیں ہے  بالکل ٹیڑھا ہونا ہے! طریقِ سنت پر چلنا یہ سادہ ہونا ہے ، سادگی کا لوگوں نے غلط ترجمہ کیا ہے کہ بے ڈھنگ سے رہنا! اسلام نے بہترین ڈھنگ سِکھایا ہے، عمدہ ترین ڈھنگ سِکھایا ہے اور قسم بخدا جینے کا ڈھنگ سِکھایا ہے۔۔ داڑھی صحیح طریقے سے رکھے یہ نہیں کہ ایک بال اُدھر جارہا ہے ، ایک بال اِدھر جارہا ہے ایک کلکتہ کی طرف جارہا ہے اور ایک لندن کی طرف جارہا ہے، یہ کیا طریقہ ہے؟ یہ سنت کا طریقہ نہیں ہے! لوگوں نے طریقِ سنت کے جمال کو اس طریقے سے بگڑا ، ایسا نہیں کرنا چاہیے!(اشعار سنانے والے صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا ) اس لیے پہلے داڑھی کو کنگھا کریں پھر اشعار پڑھیں!( وہ صاحب فوراً داڑھی کو ٹھیک کرنے لگے، حضرت دادا شیخ نے ملفوظات کا سلسلہ جاری رکھا) بہت سے لوگ ہاتھ یا پاؤں کے ناخن بڑے بڑے  رکھتے ہیں، یہ بھی سنت کا طریقہ نہیں ہے! مونچھیں بھی بڑی بڑی ، داڑھی بھی سلیقے سے نہیں رکھتے ، داڑھی جس طرح ایک مٹھی رکھنی چاہیے،اسی طریقے سے سلیقے سے بھی رکھنا چاہیے۔اس کی آپﷺ نے خوب ترغیب فرمائی ہے کہ جس کے بال ہوں، سر کے بال ، داڑھی کے بال اس کی دیکھ بھال اور خیال رکھنا چاہیے، اور خواتین میں تو اور زیادہ اس کی اہمیت ہے! تیل بھی لگائے، بالوں کو خوبصورت رکھنے کےلیے جو طریقے عرف میں ہیں ان کو اختیار کرے بشرطیکہ وہ غیروں کا طریقہ نہ ہو! کفار و مشرکین اور دشمنانِ اسلام کا طریقہ نہیں ہے تو ایسے طریقے کو اپنائے بالوں کو خوبصورت کرنے کےلیے! داڑھی کو ٹھیک ٹھاک کرکے برابرا  ایک مٹھی کرکے رکھے! یہ نہیں کہ کوئی ایک بال بہت بڑا ہورہا ہے ، کوئی کہاں جارہا ہے ، اس کا خیال رکھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ((ان اللہ جمیل یحب الجمال))۔ حق تعالیٰ حسن و جمال والے ہیں لہٰذا حسن و جمال کے ساتھ رہنا اس کو پسند کرتے ہیں۔ (پھر حضرت نے ایک مثال سے بات سمجھائی کہ دنیا کی حسین ترین عورت کسی بدصورت آدمی کو اپنے شوہر کی حیثیت سے پسند کرے گی) تو حق تعالیٰ  تو جمال ہی جمال رکھتے ہیں ان کو جمال کے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہے (اور یہ حدیث اُس موقع پر ارشاد فرمائی جب صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ اچھے کپڑے، اچھا جوتا یہ کبر میں شامل تو نہیں ہے)آپ ﷺ نے فرمایا  کہ یہ تو حسن و جمال میں شامل ہے اور فرمایا ((ان اللہ جمیل یحب الجمال)) حق تعالیٰ جمیل ہیں اور جمال پسند فرماتے ہیں، خوبصورت سے خوبصورت رہنا پسند فرماتے ہیں۔  اب کیسے معلوم ہوں کہ حق تعالیٰ کیسے خوبصورت ہیں  تو دیکھنے  کا انتظار کیا جائے! آپ کا انتظار کرتا ہوں۔۔۔شوق کو اپنے پیار کرتا ہوں!( پھر اشعار سنانے کا فرمایا ، اشعار کے بعد بیان شروع فرمایا، بہت عظیم الشان بیان تھا سمندر کا سمندر علوم و معارف کا سمو دیا ماشاء اللہ! خاص مضامین کا خلاصہ درج ذیل ہے)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف فرمادے، ہر گناہ سے ہر نالائقی سے ہماری حفاظت فرمائے،  اپنی محبت و معرفت سے نوازش فرمادےاور اپنے مقربین میں اپنے کرم سے شامل فرمادے اور ادائے بندگی ہم سب کو عطا فرمادے!۔۔ہر مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کو چاہتا ہے! بغیر اللہ کے چین نہیں آتا۔۔۔ لیکن نفس و شیطان کی  وجہ سے وہ دھوکے میں پڑ جاتا ہے،حق تعالیٰ فرماتے ہیں میں تمہارے لیے راستہ صاف کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک کام کرو کہ جو بھی گناہ ہوں چاہے ظاہری یا پوشیدہ گناہ ہوں ہر قسم کے گناہوں کو تم  چھوڑ دو! بس راستہ صاف ہوجائے گا میرا جمال تم کو نظر آجائے گا!  پردے اُٹھے ہوئے بھی ہیں اور اُن کی اِدھر نظر بھی ہے۔۔ بڑھ کر مقدر آزما کہ سر بھی ہے سنگِ در بھی ہے۔ میں قسم بخدا کہتا ہوں کہ اگر گناہوں کو چھوڑ دیتے ہیں تو روح کے سامنے سے  حجابات اور پردے حق تعالیٰ کی طرف  اس طرح سے ہٹا دئیے جاتے ہیں  کہ عالمِ بالا تک کے انوار سے حق تعالیٰ اپنے عشاق کو ہمیشہ نوازتے رہتے ہیں! ہمارے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ یہ شعر فرمایا کرتے تھے کہ تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا۔۔۔ برابر ہے دُنیا کو دیکھا نہ دیکھا۔۔آہ!  ہم دنیا میں آئے تو کیا کھانے پینے کے لیے ، تماشے دیکھنے کےلیے ! اس دنیا  میں اگر ہم آپ کے تجلیات و انوارات کو نہ دیکھتے اور اِن کے مشاہدات کی ہمیں توفیق نہ ہوتی تو دنیا میں آنا بالکل بیکار تھا! بالکل بیکار  تھا بالکل بیکار تھا!  اور حاجی صاحب نے یہ شعر فرمایا کہ "اے الٰہی  مجھ کو مجھ سے دُور کر" یعنی  مجھ کو مجھ سے ہٹا دیجیے کہ  میں ہی حجاب ہوں میرے ہی سبب سےآپ کے جمال کے مشاہدے سے محرومی ہورہی ہے۔ شعر: "یاالٰہی مجھ کو مجھ سے دُور کر۔۔۔تاکہ دیکھو مجھ میں تجھ کو اِک نظر"  یعنی اگر نفس ختم ہوجائے، نفس کے ظلمات سے اگر رہائی مل جائے تو  انوار و تجلیات والی روح  باقی رہے گی اُس میں حق تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اُس کی وجہ سے دنیا میں ہی حق تعالیٰ کے جمال اور حق تعالیٰ  کے تجلیات  کے ہمہ وقت مشاہدات کی توفیقات سے حق تعالیٰ نوازتے ہی رہتے ہیں۔  حافظ شیرازی رحمہ اللہ نے کہا کہ"حافظ تو خود حجابِ خودی از میانِ بر خیز " کہ حافظ تو خود حجاب ہے  تو درمیان سے ہٹ جاکے تاکہ میں اپنے اللہ کو دیکھ لوں، شعر: |نگاہِ عشق تَو بے پردہ دیکھتی  ہے اُسے | خرد کے سامنے اب تک حجاب عالم ہے|   جس کو  دردِ محبت  والا، انوارِ محبت والا دل عطا ہوتا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کے جمال  کے مشاہدات سے مشرف رہتا ہے، اُس کی زندگی ایک کیف و مستی والی زندگی ہوتی ہے،آہ! میرے شیخ ؒ نے فرمایا   |زندگی پُربہار ہوتی ہے| رب سے جب ہمکنار ہوتی ہے| ۔۔جو اللہ کا ہوتا ہے ، اللہ پر جان فدا کرتا ہے توحضرت والا کا شعر ہے: انفاس زندگی کے جو اُن پر فدا ہوئے۔۔۔ شمس و قمر بھی سامنے اُن کے گدا ہوئے|   کبھی کبھی اِک مشتِ خاک کے گرد۔۔۔ طواف کرتے ہوئے ہفت آسماں گذرے|   اللہ پاک ایسا دل ہمیں عطا فرمادے، یہ گناہ اور یہ نفس ایسا ظالم ہے  اِسی کی وجہ سے ہم اپنے محبوبِ پاک سے محروم ہوجاتے ہیں! ( حضرت دادا شیخ نے سب احباب سے عہد لیا) ہم چھوڑ دیں گے ہر گناہ ! ان شاء اللہ تعالیٰ! ہر قسم کا گناہ! نظر خراب نہیں کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ! زبان کو خراب نہیں کریں گے، ظاہری اور باطنی ہر قسم کے گناہ سے ہم تعلق نہیں رکھیں گے! ان شاء اللہ تعالیٰ۔ شعر: |  "ایسی لذتوں کو ہم قابلِ لعنت سمجھتے ہیں ۔۔۔ کہ جن سے رب میرا اے دوستو ناراض ہوتا ہے" اللہ تعالیٰ جس لذت پر ناراض ہوتے ہیں تو اُس لذت پر جانا جائز ہے یا حرام ہے! اُس رحمت ہے کہ لعنت ہی لعنت ہے! وہ لذت لعنت ہی لعنت ہے! اُس میں کوئی لذت نہیں ! لذت تو قسم بخدا یادِ الٰہی میں ہے! خدا کی قسم لذت تو ذکر اللہ میں ہے!  خدا کی قسم میاں لذت تو سجدے میں ہے! ایک ہی سجدے میں وہ مزہ ہے کہ بقسم کہتا ہوں کہ کروڑوں  لاکھوں تخت و تاج میں وہ مزہ ہرگز ہرگز نہیں ہے جو مزہ ایک سجدے کے اندر حق تعالیٰ نے رکھا ہے! سجدہ کیا ہے میاں! کروڑوں جنت سے بڑھ کر اُس سجدے میں ارواح عشاق کو حق تعالیٰ جنت عطا فرماتے ہیں۔ میرے شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ  عارف جب سجدہ کرتا ہے تو  وہ صرف سر سے سجدہ نہیں کرتا بلکہ اُس کی روح بھی سجدے میں ہوتی ہے اور پھر عارف خود دیکھتے رہتے ہیں کہ میری روح بھی سجدے میں ہے وہ مقامِ سجدہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عطا فرمادے! تو یہ نفس کو شیطان ہمارے دشمن ہیں جو ہمیں لعنت و ظلمات کے راستے میں لے جاتے ہیں!۔ نفس و شیطان کی بات مانی اور اللہ سے محروم ہوا!اس کو کامیابی کہتے ہیں! اس کو عزت کہتے ہیں!نعوذ باللہ من ذالک۔کامیاب وہ بندہ ہے  جو خدا کو پاگیا۔ جس کو اللہ تعالیٰ سے رشتہ ہوگیا! اللہ تعالیٰ جس کو مل گیا ۔شعر:۔ |جو تُو میرا تَو سب میرا فلک میرا زمیں میری۔ اگر اِک تُو نہیں میرا تَو کوئی شے نہیں میری|  حضرت حاجی صاحب ؒ کعبے کے سامنے روتے تھے اور فرماتے تھے اور یہ شعر پڑھتے تھے: |پیاسا چاہے جیسے آبِ سرد کو۔ تری پیاس اِس سے بڑھ کر مجھ کو ہو|  وہ پیاس حق تعالیٰ ہم سب کو عطا فرمادے۔  ہر گناہ سے بچنے کی پوری پوری کوشش ہواور جان لگا کر ہم کوشش کریں ! حضرت حکیم الامت ؒ سے ایک بدنظری کے مریض نے علاج پوچھا تو فرمایا سوائے ہمت کے کوئی علاج میں نہیں جانتا!  دیکھا آپ نے ! قسم بخدا یہی بات ہے! ہمت اگر بندہ کرتا ہے تو حق تعالیٰ کی مدد ضرور آتی ہے! حضرت حکیم الامت فرماتے تھے کہ جہاں بندے نے ہمت کی اللہ کو راضی کرنے کے لیے وہیں اللہ تعالیٰ کی مدد پہنچ جاتی ہے! جس کو حق تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ ((والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سُبلنا)) جب ہم اپنے بندوں کو ہمیں راضی کرنے کے مجاہدات کرتے ہوئے  دیکھتے ہیں ، مشقت جھیلنے ہوئے دیکھتے ہیں ہمیں رحم اور پیار آتا ہےتو ہم اُن کے لیے راستے کھول دیتے ہیں! اپنی رضا کے راستے کھول دیتے ہیں  ! کیا مطلب اُن کو تو فیقات سے نوازتے ہیں! اُن کے لیے آسانیاں کردیتے ہیں ، توفیق کہتے ہی اِس کو ہیں کہ خدا کو راضی کرنے اور خیر کے راستے کو آسان بنا دینا ! حق تعالیٰ جس کو توفیق دیتے ہیں اُس کو اپنی ذاتِ پاک اور رضا و قرب کی  طرف  آگے بڑھنے کو آسان فرمادیتے ہیں اور جو راستے گندے ہوتے ہیں اُس کو حق تعالیٰ بند فرمادیتے ہیں! تو معلوم ہوا کہ ((لنھدینھم سُبلنا)) کے یہ معنی ہیں  کہ وصول الی اللہ کے راستے کو حق تعالیٰ آسان فرمادیتے ہیں کہ آجا! جلدی سے آجا ہمارے آغوشِ رحمت میں، ہم تم سے پیار کریں گے!ہم تم سے محبت کریں گے! ((یحبھم و یحبونہ)) حق تعالیٰ نے خود ہی قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ اگر تم ہم سے محبت نہیں کرتے ہو تو تم کو ختم کردیں گے ایسے بندوں کو ہم لائیں گے کہ وہ بھی ہم سے محبت کریں گے ہم بھی اُن سے محبت کریں گے، معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو محبت کیسی اچھی لگتی ہے، اسی لیے فرمایا ((والذین امنو اشدو حبا للہ))  جو ہمارے لیے ہمارے ساتھ رشتہ جوڑتے ہیں وہ تو ہمارے لیے ہروقت بے چین رہتے ہیں، ہمارے بالکل دیوانے بن جاتے ہیں۔  مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے  ہیں "اُوست دیوانہ  کہ دیوانہ نہ شد"  وہ پاگل ہے جو حق تعالیٰ کے لیے پاگل نہ ہوا!۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے کرم سے قبول  فرمالے ، اپنا بنالے اور ہمت عطا فرمادے ہر گناہ چھوڑنے کےلیے اور اسبابِ گناہ سے دُوری کے لیے، اور اہل اللہ کی صحبت میں اُٹھنا بیٹھنا اس کا بھی اہتمام چاہیے! اس پر مولانا رومی کا شعر : "یارِ مغلوباں مشو ہیں اے غوی" جس کو دیکھو خود ہی مغلوب  ہورہا ہے گناہوں میں ڈوب رہا ہے، ملوث ہورہا ہے تو اُس کے ساتھ کیوں تعلق رکھتے ہو وہ تو خود ہی مغلوب ہے، نفس نے اُس کو مار رکھا ہے!۔۔۔" یارِ غالب جوکہ تا غالب شوی"  اس لیے ایسے کسی اللہ والے کے ساتھ تعلق رکھو تو تم بھی نفس پر غالب ہوجاؤ گے اُن کی صحبت کی برکت سے اُن کی آہوں کی برکت سے، اُن کی نگاہوں کی برکت سے ، اُن کی دعاؤں کی برکت سے۔ اور مولانا رومی فرماتے ہیں کہ روؤ بھی اپنے مالک سے کہ جذب فرمالیجیے۔۔ | غالبی بر جاذباں اے مشتری۔۔۔شایددرماندگاں راواخری | اے اللہ پوری دنیا مجھے گناہوں کی طرف کھینچی  ہے آپ اگر خود ہی جذب فرمالیں تو ہر غالب پر آپ ہمیں  غالب فرمادیں گے! اے اللہ ہم کمزور ہیں  ہمیں قبول فرمالیجیے، ہمیں خریدلیجیے! اگر ایک کتا بھی  بادشاہ خرید لیتا ہے تو ہر آدمی ڈرتا ہے  کہ یار یہ تو بادشاہ کا کتا ہے! اے اللہ ہم گندے ہیں آپ ہم کو خرید لیجیے تو نفس و شیطان بھی ڈر جائیں گے!( اس بات پر ماشاء اللہ ! سبحان اللہ کے نعرے بلند ہوئے) کیا کلام  ہے مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کا! قربان جائیے مولانا رومی  پر! اللہ تعالیٰ مولانا رومی کے فیوض و برکات سے اور اپنے رومی( حضرت والاؒ) کے فیوض و برکات سے ہم سب کو سو فیصد مالا مال فرمادے! قبول فرمالے ہماری جانوں کو! ہماری زندگیوں کو! ہمارے انفاسِ حیات کو! ہم ہر وقت سو جان سے مالک تعالیٰ پر فدا ہوتے رہیں! مولانا رومی ؒ فرماتے ہیں  عارفاں زانند ہر دم آمنوں۔۔کہ گذر کردند از دریائے خوں۔  عارفین جو انوارِ الٰہیہ میں ہروقت غرق رہتے ہیں  اس کا سبب یہ ہے کہ خونِ سمندر سے یہ گذرے ہیں یعنی مجاہدات! مجاہدات! مجاہدات!  اور اِس راستے میں مجاہدہ ہونا کوئی مصیبت نہیں ہے نعمت ہے! نعمت ہے! نعمت ہے!  عزت ہے عزت ہے!۔۔ شرف ہے! شرف ہے! اس راستے کا ایک ایک قدم بادشاہت سے بڑھ کر قیمتی ہے ، تخت و سلاطین سے بڑھ کر قیمتی ہے!۔۔۔۔ حق تعالیٰ اپنا یہ غم خوش نصیب بندوں کو عطا فرماتے ہیں ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو قبول فرمائیں اپنا بنالے!۔۔۔واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین و صلی اللہ علی النبی الکریم

( مجلس ختم ہوگئی تھی لیکن اچانک حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے دوبارہ ارشاد فرمایا) میرے دوستو! یہ نہیں کہ صرف نگاہ کی حفاظت کافی ہے، زبان کی بھی حفاظت ضروری ہے ! قلب کی بھی حفاظت ضروری ہے! اس آیتِ پاک میں حق تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا ((ذارو ظاہر اسم و باطنہ)) مفسرین نے اس کی تفسیر کی ہے  کہ ظاہر اسم سے مراد وہ گناہ جو اعضاء و جوارح سے کیے جاتے ہیں اور دوسرے لوگ اِس کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور باطنہ سے مراد قلب کے ذریعے سے جو گناہ کیا جاتا ہے اور علمائے اور مفسرین نے لکھا ہے اعضاء و جوارح سے جو گناہ ہوتا ہے قلب کا گناہ اُس سے بھی اشد ہےاُس سے زیادہ خطرناک ہے، اُس کی ایک مثال دی کہ دیکھو جیسے عقائدِ فاسدہ ! ۔ ایک آدمی شراب پی رہا ہے یہ بھی حرام ہے اور دوسرا آدمی کہ وہ شراب تو نہیں پیتا لیکن شراب کو حلال سمجھتا ہے! دیکھا آپ نے! شراب پینا بھی حرام ہے اور یہ پینے والا مومنِ گناہ گار ہے اور دوسرا جو شراب کو حلال سمجھتا ہے وہ تو کافر ہے! اگر توبہ نہ کی ایمان نہ لایا تو یہ مرتد ہوچکا ہمیشہ مخلد فی ناررہے گا، جہنم میں رہے گا تو معلوم ہوا کہ دل کا گناہ زیادہ خطرناک ہے  اور اِسی طریقے سے مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ  ظاہری گناہ  ہے اور دوسرا یہ کہ دل ہی دل میں گناہ کا پکا عزم کررکھا ہے کہ فلاں گناہ کرنا ہے تو یہ قلب جو ہے پورے جسم کا بادشاہ ہے اعضاء و جوارح اُس کی رعایا ہیں  اور رِعایا کا گناہ یہ چھوٹا ہوتا ہے اور بادشاہ کا گناہ اور جرم بڑا شمار ہوتا ہے ، یہ سخت ترین شمار ہوتا ہے  اس لیے میرے دوستو میرے شیخ مختصر نصیحت میں کیا بات فرماتے تھے ! عیناً و قلباً و قالباً یعنی  ہر طرح گناہوں سے دوری اختیار کروکہ آنکھوں کی بھی حفاظت رکھو! اپنے دل کو بھی گناہوں سے پاک و صاف رکھو! اور قالباً اپنے جسم کو گناہوں سے پاک و صاف رکھو۔ اب یہ سبق بعض لوگوں کو یاد رہا کہ نگاہ کی حفاظت ضروری ہے ! اس میں کامیاب ہیں لیکن زبان اور دل  کی حفاظت نہیں کرتے اِس سے حسد ہے اُس سے حسد ہے ۔ اللہ پاک ہمارے قلوب کو پاک فرمادے!اگر اُس محبوبِ حقیقی سے واقعی دل میں تعلق ہے وہ بندہ ہمیشہ ڈرتا ہے کہ دَم بھر کربھی نہ دل سے گناہ ہو! نہ آنکھوں سے کوئی گناہ ہونہ زبان سے کوئی گناہ ہو! نہ دوسرے اعضاء و جوارح کے ذریعے سے کوئی گناہ ہو!  ہر گناہ سے بچنا ہم پر فرض ہے!  ایک دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ ظاہرہٗ سے مراد  وہ گناہ جو بالکل ظاہر ہوکھلم کھلا اور باطنہٗ سے مراد  وہ گناہ جو پوشیدہ طور پر کیا جاتا ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیتِ پاک سب پر حاوی ہے! مختصر یہ ہے کہ اللہ کو پانے کےلیے، اللہ کا عاشق و محبوب بننے کےلیے صرف دو کام کرلو! ایک کام یہ ہے کہ ایمان چاہیے، اوردوسرا یہ ہے کہ تقویٰ چاہیے!  فرمایا کہ ایمان تو حق تعالیٰ نے اپنے کرم سے عطا فرماہی دیا! جو بہت بڑا کام تھا وہ حل فرمادیا اپنے کرم سے ذریعے سے! اب ایک کام باقی رہ گیا  کہ ہمت کرکے گناہوں سے بچنا  اور فرمایا کہ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ  فرائض و واجباب کو نہ چھوڑو اور کسی گناہ کا ارتکاب نہ کرو! اگر اتنی بات ہوگئی تو تم متقی ہو!  تو ایمان کے ساتھ تقویٰ جمع ہوگیا اور ہوگئے تم ولی اللہ! اتنا آسان نسخہ ہے! پھر حق تعالیٰ نے خود ہی فرمایا کہ اس نسخے کو میں اور زیادہ آسان کرتا ہوں((کونو مع الصادقین)) سچوں کے ساتھ رہ پڑو تو بالکل ہی معاملہ آسان ہوجائے گا اور بالکل تم میرے بن جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قبول فرمالے۔ کراچی کے ایک بزرگ نے یہ شعر فرمایا تھا جس کو میرے شیخ نے بہت ہی پسند فرمایا تھا  ، شعر: مستند رستے وہی مانے گئےجن سے ہو کر ترے دیوانے گئے!  لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے تابہ منزل صرف دیوانے گئے ۔۔ اللہ تعالیٰ ہمیں راہِ تقویٰ میں مجاہدات کی توفیقات  سے بھی نوازے! اُن خوش نصیبوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں قبول فرمائے اور شامل فرمائے جو اپنے مالک کے لیے جان لڑا دیتے ہیں !اور نفس مکار سے بچنے کےلیے اپنی جان لگا دیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں وہ توفیق عطا فرمائے! اور جو سچے ہیں ایسے بندوں کے ساتھ  تعلق رکھنے کی بھی حق تعالیٰ توفیق عطا فرمادے! میرے دوستو! خدا کی قسم گروہ بندی یہاں نہیں ہے! ہمارے حکیم الامت فرماتے تھے کہ اللہ کی محبت کے راستے میں گروہ بندی نہیں ہے  یعنی پارٹی بازی! اہل ِ ایمان سب اہل ِ محبت ہیں!اللہ کےلیے کام کرنا ہے! اللہ کےلیے تعلق رکھنا ہے پارٹی بنانے کے لیے نہیں! اللہ تعالیٰ ہمیں قلوب فرمائے! بس اخلاص عطا فرمائے!آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ دین اپنا خالص کرلو تھوڑا سا عمل تم کو جنت تک لے جائے گا! مولیٰ تک پہنچادے گا! اخلاص ایسی چیز ہے جس کی برکت سے چھوٹا سا عمل قیمتی بن جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قبول فرمائے! اور توفیق عطا فرمائے اور اپنے دیوانوں کے رہنے کی توفیقات سے مالک تعالیٰ نوازے! خوش نصیبوں میں حق تعالیٰ ہمیں شامل فرمائے!  ( حافظ محمد احمد صاحب نے احباب میں اعلان کیا کہ نمازِ مغرب کا وقت قریب ہے لہٰذا سب حضرات مسجد کی طرف جائیں، حضرت دادا شیخ نے دوبارہ کچھ منٹ ارشادات سے نوازا:)   میرے شیخ رحمہ اللہ فرماتے  تھے : آہ جائے گی نہ میرے رائیگاں۔۔۔۔ تجھ ہے فریاد اے ربِ جہاں۔ حضرت والا ؒ کی دعا کی قبولیت کے یہ سب آثار ظاہر ہیں ابھی! کہ جگہ جگہ مختلف بندوں کے ذریعے سے حق تعالیٰ حضرت والا رحمہ اللہ کے وہی  مضامین اور وہی کام پھیلا رہے ہیں، وہی  کام ہورہا ہے الحمدللہ! حضرت والا نے فرمایا تھا کہ میں بیمار پڑگیا اور لیٹ  گیا بستر پر لیکن ہر جگہ ہر محلے میں اللہ تعالیٰ نے میرے برکات کو جاری فرمایا ہوا ہے ، ہر جگہ کام ہورہا ہے! لوگ دیکھتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا ہوں ، سارے عالم میں مَیں چل رہا ہوں، عجیب شان تھی حضرت والا کی!ایسی روح تھی ! ایسی دعائیں تھیں حضرت والا کی!  بعض عارف ایسے ہوتے ہیں کہ خود تو بیٹھے ہوتے ہیں لیکن اُنہی کی دعاؤں کی برکت سے پوری دنیا میں کام ہوتا رہتا ہے!  آہ! حضرت والاؒ زمین کے نیچے لیٹ گئے لیکن اُن کی آہوں کی برکت سے الحمد للہ عشق الٰہی کابازار اب اِس طرح گرم ہے ماشاء اللہ!  ان شاء اللہ ، اللہ تعالیٰ!  اپنے شیخ اور بزرگوں کی برکت سے بازارِ عشق الٰہی کو اور گرم تر فرمادے! ( پھر حضرت دادا شیخ نے درد بھری دعا فرمائی) اے اللہ! ہم سب کو معاف فرما! اے اللہ ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما! اے اللہ ہماری اصلاح کامل فرمادیجیے! ہماری اصلاح فرمادیجیے ہمارے گھر والوں  کی اصلاح فرمادیجیے! ہمارے گھر والوں کی اصلاح فرمادیجیے! ہمارے رشتہ داروں، خاندان والوں، پڑوسیوں کی اصلاح فرمادیجیے! تمام دوستوں کی اصلاح فرمادیجیے، تمام دوستوں کے دوستوں کی، متعلقین کے متعلقین کی اصلاح فرمادیجیے! پوری اُمتِ مسلمہ کی آپ اصلاح فرمادیجیے! ہم سب کو اپنا بنا لیجیے! ہمارے گھروں اور زندگیوں میں انوار کی بارش فرمادیجیے! رحمتوں کی بارش فرمادیجیے!سُعداء  میں شامل فرمادیجیے! شقاوت سے ہمیں حفاظت فرمادیجیے! اے اللہ اپنے عشاق اور اولیاء صدیقین کاملین کی آخری سرحد پر  اپنے کرم سے اے کریم  ہمیں ضرور پہنچادیجیے! عافیت والی زندگی ہمیں عطا فرمائیے! ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائیے! خوب خوب صحتِ جسمانی اور روحانی  سے نوازش فرمائیے! اے اللہ تمام دعاؤں کو اپنے کرم سے قبول فرمالیجیے! حاضرین کے لیے غائبین  کےلیے ، سارے عالم کے محبین کے لیے بھی اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی! (حافظ صاحب کی خانقاہ کے لیے دعا فرمائی) اے اللہ یہاں جو کام ہورہا ہے اس کو قبول فرمائیے اور  اس خانقاہ کو اور وسیع ترین  وسیع ترین فرمادیجیے! جہاں جہاں آپ  اپنے عشاق کے ذریعے سے کام لے رہے ہیں، اُن کے مکانات کو، خانقاہوں کو، مراکز کو اور زیادہ وسیع فرمادیجیے! اور براکات کی بارش فرمادیجیے!،  ربنا تقبل منا انک انت  السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم !

(۴۷: خلاصہدعا کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اور احباب نے قریب مسجد میں نمازِ مغرب ادا فرمائی اور پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم حضرت حافظ صاحب کی درخواست پھر دوبارہ خانقاہ تشریف لے گئے وہاں چائے نوش فرمائی، خانقاہ کے سب کمرے بھر گئے، وہاں کئی احباب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بیعت ہونے کی درخواست کی تھی لہٰذا بیعت فرمایا اور بیعت ہونے والے احباب کو قیمتی نصائح بھی فرمائیں،تقریباً آدھ گھنٹے  کی مجلس کے بعد  مولانا شاہین اقبال اثرؔ صاحب  کے ادارے سرجانی ٹاؤں کی طرف روانگی ہوئی، وہاں پہنچ کر نمازِ عشاء ادا کرنی تھی،  وہاں حضرت کے بیان اور حفظ کرنے والے  طلبہ میں انعامات  کی تقسیم کی ترتیب بھی  تھی۔  یہاں تک کی آڈیو ضروری  تفصیل کے ساتھ  منسلک ہے:

(۴۷: آڈیو)نمازِ مغرب کے بعد حضرت حافظ محمد احمد صاحب مدظلہ کی درخواست پر  خانقاہ میں دوبارہ تشریف آوری، احباب کو بیعت فرمانےکے بعد قیمتی نصائح نے نوازا، ارشاد فرمایا:  جو حضرات بیعت ہوئے ہیں جہاں میرے شیخ  رحمہ اللہ کے مُجازین  کرام کی مجلسیں ہوتی ہیں جہاں دل لگتا ہو اُن مجلسوں میں شرکت کریں اور میرے شیخ رحمہ اللہ کے  مواعظ و ملفوظات کا مطالعہ کریں اور حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ  کے مواعظ  و ملفوظات کو بھی حاصل کریں اُس میں سے بھی مطالعہ کرتے رہیں، خاصتاً ایک کتاب ہے  "اصلاحی نصاب"  ، "مواعظ ثلاثہ"   اور ایک ہے " تسہیل المواعظ" ان کتابوں میں سے تھوڑا تھوڑا  کرکے مطالعہ کرتے رہیں ان شاء اللہ! بہت نفع ہوگا! اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے جواب شدہ اصلاحی خطوط کی کتاب " تربیتِ عاشقانِ خدا"،  "مواہب ِ ربانیہ" اور " مواعظِ دردِ محبت"  سے تھوڑا  تھوڑا کرکے مطالعہ کرتے رہیں ان شاء اللہ بہت زیادہ نفع ہوگا! اور روزانہ ذکر کا اہتمام کیا جائے ( پھر احباب کو ذکر اللہ کی تسبیحات بتلائیں) ذکر کے ساتھ اس کا اہتمام ہو کہ ہم ہر گناہ سے بچیں  ، اگر آدمی ایک طرف  مقویات بھی خوب کھا رہا ہے گھی ، مکھن، انڈے پراٹھے، شامی کباب ۔۔ لیکن زہر بھی  کھا جاتا ہے، اس لیے اذکار  و تسبیحات میں زبردست نفع ہے عظیم الشان نور ہے، لیکن یہ جب حاصل ہوتا ہے، جب آدمی گناہوں سے پرہیز رکھے!اس لیے نگاہوں کی حفاظت کرے، غلط تعلقات سے ہم ضرور بضرور پرہیز کریں،  ہر گناہ سے حفاظت رکھیں  خاص کر نگاہوں کی حفاظت، غیبت سے حفاظت،  غلط اڈے میں ہم نہ جائیں! صالحین کی صحبت میں اُٹھنا بیٹھنا رکھیں! ایسے لوگوں سے دوستی نہ ہو کہ جن کی دوستی ہماری آخرت کے لیے مضر ہے، اللہ سے تعلق کے معاملے میں مضر ہے! اُن لوگوں سے گہرا تعلق نہ ہو! ملاقات ہوگئی سلام ہوگئی بس ٹھیک ہے، لیکن گہرا تعلق  ایسے لوگوں سے رکھنا جو گناہوں کے عادی ہیں،  یہ آخرت کے لیے مضر ہے! اللہ تعالیٰ ہم سب کو سایۂ رحمتِ الٰہیہ میں رہنے کا ذوق اور مزاج عطا فرمائے! اللہ تعالیٰ ہمارے لیے راہِ محبت کو آسان فرمادے!  پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نےبیعت ہونے والے احباب  کو رابطہ کرنے کے حوالے سےمطلع فرمایا کہ کن اوقات میں رابطہ کرسکتے ہیں ۔حافظ صاحب نے اپنے سب بھائیوں سے حضرت دادا شیخ کی ملاقات کروائی ماشاء اللہ سب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے بیعت ہیں، حافظ صاحب نے  حضرت دادا شیخ کو اپنی ویب سائٹ بھی دِکھائی اور ویب سائٹ پر موجود شارٹ آڈیو Mp4 کلپ کے بارے میں حضرت کو تفصیلات عرض کیں! حضرت دادا شیخ خوش ہوئے، اب حضرت کو اثر صاحب کی طرف روانہ ہونا تھا، حافظ صاحب نے حضرت نے عرض کیا کہ حضرت والا غلطی ہوگئی ہو تو معافی چاہتا ہوں! حضرت دادا شیخ نے محبت سے فرمایا: "سب معاف ہے! کوئی غلطی نہیں ہے، کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی! ماشاء اللہ سب ٹھیک ہے" پھر ہمارے شیخ دامت برکاتہم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ:  یہ حافظ محمد احمد صاحب بھی ماشاء اللہ خوب رابطے میں ہوتے ہیں ماشاء اللہ  مستقل رابطے میں ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ بار بار آپ سب کا فون بھی آتا رہتا ہے، عامر کمال کا، آصف کمال کا اور اثر صاحب  کا ،  ممتاز صاحب کا ۔( ہمارے شیخ حضرت شاہ فیروز میمن صاحب  کے لیے فرمایا ) آپ کا تو ماشاء اللہ کیا کہنا! آپ تو سب سے زیادہ رابطے میں ہوتے ہیں! (حضرت شیخ نے عرض کیا ) آپ کا احسان ہے، آپ کی توجہ ہے!۔(ایک صاحب نے خواتین کے لیے تسبیحات کا پوچھا کہ اُن کو کیا ذکر کرنا چاہیے اس پر فرمایا ) خواتین، سبحان اللہ! الحمدللہ اور لاالہ الا اللہ  یہ تسبیحات پڑھیں! اور ایک تسبیح درود شریف کی! اور اسم ِ ذات "اللہ اللہ" کو ہمارے حضرت والا  رحمۃ اللہ علیہ  خواتین کے لیےنہیں فرماتے تھے کہ اس میں تاثیرِ حرارت  زیادہ ہے!

(۴۸ : خلاصہحضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  تقریباً آٹھ بجے مولانا شاہین اقبال اثرؔ صاحب کے ادارے پہنچ گئے تھے، سرجانی ٹاؤن میں جہاں حضرت اثر صاحب کا ادارہ ہے یہ جگہ شہر سے کافی دور ہے ، حافط محمد احمد صاحب کی خانقاہ سے مزید آدھا گھنٹہ کے مسلسل سفر ہے، ماشاء اللہ! ادارہ کافی وسیع جگہ پر واقع ہے،  جس میں ایک طرف مسجد گلزارِ محمدی ہے  اور دوسری طرف  مدرسہ اختر العلوم ہے اور ایک طرف خانقاہ  موجود ہے اسی ادارے کے احاطے میں مولانا شاہین اقبال اثر صاحب دامت برکاتہم کی رہائش بھی ہے، مولانا شاہین اقبال اثر صاحب ، شیخ العرب والعجم عارف اللہ مجدد زمانہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کے اجل خلیفہ ہیں، حضرت والا ؒ کے انتقال کے بعد صدیقِ زمانہ حضرت والا میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ، صدیق زمانہ حضرت میر صاحب ؒ بھی اثر صاحب کے اس ادارے  میں تشریف لاچکے ہیں ۔ ادارے کے احاطے میں بائیں جانب پارکنگ کا انتظام تھا، جہاں احباب کی بڑی تعداد میں گاڑیاں نہایت سلیقے سے پارک تھیں۔ چونکہ کُھلا علاقہ تھا ، ٹھنڈ کافی تھی، سرد ہوائیں چل رہیں تھی لیکن عشاقِ حق  بڑی تعداد میں سینوں میں محبتِ الٰہیہ کی گرمی لیے  منتظر تھے کہ کب  امیرِ محبت، ترجمانِ اکابر، رومیٔ زمانہ حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم کی زیارت نصیب ہو، کچھ ہی دیر میں حضرت دادا شیخ کی گاڑی کی آمد کا شور اُٹھا اور گاڑی ادارے کے مرکزی دروازے سے داخل ہوئی  اور دائیں جانب مسجد کے دروازے پر جا رُکی چونکہ عشاء کا وقت ہوچکا تھا اس لیے فوراً ہی  حضرت دادا شیخ اور دیگر احباب مسجد میں داخل ہوگئے اور جماعت کھڑی ہوگئی، امامت حضرت مفتی نعیم صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی، نماز کے بعد حضرت دادا شیخ  دامت برکاتہم کرسی پر تشریف فرماہوئے مولانا شاہین اقبال اثر صاحب نے کچھ علماء و مفتیانِ کرام  کی ملاقات حضرت سے کروائی اور پھر مائیک پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی آمد پر بہت مسرتوں کا اظہار   اپنے اشعار  میں پیش کیا اور اپنے ادارے کے بارے میں مطلع فرمایا کہ کس طرح اللہ والوں کی دعاؤں اور توجہات سے یہ ادارہ وجود میں آیا۔ پوری مسجد بھرچکی تھی، باہر بھی لوگ موجود تھے، باہر سردی کی وجہ سے اعلان بھی کیا گیا کہ مسجد کی پہلی منزل پر تشریف لے جائیں  ۔ اثر صاحب نے تصویر کشی اور ویڈیو بنانے کی ممانعت پر اعلان بھی فرمایا ۔ پھر ایک صاحب نے حضرت شاہین اقبال اثر صاحب کے نعتیہ اشعار  بہت سوز سے پڑھت کہ  مست کردیا ماشاء اللہ!۔ پھر جناب حضرت رمضان صاحب مدظلہ( خلیفہ حضرت والا رحمہ اللہ ) نے اپنے مخصوص انداز میں شیخ العرب والعجم رحم اللہ علیہ  اشعار" آپ کےنام پر جان دے کر زندگی زندگی پاگئی ہے" پڑھے اور پھر مولانا شاہین اقبال صاحب کے وہ اشعار جو حضرت والارحمۃ  اللہ علیہ کی شان میں انہوں نے بہت برس پہلے کہے تھے یعنی "ہے کراچی میں بھی ایک تھانہ بھون" رمضان صاحب نے یہ اشعار  بہت بہترین انداز میں سنائے، جو بالکل  حسبِ حال تھے کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی بھی یہی شان ہے ماشاء اللہ!۔ پھر مولانا شاہین اقبال اثر صاحب کے خاص احباب میں   مولانا سلمان  شیخ  نے جناب اثر صاحب کے اشعار"قرآن وہ کتاب ہے جو درسِ انقلاب ہے" یہ اشعار دراصل  قرآن مجید کا خوبصورت ترین تعارف ہے، اشعار بھی خوب تھے اور پڑھنے والے نے بھی  خوبصورت انداز میں خوب پڑھے ، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت خوش ہوتے رہے اور ہر ہر شعرپر بار بار خوشیوں سے مسکراتے رہے ماشاء اللہ!۔ اشعار کے بعد مولانا شاہین اقبال اثر صاحب نے بھی ایک شاعر کے قرآن مجید کے حوالے سے کچھ اشعار پیش کیے اور  ادارے میں  حفظ کرنے والے طلباء کرام کو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے دستِ مبارک سے  انعامات  کی تقسیم کا اعلان کیا،تقسیم انعامات سے پہلے مدرسہ اخترالعلوم کا تعارف وہاں کے ناظم تعلیمات صاحب نے بہت خوبصورت اور جامع انداز میں پیش کیا  جس کا خلاصہ یہ کچھ یوں ہے کہ  "یہ مدرسہ اختر العلوم شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کے لگائے ہوئے باغوں میں سے ایک باغ ہے جس کے مہتمم مولانا شاہین اقبال اثر صاحب ہیں ، اس ادارے میں تعلیم کے ساتھ تربیت پر خاص طور پر توجہ دی جاتی ہے، ہفتہ وار اصلاحی بیان، سنتوں کا عملی مذاکرہ بھی کروایا جاتا ہے، نمازوں کے اہتمام کی فکر اورخصوصاً طلبہ میں فجر کی نماز کا اہتمام اور یہ اصول ہے کہ محلے کے اُس بچے کو ہی مدرسہ میں داخلہ ملے گا جو فجر کی نماز کی پابندی کرے گا،جس کا بہت نفع ہوا، طلباء کرام کی مارنے پر پابندی ہے اور ترغیب و انعامات کے ساتھ حوصلہ افزائی سے تکمیل قرآن کروائی جاتی ہے،آئندہ سال درسِ نظامی کا بھی ارادہ ہے"۔ ماشاء اللہ!( حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے اپنے دست ِ مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے،  اس دوران ناظم  تعلیمات نے تصویر کشی کی ممانعت پر اعلان کیا تو حضرت دادا شیخ نے مائیک اپنے ہاتھ میں لے کر  بہت درد سے فرمایا:) "خدا کی قسم ! یہ تصویرکشی کوئی سنت کا عمل نہیں ہے! اللہ و رسول ﷺ کو خوش کرنے والا کوئی عمل نہیں ہے، کیوں خوامخواہ ہم لوگ اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اپنے نفس کو خوش کرنا ہے یا  اپنے مالک تعالیٰ کو خوش کرنا ہے؟ اپنے جذبے کو دبائیں اپنے محبوبِ پاک کی رضا کی خاطر!  خدا کے واسطے تصویر کشی سے باز رہیں!اس سے ہمیں انتہائی دکھ، تکلیف اور افسوس ہوتا ہے"۔  سلسلہ ٔتقسیمِ انعامات مکمل ہو۱۔  یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۴۸: آڈیو) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی  مولانا شاہین اقبال اثر صاحب کے ادارے میں آمد،  مسجد گلزارِ محمدی میں نمازِ عشاء کے بعد کلام معرفت و محبت، مدرسہ اختر العلوم  کا جامع  تعارف اور طلبہ کو بدست حضرت دادا شیخ   انعامات کی تقسیم۔

(۴۹: خلاصہ) جامع  مسجد گلزارِ محمدی میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے تقریباً ایک گھنٹہ درد بھرا بیان فرمایا ، پوری مسجد بھری ہوئی تھی، ماشاء اللہ احباب خوب جم کربیٹھے، مسجد کی پہلی منزل پر بھی کافی احباب موجود تھے سب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے دردِ دل سے مستفید ہورہے تھے،  بیان  کی تفصیل  ضروری مضامین کی تفصیل کے ساتھ منسلک ہے:

(۴۹: آڈیو) بعد عشاء بیان مسجد جامع مسجد گلزارِ محمدی سرجانی ٹاؤن: "خدا تو خونِ تمنائے حرام  سے  ملتا ہے"

بیان کے اہم مضامین

 میرے دوستو ! وہ انسان انسان ہےجس کا اپنے مالک سے اچھا تعلق ہے!۔۔۔۔ حضرت والا رحمہ اللہ کی دن رات کی یہ تڑپ تھی کہ ہر انسان اللہ کا ولی بن جائے۔۔۔دنیا میں کیا رکھا ہے میرے دوستو! اور گناہوں میں کیا  رکھا ہے ؟ آہ! محبوبِ حقیقی کے جمال میں کیسی لذت ہے، اُن کے پیار کی کیسی لذت ہے!  جب انسان گناہوں سے بچتا ہے  اور اپنے مالک کی تلاش میں ہوتا ہے تو روح کو وہ نور عطا ہوتا ہے  کہ قسم بخدا  لذتِ جنت  محسوس ہوتی ہے اللہ پاک ہمیں عنایت فرمادے۔۔۔ حضرت حکیم الامت تھانویؒ ابلیس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: اے مسلمانوں ہوشیار ہوجاؤ! اے علماء ہوش میں آجاؤ! اے صوفیو! ہوش میں آجاؤ! ابلیس عالم تھا، عابد تھا، عارف تھا لیکن پھر بھی مردود ہوا ، کیا دوسرا ابلیس آیا تھا  اس کو گمراہ کرنے ، ہلاک کرنے کےلیے، مردود کرنے کے لیے،  تو وہ کس چیز کی وجہ سے مردود ہوا ہے؟ وہ نفس کی وجہ سے مردود ہوا ہے! اور وہ نفس میرے اور تمہارے پاس بھی ہے! بات آئی سمجھ میں!  اس لیے علم کی وجہ سے مطمئن ہوجانا کہ ہمیں بڑی معلومات، فتاوٰی شامیہ کا علم ہے اور بخاری کا درس دیتے ہیں! ابلیس تو سارے عالم کے علوم کا حافظ ہے باوجود اس کے وہ مردود ہے، اس لیے علم کی وجہ سے تکبر میں آنا! کبر و نخوت کا پیدا ہونا! یہ ہلاکت ہے ہلاکت ہے ہلاکت ہے!۔۔۔ اپنے اعمال پر مطمئن ہوجانا کہ ہمارے پاس اتنا سرمایۂ ایمان ہے!  ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے! صرف اور صرف محبوبِ پاک کی رحمت پر ہمیں بھروسہ ہونا چاہیے۔ ابلیس ہر وقت عبادت ہی عبادت میں مشغول رہتا تھا عالم تھا، عابد تھا، اللہ کا عارف تھا باوجود اس کے مردود ہوا!  عارف اور صاحبِ معرفت ہونے کے باوجود یہ مردود ہوا ہے۔۔۔۔اس لیے  جو اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حامل ہے اُس کو بھی مطمئن اور قانع نہیں ہونا چاہیے کہ اس پر بھی ہمیں اعتماد کی گنجائش نہیں ہے!  قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر میری رحمت اور کرم شامل نہ ہو تو بغیر میرے فضل و رحمت کے تم میں کوئی بھی ہرگز ہرگز پاک و صاف نہیں ہوسکتا! ۔۔۔ حضرت حاجی صاحب کا ملفوظ:  جب دوسری بار اللہ کا نام لینے کی توفیق ہوگئی یہ علامت ہے کہ پہلا دفعہ اللہ کا نام لینا اُن کو پسند آگیا! اس لیے تمہیں دوبارہ نام لینے کی توفیق عطا فرمادی کہ پھر سُنا دے میرا نام! پھر سُنا دے میرا نام! اس لیے جب دوسرا ذکر کی توفیق ہوجائے تو شکر گذار ہونا چاہیے جب لوگ کتنے گناہوں گندے کاموں میں مبتلا ہیں ، لعنت کے اُمور میں مست ہیں  تو اُس وقت حق تعالیٰ نے مجھ کو اپنے نام میں مست رکھا ہے!۔۔ ( اس پر مولانا رومی ؒ کا فارسی شعر فرمایا) جب میں اللہ کا نام لیتا ہوں تو میرا ہر بال دریائے شہد بن جاتا ہے!  اور فرماتے ہیں  کہ  جب میں محبوب ِ پاک کے ذکر میں مشغول ہوتا ہوں تو عرش اعظم سے  محبوبِ پاک کی خوشبو اس طرح میری روح تک پہنچتی ہےکہ اس کے الفاظ سے میں بالکل قاصر ہوں! میرے پاس کوئی زبان نہیں کہ اِس کو بیان کروں!۔۔۔اللہ پاک ہمیں محبوبِ پاک کے نام  لینے کی توفیق سے نوازش فرمادے! کیا خوش نصیب بندہ ہے جو اللہ کا نام لیتا ہے! | تولے اللہ کا نام۔۔۔تیراسب بنے کا کام | حضرت ملاعلی قاریؒ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کا نام لیتا ہے وہ تو اللہ کی رحمتِ خاصہ کے دروازے پر پہنچ گیا۔۔۔اب اللہ تعالیٰ نے اِس کو اِس راستے پر بلایا اور وہ اگر اِس راستے پر قائم رہے گا  (جوش سے فرمایا) تو دروازہ حق تعالیٰ کھول بھی دیں گے! ( اس پر حضرت خواجہ صاحبؒ  کا شعرپڑھا ) تُو ہو کسی بھی حال میں  مولیٰ  سے لَو لگائے گا۔قدرتِ ذوالجلال  میں کیا نہیں گڑگڑائے جا۔ اور یہ شعر: کھولیں یا وہ نہ کھولیں دَر اس پر ہو تیری کیوں نظر۔ تُو تَو بس اپنا کام کریعنی صدا لگائے جا۔  قسم بخدا بندہ حق تعالیٰ کا جب نام پکارتا ہے تو حق تعالیٰ کو اُس پر پیار آتا ہے! (حضرت والا ؒ کا ذوق بیان فرمایا   کہ)  جو بندہ محبت کے ساتھ ایک مرتبہ بھی اللہ کا  نام لیتا ہے اللہ تعالیٰ ہرگز اس کو جہنم میں نہیں ڈالیں گے! اللہ کے نام  اور یاد کی ایسی برکت ہے!۔۔۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے تعلق رکھنے والوں ، مجھ  سے محبت کرنے والوں  میرا نام خوب لیا کرو!( مولانا رومی ؒ کا فارسی شعر فرمایا) جو  اللہ کا نام لیتا ہے وہ عرش سے گذر کر ربِ عرش یعنی اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ذکر کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائی! جتنے اولیاء اللہ گذرے ہیں اِن کو اللہ کے نام سے عشق تھا!( حضرت پھولپوری رحمہ اللہ  کے عاشقانہ ذکر کا حال جو حضرت والا رحمہ اللہ  بیان فرمایا کرتے تھے) کہ ہواؤں  اللہ کا نام لکھا کرتے تھے، میرے شیخ ؒ فرماتے تھے کہ اللہ کے پاس خط لکھتے تھے!  ہواؤں کے ورق پر اللہ تعالیٰ کے ہاں خط بھیجتے تھے ۔۔۔ جیسے لیلیٰ نام مجنوں لکھا کرتا تھا، لکھ لکھ کر دل کو تسلی دیتا تھا۔ مولانا رومی ؒ اس واقعہ کو بیان کرکے ہمیں درسِ محبتِ مولیٰ دیتے ہیں! کہ اے مسلمانوں جب مجنوں لیلیٰ کی محبت میں پھنس کر یہ حال ہوسکتا ہے تو مومنو! اللہ کی محبت میں ہمارا کیا حال ہونا چاہیے!۔۔۔۔ بولنے والے بہت ہوتے ہیں کہ ہم بھی اللہ کو چاہتے ہیں، ارے اللہ کو چاہتے ہو تو اللہ کو ناراض کرنے والے کاموں سے باز آئے! قیل و قال کو چھوڑو، ظاہری کچھ الفاظ یاد ہوگئے، چند کتابوں کی ورق گردانی سیکھ لی ، بس اُس پر ہی قناعت!!!  ایسا نہیں ہونا چاہیے!آؤ مسلمانو! ہم سب اپنے اللہ سے محبت کریں! اپنے اللہ پر جان فدا کردیں!  یعنی محبت والی زندگی ہو۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم مومن ہو! تمہارے سینے میں ایمان ہے! اگر تمہارے سینے میں ایمان ہے! تو میری محبت میں تم انتہائی بے چین رہوگے! بے قرار رہو گے دیوانے ہوجاؤگے! حضرت پھولپوری ؒ دوستو کی مجلس میں جب ہوتے تھے تو اچانک فرماتے تھے کہ "اے قرارِ جانِ بے قراراں"  اے محبوب پاک آپ کے بغیر مجھے قرار نہیں ہے! کیا شان تھی اور کیا محبت تھی! مست رہتے تھے ہمیشہ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ ایسا دل ہم سب کو عطا فرمادے!(اس پر حضرت خواجہ صاحب کا شعر فرمایا) دل تجھ کو دیا حق نے تو حق اِس کا ادا کر۔۔۔سب چھوڑ خیالات تُو یادِ خدا کر!۔ میرے شیخ فرماتے تھے کہ تمہارے  سینے میں دل کا تب پتہ چلے گا کہ جس نے دل دیا ہے اُس پر دل کو فدا کردیا ہے!  (حضرت والا رحمہ اللہ  کا فارسی شعر)   اصلی دل تمہیں جب حاصل  ہوگا جب تم اس دل کو مولیٰ پر فدا کرو،۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نوراللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر سینے میں اللہ کی محبت نہیں ہےتو یہ انسانی دل نہیں ہےجانور کا دل ہے!نعوذ باللہ من ذالک۔ یہ دنیا کیا چیز ہے،حقیر چیز ہے! پھر اس دنیا پر مرنا! (پھر حضرت دادا شیخ نے کچھ اشعار پڑھے) اس لیے ہمیں ہمیشہ جستجوئے محبوبِ پاک ہو! سرمد ایک بزرگ  تھے اُن کا فارسی شعر پڑھا اور تشریح فرمائی کہ  دن رات یہ شکایت کہ ہمیں اللہ نہیں ملے، کس طرح ہمیں ملیں گے ؟ مسئلہ بہت مشکل ہے، گناہ کیسے چھوڑیں گے ! یہ شرارتیں،حماقتیں اس وقت تک ہوتیں ہیں جب تک دل میں اللہ کی محبت حاصل نہ ہوتی! بات سمجھ میں آئی میرے دوستو! سرمد بزرگ فرماتے ہیں کہ  دو راستے ہیں کس راستے پر جانا ہے اگر اللہ تعالیٰ کو چاہتے ہو اُن سے محبت کرنا چاہتے ہو، اُن سے تعلق قائم کرنا چاہتے ہو! اُن کو دوست رکھنا چاہتے ہو تو دنیا سے نظر ہٹا لو! اس حقیر دنیا سے اپنی نظر ہٹاؤ! اگر یہ ہمت نہیں ہے تو چھوڑ دو! جاؤ کہیں جاؤ اور چاہو تو ہلاک ہوجاؤ! (اس پر حدیث شریف بیان فرمائی مفہوم) حضورﷺ   فرماتے ہیں کہ تم اگر دنیا میں پھنس گئے اور دنیا کو تم نے ترجیح دی تو آخرت  تمہاری برباد ہوگی، آخرت کو نقصان پہنچ جائے گا اور جس کی نگاہ میں آخرت ہو ، آخرت کی کامیابی جس کی نگاہ میں ہو تو وہ دنیا کے نقصان کو ضرور برداشت کرے گا!  کہ جو کچھ بھی نقصان پہنچ جائے مجھے اپنے محبوب پاک کو خوش کرنا ہے، اُن کی رضا چاہیے! میں اپنی خوش نہیں چاہتا اپنے محبوبِ پاک کی خوشی چاہتا ہوں،( حدیث شریف کی دعا: ((اللھم انی اسئلک رضاک والجنۃ ونعوذبک سخطک والنار)) کی تشریح فرمائی اور اس پر حضرت حاجی صاحب ؒ کا کعبہ شریف میں گریہ و زاری کا ذکر   فرمایا اور اُن کا شعر سنایااور حضرت والا ؒ کے ذوق کے بارے میں فرمایا:) میرے شیخ رحمہ اللہ اور حضرت حاجی صاحب کا ایک ہی ذوق تھا! ایسے حضرات کو صدیقین کہتے ہیں، جن کی نگاہوں میں اللہ ہی اللہ ہوتے ہیں ۔ (صدیق کون ہوتا ہے اس کی تشریح فرمائی) وہ جو دونوں جہاں اپنے محبوبِ پاک پر قربان کردے! اس کو صدیق کہتے ہیں! (اس پر حضرت  والا رحمہ اللہ کا شعر فرمایا )... ذوق طلب بھی مختلف دَہر میں دیکھتا رہا۔۔۔ اخترِ بے نوا سے تیراسوال کردیا... اللہ تعالیٰ وہ محبت ہمیں نصیب فرمادے!(اس پر حضرت بڑے پیر عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا واقعہ بیان فرمایا کہ اُن کو شاہِ سنجر اپنی سلطنت  کا ایک حصہ "نیمروز" ہدیہ  کرنا چاہتا تھا، خط بھیجا تھا۔اس پر انہوں نے لکھ بھیجا کہ)  مثل  شاہِ سنجر کے میرا نصیبہ سیاہ ہوجائے اگر تیری سلطنت کی  کچھ میں لالچ میرے دل میں ہو۔ آہ! کیا فرمایا! اتنا پاک ہوتا ہے اہل اللہ کا دل! اِتنا صاف ہوتا ہے اہل اللہ کا دل! اتنا مُجلہ ہوتا ہے اہل اللہ کا دل، انوار سے معمور ہوتا ہے! ( مولانا شاہ محمد احمد صاحب ؒ کا شعر پڑھا) اُف کتنا ہے تاریک گنہگار کا عالم۔ انوار سے معمور ہے ابرار کا عالم۔۔۔۔اور لوگ گناہوں میں مستی سمجھتے ہیں اور اللہ والے یہ کہتے ہیں کہ  گناہوں کی زندگی کیا مصیبت کی زندگی ہے! عذاب ہی عذاب ہے۔ گناہ میں مبتلا ہونا خود عذاب ہے! گناہ میں مبتلا ہونے کے بعد ایسا غم،ایسی پریشانی لاحق ہوتی وہ بھی عذاب ہے اور مرنے کے بعد تو عذاب ہی عذاب ہے، نعوذباللہ من ذالک! اللہ ہر عذاب سے ہمیں حفاظت فرمائے! اور اہل اللہ کا ذوق ایسا ہوتا ہے، گناہ سے کیا ہوتا ہے ، میرے شیخ رحمہ اللہ  فرماتے  تھے  کہ اے اللہ آپ کو فرماتے تھے کہ دیدار بھی  بعد میں،جنت بھی بعد میں ، ساری نعمتیں بعد میں ، تو میں صبر کرلوں گا! ہر چیز پر میں صبر کرلوں گا، حُوروں کے بارے میں مَیں صبر کرلوں گا! جنت کی  تمام نعمتوں کے بارے میں صبر کرلوں گا ۔۔۔لیکن آپ کی ذات کے بارت میں مجھے صبر نہیں ہے!۔۔ شعر: کچھ کرم تو نقد فرمادیجیے۔۔ بعد مرنے کے نہ وعدہ کیجیے  (اس پر مولانا رومی رحمہ اللہ کا فارسی پڑھا) ظالمو! تم اپنے بیوی ، بچوں ، ماں باپ سے صبر نہیں کرسکتے آہ! اُس محبوبِ پاک سے تم کو کیسے صبر ہوجاتا ہے! اللہ کے بارے میں صبر کہ ابھی ناراض تو ہیں چلو بعد میں راضی کرلیں گے، بعد میں توبہ کرلیں گے ابھی  تو لذت کشید کرنے دو۔ اس وقت ہمارا پروگرام نفس کو خوش کرنے کا ہے!  اپنے نفس کو خوش کرنا ہے، جو اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے وہ خدا سے محروم رہتا ہے۔(حضرت خواجہ صاحب نے ایک شعر حضرت حکیم الامت تھانویؒ کو پیش کیا تھا تو)  ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی۔ اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی۔۔۔۔اے اللہ آپ کے ملنے کےلیے یہ شرط ہے کہ حرام خواہشات کو ہم توڑ دیں!۔ شعر: توڑ دئیے مہ و خورشید ہزاروں ہم نے۔۔ تب کہیں جاکے دکھایا رُخِ زیبا تونے۔۔ یعنی خواہشات کے جو مہ و خورشید ہوتے ہیں اُس کو توڑ دینا تو خالقِ خورشید، خالق مہتاب و آفتاب اُس کو مل جاتا ہے۔ شعر: ہم نے لیا ہے داغ دل کھوکے بہارِ زندگی۔۔ اِک گُلِ تر کے واسطے ہم نے چمن لٹا دیا۔۔۔حضرت خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اے پھولوں پر مرنے والے! ہم خالق پھول پر فدا ہوتے ہیں! تو خواجہ صاحب ؒ نے فرمایا کہ مجھے کوئی بھی تمنا نہیں، کوئی بھی خواہش نہیں !ایک ہی  تمنا ہے کہ محبوبِ پاک آپ مجھے مل جائیں! ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی۔ اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی۔۔۔ اللہ تعالیٰ  وہ دل ہم سب کو عطا فرمادے! (مولانا رومی رحمہ اللہ کا  فارسی شعر پڑھا اور ترجمہ فرمایا) کہ اے دل یہ بتا کہ یہ چاند زیادہ خوبصورت ہے یا چاند کے بنانے والا ؟ جن کے ہاتھ لگنے سے چاند کو ایسی خوبصورتی عطا ہوگئی اور شکر میں جو شیرینی ہے  وہ زیادہ ہے یا کہ جس نے اس کو شیریں کیا ہے وہ زیادہ  شیریں ہیں! ( حضرت امیر خسرو رحمہ اللہ کا واقعہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنے شیخ خواجہ نظام الدین اولیاء سے پوچھا فارسی شعر میں ) کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ  چاند سے خوبصورت کیا ہے؟  خواجہ صاحب نے جواب دیا کہ اگر تم خدا کےلیے میرا مرید اور عاشق ہے تو  تجھے شیخ کا چہرہ چاند سے زیادہ روشن اور خوبصورت نظر آئے گا! پھر پوچھا  کہ خسرو آپ کا کیا لگتا ہے تو جواب دیا  کہ  ارے تُو کیا ہے میرا پرستار ہے، عاشق ہے!۔ تو کہنا یہ ہے کہ   جب اللہ کی محبت کے راستے میں شیخ چاند سے زیادہ خوبصورت نظر آتے ہیں تو پھر  وہ خالق و محبوبِ حقیقی کی کیا شان ہے!( خواجہ عزیز الحسن صاحب مجذوبؔ ؒ ایک دفعہ باغ سیر کو گئے واپسی پر اشعار  ہوئے کہ ) وہاں ہر  پھول کے رنگ میں  تو اے اللہ ہم نے تو آپ کا جمال دیکھا!  پھول کی ہر خوشبو میں آپ کی خوشبو سونگھی ہے! ۔۔۔ جس کو حق تعالیٰ اپنی محبت سے نوازتے ہیں  ( اس پر  خواجہ صاحب کا شعر سنایا) میں رہتا ہوں دن رات جنت میں گویا ۔۔ مری باغِ دل میں وہ گلگاریاں ہیں۔۔ ایسے گلستان حق تعالیٰ اُس کے سینے میں عطا فرمادیتے ہیں!( حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا مغلیہ خاندان کے شہزادوں کو خطاب میں للکارا) کہ وہ دل اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے دل میں عطا فرمایا ہے کہ  وہ محبت کے ہیرے جواہرات والا دل ہے بتاؤ یہ آسمان  کے نیچے  زمین کے اوپرمجھ سے بڑھ کر کون ہے دولت مند! تو تمام شاہانِ مغلیہ  سر جھکا کر بیٹھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ دولتِ محبت سے ہمیں نوازش فرمادے! واہ رے میرے کریم! کیا آپ کی شان ہے!۔۔ حضرت حکیم الامتؒ فرماتے تھے کہ ایمان نام ہے محبت کا! جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں اپنی محبت ڈال دی تو چاہتے یہ ہے کہ اِس محبت کو بڑھاؤ! آگے بڑھ جاؤ اور میرے دیوانے بن جاؤ! جو ایمان والے ہوتے ہیں وہ تو میرے دیوانے ہوتے ہیں ، میرے لیے ہر وقت بے چین رہتے ہیں، بے قرار رہتے ہیں( حضرت حکیم الامت ؒ کی تمام مسلمانوں کو وصیت نقل فرمائی) جہاں بھی رہو ، جس حال میں بھی رہو ہر وقت اپنے محبوب ِپاک کے لیے بے چین رہو! اللہ تعالیٰ ہمیں  ایسا ایمان عطا فرمادے  اسی لیے میرے دوستو! خونِ تمنا ضروری ہے!۔۔۔۔ عجیب شان تھی میرے حضرت والا کی ! مختصر بات میں ساری باتیں فرمادیتے تھے!  خدا تو خونِ تمنا سے ملتا ہے! اپنی خواہشات کا خون کرنا ہے پھر وہ خدا ہم کو مل جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ! ( پھر حضرت دادا شیخ نے سب سے عہد لیا) اس کے لیے ہم سب تیار ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ! (گریہ کے ساتھ فرمایا)  نگاہوں کی حفاظت کریں گے  ان شاء اللہ تعالیٰ! زبان کی حفاظت کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ! ظاہری و پوشیدہ گناہوں کو چھوڑیں گے  ان شاء اللہ تعالیٰ!۔۔۔ اللہ کی محبت کےلیے گناہوں سے الگ ہونا ضروری ہے! گناہوں میں لذت تو ہے لیکن یہ نفسانی لذت ہےلعنتی لذت ہے ! لیکن سجدے میں جو لذت ہے خدا کی قسم !جنت کا مزہ حق تعالیٰ سجدے میں عطا فرمادیتے ہیں!( اس پر حضرت خواجہ صاحب کا شعر ارشاد فرمایا) اگر سجدےمیں سر رکھ دوں زمیں کو آسماں کردوں!۔۔۔ اور ۔۔۔ خدا کی یاد میں بیٹھے جو سب سے بے غرض ہوکر۔۔۔تو اپنا بوریا بھی ہمیں تختِ سلیماں تھا۔۔( اس پر مولانا رومی ؒ کے فارسی شعر بھی ارشاد فرمائے) آپ کے نام مجھے مستی معلوم ہوتی ہے، سجدہ کرنے میں مجھے مستی معلوم ہوتی ہے، قرآن پاک کی تلاوت سے مجھے مستی معلوم ہوتی ہے۔۔۔ایسی زندگی اللہ تعالیٰ اپنے عشاق کو عطا فرماتے ہیں۔۔۔ مولانا رومی فرماتے ہیں اے اللہ زندگی بھر میں یہی چاہتا ہوں کہ مست رہوں! کہ کیف و مستی میں عشق و مستی میں جل بھن کر میں آپ کا نام لوں ( دوبارہ فارسی مولائے روم پڑھا) کہ عام مسلمان  جو اللہ کا نام لیتے ہیں لیکن اس میں وہ خاص بات کہاں ہوتی ہے  لیکن عشق و محبت کے ساتھ اللہ کا نام لیا جائے بہت بڑا نصیب اور بہت بڑی دولت اُس کو حاصل ہوجاتی ہے۔۔ہاں صرف یہ نہیں کہ مجاہدات کے راستے پر چلے ، عبادات ہی عبادات اختیار کرے، حق تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے چاہنے والوں کے ساتھ آپ کاتعلق ہو تو آپ کی چاہت مکمل ہوگی، یہ آپ کی چاہت آپ کو کامیاب بنادے گی۔ا سی لیے حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو بالکل میرے ہیں تم اُن کا اتباع کرنا، اُن کا پیرو ہوجانا!( اس پر حضرت پھولپوریؒ کا ملفوظ ارشاد فرمایا) کہ آم والوں سے آم ملتا ہے! امرود والوں سے امرود ملتا ہے، تقویٰ والوں سے تقویٰ ملتا ہے  اور۔۔۔ اللہ والوں سے اللہ ملتا ہے!!اور حضرت ڈاکٹر عبد الحئی رحمہ اللہ کثرت سے یہ شعر فرماتے تھے  ؂ ۔۔اُن سے ملنے کی ہے یہی ایک راہ۔۔ملنے والوں سے راہ پیدا کر! ۔۔اس لیے میرے دوستو! تقویٰ کے راستے میں محنت بھی بھی چاہیے، مجاہدہ بھی چاہیے۔۔اور کسی اللہ والے سے جُڑنا بھی چاہیے۔۔ دین میں گروہ بندی نہیں حضرت حکیم الامت ؒ یہ  فرماتے تھے کہ  جہاں جس کو مناسبت ہو تعلق قائم کرے! اور یہ بھی فرماتے تھے کہ اگر مناسبت نہیں پھر بھی وہاں تعلق قائم کرلیا تو زندگی گذر جائے  گی کامیابی نہیں ہوگی! اور مناسبت کیا چیز ہے ؟ جس شیخ کو دیکھ کر وہ اچھے لگتے ہیں اُن سے محبت معلوم ہوتی ہے!اُن کا اُٹھنا، بیٹھنا، رونا ،ہنسنا اور اُن کا ہر حال اچھا لگتا ہے!  ہر حال میں اُن سے محبت معلوم ہوتی ہے! یہ مناسبت کی علامت ہے!اور اُن کے ساتھ بیٹھ کر فائدہ ہوتا ہے! آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے!اللہ کی محبت دل میں آتی ہے۔ یہ مناسبت کی علامت ہے! جب ایسی مناسبت معلوم ہو! جب ایسی مناسبت ہو تو اُن سے تعلق قائم کرلے!  ان شاء اللہ تعالیٰ پھر اللہ کا فضل ہوجائے گا! پھر اُن کی ہدایات پر زندگی گذارے! اپنے حالات سے اُن کو مطلع کرے! جو وہ مشوریں دیں اُس پر عمل بھی کرے! اُن کی تجویزات کی قدر کرے!اور اُن کا مطبع اور فرماں بردار رہے!  اور یہ اعتقاد اور اعتماد رکھے کہ وہ جو کچھ مشورات مجھے عنایت فرماتے   ہیں اِسی میں میرے لیے کامیابی مقدر ہے! اسی میں میرے لیے نفع ہے! اور مرید کو یہ سمجھنا چاہیے کہ میرے شیخ  تمام مشائخ  عالم سے میرے لیے انفع ہیں! شیخ کی عظمت ہو، ادب ہو ہر حال میں! ادب بہت ضروری چیز ہے! باادب بانصیب! بے ادب بے نصیب! (اس پر مولانا رومی ؒ کا شعر ارشادفرمایا) جو بے ادب ہوتا ہے وہ اللہ کے فضل و رحمت سے محروم ہوجاتا ہے!۔۔۔ علماءدین کا بھی ادب، احترام اور محبت کرنی  چاہیے! اولیاء اللہ سے محبت ہونی چاہیے تعلق نہ بھی ہو لیکن بدگمانی تو نہ ہو!  بدگمانی خطرناک بات ہے!۔۔۔ حضرت پھولپوری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اگر نیک گمان کیا تو یقیناً میدان ِ محشر میں اجر  و ثواب ملے گا انعام ملے گا محبوبِ پاک کے دست و کرم سے! اگر بغیر دلیل کے اُس نے اچھا گمان کیا  اسی پر حق تعالیٰ اُس کو انعام سے نوازیں گے!  اور اگر بدگمانی کی تو حق تعالیٰ دلیل پوچھیں کہ کس بناء پر تم نے بدگمانی کی!  اس لیے حضرت پھولپوری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اچھا گمان کرکے ثواب لینا یہ اچھا ہے یا بدگمانی کرکے اپنے آپ کو مقدمہ میں پھنسانا!۔۔ اس لیے بدگمانی نہیں کرنی چاہیےاور بدزبانی بھی نہیں کرنی چاہیے!!  بعض سالکین ایسے ہیں کہ سب گناہوں سے بچنے کےلیےزبردست مجاہدات کرتے ہیں  لیکن اپنے دل میں پاک و صاف نہیں کرتے، اُس سے حسد اُس سے بدگمانی! کیوں ایسا کرتے ہو! ۔۔۔حدیث: حسد اس طرح سے نیکیوں کو کھا جاتا ہے جس طرح سے آگ سوکھی ہوئی لکڑیوں کو!  لیکن اِس سے سارے اعمال کا جل جانا یہ اہل حق کا  عقیدہ نہیں ہے اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہے  کہ جس سے حسدہوجاتا ہے تو پھر اُس سے آدمی مختلف گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے! غیبت ،حسد، عداوت ، وغیرہ۔۔تو ان باتوں کی وجہ سے میدان ِ محشر میں نیکیاں اُس کو دے دیں گے جس سے حسد کیا ہے۔صرف حسد کی وجہ سے آدمی کتنے گناہوں میں مبتلا ہونے لگتا ہے! کہ رفتہ رفتہ تمام نیکیاں ختم ہوجاتی ہیں!  اس لیے حسد بہت بدترین گناہ ہے! میرے شیخ کثرت سے بدنگاہی کے بارے میں نصیحت فرماتے تھے اور فرماتے تھے میرے ۷۰ سالہ  کا تجربہ ہے مشاہدہ ہے کہ جس نے بھی حفاظتِ نظر میں کامیابی حاصل کی یعنی جس نے پوری طرح نظر کی حفاظت کی ہے اس میں وہ کامیاب ہوگیا  تو صدیقین کا درجہ حق تعالیٰ اُس کو عطا فرما ہی دیتے ہیں!اور یہ اِس لیے ہے کہ اس گناہ سے بچنا انتہائی مشکل ہے ! اس میں بہت سخت مجاہدہ ہوتا ہے!( پھر مثال عطا فرمائی کہ ایک آدمی خوب عبادات نیکیاں کرتا رہا لیکن راستے میں بدنظری کرکے سب ختم کردیا) تو دیکھ لو وہاں نظر کی حفاظت کس قدر مشکل معلوم ہوتی ہے!(  اس پر حضرت حکیم الامت ؒ کا  عظیم الشان ملفوظ بیان فرمایا)  کہ عبادات سے ، مجاہدات سے آدمی جو نور حاصل کرتا ہے ایک ہی دفعہ بدنگاہی سے وہ سارا نور اندر سے نکل جاتا ہے! اور یہ فرماتے تھے کہ ایک بار نظر کی حفاظت کرنا ۱۰ ہزار نمازِ تہجد سے افضل ہے کیوں فرمائی حضرت نے یہ بات !کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (( اتق المحارم تکن اعبد الناس)) تم سب گناہوں کو چھوڑ دو تو تمام عالم کے عابدین سے تم بڑھ جاؤ گے! گناہوں سے بچنا  سب سے بڑی عبادت ہے!  اگر موت تک کوئی تہجد نہ پڑھی اس کا سوال نہیں ہوگا لیکن اگر ایک بھی اگر  گناہ کبیرہ میں مبتلا رہا  تو میدان محشر میں اس پر عذاب ہوگا!۔۔ ایک ہی گناۂ کبیرہ کی عادت جہنم میں جانے کےلیے کافی ہے! نعوذ باللہ من ذالک ( حضرت دادا شیخ نے اس موقع پر سب سے عہد لیا کہ ) ہم سب گناہ چھوڑ دیں گے ان شاء اللہ !بچیں گے گناہوں سے ان شاء اللہ تعالیٰ ( سب سے ہاتھ اُٹھا کر عہد لیا) اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمت عطا فرمائے!  حضرت حکیم الامت ؒ فرماتے تھے کہ دو کام کرلو تو میں ضمانت لیتا ہوں کہ تم ولی اللہ بن ہی جاؤ گے!  ایک بات یہ ہے کہ گناہوں سے بچنا ! دوسری بات یہ ہے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرنا! اور تھوڑا سا وقت نکال کر خلوت میں ذکر اللہ کرلو!( پھر ذکر اللہ کی اہمیت پر حضرت نے نصیحت فرمائی پھر جناب اثر صاحب نے عرض کیا کہ آیت یا ایھا الذین امنو اتقو اللہ و کونو مع الصٰدقین کا ترجمہ پورا فرمادیں تو ترجمہ پورا  فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں )  کہ  مجھ سے تعلق  رکھنے والو!  ((اتقو اللہ)) میرا لحاظ رکھنا! یہی کہ مجھے خوش رکھنا! مجھے ناراض نہ کرنا! ۔ پھر حق تعالیٰ  نے اس راستے میں اور آسان کیا کہ ((وکونو مع الصٰدقین)) کہ سچوں کے ساتھ رہ پڑو!۔۔ جو میرے ہیں اُن کے ساتھ رہا کرو تم بھی میرے بن جاؤ گے! حق تعالیٰ جب دیکھتے ہیں کہ یہ بندہ اہل اللہ کے ساتھ ہے توحق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تو ہماروں کا ہمارا ہے پھر یہ بھی ہمارا ہے! اہل اللہ کے ساتھ رہنے سے جنت کا راستہ آسان ہوجا تا ہے!لذیذ ہوجاتا ہے، مجاہدات ، عبادات کو مزیدار بنا دیتے ہیں! ( اس پر  حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کا ملفوظ ذکرفرمایا ) اہل اللہ کے ساتھ سے جنت کا راستہ آسان ہی نہیں مزیدار ہوجاتا ہے! جنت کا  راستہ کیا ہے؟ اعمالِ صالحہ، تقویٰ، امتثالِ اوامرو اجتناب نواہی،  اللہ کے احکامات کی پابندی اور گناہوں سے بچنا!  ( اس پر عجیب مثال سے سمجھایا کہ ایک دوست دوسرے دوست سے کہنے لگا کہ)  یار دیکھو تم میرے دوست بنو تو روزانہ جا کر  اپنے والدین سے لڑنا،بے ادبی کرنا، بدتمیزی کرنا، گستاخی کرنا، تو کوئی آدمی اس کو برداشت کرے گا؟ ایسے آدمی کو کوئی دوست بنائے گا!  کیوں؟ میرے باپ سے گستاخی اور نافرمانی کی باتیں بیان کررہا ہے تو معلوم ہوا کہ اپنے باپ کی نافرمانی اچھی بات نہیں  قابلِ برداشت نہیں تو  محبوبِ پاک کی نافرمانی  کس طرح برداشت کی جاسکتی ہے۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ نافرمانی بہت گندی چیز ہے! اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں بچائے! ہر وقت ہر لمحہ ہمیں اپنے محبوب پاک کو خوش رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔(بیان ختم ہوا، مدرسے کے اساتذہ کو بھی انعامات دینے کی ترتیب تھی لہٰذا حضرت دادا شیخ کے دستِ مبارک سے انعام تقسیم ہوئے، پھر حضرت نے دعا کے موضوع پر قیمتی ارشادات فرمائے) حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی ؔ رحمہ اللہ فرماتے کہ جب بندہ دعا مانگتا ہے تو اس کے ہاتھ اوپر ہوتے ہیں اور تمام عالم اُس ہاتھوں کے نیچے ہوتا ہے! ۔۔۔ ہمارے اکابر کے علوم قرآن و حدیث  سے لیے ہوتے ہیں ( ڈاکٹر صاحب کے ملفوظ کو حدیث قدسی سے ثابت فرمایا)  بندہ جب میرے ذکر میں مشغول ہوتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوجاتا ہوں! نقد انعام  ہے یہ ! رحمت ، محبت، شفقت، عنایت کے ساتھ حق تعالیٰ اُس  کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور قربِ اعظم سے اُس کو مشرف فرماتے ہیں۔۔۔پھر ایک اور حدیث قدسی ہے  کہ جب بندہ مشغول ِ دعا ہوتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوجاتا ہوں! تو جب حق تعالیٰ بندے کے ساتھ ہوجاتے ہیں تو پھر کیا باقی رہ گیا!کہاں ہے آسمان کہاں ہے زمین! حق تعالیٰ کے سامنے کسی چیز کی کیا حیثیت ہے!( اس پر مولانا شاہ محمد احمد صاحب کا شعر سنایا)  معیت گر ہو تیری تو گھبراؤ  گلستاں میں۔۔۔ رہے توساتھ تو صحرا میں گلشن کا مزہ پاؤں! ۔۔۔ دعا بہت ہی اونچا عمل ہے!  زبردست عمل ہے!  اور اتنا بڑا عمل ہم آرام سے کرسکتے ہیں!( دعا سے متعلق کئی احادیث بیان فرمائیں) جو لوگ خوب دعا مانگتے ہیں  حق تعالیٰ اُن کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں! دعا اس طرح مانگتے ہیں کہ وہ چھوڑتے نہیں ہیں!اصرار کے ساتھ دعا مانگتے ہیں! خوب الحاح کرنا حق تعالیٰ کو بہت محبوب ہے! حق تعالیٰ کو یہ بہت پسند ہے دعا مانگنے والوں کو فرماتے ہیں چل تو بھی میرا محبوب ہے!  تو اِتنا مجھ سے مانگتا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تجھ کو مجھ سے بہت خاص محبت ہے، اور کسی دروازے سے تُو نہیں جاتا  میرے ہی دروازے پر آتا ہے! اس لیے تُو میرا محبوب ہے! محبوبین کے رجسٹرر میں میں نے تجھ کو شامل کرلیا! کتنا آسان ہے معاملہ! اس لیے عارفین دعاؤں میں خوب دل لگا کر مانگتے ہیں۔۔(مولانا رومی کا فارسی شعر) کہ عارفین کو حق تعالیٰ کے سامنے ہاتھ اُٹھا کر مانگنے میں  بہت مزہ آتا ہے، ڈائریکٹ اُن سے ہم کلامی نصیب ہوتی ہے!  بندہ کہتا ہے اے اللہ معاف فرمادیجیے! ۔۔ قبول فرمالیجیے! اپنا بنا لیجیے!  اب تو بالکل آمنا سامنا ہے!  دعا کے اندر بندے کےلیے معراج ہے! دعا عروجِ قربِ الٰہی  ہے! اس لیے خوب دعا مانگنے کا اہتمام کرنا چاہیے، اب دعا کرتے ہیں! (حضرت دادا شیخ نے طویل درد بھری دعا فرمائی، دعا کے بعد جناب اثر صاحب نے احباب کو مصافحہ کے حوالے سے مطلع کیا کہ حضرت والا کو تعب ہوگا! لہٰذا زیارت پر اکتفاء فرمائیں) 

(۵۰: خلاصہجامع  مسجد گلزارِ محمدی میں عشاء میں عظیم الشان بیان فرمانے کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مسجد کے سامنے واقع  حضرت اثر صاحب کے مدرسے کا دورہ فرمایا، حفظ کی درس گاہوں، وضو خانے،  وغیرہ کا جائزہ لیا  صفائی اورنظافت کے حوالے سے   قیمتی نصائح  اور تنبیہ   فرمائیں! رات کھانے کی دعوت تھی، کھانے کے بعد  مجلس شروع ہوئی جس میں عظیم الشان ملفوظات فرمائے، اکابر کی شانِ اصلاح و تربیت، تبلیغ دین اور  دعوت الی اللہ کے طریق کے حوالے سے اکابر کے واقعات بھی  ارشاد فرمائے،معترضین کے ساتھ اکابر کے اخلاقِ عالی، مخالفین کے ستانے پر تحمل و برداشت   کا تذکرہ فرمایا کہ ولی انتقام نہیں لیتا!  پھر نام لیے بغیر کسی مخالف کا ذکر کرنے سے بھی قلب کو نقصان پہنچتا ہے اس مضمون پر عظیم الشان علوم عطا فرمائےکہ قلب کو مشغول مع غیر کیوں کیا؟۔۔۔اکابر کے تذکرے بہت ضروری ہیں اِس میں نور ہی نور ہے۔۔۔تقریباً ۳۰ منٹ تک کھانے کے بعد مجلسِ دردِ محبت چلتی رہی، جس میں اثر صاحب نے بھی حضرت دادا شیخ کی خدمت میں کچھ پرلطف باتیں عرض کیں، رات کے ۱۲ بج چکے تھے، واپسی کا سفر بھی طویل تھا لہٰذا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اور دیگر احباب  نے تیاری فرمائی اور رخصت ہوئے، سب احباب اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئے تھے ، رات کافی ہوچکی تھی، عشاقِ حق کا یہ قافلہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی معیت میں غرفۃ السالکین گلستانِ جوہر  کی طرف روانہ ہوا، گاڑی میں بھی حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم دین کی باتیں فرماتے رہے۔تصویر کشی کے گناہ اورممانعت کے حوالے سے  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم ملفوظات فرماتے رہےاور ہمارے شیخ دامت برکاتہم بھی عرض کرتے رہے۔تقریباً  ایک گھنٹہ میں سفر طے ہوا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  بمع احباب غرفۃ السالکین پہنچ گئے الحمدللہ!۔ رات کا ایک بج چکا تھا، حجرہ میں کچھ خاص احباب حاضر تھے۔۔۔ یہاں تک کی آڈیو اہم مضامین کے ساتھ منسلک ہے:

(۵۰: آڈیو) عشاء بیان کے بعد  اثر صاحب کے مدرسہ اختر العلوم کا دورہ ، رات کھانے کے بعد مجلس میں عظیم الشان ارشادات، مدرسہ کے ماحول میں نفاست و نظافت کے حوالے سے بہت اہم باتیں ارشاد فرمائیں:  نظافت کا معاملہ کچھ ہلکا نہیں ہے،۔۔ (کسی مدرسہ کا ذکر فرمایا کہ)  بڑا ادارہ بنالیا لیکن جب مدرسہ میں داخل ہوئے تو ہر طرف بُو آرہی ہے، یہ کیا بات ہے!۔۔۔۔۔ ( اس پر حضرت شاہ ہردوئی  رحمہ اللہ کا واقعہ ذکر فرمایا کہ ایک ادارے کے دورے پر تشریف لے گئے) مسجد  کے صحن میں تشریف فرما تھے، کبھی اِدھر دیکھ رہے ہیں کبھی اُدھر دیکھ رہے ہیں، حضرت کی عادت تھی کہ جب بھی بولنے لگتے تھے تو فوراً  ترجمہ کرنا پڑتا تھا، چاہے چلتے چلتے بولنے لگیں ترجمے میں دیر ہوتی تھی تو ناراض ہوتے تھے، جیسے حضرت اِدھر اُدھر دیکھتےتھے تو میں بھی اِدھر اُدھر دیکھتا تھا کہ کس چیز پر نظر پڑے اور کس پر تقریر شروع ہو! مختصر بات فرماتے تھے کہ اگر بیک گراؤنڈ  پس منظر معلوم نہ ہو تو پھر اُس کا ترجمہ ممکن ہی نہیں! نماز کے بعد  حضرت ہردوئی ؒ پھر مسجد کے اِدھر اُدھر دیکھنے لگے، مسجد کے قریب گول وضو خانہ ہے، ایک طرف صرف ایک  بیت الخلاء ہے، جس پر دروازہ بھی نہیں ہے! حضرت والا ہردوئی ؒ وہیں رُک گئے اور فرمایا کہ : جبھی تو میں سوچ رہا تھا کہ بُو کہاں سے آتی ہے اور فرمایا یہ طریقہ ہے؟ مسجد کے ساتھ وضو خانے  کے قریب یہ پیشاب خانہ  ہے، یہ کیا طریقہ ہے؟ حضرت نے ڈانٹا! اِن حضرات نے اتنا سکھایا، اتنا سکھایا ! افسوس ہے کہ قدر کرنے والے کہاں ہیں؟ کیا کہیے بہت افسوس ہے! نظافت کے معاملے میں آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ  حق تعالیٰ پاک ہیں اور پاکی کو پسند فرماتے ہیں اور حق تعالیٰ جمیل ہیں نظامت اور جمال کے ساتھ رہنے کو پسند فرماتے ہیں! ۔۔۔۔ جمال ہی جمال سے رہنے کو پسند فرماتے ہیں  اُس جمال کی ایک شاخ ہے نظافت!  اسی کو فرماتے ہیں نظافت کو پسند فرماتے ہیں ، اب اس کی طرف اہتمام بھی نہیں ہے! ( پھر حفظ کی درس گاہوں کا دورہ فرمایا  ، حضرت اثر صاحب ساتھ ساتھ تعارف اور تفصیل عرض کرتے جاتے تھے، اس کے بعد حضرت دادا شیخ کی مع احباب کھانے کی دعوت تھی، حضرت ایک کمرے میں تشریف فرماہوئے، خاص احباب نے حضرت کے ہمراہ کھانا تناول فرمایا، کچھ احباب کا باہر کھانے کی ترتیب تھی، وہاں بھی باقاعدہ ٹینٹ لگا کر، خوبصورت دریاں اور  زمین  پر سنت کے مطابق دسترخوان پر  بہت ہی نفاست  کے ساتھ اہتمام تھا، کھانے سے فارغ ہونے کےبعد پھر سب حضرات دوبارہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے کمرے میں پہنچنے لگے جہاں مائیک کا انتظام تھا، حضرت دادا شیخ نے اکابرِ دین،  کے  تبلیغ دین میں حکمت اخلاق ، دشمن ومعترضین کے  ساتھ احسن رویہ،تحمل و برداشت کے حوالے سے ملفوظات ارشاد فرمائے، مجلس کے شروع میں نمازِ عید کے بعد اجتماعی مصافحہ کے حوالے حضرت حکیم الامت تھانویؒ کا حکیمانہ جواب ارشاد فرمایا کہ) مصافحہ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اس لیے مصافحہ سے مجھے معذور جانیں،  جب لوگوں نے دیکھا کہ بڑے میاں سے مصافحہ نہ ہوا تو سب لوگ چلے گئے اور حضرت اس بہانےسے بچ گئے، محی السنہ شاہ ابرار الحق صاحب ؒ فرماتے تھے کہ میں تو سمجھ  گیا  کہ قصہ کیا  ہے ؟ پھر میں بعد میں حضرت حکیم الامت سے تنہائی میں ملا اور عرض کیا  یہ معاملہ تو ہمارے ہاں بھی ہے وہاں ہم کیا کریں!فرمایا کہ آپ وہاں بدعت کا لفظ استعمال نہ کرو! اس سے لوگ بگڑیں گے فائدہ سے زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے آپ یوں کہا کروکہ یہ عمل جو ہے سنت نہیں ہے!  دیکھا کیا شان ہے!۔۔۔ایک تو دارافتاء کا فتویٰ ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں شرعی فیصلہ کیا ہے وہ ایک بات ہے! اور تبلیغ دین اور دعوت الی اللہ کے طریق میں اُس میں پیش کرنے کا کیا طریقہ ہے وہ ایک الگ بات ہے۔  ایک مسئلہ ہے  علمی تحقیق ہے! اور پھر یہ کہ کمزور لوگوں کو دین کی طرف لانا، اس کا مسئلہ الگ ہے! (مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا واقعہ بیان فرمایا کہ سفر میں نمازِ فجر میں ایک مخالف بدعتی عالم کی امامت میں نماز ادا فرمائی) نماز  کی سلام پھیرنے کے بعد امام صاحب نے حضرت نانوتویؒ اور ان کے خدام کو دیکھا  کہ یہ کون ہیں! پھر جب معلوم ہوا تو امام صاحب حیرت میں پڑ گئے کہ انہوں نے کیسے ہمارے پیچھے نماز ادا کی جب کہ ہم تو اِن کو برملا کافر کہتے ہی رہتے ہیں!۔۔۔ دعا کے بعد فوراً حضرت نانوتوی کی طرف لپکے اور مصافحہ کیا اور عرض کیا حضرت جی! آپ یہاں تشریف لائے، ہم لوگ تو آپ کو کافر کہتے رہتے ہیں، اب اس طرح سے آپ کا یہاں آنا! اس پر حضرت نے فرمایا کہ ہاں بھئی!  ضرور آپ کو ایسی کوئی بات پہنچ گئی ہے!جس پر کافر کا فتویٰ لگتا ہے تو اس میں  آپ کا کیا قصور! مخبرین نے جیسی خبر پہنچائی اُسی پر آپ نے فتویٰ بتادیا! آپ کا کچھ قصور نہیں ہے! اس پر امام صاحب بہت رونے لگے پھر امام صاحب نے کہا کہ میں توبہ کرتا ہوں! اور ہمارے اکابر کے متعقد ہوگئے!۔۔۔۔ان باتوں کا زبانی کہنا اور چیز ہے اِس کو برتنا اور بات ہے یہ توفیق سے متعلق ہے، ہر ایک کو یہ توفیق کہاں حاصل ہوتی ہےجس کو حق تعالیٰ اپنا بنانا چاہتے ہیں اُس کو اسی طریقے سے فہم عطا فرمادیتے ہیں۔ اب ہمارے یہ اکابر حضرت مولانا نانوتوی رحمہ اللہ   اہل باطل سے مناظرہ فرماتے رہتے تھے اور ہر جگہ کامیاب ہوتے تھےلیکن اُن کا یہاں پر رویہ کیا ہوا! (اس پر حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کا واقعہ بیان فرمایا کہ مخالفین، دشمنوں  کے خطوط بھی آتے تھے، اُس میں طنزیہ باتیں اعتراضات وغیرہ ہوتے تھے  خادم حضرت کو پڑھ کر سناتے حضرت سن کر تحمل فرماتے تھے اس پر حضرت دادا شیخ نے فرمایا کہ  ) معلوم ہوا کہ معترضین اور حاسدین کی باتوں پر تحمل کرنا چاہیے، لب ہلانے سے اپنا نقصان ہے، حق تعالیٰ سے جو پکا تعلق تھا اُس میں کمزوری آجاتی ہے، بہت ہی نزاکت ہے یہاں!  ((واصبر علی ما یقولون وھجرھم ھجرًا جمیلا)) "وصبر" فرماکر حق تعالیٰ خاموش نہ ہوئے کہ صبر کر لو ، صبر کرلو ! کہنےدو جو کچھ کہتے ہیں! "وھجرھم ھجرا جمیلا" فرمایا، ھجرِ جمیل کیا ہے ؟ نہ شکایت کرو نہ انتقام لو! ۔۔۔ علامہ شعرانی ؒ فرماتے ہیں کہ ولی انتقام لینے والا نہیں ہوتا !اور انتقام لینے والا ولی اللہ نہیں ہوتا ! عجیب بات ہے انتقام کے معاملے میں مکمل بریک لگانا پڑتا ہے!  اللہ ہمیں یاد رکھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! ۔۔ اچھا پھر ایسا ہوا کہ حضرت گنگوہی ؒ کی خدمت میں مخالفین کے خط  خادم مولانا یحییٰ کاندھلوی ؒ   نے سنانا بند کردئیے تو ایک دن حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے وہ دوست آج کل ہمیں یاد نہیں کرتے! کیا الفاظ ہیں! یہ نہیں فرمایا کہ وہ نالائق لوگ ہمیں یاد نہیں کرتے ! وہ خبیث لوگ وہ دشمن لوگ ! یہ الفاظ نہیں ! کیا اخلاق ہیں ! آپ ﷺ کے اخلاق ِ نبوی کا کیا حسین  نمونہ تھے ہمارے اکابرِ دین!  ارے بھئی سبحان اللہ! ۔۔ میں کیا کہوں ! اگر ہم لوگ زبان سے  کسی دشمن یا حاسدین کا ذکر کریں  اور نام بھی مت لیں لیکن دل میں تو اُن کا تصور ہے! اس سے بھی قلب کو نقصان پہنچ جاتا ہے ! قلب کو  غیر کے ساتھ مشغول کیوں کیا؟  یہاں مسئلہ یہ ہے! یہ حق تو حق تعالیٰ کا ہے!کہ میرے ساتھ قلب کو مشغول کرتے اوروں کے ساتھ تم نے  مشغول کردیا ! یہ خاص بات ہے عجیب مسئلہ ہے! جو قوی صاحب ِنسبت ہو وہ چاہے تو حماقت سے تجربہ کرکے دیکھ لے! کہ زبان سے قصہ سنائے گا نام نہیں لے گا اس ڈر سے کہ غیبت ہے  لیکن اندر سے اُسی کے ساتھ مشغول ہونے کی سزا ہوجاتی ہے  یہ بہت زیادہ اہم چیز ہے محمود بات ہے!  تو حضرت گنگوہی ؒ نے خادم سے پوچھا کہ آج کل ہمارے دوست ہمیں یاد نہیں کرتے  تو حضرت مولانا یحییٰ کاندھلویؒ نے فرمایا کہ حضرت جی ! خطوط تو آتے ہیں لیکن الفاظ و جملے اس طرح کے ہوتے ہیں کہ زبان پر نہیں لاسکتے!  تو حضرت گنگوہی ؒ نے فرمایا کہ نہیں بھئی سنا دیا کرو ہوسکتا ہے کہ اس میں ہمارے لیے کوئی مفید بات ہو!! کیا اخلاق ہیں اور کیا دین ہے!!سبحان اللہ وبحمدہ! (پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے شیخ سعدیؒ کے اشعار پڑھے) شنیدم  کہ مردانِ راہِ خدا۔۔۔دل دشمناں ہم نہ کردند تنگ۔۔۔تُرا کے میسرشَود ایں مقام۔۔۔بادوستانت خلاف است و جنگ۔ آیاتِ قرآنی اور تفسیر پڑھا دینا  کہ ابن کثیر نے یوں یوں لکھا طبرنی نے یوں یوں لکھا اور مظہری نے یوں لکھا یہ تو معلومات کا حاصل کرنا اور بتلانا ہےلیکن علم اور اُس پر عمل یہ اور بات ہے!( اس پر حضرت گنگوہی ؒ کا قول نقل فرمایا کہ جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ حضرت حاجی صاحبؒ کی خدمت میں کیوں گئے تھے)  فرمایا کہ ہم اس لیے گئے کہ  ہماری معلومات معمولات بن جائیں یعنی  باتیں معلومات میں ہیں وہ عمل بن جائیں تو پھر یہ علم بن جائے۔ عجیب بات ہے نا! ۔۔۔اس لیے میرےدوستو!  اکابر کا تذکرہ بہت ضروری ہے!اُن  کی باتوں اور تذکروں میں نور ہی نور ہے اور عظیم الشان قربِ الٰہی قلب کو حاصل ہوتا ہے (حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کچھ دیر تک حضرت اثر صاحب  سے پُرلطف گفتگو فرماتے رہے، اثر صاحب نے کچھ لطائف بھی سنائے،  رات کے ۱۲ بج چکے تھے، مجلس ختم ہوئی اور روانگی ہوئی ، گاڑی میں حضرت دادا شیخ برکاتہم نے اکابر کے تصویر کشی  سے احتیاط  کرنے پر نصیحت فرمائی، درمیان میں ہمارے حضرت شیخ مدظلہ نے کچھ باتیں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی خدمت میں عرض کیں، یہاں تک کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم غرفۃ السالکین پہنچ  گئے، وہاں کافی احباب حضرت کا انتظارکررہے تھے،   یہ معلوم ہو کرکے کہ جو احباب وہاں نہیں آسکے انہوں نے یہاں حضرت کا بیان و مجلس براہ راست سنی  حضرت دادا شیخ بہت مسرور ہوئے۔  رات کے ایک بج چکے تھے! حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو آرام کرنا تھا ، لہٰذا سب احباب حجرہ ٔ  مبارک سے باہر نکلنے لگے۔ چندخاص احباب رہ گئے تو حضرت مفتی نعیم صاحب دامت برکاتہم کی تعریف فرمائی کہ ماشاء اللہ ساتھ ساتھ رہے، حضرت مفتی صاحب نے عرض کیا کہ دونوں جگہوں پر مرکزالافتاء کے تمام طلبہ اور اساتذہ بھی حاضر رہے، یہ سن کر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت حیرانی کے ساتھ خوش ہوئے۔ الحمدللہ!)

آٹھویں دن کی تمام آڈیوز کو محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......یکم دسمبر برو ز اتوار.......۲ دسمبر بروز پیر......۳ دسمبر بروز منگل.......۴ دسمبر بروز بدھ

۵ دسمبربروز جمعرات ......۶ دسمبر برو ز جمعہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۹ دسمبر بروز پیر.........۱۰ دسمبر بروز منگل