--(آخری دن: بعدمغرب مختصر مجلس، بعد عشاء  مسجد اختر عظیم الشان بیان، وطن واپسی)--

۱۰ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز منگل

(۶۲: خلاصہ)کل رات حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا جلد آرام کرنے کا ارادہ تھا لیکن پھر بھی رات کے ۲ بجے گئے تھے،  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی نیند بہت کم ہوتی ہے ، دوا استعمال فرماتے ہیں، کل رات  یہ خیال فرماکرکے کہ آنے والے کل میں  سفر ہے اس لیے نیند کی دوائی نہیں کھائی کہ سفر متاثر ہوگا لیکن اس سے یہ ہوا کہ  پوری رات نیند ہی نہیں آئی، اس دوران حضرت دادا شیخ  دامت برکاتہم نے اپنے وعظ" جستجوئے حق سبحانہٗ" (الحمدللہ! یہ  عظیم الشان وعظ  اب چھپ کر بڑی تعداد میں تقسیم ہوچکا ہے، آن لائن  پڑھنے کےلیے کلک کیجیے!! کی تصحیح کا کام کیا، پھر رات تقریباً چار بجے مجبوراً  پھر نیند کی دوا کھائی کہ نیند کی کمی سے کہیں ضعف نہ بڑھ جائے، نمازِ فجر کے بعد ناشتہ تناول فرمایا  ، جس کے بعد نیند کا غلبہ ہوا، ظہر تک آرام فرمایا،  نمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد دوپہر کھانے کی ترتیب تھی، کھانے سے فراغت کے بعد نمازِ عصر کا وقت قریب تھا، حضرت دادا شیخ کو سفر کی تیاری کے حوالے سے کچھ ضروری مصروفیات رہیں۔۔، شام میں دارالعلوم کراچی سے حضرت مفتی شفیع صاحبؒ (مفتی اعظم پاکستان) کے نواسے، بڑے عالم حضرت مولانا نعیم اشرف صاحب مدظلہ ملاقات کے لیے تشریف لائے، اس دوران حضرت والا رحمہ اللہ کے محبوب خلیفہ اور شاعرِ معرفت حضرت جناب خالد اقبال تائبؔ صاحب دامت برکاتہم بھی حاضر ہوئے تھے، بعد مغرب  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے وعظ کا کام مکمل فرمایا۔ شام کو چائے نوش فرمائی اس موقع پر مختصر مجلس ہوئی جو ضروری مضامین کے ساتھ  منسلک ہے:

(۶۲: آڈیو)  بعد مغرب مجلس میں مختصر ارشادات: خاص احباب حاضر تھے، ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔۔ ہمارے خلیفہ کے  جلسے میں کل ہماری دعوت تھی، وہاں بہت عظیم الشان مجمع ہوتا ہے، ہر سال میں کہتا ہوں کہ مجمع کی جگہ اور وسیع کرو! کرتے ہیں تو پھر سب جگہ پُر ہوجاتی ہے، اس سال جو ہم غیر حاضر رہے تو میرے مجاز اور وہاں کے مہتمم بہت پریشان رہے مجھے لکھا کہ میں تو بیمار پڑ گیا، اس کے بعد پھر میرا پیغام گیا اُن کو دعائیں دیں تو کچھ جان میں جان آئی کام کرنے لگے، پھر ہم نے اپنے بڑے داماد کو بھیجا انہوں نے وہاں جلسے میں تقریر کی تو  بہت لوگ الحمدللہ خوش ہوگئے! جلسے کے اختتام دعا سے پہلے  میرے مجاز مہتمم مدرسہ نے  اعلان کیا کہ ہم لوگوں کو دل بہت ٹوٹا ہوا ہےکہ ہمارے شیخ اس مجمع میں حاضر نہیں ہیں  تو ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ہم دعائیں مانگیں گے  تو ان شاء اللہ تعالیٰ حق تعالیٰ قبول فرمالیں گے۔۔۔۔ تو جب انہوں نے یہ اعلان کیا کہ شیخ نہیں ہے دل ٹوٹا ہوا ہے تو پورا مجمع ہچکیاں مار مار کر رورہا تھا! اللہ تعالیٰ کا  فضل ہے کہ لوگ اس طرح محبت کرتے ہیں صرف یہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی نگاہِ مبارک  کا اثر ہے! (ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم  نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے عرض کیا کہ حضرت آپ ماشاء اللہ ہیں ہی اتنے پیارے! یہاں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، کچھ بڑےبچے ، جوان اور بوڑھے ہر ایک آپ پر فدا  ہورہے ہیں، اتنے پیغامات آرہے ہیں  کہ کسی طرح حضرت کو پاکستان روک لیں، حضرت رُک جائیں!" یہ جذبہ سن کر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت خوش ہوئے، کچھ دیر میں فرمایا کہ)یہاں آکر بہت زیادہ خوشی معلوم ہورہی ہے حضرت والا کے خدام اور عشاق ہیں ، ماشاء اللہ ! یہاں بہت بڑا کام ہورہا ہے،بہت ہی زیادہ دل  خوش ہوا۔۔

(۶۳: خلاصہنمازِ عشاء کی ادائیگی کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا اِس سفر کا  آخری بیان تھا، دور دور سے احباب اس موقع کو غنیمت جان کر حاضر تھے، مسجد اختر پوری بھر چکی تھی،آج کا بیان بہت ہی عظیم الشان مضامینِ محبتِ الٰہیہ پر مشتمل تھا، گویا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے سفرکراچی کا یہ آخری بیان تمام سفر کا خلاصہ ہوگیا، عجیب مضامین ِ تسلی بیان ہوئے۔معافی اور توبہ کے عظیم الشان آفتاب روشن ہوگئے الحمدللہ! ذیل میں ضروری مضامین کی تفصیل کے ساتھ آڈیو منسلک ہے:

(۶۳: آڈیو)  بعد عشاء مسجد اختر بیان:  "روح بندگی اللہ تعالیٰ کی محبت ہے"

خاص مضامین کا خلاصہ 

حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مجلس میں رونق افروز ہوئے۔ 02:54) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی فرمائش پر حضرت تائب صاحب دامت برکاتہم نے   یہ اشعار پیش فرمائے: (۱) میری لاج رکھ لی تمہاری دُعا نے (۲) میری زندگی میں تم سا کوئی تھا نہ ہے نا ہوگا۔ 13:28) پھرحضرت اثر صاحب مدظلہ نے اشعار پیش فرمائے! 20:55) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی حکم پر سید ثروت حسین صاحب نےحضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  یہ اشعار پیش کیے: (۱) چند دن خون ِ تمنا سے خدا مل جائے ہے(۲) دردِ دل سیکھنا ہے اگر دوستو! ساتھ میرے رہو پھر سِکھائیں گے ہم! 33:21)حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھ کر بیان شروع فرمایا! سورۃ الملک کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں! اور پھر حدیث پاک: اَلاَ وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً.......وَھِیَ الْقَلْبُ. (بخاری کتاب الایمان) پڑھی 34:49) شروع میں ہی دعا فرمائی! 34:56) اس دل کو دل بنانا ہے! اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس دل کو ہم بنائیں! تائب صاحب کے اس شعر کی تعریف فرمائی کہ "سُن لیاکہ آپ آئیں گے۔۔۔ وہ کیا دل نے انتظار کہ بس"۔۔ اللہ تعالیٰ وہ دل ہمیں اللہ پاک عطا فرمادیں، ایک فکر اور دھن 36:21) دل بننا ہے اللہ تعالیٰ کی محبت سے، جمالِ محبوب پاک سے دل بننا ہے! اُس کےلیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی حرام تمناؤں کا خون کریں! 36:54) حضرت والا ساری زندگی یہ سبق پڑھاتے رہے ہر سانس اللہ پاک پر فدا رہو اور ایک سانس بھی اللہ کو ناراض نہ کرو۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا نام ہی زندگی ہے ورنہ مردگی ہے، روحِ بندگی اللہ تعالیٰ کی محبت ہے 37:56) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی تمام مسلمانوں کو نصیحت : جہاں بھی رہو اللہ کےلیے بے چین رہو۔۔۔اور یہ بے چینی عطا ہوتی ہے مجاہدات کی برکت سے۔۔۔ جس کو حق تعالیٰ دردِ دل عنایت فرماتے ہیں اُس کو اِس کا احساس بھی ہوتا ہے۔۔۔مولانا شاہ محمد احمد صاحب کا شعر : شکر ہے دردِ دل مستقل ہوگیا۔۔۔اب تو شاید میرا دل بھی دل ہوگیا 38:55) حضور ﷺ کی حدیث قلب: اَلاَ وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً....... وَھِیَ الْقَلْبُ. (بخاری کتاب الایمان) بیان فرمائی 39:24) نوافل کا اہتمام چاہیے۔۔ تمام اولیاء اللہ فرائص کے علاوہ نوافل کا اہتمام کرتے تھے اس کی وجہ سے اللہ کے ساتھ تعلق خاص عطا ہوتا ہے! اس سے تعلق میں عظیم الشان برکت ہوتی ہے! 40:31) ایمان نام ہے محبت ہے!۔۔ حدیث پاک کا مفہوم کہ نوافل کی برکت سے اللہ سے خاص تعلق ہوجاتا ہے۔۔ پھر اللہ تعالیٰ کے انوار کے ساتھ اہل اللہ سنتے ہیں اور اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں۔ 41:38) اہل اللہ اور اہل نفس کے دیکھنے کا فرق بیان فرمایا، نمرود بھی آسمان دیکھتا ہے اور اللہ والے بھی اللہ کی نشانیاں دیکھتے ہیں دونوں میں فرق ہے! 42:23) کسی بزرگ نے کیا خوب فرمایا کہ درختوں کے ایک ایک پتے میں انواراتِ الٰہیہ موجود ہیں۔ 42:54) عارف اعظم حضرت حاجی صاحب ؒ کا زبردست شعر یاالٰہی مجھ سے مجھ کو دور کر۔۔۔ تاکہ دیکھوں تجھ سے تجھ کو اک نظر!۔۔۔ ہمارے اکابر کی شان یہ تھی کہ قصداً بات نہیں کرتے بلکہ مجبورِ بیان ہوتے منجانب اللہ! الہام سے بات کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ وہ دل وہ دولت وہ روح ہم سب کو عطا فرمادے۔ 44:50) اہل اللہ نور ہی نور میں ڈوبے ہوتے ہیں، یعنی ان کی چال ڈھال میں رضائے الٰہی کے انوار ہوتے ہیں 45:49) دل اللہ کے لیے ہوجائے پھر زندگی زندگی ہے ورنہ زندگی کسی قابل نہیں ہے!  حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا قول کہ اگردل میں اللہ کی محبت ہو تو پھر یہ دل ہے ورنہ جانور کے دل میں اور اس میں کوئی فرق نہیں 46:43) اللہ کا دیوانہ روح کے اعتبار سے بالغ ہے اور روح اس وقت بالغ ہوتی ہے جب بندہ ہر گناہ سے اپنی حفاظت کرتا ہے۔ 47:46) تمام اعضاء کو گناہوں سے بچاؤ پھر حجابات ہٹ جاتے ہیں اور زمین و آسمان میں ہرطرف انوار ہی انوار نظر آتے ہیں۔۔۔۔ (سمندر کی مچھلی کی مثال سے سمجھایا کہ)۔۔ اہل اللہ سمندرِ عشقِ الٰہی کی مچھلیاں ہیں! یہ اللہ والے ہر وقت نور میں ڈوبے رہتے ہیں ، ہنستے ہیں تو نور میں ، روتے ہیں تو انوار کے ساتھ۔۔ اللہ کا دیوانہ ہنستا بھی ہے تو دل اللہ کے ساتھ ہوتا ہے! 49:29) جب دل بن جائے تو تمام اعضاء اچھے ہوجائیں گے، ہر ہر عضو کا حق ہے کہ اللہ سے محبت کرے!۔۔۔حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ  کا عجیب ملفوظ بیان فرمایا کہ جنت میں بندے کا ہر ہر عضو اللہ کا دیدار کرے گا، کیونکہ ہر ہر اعضاء نے اللہ کے لیے(گناہ سے بچنے کا) غم اُٹھایا ہے! 50:52) جو چند دن اللہ کے لیے غم اُٹھاتا ہے پھر  اس کے تو مزے ہی مزے ہیں، دنیا میں ہی حق تعالیٰ اپنی محبت کے ذریعے سے اس کو مست رکھتے ہیں! مولانا رومی کا زبردست شعر فارسی 51:50) ہر وقت دل میں یہ کیفیت رہے کہ کاش ہم اللہ کو یہیں دیکھ لیتے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ کی تجلی ہوئی تو انہوں اپنے چہرے پر نقاب ڈال لیا کہ  بیوی نے اگر دیکھ لیا تو نابینا ہوجائیں گی لیکن پھر  جب اُن کی اہلیہ نے زیارت کا اشتیاق ظاہر کیا۔۔ اور دیکھ کر نابینا ہوگئی۔۔۔۔تفصیلی واقعہ بیان فرمایا۔سبحان اللہ! 54:25) وہ دل دل ہی نہیں ہے جو اللہ کےلیے بے چین نہیں ہے، حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی شانِ عاشقانہ بیان فرمائی 55:02) دردِ دل عطا ہوتا ہے مجاہدات کی برکت سے ، جتنا وہ مجاہدات کرتا ہے اُتنا ہی اس کو دردِ دل عطا ہوتا ہے، دنیا میں ہروقت اُس کو جنت کا مزہ محسوس ہوتا ہے! اس لیے ہم سب اس کا پکا وعدہ کریں کہ ہر لمحہ اللہ کو خوش رکھیں! 56:12) لوگ اللہ والوں کی قدر نہیں کرتے! زندگی میں اگر قدر کرتے تو تم بھی ولی اللہ بن جاتے، مرنے کے بعد پھر رونا پڑتا ہے!اللہ والے کے تو تصور سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔ 57:02) حضرت مفتی شفیع صاحب  رحمۃ اللہ علیہ نے خانقاہ تھانہ بھون کا نقشہ شعر میں کھینچا ہے!۔۔شعر۔۔ جہاں اللہ کے بندے اللہ کی یاد میں موجود ہوتے ہیں تو یہ فرشتوں کی محفل بن جاتی ہے! اس لیے ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہلِ ذکر کی مجلس ملائکہ کی مجلس ہوتی ہے! 58:21) خانقاہ گلشن کا تذکرہ فرمایا! دعائیں دیں! 59:25) جو لوگ اولیاء اللہ کی قدر نہیں کرتے گویا وہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدر نہیں کرتے!۔۔۔۔ 01:00:03) اللہ والا اگر بننا ہے تو کسی اللہ والے کے ساتھ تعلق قائم کرلو!۔۔۔۔۔ حضرت رومیؒ کے ایک شعر کی تشریح: اگر محبوبِ حقیقی تک پہنچنا چاہتے تو خود سے مت اُڑو جو اللہ والے اُڑ رہے ہیں اُن کے ساتھ چپک کر اُن کے پروں کے ساتھ اُن کے روح کے ساتھ اُڑو تو اللہ تک پہنچ جاؤگے۔01:01:36) (حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے سب سے عہد لیا کہ) ۔۔جان دیں گے ایک لمحہ بھی اپنے مالک کو ناراض نہیں کریں گے (سب احباب نے ہاتھ اُٹھا کر عہد کیا) دنیا میں ہر جگہ اللہ کی نشانیاں موجود ہیں! 01:02:41) نماز میں اللہ کی ربوبیت کا تذکرہ ہی تذکرہ ہے!ربوبیت کا تصور بہت ضروری ہے،قرآن پاک میں بار بار "ربّ" کا تذکرہ آیا ہے 01:04:12) حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ کہ اللہ کا محبوب بننا بالکل آسان ہے دو کام کرلیں: (۱) ایمان (۲)تقویٰ اورتقویٰ کیا ہے گناہوں کو چھوڑ دینا! گناہ تو بہت گندی چیز ہے ! چند گناہ کے گندے پتھر دے کر اللہ کی ذات مل جائے گی! تقویٰ یہی ہے کہ فرائض و واجباب کرنا اور گناہوں سے بچنا!۔۔۔ 01:05:44) حق تعالیٰ کے حقوق میں حق تلفی نہ ہواورمخلوق کے حق میں بھی حق تلفی نہ ہو! (اس کی تفصیل بیان فرمائی اور حسد کے نقصانات بیان فرمائے) دونوں چیزوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔ 01:06:53) خاص کر بدنگاہی سے حفاظت کرو، جس طرح بدنظری کا مرض عام ہے اسی طرح غیبت بھی عام ہے اس سے بھی بہت بچنا ہے! 01:07:41) حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ کہ طالب علموں کے اندر یہ دو مرض ہوتے ہیں.... (۱) غیبت (۲) خواہشات ِ نفسانیہ کی پیروی۔ اگر طلبہ یہ دونوں کام چھوڑ دیں تو تیزی سے اللہ والے بن جاتے ہیں، کیونکہ طلبہ زندگی کے شروع سے علم دین مجاہدات کرتے ہیں اس کے ساتھ صرف ان دو باتوں کے بچ جائیں تو ولی اللہ ہوجائیں گے۔ 01:09:36) ذاکرِ مولیٰ جنتی بندہ ہے، جس کو ذکر کی عادت اور توفیق ہوگئی پھر اس کو گناہ اچھا نہیں لگتا، کیونکہ ذکر اللہ میں انوار ہی انوار ہیں اس لیے گناہوں کی ظلمت سے شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے! اللہ اس کی توفیق عطا فرمائیں! 01:10:30) گناہ اگر ہوجائے تو توبہ میں دیر نہ ہو، تیزی سے ہم توبہ کرلیں! حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ: متقی رہنا ایسا ہی آسان ہے جیسا باوضو رہنا! جس کو تقویٰ کا اہتمام کامل ہے اگر غلطی ہوجائے تو توبہ استغفار کرکے دوبارہ تقویٰ والے ہوجائیں!۔۔۔ 01:11:47) صحبت اہل اللہ کا خاص اہتمام رکھنا ضروری ہے! اہل اللہ کو دیکھ لینے سے اللہ کے انوارات سے ملاقات ہوجاتی ہے! حقیقتِ شیخ تجلیٔ حق ہے! تجلی کا معنی ہے اللہ کے نور کا ظہور ہونا! کعبہ کی حقیقت بھی تجلیاتِ الٰہیہ ہے، تجلیاتِ الٰہیہ کا طواف کرنا ہے! کسی کامل اللہ والے سے ملاقات ہوجانا اللہ کے انوارات سے ملاقات کا ہوجانا ہے! اس کی برکت سے گناہوں سے نفرت بڑھتی رہےاور ساتھ اتباع سنت بہت ضروری ہے! 01:14:50) خوب خوب دعا مانگے! جو بندہ اللہ سے نہیں مانگتا اللہ تعالیٰ کو اس پر غصہ آتا ہے! مانگنے سے اللہ سے خاص تعلق ہوجاتا ہے! اس سے تعلق مع اللہ بڑھتا ہے اس لیے اللہ سے خوب مانگنا چاہیے۔۔۔اپنے اکابر کو دیکھا کہ کس طرح دیر تک مانگتے رہتے تھے۔۔۔۔۔ 01:16:38) حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ کہ لوگ ہمارے پاس تعویذ کے لیے آتے ہیں میں تو اِن سے تو میں کہتا ہے کہ اللہ سے دعا مانگو!۔ اس دعا کے اندر لاکھوں تعویذات سے زیادہ تاثیر ہے، 01:18:27) دعا مانگنے کی مختلف انداز اور ادائیں بیان فرمائیں! ( سبحان اللہ) فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ معلوم ہو کہ  اللہ سے کس طرح مانگنا چاہیے، چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی اللہ سے مانگ لو! (اس کی مزیدار مثالیں بیان فرمائیں) 01:19:54) مایوسی کفر ہے! اللہ سے اُمید رکھنا فرض عین ہے! مایوس لوگوں کے کچھ حال بیان فرمائے، مایوس کرنا تلبیس ابلیس ہے!۔ اللہ فرماتے ہیں کہ آجاؤ کتنے بھی تمہارے گناہ ہوں ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ ہم معاف کردیں گے! 01:22:06) دعا: اللہ پاک ہمارے لیے دین آسان فرمادے! اللہ پاک اپنی محبت کے راستے کو ہمارے لیے آسان فرمادے! 01:22:52) اکابر کی شان تھی کہ تسلی دیتے تھے،تسلی کے ذریعے گناہ گاروں کو امید دلاتے تھے! 01:24:39) حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اس سفر کے آخری بیان جو کہ  لائیو بھی سناگیا ان ممالک کی تفصیل   پڑھ کر بیان فرمائی!۔۔۔۔۔ 01:30:05) بیان کے اختتام پر  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے اولاد کو شفقت و محبت سے پالنے پر والدین کو بہت درد بھری نصیحت فرمائی!۔۔۔ 01:31:18) درد بھری دعا روتے ہوئے فرمائی!

(۶۴: خلاصہمسجد اختر میں اس سفر کا آخری عظیم الشان الہامی بیان فرمانے کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  مسجد اختر میں موجود بڑی تعداد میں احباب سے اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے الوادعی مصافحہ فرمایا۔۔۔۔۔  کافی دیر لگی لیکن حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے کمالِ محبت  سے اس کو گوارا فرمایا، فراغت کے بعد حضرت غرفۃ السالکین خانقاہ کی طرف واپس تشریف لانے لگے، راستے میں بہت سے احباب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو خوب جی بھر دیکھ رہے تھے کہ معلوم  نہیں کب ایسے اللہ کے پیارے کی دوبارہ زیارت نصیب ہو!، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم راستے میں سب کو سلام فرماتے رہے،  غرفۃ السالکین ہال میں جناب سید ثروت صاحب نے حضرت دادا شیخ کی محبت میں  اشعار  پیش کیے " اک جگہ شیخ کے قدموں میں بنالی میں نے" ہال میں  موجود سب احباب یہ اشعار پڑھ رہے تھے اور مست ہورہے تھے، اشعار کے بعد  راستے میں ہی  جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتم اور حضرت مفتی محمد حسن امرتسری رحمہ اللہ کے پوتے اور ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم کے خلیفہ حضرت مولانا قاری ارشد عبید صاحب مدظلہ سے بھی  ملاقات ہوئی،  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اپنے حجرہ ٔ مبارک میں داخل ہوئے، حجرہ میں حاض احباب حاضر تھے، اُن کو سلام فرمایا ، رات کے گیارہ بج چکے تھے، کچھ دیر میں رات کھانے کی ترتیب تھی۔پھر ائیرپورٹ روانگی کی تیاری بھی کرنی تھی، تقریباً ڈیڑھ بجے غرفۃ السالکین سے روانگی کاارادہ تھا، رات چار بجے کی فلائٹ تھی۔یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۶۴: آڈیو)  مسجد اختر میں عشاء بیان فرمانے کے بعد غرفۃالسالکین واپس تشریف لاتے ہوئےمجلس

(۶۵: خلاصہرات کھانے کے بعد ائیرپورٹ جانے کی تیاری  تھی،  کمرے میں صرف خاص احباب حاضرتھے، خدام حضرت دادا شیخ دامت بر کاتہم کا سامان پیک کررہے تھے،  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کواس بات  کا بہت خیال فرماتے ہیں کہ سامان اتنا ہی ہو جتنے کی انتظامیہ  کی طرف اجازت ہے، بار بار سب احباب سے معلوم فرمایا کہ  سامان مقررہ وزن سے زیادہ تو نہیں ہوگیا، جب اطمینان ہوا  تو پھر احباب سے متفرق ارشادات فرمائے، غرفۃالسالکین میں حضرت شیخ دامت برکاتہم کی سرپرستی میں ہونے والے دین کے کاموں پر بہت اطمینان اور خوشی کا اظہار فرمایا اور یہاں کے خدام اور احباب کی دن رات کی خدمت کو خوب سراہا اورجملہ مقاصد حسنہ اور مشکلات کے حل کے لیے  خوب دعا فرمائی اور اس ضمن میں نصیحت بھی فرمائی کہ پریشانیاں اللہ کی طرف رجوع بڑھانے کے لیے آیا کرتی ہیں ، عارضی ہوتی ہیں، بہت تسلی کے کلمات ارشاد فرمائے، جامعہ حکیم الامت کی تعمیرات  کے  سلسلے میں آنے والی مشکلات و رکاوٹوں اور پھر اُن کے حل کا   حق تعالیٰ  کی  طرف سے  غیبی انتظامات  کا ذکر فرمایا۔ غرفۃ السالکین   قیام کے دوران خدام کی دن رات کی خدمتوں سے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بہت زیادہ مسرور تھے اس کا دوبارہ تذکرہ فرمایا۔ روانگی کا وقت قریب تھا،   تخصص فی الافتاء کے طلباء کرام  بیعت ہونا چاہتے ہیں تو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بیعت فرمایا ، بیعت کے بعد مختصر جامع نصائح فرمائیں۔ بیعت کےبعد ائیرپورٹ کی طرف روانگی کی ترتیب تھی،رات کے تقریباً ڈیڑ ھ بجے چکے تھے۔یہاں تک کی آڈیو   اہم مضامین کے اندراج کے  ساتھ منسلک ہے۔

(۶۵: آڈیو)  وطن واپسی سے قبل آخری  مجلس میں ارشادات، بیعت و نصائح :  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے جناب سید ثروت صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ کے اشعار پڑھنے سے  بہت مزہ آتا ہے۔ ثروت صاحب نے عرض کیا  کہ حضرت کی واپسی سے دل بیٹھا جا رہا ہے۔ حضرت دادا شیخ نے اس کیفیت سے بہت خوش ہوئے۔ ایک بزرگ حکیم صاحب حاضر تھے انہوں نے حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے بارے میں فرمایا کہ حضرت نے بڑے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ کردی، حضرت دادا شیخ نے فرمایا کہ  "الحمدللہ!"پھر کچھ دیر میں فرمایا : آج بہت جی چاہتا تھا کہ حضرت والاؒ کے مزارِ مبارک پر حاضری دی جائے، بار بار جو لفظ   جی میں آتا ہے "مزارِ اقدس" لیکن حضرت والا رحمہ اللہ  منع کرتے تھے کہ "مرشدِ پاک" کہنے سے، اللہ پاک اور رسول ِ پاک  ہیں  اِس لیے مت "پاک" کہا کرو! یہ حضرت والا رحمہ اللہ پر توحید کا غلبہ تھا! ہم دلیل تو نہیں پیش کرسکتے تھے حالانکہ حکیم الامت ؒ نے جگہ جگہ اس کو نقل کیا ہے" مرشدِ پاک"۔ اور حضرت گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے تھے "مرشدِ پاک"  اور غوثِ پاک تو حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے مواعظ و ملفوظات میں کثرت سے لکھا ہے کہ غوثِ پاک حضرت بڑے پیر جیلانی رحمہ اللہ  نے یوں فرمایا کہ غوثِ پاک ؒ کا ایسا ایسا قصہ ہے۔۔،  لیکن شیخ کے سامنے علوم کے ذریعے سے مناظرہ تو حماقت ہے کیونکہ شیخ کے مختلف حالات ہوتے ہیں، ایسا اونچا اُن کا رتبہ ہوتا ہےکہ کہاں سے بات کرتے ہیں ہمیں کیا خبر! بنگلہ دیش میں ایک جگہ حضرت والا رحمہ اللہ کا بیان شروع ہوا، ترجمہ جیسے ہم شروع کرنے لگے تو بے اختیار زبان سے یہ بات نکل گئی کہ "مرشدِ پاک عارف باللہ" فوراً سخت ڈانٹا کہ "یہ کیا مرشد پاک" ہرگز مت کہو یہ لفظ ! آہ حضرت والا کی روح مبارک پر توحید کا بہت زیادہ غلبہ تھا!اگر ہم اُس وقت کہتے کہ حضرت جی آپ تو حضرت حکیم الامت کو مانتے ہیں، حضرت حکیم الامت  ؒ نے یوں لکھا ہے، تو پھر کیا ہوتا، بہت بڑی نالائقی ہوجاتی!۔ تو آج بہت جی چاہتا تھا کہ حضرت والا کی قبرِ مبارک پر دوبارہ حاضری دے دوں لیکن موقع ہی نہ ہوا!۔۔۔(حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے رات کو نیند نہ ہونے  کا ذکر فرمایا  جس کی وجہ سے ضعف بڑھ گیا تھا، اسی حالت میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے رات میں وعظ کی تصحیح کا کیا اس کے بارے میں فرمایاکام کے لیے بھی وقت نکالنا چاہیے، ایک گھنٹہ سہی اُس سے برکت ہوتی ہے۔(حضرت شیخ  شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کو مخاطب کرکے فرمایا) یہاں اللہ تعالیٰ آپ سے الحمدللہ بہت بڑا کام لے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، تمام شرور و فتن سے اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، اللہ تعالیٰ کرم فرمادے، قدرتِ خاصہ کے ذریعے سے آسانیاں فرمادے، رکاوٹوں کو حق تعالیٰ دور فرمادیں، ان شاء اللہ تعالیٰ کام تو ہوجائے گا، یہ وقتی اور عارضی مسئلہ ہوا ہے، دارالعلوم دیوبند کے علامہ قاری ابو الحسن اعظمی صاحب مدظلہ سے ڈھاکہ میں  پچھلے رمضان میں ملاقات  کی  اور جامعہ حکیم الامت  کے قرضوں کی ادائیگی کے  سلسلے میں دعا کا عرض  کیا تو فرمایا کہ  "جیسے اب تک کام ہوا ہے اسی طریقے سے ان شاء اللہ تعالیٰ سب ہوجائے گا، درمیان میں کچھ عارضی مسئلہ پیش آتا ہے وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہماری طرف کتنا رجوع کرتے ہیں، یہ لفظ تھے اُن کے کہ "اُدھر اِنابت کے لیے یہ کچھ مسائل پیش آتے ہیں" کہ بندہ میرے یہاں روتا ہے کہ نہیں! ( اس موقع پر حضرت شیخ مدظلہ نے عرض کیا) "جب کوئی ایسا کام رکتا تھا تو اپنی پریشانی وغیرہ  بڑے حضرت کو بتادیتے کے بعد  دل مطمئن ہوجاتا ہے ، پھر خود جب خود دعا کرتا تھا تو لگتا تھا کہ اوپر اوپر سے دُعا مانگ رہا ہوں، یہ بات حضرت کو بتائی تو حضرت والا  خوش ہوئے،  کچھ فرمایا نہیں، پھر  حضرت میر صاحب ؒ کو بھی عرض کیا تھا وہ بھی ہنسنے لگے  لیکن کچھ فرمایا نہیں! ایسے ہی جب آپ کو دُعا کا کہہ دیتا ہوں تو پھر ایسا لگتا ہے کہ دُعا ایسے ہی مانگ رہا ہوں! دل مطمئن ہوجاتا ہے کہ اللہ کے پیارے کو بتادیا، ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کے صدقے اللہ تعالیٰ کام بنادیں گے۔"(یہ سن کر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بھی بہت خوش ہوئے اور فرمایا) ان شاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ از جلد کام بنادیں، آسان فرمادے، بعض رکاوٹیں ایسی ہوتی بھی ہیں کہ لگتا ہے کہ کیا ہوگا! (یہاں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے جامعہ حکیم الامت  کی زمین کے حوالے سے  مشکلات کا ذکر فرمایا) وہاں  جامعہ  کی زمین دو ٹکڑوں میں تھی، دو دو مالک اور وہ بیچنے  پر کسی طریقے سے راضی نہیں ہورہے تھے،  پھر جناب اللہ تعالیٰ نے ایسی ترتیب پیدا فرمائی ہے کہ  حیرت ہی حیرت ہے، لمبا قصہ ہے! اتنی آسانی پیدا فرمادی کہ بظاہر وہ زمین ہمارے ہاتھ سے نکل گئی  لیکن ہمارے ہاتھ میں آنے کی صورت پیدا فرمائی گئی! عجیب واقعہ تھا! اس طریقے سے ایک زمین مل گئی! پھر دوسری زمین  کے لیے وہ لوگ راضی نہیں ہورہے تھےکہ نہیں بیچتے! لیکن ہمارے دل میں وہی بات کہ ہمارے ایک دوست کے خواب میں آپ ﷺ نے وہاں زمین پر کھڑے ہوکر اشارہ فرمایا کہ " عبد المتین سے کہو کہ یہ زمین لے لے جامعہ حکیم الامت کے لیے" تو آپ ﷺ نے جہاں خود اشارہ فرمایا  تو یہ زمین تو ملنے والی ہے! الحمدللہ اب اطلاع آئی ہے کہ مالک راضی ہوگئے ہیں۔(غرفۃ السالکین کے خدام کی  تعریف کرتے ہوئے فرمایا) یہ لوگ  دل و جان سے اتنی  خدمت کرتے ہیں  مجھے  بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے، یہ اپنا سب کام چھوڑ کراس طرح خدمت کرتے ہیں ۔ (حضرت شیخ دامت برکاتہم نے عرض کیا ) حضرت یہ تو ہماری اِن کی سعادت ہے، یہ تو مجھے کہتے ہیں کہ حضرت سے ہماری معافی کروادیجیے کہ صحیح خدمت نہیں کرپارہے، مجھے بھی بہت خوشی ہوتی ہے جب کوئی آپ پر فدا ہوتا ہے۔(حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں حضرت شیخ مدظلہ کے متعلقین کی بہت تعریف فرمائی کہ وہ راحت کا اتنا خیال کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔۔۔۔، فرمایا) ہمارے بیٹے اور احباب بہت زیادہ خوش ہیں آپ سب دوستو سے ، میرا بیٹا رونے لگا، کہتے ہیں کہ اتنا اِن لوگوں نے خیال رکھا  کہ ہر چند منٹ کے بعد  پوچھتے تھے  کہ کیا چاہیے اور اتنی خدمت کی کہ ہمیں حیرت ہی حیرت ہے، بے حد خوش ہیں سب، میرے بیٹے کا دل بہت زیادہ متاثر ہے!۔۔۔(حضرت شیخ دامت برکاتہم نے عرض کیا) حضرت دعا فرمادیں اللہ پاک مجھے اور میری اولاد کو آ پ کا اور آپ کی اولاد کا آخری سانس تک  وفادار بنا کر رکھے۔ حضرت نے خوب آمین فرمایا ( ایک   خادم جو حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو دباتے تھے جس سے  بہت راحت ہوتی تھی، وہ حاضر ہوئے تو اُن کو دعائیں دیں  اور مزاح بھی فرمایا کہ ان صاحب کو سونے کا مرض ہے جگہ جگہ سو جاتے ہیں، کچھ دیر بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے جو احباب بیعت ہوچاہتے تھے اُن کو طلب فرمایا اور بیعت فرمایا  ان میں زیادہ ترتخصص فی الافتاء کے طلبہ کرام تھے، بیعت کے بعد اُن کو مختصر نصائح فرمائیں) جو حضرات طالب علم نہیں ہیں اُن کا وظیفہ کچھ الگ ہے اور  طلبہ کرام کےلیے ہمارے حضرت حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے تھے  کہ طلبہ کرام کے لیے لمبے اشغال نہیں ہے، اُن کا اصل کام ہے  اپنے اخلاق کی اصلاح  یعنی گناہوں سے بچنا!  فرائص و  واجبات کا اہتمام  اور  گناہوں سے بچنے کا التزام ، اور ذکر کا اگر بہت زیادہ شوق ہو، مدرسے میں پڑھنے کے جو اوقاتِ خاصہ ہیں جیسے تکرار ، مطالعہ ، پڑھائی کے جو مخصوص اوقات ہیں اُس سے الگ اگر فرصت ملےمدارس کے انتظامات اور ترتیب کے لحاظ سے تو پھر سو دفعہ "لاالہ الا اللہ" اور سو دفعہ "اللہ اللہ" اور ایک تسبیح درود شریف کی ۔ بس الحمدللہ کافی ہے!اصل یہ ہے کہ گناہوں سے آدمی بچتا ہے حفاظت رہتی ہے  تو تھوڑا سا بھی اوراد و وظائف پر عمل  کرتا ہے  تو بہت زبردست نور قلب کے اندر حق تعالیٰ عطا فرماتے ہیں، گناہوں کی نحوست کی وجہ سے سارا نور جو اندر آتا ہے سب ختم ہوجاتا ہے، اس لیے اس کا اہتمام رہے کہ ہر گناہ سے ہم بچیں! اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے! صبح و شام کے جو معمولات ہیں آپ سب کو معلوم ہیں، اپنے مدرسے کی ترتیب کے لحاظ سے، جہاں تک سہولت ہو بس اُتنا ہی کرے زیادہ نہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے! 

" رُخصتِ موسمِ بہار ہے آج "

دلربا پہلو سے اب اُٹھ کر جدا ہونے کو ہے........کیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہے

اُدھر وہ ہیں کہ جانے کو کھڑے ہیں..............اِدھر دل ہے کہ بیٹھا جارہا ہے

آج وہ گھڑی آن پہنچی کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم گیارہ  دن شہرِ کراچی کو عموماً اور غرفۃ السالکین کو خصوصاً رونق بخشنے کے بعداپنے وطن ڈھاکہ کی طرف سے روانہ ہورہے تھے، متعلقین، محبین، حضرت شیخ دامت برکاتہم اور دیگر  سب خدّام کی عجیب حالت تھی، فراقِ شیخ سے دل ڈوبا جارہا تھا، طلبہ کرام کو بیعت فرمانے کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے غرفۃ السالکین میں موجود  خاص احباب سے  جب معانقہ فرمایا! تو زبانِ حال پر یہ شعر دفعتاً آگیا؂

شیخ رُخصت ہوئے گلے مل کے...........شامیانے اُجڑ گئے دل کے

ملاقات کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اور ہم سفر خدام گاڑیوں میں تشریف فرما ہوئے! حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو رخصت کرنے کے لیے  بہت پہلے سے عقیدت مند ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے، اور کئی محبین  حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی گاڑی کے ساتھ ساتھ  تھے، غرفۃا لسالکین سے تقریباً ڈیڑھ بجے روانگی ہوئی، تقریباً پندرہ منٹ  میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم مع خدام ائیرپورٹ پر پہنچے، بہت کثیر تعداد میں احباب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کورخصت کرنے کے لیے  ائیرپورٹ پر موجود تھے، چونکہ سب خدام سے حضرت دادا شیخ  دامت برکاتہم  پہلے ہی ملاقات فرماچکے تھے، لہٰذا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم جیسے ہی گاڑی سے باہر تشریف لائے فوراً ہی   ہم سفر خدام کو ساتھ لے  کر حاضرین کو سلام کرکے لاؤنچ  کے اندر تشریف لے گئے۔ قطر ائیرلائن سے رات چار بجے کی فلائیٹ سے پہلے قطر دوحا ائیرپورٹ پر چار گھنٹے رکنے کے بعد شہرِ ڈھاکہ کی طرف پرواز کی ترتیب تھی، یعنی کُل بارہ  گھنٹے میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو ڈھاکہ شہر پہنچنا تھا، طویل سفر درپیش تھا،   ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم  اور ایک خادم  نے اندر جانے کےلیے پاس بنوایا ہوا تھا، لہٰذا  حضرت شیخ اور خادم بھی حضرت دادا شیخ کے ہمراہ چلے گئے، الحمدللہ! ائیرپورٹ پر خوب آسانی رہی ۔ حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اگلے دن فجر میں مسجد اختر میں بیان کے دوران اس کی  تفصیل بیان فرمائی تھی جس کا مفہوم  یہاں درج  ہے، فرمایا : "ائیرپورٹ سے جب ہم اندر گئے خوب آسانی رہی ، قطر ائیرلائن کے Counter  پر پہنچے تو انتظامیہ والوں نے الگ سے صرف حضرت کے لیے Counter کھلوادیا ، میں نے حضرت سے عرض کیا حضرت یہ آپ کی کرامت ہے، پھر انتظامیہ نے پوچھا کہ سامان وغیرہ تو زیادہ نہیں؟ بتایا کہ وزن پورا ہے جتنی اجازت ہے!  ہمارے حضرت اس کو منع فرماتے ہیں کہ اجازت سے زیادہ وزن لے جایا جائے اور پھر سفارش کروائی کیونکہ انتظامیہ کو اجازت نہیں ہوتی زیادہ وزن چھوڑنے کی وہ ائیرلائن کے مالک تو نہیں ہوتے، اس لیے وزن کرکے لائے ہیں حتی کہ ہاتھ والے سامان کا وزن بھی مقررہ وزن کے مطابق ہے،  اس بات سے وہ ایسے مطمئن ہوئے کہ سب مسافروں کا سامان ایک ساتھ لے لیا، ورنہ الگ الگ سامان لینے میں بہت تاخیر ہوتی  ہے، حضرت کی برکت سے ائیرپورٹ کے بہت سے احباب بھی اور بڑے افسر بھی ملاقات کےلیے آگئے تھےاور برابر کھڑے رہے جب تک یہ مرحلہ مکمل  نہ ہوا، پھر اس کے بعد چونکہ حضرت کی بزنس کلاس کی ٹکٹ  تھی،  CIP لاؤنچ میں دو لوگ جاسکتے تھے، اس کے علاوہ کوئی جانا چاہے توباقاعدہ   فیس لی جاتی ہے۔ اس موقع پر CIP لاؤنچ کے بڑے افسر آگئے کہ دو افراد سے زیادہ بھی چلے جائیں کوئی مسئلہ نہیں ہے! لیکن ہم نے منع کیا، نہیں! ہم پیسے دیں گے، ہمارے بزرگوں کا یہی طریقہ ہے کہ بغیر پیسے  کے ہم داخل بھی نہیں ہوسکتے، پانی بھی وہاں کا نہیں پی سکتے ،الحمدللہ پھر  سب کے پیسے جمع کروائے گئے اور پھر سب داخل ہوئے، حضرت نے سب کو بہت دعائیں دیں، غرفۃ السالکین کے تخصص کے طلبہ و اساتذہ کرام، خدمت والوں کو، پارکنگ کا انتظام کرنے والوں کو، بیان مجلس میں آنے والوں کو اور جو نہیں آسکے اُن سب کو خوب دعائیں دیتے رہے،  حضرت بہت خوش تھے کہ یہاں کے طلبہ کرام و احباب نے بہت دھیان سے بیانات سنے  اور پھر کئی طلبہ کرام  داخلِ سلسلہ بھی ہوگئے"

ہمارے حضرت شیخ  عارف باللہ شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب  مدظلہ اپنے شیخ و مرشد کے ہمراہ آخر تک رہے، اور دیگر بہت سے محبین وخدام  باہر ائیرپورٹ پر موجود رہے۔۔۔ تقریباً ساڑھے تین بجے حضرت دادا شیخ لسانِ اختر، اخترِ ثانی، شیخ الحدیث، شیخ العلماء، ترجمانِ اکابر، امیرِ محبتِ الٰہیہ،قلندرِ وقت، عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم جہاز میں سوار ہوگئے ۔۔۔۔اور بروز بدھ ۱۱ دسمبر  ۲۰۱۹ء عصر اور مغرب کے درمیان اپنے مستقر ڈھاکہ پہنچ گئے! ۔۔۔۔۔۔ یہاں فراقِ شیخ میں خدّام کا عجیب حال تھا، ایک واضح کمی  محسوس کررہے تھے، صحبتِ شیخ میں گذرے لمحات یاد آکر قلب و جاں کو تڑپا رہے تھے، بالکل وہی حال تھا کہ ایک مرتبہ جب حضرت حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  کانپورتشریف لے گئے،حضرت کے عاشق خلیفہ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ صاحب ؒ کا قیام اُن دنوں کانپور میں ہی تھا، پھر  کچھ دن قیام کے بعد حضرت حکیم الامت  واپس  جانے لگے تو فراقِ شیخ  کے صدمے میں حضرت خواجہ صاحب رونے لگے اور شیخ کی سواری کے پیچھےننگے پاؤں یہ شعر پڑھتے جارہے تھے ؂

کرتے جاؤ آرزو پوری کسی ناشاد  کی.......اِک ذرا ٹھہرو کوئی تم پر فدا ہونے کو ہے

حضرت شیخ العرب العجم مجددِ زمانہ  عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ  اسی مو قع پر فرمایا تھا کہ "شیخ کی ایسی محبت ہونی چاہیے،لیکن یہی محبت لیلیٰ پر ضائع ہوجاتی ہےاور اگر یہی محبت مرشد پر، اللہ پر، رسول اللہﷺپرفدا ہوجائے تویہی محبت جنت میں لے جائے گی"۔ ( ماخوذ از مواعظ حسنہ سلسلہ نمبر ۱۰۲) 

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مشائخ کی قدر کرنے والا اور اُن سے دولتِ محبتِ الٰہیہ سمیٹنے والا بنادے اورحضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اور حضرت شیخ دامت برکاتہم  اور جملہ خدامِ دین کی زندگیوں میں اور فیوض و برکات میں خوب خوب اضافہ فرمائیں، جملہ دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائیں، خوب عافیت،صحت و قوت کے ساتھ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو بار بار کراچی آنے اور تشنہ لب عشاقِ حق کو خوب خوب حضرت کے  دریائے محبتِ الٰہیہ سے سیراب ہونے کی  توفیق عطا فرمائیں اور اِس سفر  کی ٹوٹی پھوٹی رُوداد  لکھنے کی کوشش کو مشائخ کے صدقے قبول فرمالیں!  آمین یارب العالمین بحرمۃ  سید المرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم"

 آخری دن کی تمام آڈیوز محفوظ کرنے کےلیے کلک کیجیے!

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

۳۰ نومبر بروز ہفتہ.......یکم دسمبر برو ز اتوار.......۲ دسمبر بروز پیر......۳ دسمبر بروز منگل.......۴ دسمبر بروز بدھ

۵ دسمبربروز جمعرات ......۶ دسمبر برو ز جمعہ.........۷ دسمبر بروز ہفتہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۹ دسمبر بروز پیر