--(ظہر مجلس،مسجد اختر،مرکزِ الافتاء،اسٹاک روم کا دورہ، عشاء بیان و الہامی مجلس غرفہ)--

۲ دسمبر ۲۰۱۹ء بروزپیر

(۱۴: خلاصہ) نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم ناشتہ فرماکر آرام فرماتے ، پھر ظہر سے کچھ پہلے بیدار ہوتے اور نمازِ ظہر کے بعد مجالس کی ترتیب شروع ہوتی ، آج بھی یہی ترتیب رہی، اذانِ ظہر سے پہلے مختصر مجلس میں  ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم ، جناب عامر کمال صاحب موجود تھے، کچھ قیمتی مختصر ملفوظات فرمائے: جس کی آڈیو منسلک ہے:

(۱۴: آڈیو) نمازِ ظہر سے پہلےحجرہ ٔ مبارک میں مختصر قیمتی ارشادات:مجاہداتِ غیر اختیاریہ سے قربِ خاص عطا ہوتا ہے، مسجد اختر کی تعریف، مفتی نعیم صاحب کا تذکرہ، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو دبانے والے ایک صاحب کا ذکر جس سے بہت راحت ملی، حضرت دادا شیخ کا اپنی ۳ سال کی نواسی کا ذکر فرمایا کہ ماشاء اللہ بچپن سے ہی تقویٰ کے حالات ہیں کچھ واقعات فرمائے۔۔۔

(۱۵: خلاصہ) نمازِ ظہر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بوجہ ضعف ہجرہ ٔ مبارک میں جماعت سے ادا فرمائی، نماز ظہر کے بعد کھانے کی ترتیب تھی، کھانے سے فراغت سے فوراً بعد ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم اور حضرت مفتی نعیم صاحب مدظلہ سےبات فرمانا شروع کی جوسوا گھنٹے کی عظیم الشان علمی و اصلاحی مجلس میں تبدیل ہوگئی، جس سےعظیم الشان نفع احباب نے محسوس کیا، یہ مجلس نماز ِ عصر سے دس منٹ پہلے اختتام پذیر ہوئی ،  یہاں تک کی آڈیو تفصیل کے ساتھ منسلک ہے:

(۱۵: آڈیو) دوپہر کھانے سے فراغت کے بعد عظیم الشان علمی و اصلاحی مجلس میں یہ ارشادات فرمائے:  امام ابو حنیفہ ؒ کا تذکرہ کہ اُن سے خوشبو ہی خوشبو آتی تھی یہی حال حضرت والا (شیخ العرب والعجم عارف باللہ مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب ؒ )کا تھا۔۔۔مولانا سہیل صاحب کا تذکرہ۔۔۔اردو زبان سیکھنے کی ترغیب ۔۔اردو بزرگوں، اولیاء اللہ، علماء دین کی زبان ہے۔۔۔اردو زبان کی حفاظت واجب ہے۔۔۔حضرت شیخ اور حضرت مفتی نعیم صاحب نے کچھ لطیفے سنائے۔۔۔پھر۔۔نسبت حاصل ہو تو بغیر زبان سمجھے حلاوت دل میں اُتر جاتی ہے۔۔۔ ہمارے حضرت شیخ (عارف باللہ حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم) کی محبت و فداکاری کی بہت تعریف فرمائی۔۔۔ذکر اللہ ، استغفار، درود شریف کی برکات اور انوارات۔۔۔۔اللہ سے معافی مانگنے کی عادت ہونی چاہیے۔۔۔۔زندگی کی ہر سانس کو کام میں لگانا چاہیے۔۔۔ذکر اللہ کی برکت سے گناہوں سے حفاظت عطا ہوتی ہے۔۔۔کیا خبر کس وقت بلاوا آجائے ہر وقت تیار رہے۔۔۔حق تعالیٰ کی معافی و رحمت کا سمندر۔۔۔ اہل اللہ کے ساتھ قریبی تعلق رکھنا چاہیے۔۔۔حضرت والا کا ایک عجیب واقعہ گنہگاروں کی تسلی کے لیے اچانک اندازِ بیان دورانِ بیان تبدیل فرمالیا۔۔۔دینی مضامین پیش کرنے کے سلیقے پر اہم نصائح، دین پہچانے کے اصول، لوگوں کی ذہنی سطح کا لحاظ ضروری، ماحول شناسی ، موقع شناسی لازم، بچے سے بات کرنے کا طریقہ الگ۔۔ بڑوں سے طریقہ الگ۔۔۔ علماء کے مجمع میں بات کرنے کا طریقہ الگ۔۔۔تربیت میں مزاج کی رعایت کرنی چاہیےاس پر حضرت حکیم الامت ؒ کا ایک واقعہ۔۔ فرقِ مراتب چاہیے۔۔۔ حضرت والا جامع وارثِ اکابر تھے، عجیب بصیرت اور فہم تھی دین حکمت سے پیش کرتے۔۔۔ مومن کو خود کو ذلیل نہ کرنا چاہیے۔۔۔اس پر حضرت والا کا ایک واقعہ۔۔۔ شیخ اُس کو ہی تنبیہ کرتا ہے جس کو اِس کا اہل سمجھتا ہے ۔۔۔علماء کرام کی عظمت اور شرف کہ یہ آپ ﷺ کے وارث ہیں۔۔۔حیاتِ علماء دین عظیم الشان نعمت ہے ،خود علماء کرام پر بھی لازم ہے کہ اپنی عزت کا خیال رکھیں۔۔۔ دعا

(۱۶: خلاصہ) مسجد اختر میں نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد ہمارے شیخ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم نے  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  کو مسجد اختر دِکھائی ، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بمع احباب  بغور سب انتظامات کا جائزہ لیتے رہے اور خوب تعریف بھی فرماتے رہے، پھر مسجد کے تہہ خانے میں واقع مرکز الافتاء وارشاد غرفۃ السالکین بھی تشریف لے گئے ، وہاں حضرت مفتی نعیم صاحب نے درس گاہ میں مفتی نعیم صاحب  کی نشست کی پشت پر لگے خوبصورت  پینافلکس پر لکھی تحریر کا پس منظر پیش کیا ۔ درس گاہ میں موجود تخصص فی الافتاء کے طلبہ دو قطار بنا کر حضرت کےاستقبال کےلیے کھڑے تھے، مفتی صاحب نے سال اول اور سال دوم کے طلبہ کا تعارف کروایا،  حضرت دادا شیخ نےدرس گاہ کی تینوں طرف دیواروں پر کتب کی خوبصورت الماریوں دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے بیٹے مفتی محمد حسن صاحب کو بھی دِکھایا،حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم   کرسی پر تشریف فرماہوئے، حضرت کے ساتھ ایک کرسی پر حضرت شیخ دامت برکاتہم اور دوسری کرسی پر حضرت مفتی نعیم صاحب  تھے،  حضرت مفتی صاحب نے تخصص فی الافتاء کے نصاب، طریقہ کار، طلبہ کی اصلاح و تربیت کا تفصیلی تعارف و کارگزاری پیش کی اور دارالافتاء سے ڈھائی برس میں  جاری ہونے والےگیارہ ہزار فتاویٰ  42جلدوں کی شکل میں حضرت کو پیش کیے گئے، حضرت خوب خوش ہوئے اور بے اختیار رونے لگے۔۔۔ پھر مفتی صاحب نے دارالافتاء میں حل ہونے والے  وراثت کے ایک طویل  استفتاء   حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو دِکھایا گیا ، اس فتوی کا پرنٹ جب کھولا گیا تو دس فٹ سے زیادہ طویل  تھا، اتنی محنت ہوئی ماشاء اللہ! حضرت دادا شیخ اس منظر کو ، مفتیان کرام کی محنت کو دیکھ کر بہت متاثر اور مسرور ہوئے، خوب دعائیں ۔ ایک موقع پر فرمایا کہ "بڑی خوشی ہے کہ  اپنے اکابر کے طرز اور اکابر کے علوم کی بنیاد پر یہاں تعلیم جاری  ہے" مفتی نعیم صاحب دامت برکاتہم نے طلبہ کرام کے   کچھ فقہی مقالات جات بھی حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو پیش کیے، تعارف کروایا۔ کچھ دیر وہاں تشریف فرماہوئے پھر پورے دارالافتاء کے انتظام کا جائزہ لیا، جس میں تخصص کی درسگاہ، کتب کی الماریاں ، طلبہ کرام کے استراحت کی جگہ، بستر ، ہر طالب علم کی جدا الماری، وہاں دیوار پر لگے نوٹس بورڈ پر ہدایات تک بغور پڑھیں اور تعریف فرمائی اور اپنے احباب سے فرمایا کہ ان ہدایات کو محفوظ کرلو اپنے یہاں ایسے ہی لکھوائیں گے، نیز پورے دارالافتاء کی صفائی ستھرائی اور انتظام کی تعریف فرماتے رہے، وہاں  کے جائزے کے بعد تہہ خانے سے متصل حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے کتب اور  مواعظ کے اسٹاک روم کا دورہ فرمایا۔ ماشاء اللہ!  کتابوں کااسٹاک روم بہت ہی منتظم طریقے سے ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم کی نگرانی میں چلایا جارہا ہے، جہاں سے ہر ماہ ہزاروں کی تعداد میں مواعظ و کتب مفت تقسیم کیے جاتے ہیں، پاکستان اور دیگر ممالک میں بذریعہ ڈاک اپنے خرچے پر بھجوانے کا منظم انتظام ہے،حضرت دادا شیخ  اس منظم طریقے سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کے فیضِ عالمگیر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے  خوب دعائیں دیں! یہاں سےپھر سیڑھیوں کے ذریعے مسجد اختر کی بالائی منزل پر تشریف لے جاتے ہوئے  فرمایا : "یہاں وہی حضرت والا ؒ کی خانقاہ کا رنگ ہے وہی انداز ہے ماشاء اللہ!" اور وہاں مسجد اختر کا مرکزی  باب جو کہ  "بابِ میر" یعنی صدیق زمانہ حضرت میر صاحب ؒ کے نام سے موسوم ہے, دیکھ کر بہت مسرور ہوئے۔ نمازِمغرب کا وقت قریب تھا،غرفۃ السالکین میں نمازِ مغرب کی تیاری کے لیے حجرۂ مبارک میں تشریف لے  جاتے ہوئے مسجد کی تعمیرات، ڈیزائن کی بہت تعریف فرماتے گئے، مسجد کی صفائی، ستھرائی اور انتظامات سے بہت خوش ہوئے، جس کی وجہ سے ہمارے شیخ حضرت اقدس دامت برکاتہم بھی بہت مسرور تھے الحمدللہ!  یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۱۶: آڈیو) نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد مسجد اختر ، مرکز الافتاء والارشاد، کتابوں کے اسٹاک روم کا تفصیلی دورہ

(۱۷:خلاصہ)  نمازِ مغرب کے بعد غرفۃ السالکین حجرۂ مبارک میں مجلس ہوئی، جس میں  بہت ہی قیمتی ارشادات مختلف موضوعات فرمائے، یہ مجلس نماز ِ عشاء سے کچھ پہلے اختتام پذیر ہوئی۔یہاں تک کی آڈیو تفصیل کے ساتھ منسلک ہے:

(۱۷:آڈیو) نمازِمغرب کے بعد غرفۃ السالکین میں الہامی مجلس میں ارشادات : اکابرِ دین کی امانت کے حاملین بہت کم رہ گئے۔۔۔اہل اللہ اپنی حیات پر حریض ہوتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خدمتِ دین کرسکیں اس پر حضرت والا ؒ کی دعا کا تذکرہ فرمایا۔۔۔حضرت داداشیخ دامت برکاتہم نے فرمایا کہ میں سوچ کر بیان نہیں کرتا ، بلکہ سوچنے سے دل میں رکاوٹ آتی ہے۔۔۔ ٹنڈوجام سے چنداحباب حضرت کی زیارت کے لیے آئے ملاقات ہوئی۔۔۔حضرت اثر صاحب مدظلہ نے کچھ امور میں مشورہ طلب کیا۔۔۔ مصافحہ کے وقت مسنون اعمال۔۔۔ نماز کے بعد مصافحہ منع ہے۔۔۔۔عید کے دن نماز کے بعد پہلے خطبہ پھر دعا کرنی چاہیے۔۔۔ہر موقع پر مسنون دعاؤں کا  اہتمام کرنے کی ترغیب ۔۔۔۔دعاؤں میں اہل ِ اللہ کی شانِ بندگی اس پر بزرگوں کے واقعات۔۔۔اشکِ عاشقاں حق تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں۔۔۔زندگی بنانے کا نسخۂ عظیم عاشقانِ حق میں جینا اور مرنا ہے۔۔۔اہل اللہ سے تعلق کی قدر کرنی چاہیے ۔۔۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے خدا کے پیاروں پر جان فداکی ، ادب اور قدر کی تو پھر اللہ نے کیسا نوازا کیسے بڑے بڑے علماء، محدثین، مفتیان کرام حضرت والا پر فدا ہوئے۔۔۔ یہاں پر مولانا ہدایت اللہ صاحب محدثِ عظیم کا حضرت والا ؒ نے بیعت ہونا ، اور  کمالِ ادب کرنے کا تذکرہ فرمایا۔۔۔ حضرت دادا شیخ نے حضرت والاؒ کی توجہ اور صحبت حاصل کرنے  کے دلفریب بہانے پر اپنا واقعہ بیان فرمایا۔۔۔۔

(۱۸: تفصیل)  نمازِ عشاء کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم روزانہ مجلس و بیان فرمارہے ہیں ، آج کی مجلس میں شروع میں مفتی انوار صاحب کتاب "اسوۂ رسول ﷺ"  سے حضورﷺ کی نرمی و شفقت کےباب سے پڑھ کرسنایا پھر مصطفیٰ صاحب نے کچھ اشعار پیش کیے پھر حضرت دادا شیخ کے حکم پر  حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے عاشقانہ ، عارفانہ اشعارِ معرفت و محبت  جناب مصطفیٰ صاحب نے سنائے ، پھر  جناب سید ثروت حسین صاحب نے جیسے ہی اشعار سنانے شروع کیے تو ہمارے شیخ حضرت شاہ فیروز میمن صاحب دامت برکاتہم نے جناب سید ثروت صاحب کو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی اجازت سے کھڑے ہوکر متوجہ کیا کہ آپ نے حضرت داداشیخ دامت برکاتہم کا نام نہیں لیا کہ یہ اشعار آپ حضرت والا کے حکم پر سنارہے ہیں، اس پر جناب سید ثروت صاحب نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا پورا نام القابات کے ساتھ ذکر کیا اور پھر اشعار شروع کیے، اس کے بعد مولانا  محمد کریم صاحب نے بھی حضرت والا کے ہی  اشعار پیش کیے، یہ اشعارِ محبت سن کر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم درمیان درمیان میں آواز کے ساتھ روتے جاتے تھے،عجیب گریہ و زاری طاری تھا، فرماتے تھے کہ "ان اشعار میں کیا آتشِ عشق الٰہی ہے" مجلس کے  آخر میں مصطفیٰ بھائی نے حضرت تائب صاحب کے اشعار جو انہوں نے حضرت والا ؒ کے فراق میں کہے تھے وہ پڑھ کر سنائے اور پھر حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کےاشعار بھی پیش کیے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  نے مختصر دعافرمائی۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۱۸: آڈیو) بعد نمازِ عشاء  مسجد اختر میں مجلس اشعارِ معرفت 


(۱۹:خلاصہ)  عشاء بعد مسجد اختر میں بیان کے بعد غرفۃ السالکین حجرہ ٔ مبارک میں واپسی آتے ہوئے  کچھ ملاقاتیں، کچھ باتیں، غرفۃ السالکین خانقا ہ کے ہال میں جناب سید ثروت صاحب نے والہانہ انداز میں  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی محبت میں اشعار پیش کیے:" اِن سا محبوب میں جہاں میں کہاں سے لاؤں" حضرت دادا شیخ بہت خوش ہوئے اور خوب دعائیں دیں! پھر کمرے مبارک میں رونق افروز ہوئے اور فرمایا کہ "حضرت والا رحمہ اللہ کے فیوض و برکات کی بارش ہے ماشاءاللہ" پھر ایک صاحب نے اپنی بیٹی کے لیے دعا کروائی، ایک صاحب حرام ملازمت کو چھوڑنے کے حوالے سے نصیحت  فرمائی کہ جب تک متبادل ملازمت نہ ملے اُس وقت تک نہ چھوڑے، تلاش کرتا رہے، اس پر ایک صاحب کو واقعہ بھی فرمایا کہ جنہوں نے اپنی رائے سے ملازمت چھوڑ دی اور اب بہت پریشان رہتے ہیں۔۔۔۔ پھراِن  صاحب کے لیے   دعا بھی فرمائی۔آڈیو منسلک ہے:

(۱۹: آڈیو) عشاء بیان کے بعد غرفۃالسالکین تشریف لاتے ہوئے اور حجرہ ٔ مبارک میں مختصر مفید ارشادات

(۲۰: خلاصہ)  مسجد اختر میں عشاء بیان کے بعد  کھانے کی ترتیب تھی، کھانے سے فراغت کے بعد حسبِ معمول حضرت دادا شیخ دامت  برکاتہم نے مجلسِ دردِ دل فرمائی جو رات سوا بارہ بجے تک جاری رہی، یہاں تک کی آڈیو مجلس منسلک ہے، اس مجلس کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بمع احباب کچھ دیر کے لیے حضرت والا ؒ کے خاندانی قبرستان میں قبر مبارک پر حاضری کےلیے بھی تشریف لے گئے تھے جس کی ریکارڈنگ نہیں ہوسکی:

(۲۰: آڈیو) رات۱۱ بجے غرفۃ السالکین حجرۂ مبارک میں مجلس  کے دوران  نہایت قیمتی ارشاداتِ عالیہ کا خلاصہ:حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی مدینہ منورہ میں روضہ ٔ اطہر حاضری کے وقت کی کیفیتِ ادب کا تذکرہ اور واقعہ۔۔۔ شیخ کامل کے ساتھ زندگی گذارے سے ہر لمحہ الگ سبقِ درسِ بندگی عطا ہوتا رہتا ہے اس پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے اپنا واقعہ پیش فرمایا کہ گلشن خانقاہ میں حضرت والا کی صحبت میں حاضری کے وقت کچھ محسوس نہ ہوتا تھا واپسی اپنی جگہ پہنچ کر نفع عظیم محسوس ہوتا، اس کی وجہ حضرت والا سے دریافت کی تو حضرت والاؒ نے عجیب جواب عنایت فرمایا کہ آفتاب کے سامنے چراغ کی روشنی محسوس نہیں ہوتی یہاں سے اپنے ہاں جاؤ گے تو معلوم ہوگا کہ کیا ملا!۔۔۔ اہل اللہ کے علوم کی برکات و انوارات کا تذکرہ اسِ پر اکابر کے واقعات۔۔۔ مولانا گنگوہی کا شانِ علمی کا تذکرہ اور اُن کو حضرت حاجی صاحب کی صحبت سے کیا ملا! اس کی حضرت حکیم الامت ؒ نے تشریح فرمائی کہ ذرا سی بات جو حاصل تصوف ہے کہ گناہ کے تقاضے کا مقابلہ کرکے اُس سے بچے اور جس طاعت میں سستی ہو ، سستی کا مقابلہ کرکے اس کو کرے، یہ بات تعلق مع اللہ پیدا کرنے والی ہے اور یہی اُس کو آگے بڑھانے والی ہے۔۔۔اہل اللہ کی صحبت سے علم پر عمل نصیب ہوجاتا ہے۔۔۔حضرت گنگوہی سے سوال کہ آپ حاجی صاحب ؒ کی خدمت میں کیوں گئے تھے اس کا عظیم الشان جواب کہ جو کچھ ہم نے سیکھا اور پڑھایا اِس پر عمل کی توفیق کے لیے ہم حاجی صاحب کی خدمت میں گئے تھے۔۔۔۔آخر میں حضرت حاجی صاحب ؒ فرماتے تھے کہ سب سے اونچے مولانا اشرف علی گئے۔۔۔ اکابر کے علوم و معارف کے مطالعے کی اہمیت کا تذکرہ فرمایا۔۔۔مسلک ولی اللہی کی شرح کامل ہمارے اکابر  ثلاثہ یعنی حضرت مولانا نانوتوی، حضرت گنگوہی ، حضرت حکیم الامت کے ذریعے ہوئی ہے۔۔۔ایک بزرگ مولانا اکبر علی صاحب ؒ کا ذکر فرمایا کہ جب  ہمارے حضرت والا ؒ اِن اکابرِ ثلاثہ کا  تذکرہ فرماتے تھے  تو نام سنتے ہی رونا شروع کردیتے تھے، انہی مولانا اکبر علی صاحب کے مزید واقعات بیان فرمائے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم   اُن بزرگ سے متعلق  اپنا بھی ایک دلچسپ  واقعہ بیان فرمایا۔۔۔اللہ کے عشاق کے تذکروں میں کتنا مزہ آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔۔۔ پانی پینے کی سنت کا مذاکرہ اور عاشقانہ تشریح۔۔۔ اسلام کیسا پیارا دین ہے۔۔۔اسلام بس حیات ہی حیات ہے۔۔۔ اکابر کاخاص ذوق چائے پینے سے  متعلق۔۔۔اس پر  مولانا خلیل احمد سہانپوری ؒ کے پاکیزہ ذوق پر واقعہ پیش کیا۔۔۔حضرت نانوتوی اور حضرت گنگوہیؒ کی آپس میں تعلق اور فنائیت کا تذکرہ۔۔۔ صحابہ کرام ؓ کا نمونہ تھے۔۔۔ صحابہ کرام ؓ کے افضلیت کے اسباب  بیان فرمائے کہ صحابہ تکلفات سے بالکل پاک و صاف تھے، خالص پاکیزہ زندگی رکھتے تھے۔۔۔ہاں جہاں حکم شریعت کی وجہ سے تکلف برتنا ہو تو دوسری بات ہےورنہ اپنے خلق حسن کے اعتبار سے اور صفائی باطن کے اعتبار سے اخلاق حیات میں اُن کو بالکل ہی تصنع نہیں تھا!کیا شان تھی اور کیا اخلاق تھے ۔۔۔حدیث شریف کا مفہوم کہ مومن کے جائز نہیں کہ اپنے کو ذلت میں ڈالے کیونکہ اُ س کا تعلق حق تعالیٰ سے ہے اِس تعلق کا احترام اُس پر واجب ہے۔۔۔ حدیث پاک کی شرح بیان فرمائی کہ ایک تو یہ ہے ذلت غیر اختیاری ہے اور دوسرا یہ ہے کہ  اپنے اختیار سے  اپنے  ذلت میں ڈالنا یہ جائز نہیں ہے ۔۔۔ حدیث پاک کہ حق تعالیٰ سے ایسا کوئی سوال نہیں کیا گیا جو عافیت سے بڑھ کر ہو۔۔۔ اس کی تشریح میں فرمایا عافیتِ دینی، دنیاوی و اُخروی مانگنی چاہیے، یعنی دین کے بارے میں عافیت کا راستہ اختیار کرے، دنیا کے بارے میں بھی عافیت اختیار کرے ہمارے حکیم الامت ؒ کا یہی ذوق اور مسلک تھا۔۔ مومن پر اپنی عزت کا احترام واجب ہونے کی عجیب شرح فرمائی۔۔۔حدیث  اللھم اجعلنی فی عینی صغیرا۔۔ کی شرح۔۔ حق تعالیٰ نے خود ہی لوگوں کی نظر میں عزت مانگنے کا حکم فرمایا ہے۔۔۔اور خود ہی اپنی نظر میں ذلیل بن کر رہنے کا حکم فرمایا۔۔ سبحان اللہ !بہت عجیب و غریب شرح ۔۔ کہ لوگوں کی نظر میں عزت اس وجہ سے مانگ رہے کہ ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے ساتھ لگا رہے ورنہ اگر لوگ بھی ہمیں ذلیل سمجھیں گے اور ستاتے رہیں گے تو ہم آپ کے ساتھ کیسے مشغول رہیں گے اِسی لیے راستے کے کانٹے ہٹوانے کےلیے یہ دعا مانگوا رہے ہیں۔۔ اسلام کے علوم کی کیا شان ہے سبحان اللہ ! اس کے بعد مجلس اختتام پذیر ہوئی اور حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو قبرستان حضرت والاکے قبر مبارک پر حاضر ہونا تھا اس کی تیاری فرمانے لگے۔

تیسرے دن کی تمام آڈیوز کو محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......یکم دسمبر برو ز اتوار.......۳ دسمبر بروز منگل......۴ دسمبر بروز بدھ.......۵ دسمبر بروز جمعرات

۶ دسمبر بروز جمعہ.......۷ دسمبر برو ز ہفتہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۹ دسمبر بروز پیر.........۱۰ دسمبر بروز منگل